Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله
Sign in to follow this  
talib e ilm

عھد امام حسن (ع)۔

Recommended Posts

امام حسن علیہ صلاۃ و سلام  کی ولادت کے ایام ہیں تمام عاشقان ولایت و امامت کو ان ایام کی مناسبت سے مبارکباد عرض ہے۔۔

عمومی طور پر ہم امام حسن (ع) کی حیات پاک سے متعلق زیادہ آشنائی نہیں رکھتے۔ یہی مناسبتیں ہوتی ہیں جس میں ہمیں موقع ملتا ہے کہ آئمہ اطہار (ع) کی زندگی کے مختلف پھلووں سے آشنا ہوں۔ جشن اور محفل فضائل میں تھوڑا بہت تذکرہ ہوجاتا ہے لیکن حیات امام کے مختلف شعبے ایسے ہیں جن کی معرفت ابھی بیان کی محتاج ہے۔ کوشش ہوگی کے امام کی زندگی کے وہ پھلو بیان ہوں جو عام طور پر منبروں اور محفلوں میں بیان نہیں کئے جاتے۔۔۔

چاہے شیعہ ہوں یا سنی ہر دو مسلک کی کتابوں میں امام حسن (ع) کے بے تحاشا فضائل موجود ہیں۔۔

اخلاقی پھلو:

امام حسن (ع) کسی راہ سے گذر رہے تھے کہ اچانک ایک شامی اموی نزدیک آیا اور آپ کو برا بھلا اور گالیاں دینے لگا۔۔ ماذاللہ۔۔ وہ شخص خود روایت کرتا ہے کہ جو کچھ میری زبان پر آیا میں نے بول دیا، امام حسن (ع) نے خاموشی سے سنا اور سننے کے بعد چلنے لگے، وہ شخص دوبارہ امام (ع) کی طرف بڑھا اور پھر نازیبا اور توہین آمیز الفاظ سے امام کو مخاطب کرنے لگا۔۔ امام نے خاموشی سے سننے کے بعد اس سے فرمایا میں نے سن لیا، اور امام دوبارہ چلنے لگے یہ شخص کہتا ہے میں نے چند بار یہ عمل دہرایا اور بلاخر خود خستہ ہوگیا۔۔۔ پھر اچانک دیکھتا ہے کہ امام اس کی طرف پلٹ کر آتے ہوئے اسے صدا دے رہے ہیں۔۔

جب امام اس شخص کے قریب آئے تو اس سے مخاطب ہو کرفرمایا، معلوم ہوتا ہے تم اس شھر میں نئے ہو اور غریب الوطن ہو، اگر کوئی مشکل ہے تو بتائو میں خود حل کروں، اگر کوئی مالی مشکل ہے تو میں اپنی توانائی کے مطابق اسے برطرف کروں، اگر حق طلب ہو اور کوئی سوال کرنا چاہتے ہو تو سوال کرو کہ میں جواب دوں، اگر میرے مخالف یا دشمن ہو تو دلیل بتائو تاکہ بات کروں، اگر آوارا ہو تو بتائو پناہ دوں، ہمارے پاس غریب الوطن افراد اور مسافروں کے لئے ایک گھر موجود ہے ۔

وہ شخص کہتا ہے امام نے مجھے جانے نہ دیا، بلکہ بہت اصرار کیا اور مجھے اپنے گھر مھمان بنالیا، امام حسن (ع) کے ہمراہ سر سفرہ بیٹھ کر کہتا ہے میری نگاہیں شرم سے جھک گئیں، میری ہمت نہ ہوئی کہ سر اٹھائوں، اور میرا دل کر رہا تھا کہ کاش زمین کھل جائے اور میں اس میں گڑھ جائوں۔۔۔ اخلاق اور کردار امام حسن (ع) سے متاثر ہو کر بعد میں یہ شخص شیعیان امام میں سے ہوگیا۔۔۔

**************

کسی چائنے والے نے امام (ع) سے سوال کیا کیوں کبھی ایسا نہیں ہوا کے آپ کے در سے کوئی گدا خالی ہاتھ پلٹ گیا ہو؟ ہمیشہ ضرورتمند کی ضرورت پوری کرتے ہیں، یا اس کی پریشانی کو دور کردیتے ہیں ۔۔

امام جواب میں فرماتے ہیں: وہ گدا ہیں اور میں خود بھی اللہ کے سامنے گدا ہوں، مجھے شرم آتی ہے کہ انھیں خالی ہاتھ رخصت کردوں جب کہ میں بھی سائل ہوں۔۔ خدا کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ خیر و احسان کرتا ہے، پس میری بھی یہی عادت ہے کہ خدمت خلق کروں، خوفزدہ ہوں کہ اگر اپنی اس عادت کو ترک کردوں، کہیں خدا اس عادت کو ترک نہ کردے۔۔

Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

کتب اہلسنت اور کتب اہل تشیع میں روایات موجود ہیں کہ رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں حسن و حسین (ع) کا دوست میرا دوست ہے اور انکا دشمن میرا دشمن ہے۔۔

ممکن نہیں ہے کہ کوئی ان سے جنگ کرے اس کے باوجود پیغمبر (ص) کا دوست بھی ہو۔۔ واقعاً قابل تعجب ہے کہ معاویہ اور امام حسن (ع) کی جنگ میں بھی بعض ابھی تک شک کا شکار ہیں۔۔۔ اور دونوں کے نام کے ساتھ رضی اللہ کا اضافہ کرتے ہیں ۔۔۔

ایک جفا جو بعض نادان ان دونوں اماموں کے حق میں کرتے ہیں وہ یہ کہ ایک کو صلح پسند امام کہتے ہیں اور دوسرے کو جنگ پسند ۔۔۔

پیغمبر (ص) کی یہ حدیث قابل توجہ ہے فرماتے ہیں: حسن اور حسین (ع) ہر دو امام ہیں چاہیں قیام کریں یا سکوت۔۔

اس سے مراد یہ ہے کہ تمام آئمہ اطھار (ع) کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے نجات اسلام و مسلمین اور رشد انسانیت، کبھی حکمت کا تقاضہ صلح ہوتی ہے اور کبھی یہ مقصد جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ کبھی بھی بنیادی طور پر مقصد جنگ یا صلح نہیں ہوتا، جنگ یا صلح کسی مقصد کو نظر میں رکھ کر کی جاتی ہے۔۔ حتٰی شھید ہونا بھی مقصد نھیں ہوتا، ہاں اگر ھدف شھادت کے بغیر حاصل نہ ہو تو ہزاروں کی فوج کے مقابلے میں امام حسین (ع) ۷۲ افراد کے ساتھ قیام کرتے ہیں، لیکن اگر مقصد شھادتوں سے بھی حاصل نہ ہو تو حکومت اور ہزاروں کی فوج رکھنے کے باوجود امام حسن (ع) صلح کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔

صلح امام حسن اور واقعہ کربلا میں ۲۰ سال کا وقفہ ہے اس دوران حالات میں تبدیلیاں آئیں، امام حسن ؑ اور امام حسین (ع) کی زندگی کے سیاسی حالات ایک دوسرے سے بہت جدا تھے۔۔۔ آگے چل کر انشاءاللہ اس بات کو واضح کیا جائے گا کہ حالات میں کیا فرق تھا، کیوں ایک امام حکومت کے باوجود صلح کرتے ہیں، اور دوسرے امام افراد کم ہونے کے باوجود قیام کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔

لیکن اس وقت ایک اور بحث جو اس سے زیادہ اہم ہے اور جس کی طرف شاید ہم نے اب تک نہ سوچا ہو اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے۔۔:۰

۲۱ رمضان امام علی ع کی شھادت ہوئی اور اسکے بعد صرف چھ ماہ تک امام حسن ع کی خلافت کا عرصہ ہے اور پھر معاویہ سے صلح ہوئی۔۔ اجمالی طور پر ہم سب عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام حسن (ع) نے اسلام اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد کی خاطر معاویہ سے صلح کو ترجیح دی ہوگی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا عوامل باعث بنے کے حکومت علوی جو اتنی شھادتوں اور محنتوں سے قائم ہوئی فقط چھ ماہ کے عرصے میں صلح پر ختم ہوگئی ؟ جب خلافت امام علی (ع) کے حوالے کی گئی تھی اور حقدار کی طرف حق پہنچ گیا تھا، تو ہم تصور نہیں کرسکتے لوگ اور خصوصاً شیعہ کس قدر خوش تھے۔۔ خود امام علی ع فرماتے ہیں لوگ اس طرح میری بیعت کرنے کے لئے مسجد میں دوڑے چلے آرہے تھے کہ مجھے خوف ہونے لگا کہ کہیں حسن و حسین ع کچل نہ جائیں۔۔۔ عورتیں اس طرح آرہی تھیں کہ قریب تھا کہ عورتوں کی چادریں سروں سے ہٹ جائیں، عصا کے سہارے چلنے والے بوڑھوں کا یہ عالم تھا کہ اپنی عصا کو چھوڑ کر دوڑ رہے تھے کہ جلدی سے میری بیعت کرلیں۔۔۔

تاریخ میں یہ بھی نقل ہے کہ امام حسن ع کی بیعت کا منظر امام علی کی بیعت سے زیادہ پرجوش تھا۔۔۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی خوشی کا کیا عالم ہوگا۔۔۔

ہم ایمان رکھتے ہیں امام حسن ع کا کام حکیمانہ ہوگا کہ صلح کو ترجیح دی، اس میں شک نہیں کہ کام حکیمانہ تھا، لیکن سوال یہ ہے کیوں ترجیح دی؟ وہ امام جو معاویہ سے جنگ کے لئے لشکر ترتیب دیتے ہیں پھر اچانک صلح کی طرف کیسے مائل ہوئے ؟ ارد گرد کیا حالات تھے ؟ کیسے امام کو تنھا کیا گیا ؟ کیوں شھادت بھی بے فائدہ تھی ؟

اس بحث کو چھیڑنے کا مقصد قارئین کا ٹائم پاس کرنا نہیں ہے اور نہ مقصد صرف یہ ہے کہ لکھنے والے اور پڑھنے والے تک ثواب پہنچ جائے، اس کے پیچھے ایک محرک ہے کہ انسان عبرت حاصل کرے، یہ ابحاث آج ہمارے معاشرے اور ہمارے دور سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، ارد گرد ایسے بے شمار عوامل دیکھائی دیتے ہیں کہ رہبر کو کیسے تنھا کیا جاتا ہے، دشمن کا طریقہ واردات سمجھنے میں مدد ملتی ہے،  ان عوامل کو جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ خدانہ کرے یہ تاریخی حقیقت پھر آشکار ہوجائے اور ایک بار پھر زمانے کے امام مظلومیت کے ساتھ تنھا رہ جائیں۔۔۔

Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ اسباب جس کی بناء پر امام حسن ع کو تنھا کردیا گیا وہ یہ ہیں۔۔

امام حسن ع کے خلاف معاویہ نے نفسیاتی جنگ، پروپیگنڈہ اور جاسوسی سے زیادہ استفادہ کیا۔۔ معاویہ کے پاس جاسوسی اور نفسیاتی جنگ کی فوج کا نیٹ ورک بہت مضبوط تھا اور اس دور کا میڈیا معاویہ کے کنٹرول میں تھا، یعنی غلط اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے لئے اپنی مخصوص فوج کا جال امام حسن ع کی فوج اور چائنے والوں کے ارد گرد پچھا دیا۔۔

معاویہ کے آدمی ایک طرف سے چاہنے والوں اور امام کی فوج کے درمیان آکر یہ بحث چھیڑتے کہ معاویہ سے جنگ میں امام حسن ع کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں، جبکہ انکے والد بھی معاویہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور بلآخر شھید کردیئے گئے۔۔

دوسری طرف نفسیاتی دبائو ڈالا جاتا کہ ابھی معاویہ حملہ کرنے والا ہے، بس ابھی جنگ شروع ہونے والی ہے، ابھی سب مارے جائیں گے۔۔

ایک طرف سے اس قسم کی بحث چھیڑتے جس سے شان امامت اور امام حسن ع کی منزلت کم ہوجائے جس سے کمزور عقیدہ لوگ شک میں پڑھ جاتے جیسے امام حسن کے بارے میں مشھور کردیا کہ ان کی ۳۵۶ بیویاں ہیں، وہ اہل دنیا ہیں، اپنے بابا علی ع کی طرح سادہ زندگی نہیں گذارتے اشرافیت کے ساتھ رہتے ہیں، اپنی خلافت کے لئے بڑے بڑے محل اور قلعے بنائے ہیں ماذاللہ۔۔۔

ایک طرف سے مومنین اور شیعوں کے درمیان یہ مشھور کرتے کہ معاویہ اور امام حسن ع نے پس پردہ آپس میں مذاکرات کر لئے ہیں لہذا اب معاویہ سے جنگ کی تیاری بے فائدہ ہے۔۔

ایک طرف سے اپنوں کے لباس میں آکر معاویہ کے آدمی داخلی دبائو ایجاد کرتے کہ آخر کب تک جنگ لڑیں، کتنے شھید دیں ؟ اب تو کوئی خاندان ایسا نہیں بچا جس نے شھید نہ دیا ہو، کتنے زخمی پڑے ہیں مزید کتنا نقصان اٹھائیں ۔۔ اب بہت ہو چکا۔۔

اسی طرح لشکر کے ایک طبقے کو شک و تردید میں ڈال دیا کہ آیا امام حسن ع درست فیصلہ کر رہے ہیں یا نہیں۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

لشکر کا سب سے اہم ستون فوج کے کمانڈر ہوتے ہیں معاویہ کی نظریں امام حسن ع کی فوج کے کمانڈروں پر تھیں، اپنے آدمیوں کو احکام دیئے کہ امام حسن ع کی فوج کے ہر چھوٹے بڑے کمانڈر کے پاس جائیں اور ہر ایک کو خریدیں، اپنے آدمیوں سے کہتا ہے کہ وہ اب پہلے جیسے نہیں رہے، جنھوں نے ۳ سال پہلے مجھ سے جنگ کی تھی، کچھ بوڑھے ہوچکے ہیں، کچھ کی شادیاں ہوگئیں ہیں، کچھ شکم سیر اور اہلِ دنیا ہوچکے ہیں، انکے حوصلے اب پست ہیں، اور اب یہ شھادت طلب نہیں رہے۔۔

امام حسن ع کے چچا کا بیٹا، امام کا انتہائی مورد اعتماد شخص جس کو فوج کی سپھ سالاری کا شرف حاصل تھا، عبید اللہ ابن عباس، لالچ میں آکر ۴۰۰۰ کے لشکر سمیت معاویہ سے ملھک ہو گیا، جس میں اس کے قبائل اور علاقے کے لوگ شامل تھے۔۔

جنگ کے دوران معاویہ کے نفوذی امام حسن ع کے لشکر میں شامل ہوجاتے، اور سرداروں کے پاس آکر معاویہ کی پیشکش سناتے، ان کی مھارت کی مثال نہیں ملتی: خریدنے کا انداز ملاحظہ کیجئے۔۔

سرداروں سے سوال کرتے تم نے اتنی فداکاریاں کیں تمھیں کیا ملا آیا تمھارے حصے میں کوئی مال آیا ؟ سردار جواب دیتے کچھ نہیں ہم باقی لوگوں کی طرح سادہ زندگی گذارتے ہیں، معاویہ کے آدمی پوچھتے ہیں کیا برا نہیں سرداروں کو دوسروں کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ سالوں سے فداکاری کر رہے ہو پھر کیوں سب ایک طرح ہو ؟ یہ جواب دیتے آخر ہمارے رہبر امام حسن ع بھی اسی طرح ہیں، سادہ زندگی پسند کرتے ہیں، معاویہ کے آدمی کہتے اُن سے تمھارا کیا واسطہ، کب اپنے لئے جیو گے؟ تمھاری ترقی کب ہوگی ؟ اپنے گھر والوں بیوی بچوں کے لئے کب سوچو گے؟ کب تک شھید دیتے رہو گے؟ کب تک اس دبائو کا شکار رہنا چاہتے ہو کہ نہ جانے کب جنگ شروع ہوگی، کب حملہ ہوگا، کب جنگ ختم ہوگی کب ہم گھر جائیںگے ؟

پھر یہ آدمی سرداروں سے پوچھتے : امام حسن ع تمھیں اس کام کی کتی اجرت دیتے ہیں؟ پھر کہتے معاویہ کے پاس آئو وہ تمھیں اس سے ۲۵ گناہ زیادہ دے گا، بعض نے ۵۰ برابر اور بعض نے ۲۰۰ برابر کی پیشکش کی۔۔

پھر فوراً ایک بڑی نقدی رقم ان سرداروں کے ہاتھ میں رکھ دیتے اور Blank Cheque  کے طور پر پیکش کرتے یعنی شھروں اور علاقوں کے نام لیتے اور پوچھتے کس علاقے کی فرمانروای پسند ہے ؟ جس علاقے کی حکومت چاہیئے نام بتائو وہاں کا سارا بیت المال تمھارا ہوگا، یہ سب کچھ صرف اور صرف ایک کام کے بدلے میں کہ حسن ابن علی ع کی مدد سے ہاتھ اٹھا لو ۔۔۔

مالی لحاظ سے کمزور اور ضعیف العقیدہ افراد کو ایک ایک کر کے شکار کر لیا۔۔۔ سب کی قیمتیں لگائیں، کچھ چھوٹی اور کچھ بڑی قیمت پر اکثر بکنے کے کئے حاضر تھے ۔۔

امام حسن ع کی فوج میں بعض ایسے سردار بھی تھے جنہوں نے امام علی ع کے ساتھ مل کر جنگیں لڑیں تھیں، جن کی مالی مشکلات تھیں ان میں سے بعض نے ہار مان لی، بعض کو شک و تردید میں ڈال دیا ، معاویہ کے آدمی ان کے پاس آتے اور کہتے آیا حسن ع کے پاس جنگ کی لیاقت ہے ؟

اسی طرح بعض کے اندر حس جاہ طلبی کو بڑھاتے مثلاً سرداروں سے کہتے تمھارے اندر کیا کمی ہے حسن ع تم پر سرداری کا کیا جواز رکھتے ہیں ؟ آیا تمھارا تجربہ کیا امام حسن ع سے کم ہے ؟ تم نے مولا علی ع کے ساتھ حسن ابن علی سے بڑھ کر جنگیں لڑیں ہیں۔۔  

بعض اہلِ شھوت تھے ان کو معاویہ نے اپنی بیٹی دینے کا وعدہ کیا اور خرید لیا، بعض کی تاریخی سند موجود ہے جنہیں معاویہ نے خوبصورت ترین عورت دینے کے وعدے سے خریدا۔۔  بعض کو پلاٹ کے وعدے پر اور بعض کو عھدے کے وعدے پر خریدا۔۔

اسی طرح کُل ۸ بڑے کمانڈروں نے امام حسن ع سے خیانت کی۔۔

حتی امام حسن ع کو شھید کرنے کے لئے کچھ افراد چاہنے والوں کے لباس میں شامل ہوئے، ایک نے حملہ کیا جس کی وجہ سے امام زخمی بھی ہوئے۔۔

کام تمام ہوچکا تھا، اصلاً سپاھی نہیں تھے، اردوگاہ ہی نہیں تھی، امام حسن ع کے اپنے خیمے میں خائن بیٹھے تھے۔۔۔ جنگ کس امید پر لڑی جاتی ؟

جاسوسی اور نفسیاتی جنگ کے دو سرغنہ ماسٹر مائنڈ ایک بصرہ اور ایک کوفہ سے گرفتار بھی ہوئے، جس پر امام حسن ع نے انھیں سزا دی اور معاویہ کو خط لکھ کر اس کی مذمت کی، لیکن معاویہ کا جال اتنا مضبوط تھا کہ باقی گروہوں نے دھوکے اور لالچ سے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔۔۔

یہ ایک حقیر سی کوشش تھی کے صلح کے پیچھے مظلومیت امام حسن ع بیان ہو۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...