Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله
Sign in to follow this  
Amra

Apne Peghaam Ashaar Ki Soorat Rawana Kijiye...

Recommended Posts

ذرا احتیاط سے کام لے، نہ زباں دراز ھو اس قدر

کہ حسینیت سے الجھ سکے، ابھی تجھ میں اتنا تو دم نہیں

ھے عروج_دیں کا امیں یہی، ھے نشان_فتح_مبیں یہی

اسے چشم_بد سے نہ دیکھنا، یہ علم ھے تیرا قلم نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

ÔíÎ ÕÇÍÈ Èªí Êæ ÑÏÿ ˜ÿ ˜æÆí ÍÇãí äÀíŸ

ãÝÊ ãíŸ ˜ÇáÌ ˜ÿ ᚘÿ Çä Óÿ ÈÏÙä ÀæÆÿ

æÚÙ ãíŸ ÝÑãÇ ÏíÇ ˜á  äÿ ÕÇÝ ÕÇÝ

ÑÏÀ ÂÎÑ ˜Ó Óÿ Àæ ÌÈ ãÑÏ Àí Òä ÀæÆÿ

Share this post


Link to post
Share on other sites

قران وہ کتاب ہے جو درس انقلاب ہے

جو اُسوہ رسولٴ ہے، ہمارا وہ اصول ہے

حُسینٴ حُسینٴ شعار ہے، شہادت افتخار ہے

علیٴ کا طرز زندگی، مُنافقت کی موت ہے

یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خُدا کا ہے

ہماری یہ جوانیاں، حُسینٴ کی قُربانیاں

جوانیاں لُٹائیں گے، انقلاب لائیں گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم ظلم کی حد کو پار کرو، ہم صبر کا دامن تھامتے ہیں

تم لاکھ دھماکے ہم پہ کرو، ہم خون بہانا جانتے ہیں

تم آؤ ہم کو قتل کرو، ہم اپنی شہادت مانگتے ہیں

تم بھٹکے ہوئے ہو منزل سے، ہم منزل کو پہچانتے ہیں

تم ابو سفیان کی آل سے ہو، ہم فکرِ حسینی مانتے ہیں

یہ جان ہماری ہے قرضِ حسین، یہ جان تو ہم نے دینی ہے۔

تم کتنے حسینی مارو گے یہ ساری قوم حسینی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

تجھے کیا پتا تیری یاد نے

مجھے کیسے کیسے ستا دیا

کبھی محفلوں میں ہنسا دیا

کبھی خلوتوں میں رلا دیا

کبھی یوں ہوا کہ تیری یاد میں

میری نماز مجھ سے قضا ہوئی

کبھی یوں ہوا کہ تیری یاد نے

مجھے میرے رب سے ملا دیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

مطمئن سے ہو گئے ہیں ہم بالآخر سوچ کر

اک نہ اک دن ملنے والوں کو جدا ہونا ہی تھا

کس قدر تھی بے خودی، دیوار سے ٹکرا گئے

اُس درِ امکاں پہ ایسا حادثہ ہونا ہی تھا

ہم نے اِس امید پر ہر جھوٹ اُس کا سن لیا

اک نہ اک دن جھوٹ سچ کا فیصلہ ہونا ہی تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی

کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے

کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

Share this post


Link to post
Share on other sites

باہر جو مجمع کھڑا ہے ان آنکھوں میں ذرا غور کرکے دیکھیں وہ کسطرح کس نفرت کے ساتھ اس سارے نظام کو دیکھ رہے ہیں، کس حقارت کے ساتھ ، کس بغاوت کے ساتھ، ان کو دیکھیں، ان کی آوازوں میں پابلو نیرودا ہے، پابلو نیرودا نے کہا تھا ، کہ،
کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے
کہو تم وزارت میں جانے سے پہلے
کہو تم سفارت میں جانے سے پہلے
دیکھاو ہمیں اپنے اعمال نامے؛
قیامت کے دن اور خدا پر نہ چھوڑو
قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں
اسی چوک میں خون بہتا رہا ہے
اسی چوک میں قاتلوں کو پکڑ کر
سزا دو سزا دو سزا دو سزا دو

اعتزاز احسن

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...