Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

talib e ilm

Advanced Member
  • Posts

    325
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by talib e ilm

  1. یہ بہت ہی سنجیدہ موضوع تھا لیکن متعصفانہ تفریح اور مذاق کی نظر ہوگیا۔ ہم دوسروں کو تو قصوروار ٹھرادیتے ہیں، کہ سیاستدان نے یہ کیا، فوج نے وہ کیا، خوب مانا سب کرپٹ تھے اور ہیں، لیکن کیا اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ ملک چھوڑ کر فرار کر لیا جائے ؟ اور دوسرے ملک جاکر ذلت کے ساتھ انگریزوں کی خدمت کریں اور ان کے جھوتے پالش کئے جائیں؟ کیا اگر آپ کے اپنے گھر میں کیڑے مکوڑے زیادہ پھیل جائیں تو آپ اپنے گھر کو تالا لگا کر خود فٹ پاتھ پر چلے جاتے ہیں ؟ یا ان کیڑوں سے نجات کے لئے کوئی سد باب تلاش کرتے ہیں ؟ پاکستان پر حکومت کرنے والے خاندان بہت تھوڑے ہیں اگر بہت زیادہ مبالغہ بھی کیا جائے تو چند سو سے زیادہ نہیں بنتے اسی طرح اگر تمام دہشت گردوں کو جمع کر لیا جائے تو بھی تعداد ہزاروں میں ہوگی، یہ چند سو اور چند ہزار لوگ ۱۸ کروڑ عوام کو اتنی آسانی سے کیوں خوفزدہ کردیتے ہیں؟ کیونکہ ان ۱۸ کروڑ کی خودی مر گئی ہے۔ اور ایسے ہی ہوتا ہے کہ جو قوم اپنی شخصیت اور اجتماعی خودی کھو دے اس پر بہت تھوڑے لوگ آکر وہ ظلم و ستم کرتے ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔ آپ تاریخ دیکھ لیں وہ قومیں جنہوں نے ذلیل ہونے کو ترجیح دی ہے وہ اکثریت کے باوجود رسوا اور خوار ہوئی ہیں، اس کے مقابلے میں وہ قومیں جنہوں نے ذلت کو اپنے لئے باعث شرم جانا ہے وہ کامیاب ہوئی ہیں اگرچہ یہ کم تھے۔ تاریخ کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنے کل سے اپنے آج کے لئے عبرت تلاش کرے۔ جوزف اسٹالن جو سویت یونین کا سربراہ تھا اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اسن نے ۶۰ لاکھ لوگوں کا خون کیا۔ آپ تصور کریں کہ اگر یہی ساٹھ لاکھ اس کی بربادی کے لئے جمع ہو جاتے تو اس کی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی تھی۔ اس فورم پر اکثریت پیروان اہلیبیت کی موجود ہے الحمد اللہ خوب آپ امام حسین علیہ سلام کا دور ہی دیکھ لیں کہ جب کوفیوں نے خط لکھ کر امام کو دعوت دی کہ آپ تشریف لائیں اور ہمیں ابن زیاد کہ ظلم و ستم سے نجات دیں (جو کہ ایک سفاک انسان تھا)، اور ہم سب آپ کی نصرت کے لئے آمادہ ہیں اب لوگ مولا حسین علیہ سلام کے منتظر تھے کہ کب آپ تشریف لاتے ہیں، دور سے کسی نے افوا اڑائی کہ مولا حسین علیہ سلام اپنے ہمراہ ایک جوان کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اورانہوں نے ہماری دعوت قبول کر لی ہے، سب نے استقبال کی بھرپور تیاریاں کر لیں اور سب ایک جگہ جمع ہوگئے، جیسے ہی اس گھوڑ سوار نے اپنی نقاب الٹی تو معلوم ہوا کہ یہ ملعون ابن زیاد ہے۔ تاریخ میں درج ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر الٹے پائوں اپنے گھروں کی طرف دوڑے اور چند لمحوں میں سناٹا چھا گیا، ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ ابن زیاد اکیلا فقط ایک سپاہی کہ ساتھ آیا تھا، وہ تمام لوگ جو مولا حسین علیہ سلام کے انتظار میں کھڑے تھے اگر ایک ایک تھپڑ بھی ابن زیاد کو مارتے تو وہ ملعون وہی زمین میں دفن ہوجاتا۔ اور واقعہ کربلا کی نوبت ہی نہ آتی۔۔ کوفی اگرچہ امام حسین علیہ سلام سے محبت کرتے تھے مگر انکی مشکل یہ تھی کہ انکی خودی مرگئی تھی اور اپنے لئے ذلت کو قبول کر چکے تھے۔ آج وہ طبقہ جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے وہ عوامی طبقے کے باشعورلوگ ہیں، نہ موجودہ سیاستدان اور نہ ہی فوج یہ کام کرسکتی ہے۔۔ اگر آپ میں سے باشعور لوگ اور وہ لوگ جو پاکستان کے لئے کچھ کر سکتے ہیں وطن چھوڑ کر چلیں جائیں گے تو پھر اس دھرتی کا کیا ہوگا ؟ یہ ۱۸ کروڑ عوام کو کونسا ملک پناہ دے گا ؟ یہ سیاستدان جو ہم پر مسلط ہیں اور یہ مافیائی پارٹی نظام جس کے چنگل میں آج ہم گرفتار ہیں ان سب ناگواریوں کے سب سے بڑے ذمہ دار ہم خود یعنی عوام ہیں، اگر عوام بیدار اور باشعور ہو تو اتنا پست طبقہ پاکستان پر حکومت نہیں کرسکتا۔ سورہ انفال آیت ۵۳ میں خدا وند تعالی ارشاد فرماتا ہے ‘‘یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ جب خداوند عالم کسی قوم کو کسی نعمت سے نوازتا ہے تو اسے تبدیل نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل کر دیں، یقیناً خدا سننے اور جاننے والا ہے۔’’
  2. کبھی آپ نے سوچا کہ کیوں پاکستان کی سرزمین بانجھ ہے کہ ۶۰ سالوں میں کوئی ایک نامور مجتھد یا دینی علوم کے شعبے کا کوئی بڑا نام پیدا نہیں کرسکی ؟ میں اس پر بہت سوچتا تھا۔۔ ہمارے استاد فرماتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ہر شخص مادر ذاد (پیدا ہوتے ہی) مجتھد دنیا میں قدم رکھتا ہے اور ہر قسم کی ہدایت سے خود کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔ پھربھلا کیوں کوئی مجتھد یا دیگر علمی شعبوں میں عالم بننے کے لئے اپنی ساری زندگی حوزے میں گذارے اور علوم آلِ محمد ﷺ کی گہرائی میں اترے۔۔۔ مجتھد اور عالم اس سرزمین کے ساتھ زیادہ جچتا ہے جہاں کہ لوگ خود کو ہدایت کا محتاج جانیں، آپ دیکھں گے کہ جہاں ایسی سوچ کےحامل لوگ ہوں وہ معاشرہ مجتھد اور عالم پرور معاشرہ ہوتا ہے
  3. بسم تعالی ایک اہم مسئلہ کی طرف آپ دوستوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں بہت زیادہ دقت اور گہرائی کے ساتھ تحقیق اور جستجو کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا پڑھے لکھے معاشروں میں متعلق علم کے ماہر کو دعوت دی جاتی ہے اور ان سے مسئلہ کا حل پوچھا جاتا ہے اور اس کے تجویز کردہ حل کو اہمیت بھی دی جاتی ہے، یا پھرکوئی عام فرد کسی ماہر سے نقلِ قول کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک ماہر اپنے متعلقہ علمی شعبےمیں ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح مانوس ہوتا ہے۔ اور ہر مسئلہ تھڑے اور کسی (چوک) پر حل ہونے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر مسئلہ اس طرز کا ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا آکر اس پر اظہار نظر کرے اور اپنی رائے پیش کرے۔۔ بعض دفعہ ایسا کرنے سے بہت نقصان ہوسکتا ہے اگرچہ جو یہ کام کرہا ہو وہ شاید اپنے کام سے مخلص بھی ہو۔۔ مثلاً خدا نہ کرے آپ کا ایک دوست بیمار ہو جاتا ہے تو آپ ایک احسان اس کے حق میں یہ کر سکتے ہیں کہ اسے حکیم یا ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور یہی اپنے دوست سے وفا اور دوستی کا تقاضا ہے، لیکن بعض لوگ محبت اور خلوص میں ایک غلط کام یہ کرتے ہیں کہ خود حکیم تو نہیں ہوتے پھر بھی جیب سے پوڑی یا پھکّی نکال کر مریض کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور مریض بیچارہ درد میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنے دوست پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کھا لیتا ہے۔۔ اور بیمار بیمارتر ہو جاتا ہے۔۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ پوڑی اور پھکّی نما لوگ ڈاکٹر اور حکیم کو برا بھلا بھی کہتے ہیں کہ جو واقعاً بیماری کو دور کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔۔ یہی کام بعض نادان انٹرنیٹ پر اور خصوصاً فورمز پر کرتے ہیں، ان کے ذہن میں جہالت اور نادانی کی پوڑیاں ہوتی ہیں، اور وہ لوگوں کے سامنے جب اپنا ذہن خالی کرتے ہیں توعام فہم لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور مخالفین کو میدان دیتے ہیں کہ ہمارے عقائد کا تمسخر اڑائے، اور یہ کام زیادہ تر قربۃً الا اللہ کیا جاتا ہے۔ جب یہ کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتاہے کہ خام باتیں ہیں، اور عام طور پر یہ لوگ کسی ماہرِ علم کے قائل نہیں ہوتے اور مجتھد یا مرجع دینی کو عام انسان سے بھی بدتراور خیانت کار شمار کرتے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ہمارا مخالف ان کی باتوں کو سن کر ہمارے مکتب اور ہماری فکر سے اور دورہوجاتاہے، اور مذہب حقیقی سے بدظن ہوجاتا ہے، ایسا مخلص شخص اپنی جہالت کی وجہ سے دوسروں کو اپنے مذہب سے دور تر کرتا ہے، اور اپنی دانست میں خیال کرتا ہے کہ میں اجر عظیم کا مستحق ہوں کے لوگوں میں ہدایت عام کر رہا ہوں۔۔۔ اب پیشِ خدمت ہیں چند ماڈل جملات اور اس قسم کےدوسرے کلمات جن کی مدد سے آپ ایسے افراد کی باآسانی نشاندہی کرسکتے ہیں: ویسے میں عالم تو نہیں ہوں لیکن میرے خیال سے نماز کے تشھد میں شھادت ثالثہ پڑھنی چاھئے کیونکہ یہ اذان میں پڑھنا بھی ضروری ہے میں کوئی مفسّر قرآن تو نہیں ہوں لیکن قرآن کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ متعہ ایک قبیح عمل ہے۔۔ میں علامہ یا مجتھد نہیں ہوں مگر زنجیر زنی کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور اسے ایمان کا مسئلہ سمجھتا ہوں؟مجتھد ہوتا کون ہے اعتقادی مسائل میں فتوٰی لگانے والا ؟ ہمیں اپنے سیاسی مسائل میں ولایت فقیھ اور رہبریت کی ضرورت نہیں کیونکہ ولایت فقیھ پر کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی ۔۔۔۔ غور کیا آپ نے ایک طرف اپنی جہالت کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف اتنے باوثوق انداز میں کسی حق کو جٹھلا بھی دیتے ہیں اور دوسروں کو کنفیوز کرتے ہیں، یہ ایکا دوکّا مثالیں ہیں، نہ جانے ایسی کتنی مثالیں موجود ہیں۔۔۔ امام علی فرماتے ہیں: کہ اگرلوگ اپنی زبان ان امور میں نہ کھولیں جن کے بارے میں نہیں جانتے تو اس جھان کے آدھے مسائل یوں ہی حل ہوجائیں گے۔۔ یہ ہمارے معاشرے کی بڑی مشکلات میں سے ایک ہے کہ علماء و مجتھدین کی قدر نہیں کرتے وہ کہ جنھوں نے اپنی پوری زندگی علوم آلِ محمد کے لئے وقف کردی ہو اسے اپنے برابر بھی نہیں سمجھتے
  4. کسی معصوم علیہ سلام سے یہ حدیث منقول ہے کہ اپنے کسی چائنے والے سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اگر تم کوئی نیکی کرو تو یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ دوسرے کریں اور اگر تم کوئی برائی کرو تو یہ اس سے بہت ہی برہ ہے کہ اگر دوسرے کریں کیونکہ تمھاری نسبت ہم سے ہے۰ تم ہمارے لئے باعث عزت بنو نہ باعث ذلت آج دنیا اہلیبیت کو ان کے چاہنے والوں کے ذریعے پہچانتی ہے کیا آج ہمارے پاس دنیا کو دیکھانے کے لئے کوئی اسوہ یا رول ماڈل نہیں ؟ جو ہم فاسد اسوے ڈھونڈتے پھریں ؟
  5. شھید کے ایک قریبی ساتھی کی زبانی مجھے کچھ عرصہ شہید کے ساتھ رہنے اور شہید کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔میں نے جوکچھ دیکھااور محسوس کیا وہی اس وقت نذر قارئین ہے۔ میں سب سے پہلے شہید کے اہداف کے بارے میں بات کروں گا۔ شھید مظفر علی کرمانی کے اہداف : 1. دین اور تشیع کی مکتبی شناخت : شہید کرمانی کی پریشانی اور ہم و غم یہ تھا کہ شیعوں کو تشیع کی عمیق شناخت نہیں اور نہ ہی انہیں اسلام کی شناخت ہے انہوں نے تشیع کی صحیح شناخت کے لئے نہ صرف شیعوں کے درمیان بلکہ اہل سنت اور وہابیوں کے اندر جاکر جراتمندانہ طور پر تشیع کی شناخت کروائی۔ وہ امام خمینی کے حقیقی پیروکار اور عاشق تھے انہیں یقین تھا کہ مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ اسلام ناب محمدیﷺ کی پیروی اور اسلام امریکائی سے دوری میں ہے ۔اسلام ناب یعنی خالص اور حقیقی اسلام جبکہ اسلام امریکائی یعنی التقاطی اسلام، متحجرانہ اسلام ( ہمارے معاشروں میں رائج اسلام وہی التقاطی اور متحجرانہ اسلام ہے جبکہ ہمیں حقیقی اور خالص اسلام اپنا نا ہے اور اپنی نسلوں میں منتقل کرنا ہے)۔ شہید کرمانی فرمایا کرتے تھے کہ اصلی اور خالص دین پر گرد پڑی ہوئی ہے اور گرد بھی مٹی کی نہیں بلکہ پیسوں کی ، ثروت کی جسے ہٹانا بہت ہی مشکل کام ہے ۔شہید کہتے تھےکہ حقیقی اسلام ، شمیشر اور تلوار سے کے مانند ہے ۔تلوارجتنی زیادہ چلتی ہے اتنی ہی کندہ ہوجاتی ہے مگر لوہے کی شمشیر کو تیز کرنے کے لئے ایک خاص قسم کے آلے کی ضروت ہے مگر حقیقی اسلام جوشرک و کفر سے آلودہ ہوجاتاہے اوراسے تیز کرنے کے لئے جس آلے کی ضرورت ہے وہ پاک انسان کا خون اور پاکیزہ مومن کی شخصیت ہے۔ 2. انقلاب اسلامی کا دفاع :شہید کرمانی اکثراپنی محافل میں کہا کرتے تھے کہ شیعوں کو عالمی سطح پر آنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی شناخت، انقلاب اسلامی سے کروائیں یہی وہ تشیع کا درست چہرہ ہے کہ جس سے امریکہ جیسا دشمن بھی ڈرتا ہے ،یہ وہ شیعہ ہے کہ جو سیاسی و اجتماعی لحاظ سےدنیا کے نقشے میں صف اول میں موجود ہے اور اگر اس نے راہ انقلاب کو ترک کر دیا تو اس کو اپنے گھر ،گلی اور محلے کے علاوہ کوئی بھی پہچان نہیں سکے گا اس صورت میں یہ دنیا سے محو ہو جائے گا۔ یاد رہے وہ شیعہ کہ جو عالمی لحاظ سے دینا میں صف اول میں ہے اس کے لئے خطرات بھی زیاد ہیں ہر وقت دشمن کے نشانے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ دشمن کی آنکھ میں کانٹا ہے وگرنہ محض نعرے بازاور رسوم و رواج کےپابند شیعے سے دشمن کوکوئی خطرہ نہیں بلکہ خود دشمن اس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے وہ چاہتا ہے کہ شیعہ فقط رسومات اور عبادت گاہوں تک محدود رہے اوراپنی حقیقی پہچان کو بھول جائے،سیاست کی بات نہ کرئے، نظام امامت کی بات نہ کرئے ،ولایت فقیہ کا شعار نہ دے، سیاست سے دور رہے، عدالت کی بات نہ کرے، جہانی حکومت کے خواب نہ دیکھے، تو ایسے شیعوں کو دنیا قبول کرتی ہے نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان کی حمایت بھی کرتی ہے، انہیں مجالس اور جلوس کے پرمٹ (اجازت)بھی دیتی ہے ، انہیں عزاداری کرنے کی اجازت بھی دیتی ہے نہ صرف اجازت دیتی ہے بلکہ ان کے ساتھ ایسے مراسم میں شرکت بھی کرتے ہیں اور حکومتی سرپرستی میں مراسم انجام پاتے ہیں۔ دشمن کو معلوم ہے کہ اگر شیعوں کے افکار تبدیل ہوجائیں اور ان میں بصیرت پیدا ہوجائے تو یہ ہمارے اہداف و مقاصد کےلئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ملت تشیع سے اس کی شناخت چھین لی جائے اوراسے ایک رسوماتی فرقے میں بدل دیا جائے۔ تشیع کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی طرح سے ان کے نظریے اور آئیڈیالوجی کو تبدیل کیا جائے اور یہ کام بعض شیعہ نادان علماء کے ذریعے سے انجام دینے کو شش کی جا رہی ہے ۔ شیعہ عالم (ناداں)کہتا ہے کہ ہمارا انقلاب اسلامی سے کیا تعلق، ہمیں سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، ہماری رسومات اور عبادات اچھی طرح سے انجام پاجائیں ہمیں ثواب مل جائے کافی ہے پھرہم کامیاب ہیں۔ ایک اور چیز جس کے ذریعے سے دشمن شیعہ آئیڈیالوجی کو ختم کرنے کے لئے چاہتا ہے وہ جاہل اور کم فہم عزادار ہیں ان کو کہاجاتا ہے کہ آپ عزاداری کریں ہم آپ کی ہر طرح سے مدد کرے گے نہ صرف مدد کریں گے بلکہ آپ کے ساتھ مل کر عزاداری بھی کریں گے لیکن فقط رسوماتی عزاداری انجام دینی ہے نہ حقیقی عزداری ۔ 3. ولایت فقیه کی ترویج ا صول اور مبانی : شہید کرمانی کو ولایت فقیہ کے پیروکار تو دور کی بات اگر کوئی اس کا حامی بھی مل جاتاتو اس کے سامنے اتنہائی خضوع و خشوع سے پیش آتے تھے اوراس کا بہت احترام کرتےکیونکہ خود راہ ولایت پر گامزن تھے اور اگر کوئی ولایت فقیہ کی مخالفت کرتا تھا پہلےتو اس کو استدلال سے قانع کرنے کی کوشش کرتے اگر وہ قانع نہیں ہوتالجاجت دکھاتا تو اس وقت شہید کرمانی اس کی لجاجت کی بناپر سخت رویہ اختیار کرتے تھے شہید اکثر کہا کرتے تھے کہ زمانہ غیبت میں ولایت فقیہ تشیع کی اصل شناخت و پہچان ہے اگر کوئی شیعہ ،ولایت فقیہ کی مخالفت کرتا ہے تو وہ حقیقی شیعہ نہیں ہو سکتا بلکہ ایک شعاری شیعہ ہے کہ جو واقعیت سے بہت دور ہے امامت تشیع کی شناخت ہے اور ولایت فقیہ استمرار امامت ہے ۔جو شیعہ ولایت فقیہ سے دور ہے وہ درحقیقت امامت سے کوسوں دور ہے اس نے صوفیوں کی امامت اپنائی ہوئی ہے جس کا اثر ہماری زندگیوں میں نہیں بلکہ ہمارے ذہن کے کسی گوشہ و کنار میں ہے ۔جب ائمہ کی شہادت اور ولادت کے ایام آتے ہیں تو یہ نام نہاد شیعہ اپنے ذہنی اعتقاد کی تسکین کے لئے تھوڑی بہت ہل چل کر لیتا ہے جبکہ امامت کا مقام وہی ہے کہ جو جسم کے اندر موجود دل کا مقام ہے انسانی حیات میں دل کا مرکزی کردار ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح سے امامت ہے امامت کے بغیر شیعہ،شیعہ نہیں ہے اور غیبت امام زمانہ عج میں ولایت فقیہ تسلسل امامت ہےپس ولایت فقیہ سے دوری درحقیقت امامت سے دوری ہے۔ 4. پاکستان میں انقلاب اسلامی کے قیام کے لئے کوشش: اس کے لئے انہوں نے ابتداسے کام شروع کیا اور لوگوں میں دینی آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے لئے کوشش جاری رکھی اوراکثر کہا کرتے تھے کہ انشاء اللہ ابھی نہیں تو ہماری آئندہ نسلیں ضرور اس کام کو انجام دیں گی اوراس سلسلے کا پہلا قدم آگاہی ہے۔ شہید کرمانی نے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے شہید مطہری کی روش سے استفادہ کیا اور اکثر اپنی گفتگو میں ذکر کرتے تھے کہ شہید مطہری کی کامیابی اور انقلاب اسلامی کے وجود میں آنے کا سبب علمی اور فکری نشستیں ہیں جو انہوں نے اوائل انقلاب میں برگزارکیں تھیں اسی روش کو شہید کرمانی نے بھی اپنا یا اور ماہانہ علمی نشستوں کا سلسلہ شروع کیا۔ہدف یہ تھا کہ ان کے ذریعے سے لوگوں کی علمی اور فکری سطح کو بلند کیا جا سکے ، لوگوں کا شعور بلند ہو اور دین کے بارے میں صحیح آگاہی حاصل ہو ۔ اس کے بعد میں مختصرا ان مشکلات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا جن کا سامنا شہید کو کرناپڑا۔ان میں سب سے بڑی مشکل ۔شھید کرمانی کی شخصت کشی کی تھی۔ حضرت ابوذر کی ایک مظلومیت یہ تھی کہ آپ حق کے حامی اور ظالم کے شدید مخالف تھے اسی وجہ سے آپ کو مدینہ سے نکال دیا گیا شہر بدر کیا گیا اور شہید کرمانی کو بھی حضرت ابوذر کی پیروی کے نتیجے میں ملک بدر اور شہر بدرتو نہیں کیا لیکن انہیں ملک کے اندرہی، ان کے دوستوں کے درمیان ، اپنے ہی خاندان اور معاشرے میں ایک اجنبی انسان بنا دیا گیا شہید کرمانی کی ایک مظلومیت یہ تھی کہ یہ انسان اپنوں میں تنہا ہو گئے تھے۔ ü ناداں دوستوں اور ناداں شیعوں کے زہر آلود پراپگنڈے کی وجہ سے ان کی صبح اور شام موت واقع ہوتی تھی وہ ان پراپنے غلیظ افکار کے کیچڑ اچھالتے تھے۔ ü کل تک جو ان کے گہرے دوست تھے ان کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے تھے آج وہی دوست انہیں سلام تک نہیں کرتے تھے۔ ü شہید کرمانی کو عزاداری کا دشمن کہا گیا انہیں وہابی کہا گیا۔ ü ان کی شہادت پر سولجر بازار سے لے کر انچولی تک جشن کیا گیا ۔ ü ان کی شہادت پر انچولی میں میٹھائیاں تقسیم ہوئیں ۔ ü ان کی شہادت کے بعد لوگوں نے مقدس مقامات پر جاکر شکر ادا کیا کہ ان کی دعائیں اور نذر پوری ہوئی ، کہ ایک کافر کا خاتمہ ہوا۔ ان بے شعورں کے جملات یہ تھے نعوذباللہ (مرگیا مرود، نہ فاتحہ نہ دورد) ü شہید کرمانی کی قبر پر کافر کافر کے نعرے لکھے گئے ۔ شہید کرمانی کی مظلومیت یہ تھی ان کو شیعہ بھی نہیں سمجھتے تھے آخر ان کا قصور کیا تھا کہ لوگ صبح و شام ان کے لئے بد دعاکرتے تھے جبکہ شہید کرمانی ہروقت ان کی نجات کی فکر میں مشغول رہتے تھےاوران کے لئے نگران تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو ان کی نادانی کی وجہ سے دشمن اسلام اور دشمن تشیع فائدہ اٹھائے یعنی تشیع کو نابود کرنے کے لئے ان ناداں شیعوں کا سہارا لے ۔ انبیا اور ائمہ کی سیرت پرچلتے ہوئے شہید کرمانی نے بھی لوگوں کی نجات کے خاطر اپنی زندگی وقف کردی نتیجے میں وہی کچھ ملا جو انبیا اور ائمہ کو ملا تھا قرآن میں ہے کہ بنی اسرائیل نا ماننے پر آئے تو نبی کو نبی نہیں مانا بلکہ اپنا خدمت گذار مان لیا اور جب یہ ماننے پر آئے تو خدا کے بجائے گوسالہ کو خدا بنا لیا،سورہ یسین میں ہے کہ حق بیان کرنے کی وجہ سے ایک دن میں ۷۰، ۷۰ انبیا کا قتل کیا گیا۔ اسی طرح ائمہ(ع) ہیں جن لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو دعوت دی، خط لکھے، وہی لوگ امام حسین علیہ السلام کے خون کے پیاسے ہوگئے امام کو شہید کردیا امام انہیں گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لانا چاہتے تھے انہی لوگوں نے اپنے سے زیادہ ہمددرد امام کو شہید کردیا اور اسی راستہ کو شہید کرمانی نے انبیا اور ائمہ (ع)سے لیا جس وجہ سے لوگوں کی نفرین کا باعث بنے اور آخر کار شہید ہوگئے۔ اس مرد مجاھد کے لئے اور وہ تمام شھداء جو دینِ اسلام کی راہ میں زحمت برداشت کرتے ہوئے شھید کر دئے گئے ان سب کے لئے ایک سورہ فاتحہ کی التماس ہے۔
  6. ابلیس کا جواب (علّامہ اقبال) کی زبانی درحقیقت آج کے شیطانوں کی سازش ہے اور علامہ اقبال نے بلکل درست تشخیص دی ہے کہ ان فرعونی نظاموں کی اصل وجہ پریشانی اسلامی نظام، اسلامی حکومت اور یہ بیداری ہے۔ چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئین تو خوب یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر جو چھپادے اسکی نظروں سے تماشائے حیات ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے مست رکھو ذکرِ فکرِ صبح گاہی میں اسے پختہ تر کردو مزاج خانقائی میں اسے
  7. Iblees (Apne Musheeron Se) IBLIS (TO HIS COUNCILORS) Hai Mere Dast-e-Tasarruf Mein Jahan-e-Rang O Bu Kya Zameen, Kya Mehar O Mah, Kya Asaman-e-Tu Ba Tu Absolute command have I of the world of scent and hue! The earth, the sun, the moon and the firmaments all Dekh Lain Ge Apni Ankhon Se Tamasha Gharb-o-Sharak Main Ne Jab Garma Diya Aqwam-e-Europe Ka Lahoo With their own eyes shall the West and the East witness the Spectacle: When I but warm the blood of the nations of Europe Kya Imamane Siasat, Kya Kaleesa Ka Shayookh Sub Ko Diwana Bana Sakti Hai Meri Aik Hoo The leaders of politics and the patriarchs of church all: One call from me would be enough to turn them mad. Kargah Sheesha Jo Nadan Samjhta Hai Usse Tor Kar Dekhe To Iss Tehzeeb Ke Jam-o-Saboo! The fool who considers it to be mere glass‐work: Let him dare smash the goblets and ewers of this Civilization. Dast-e-Fitrat Ne Kiya Hai Jin Girebanon Ko Chaak Mazdaki Mantaq Ki Souzan Se Nahin Hote Rafoo The collars torn asunder by the hand of Nature: Can’t be darned with the needle of the Mazdakite logic. Kab Dara Sakte Hain Mujh Ko Ishtaraki Koocha Gard Ye Preshan Rozgar, Ashufta Maghz, Ashufta Mu How could I be frightened by these Socialists, straying about the streets? Wretched and straitened, distracted in mind, incoherent in speech! Hai Agar Mujh Ko Khatar Koi To Uss Ummat Se Hai Jis Ki Khatstar Mein Hai Ab Tak Shirar-e-Arzu Amongst this people there are still to be seen a few Which still a spark of ambition hidden in its ashes retains Khal Khal Iss Qaum Mein Ab Tak Nazar Ate Hain Vo Karte Hain Ashak-E-Sehargahi Se Jo Zalim Wazoo The only menace I anticipate may come that community: Who go so far as to perform their ablutions with the tears of pre‐morning hours. Janta Hai, Jis Pe Roshan Batin-e-Ayyam Hai Mazdkiat Fitna-e-Farda Nahin, Islam Hai! Knows he to whom are revealed the inner secrets of Time: Not Mazdakism, but Islam is to be the trouble of the morrow. Janta Hun Main Ye Ummat Hamal-e-Quran Nahin Hai Wohi Sarmayadari Banda-e-Momin Ka Deen I do know this community is no longer the bearer of the Quran: The same Capitalism is the religion of the Believer now Janta Hun Main Ke Mashriq Ki Andheri Raat Mein Be Yad-e-Baiza Hai Peeran-e-Haram Ki Asteen And I know, too, that in the dark night of the East The sleeve of the holy ones of the Sanctuary is bereft of the white, illuminating hand. Asre-e-Hazir Ke Taqazaon Se Hai Lekin Ye Khof Ho Na Jaye Ashakara Shara-e-Peghambar Kahin The demands of the present age, however, spell the apprehension: Lest the Shari‘ah of the Prophet should come to light one day: Alhazar! Aaeen-e-Peghambar Se Sou Bar Alhazar Hafiz-e-Namoos-e-Zan, Mard Azma, Mard-e-Afreen Beware, a hundred times beware, of the Law of the Prophet!— The protector of women’s honour, the tester of men’s capacities, the rearer of worthy men! Mout Ka Pegham Har Nu-e-Ghulami Ke Liye Ne Koi Faghfoor-o-Khaqaan, Ne Fareeq-e-Reh Nasheen The message of death to any kind of slavery!No sovereigns and no monarchs, no mendicants begging! Karta Hai Doulat Ko Har Aaludgi Se Pak Saaf Munemon Ko Maal-o-Doulat Ka Banata Hai Ameen It does purify wealth of all pollution: It makes the wealthy trustees of wealth and property. Iss Se Barh Kar Aur Kya Fikar-o-Amal Ka Inqilaab Padshahon Ki Nahin, Allah Ki Hai Ye Zameen! What greater revolution in thought and action will there be: Not to the crowned heads, but to God alone does this Earth belong! Chasme Alam Se Rahe Poshida Ye Aaeen To Khoob Ye Ghanimat Hai Ke Khud Momin Hai Mehroom-e-Yaqeen Better, if this Law be kept hidden from the world’s eye: So much the better, the Believer himself is deprived of inner conviction. Hai Ye Behter Elahiyat Mein Uljha Rahe Ye Kitab Ullah Ki Taweelat Mein Uljha Rahe Better that he remains busy and entangled in the metaphysical theology: Better, that he remains busy and entangled in the interpretations of the Book of God. Tor Dalain Jis Ki Takbeerain Talism-e-Shash Jihat Ho Na Roshan Uss Khuda Andaish Ki Tareek Raat Whose cries of God is Most High could break the charm of the universe: May the dark night of that God‐thinking man not ever turn bright! Ibne Mariam Mar Gya Ya Zinda Javaid Hai Hain Sifat-e-Zaat-e-Haq, Haq Se Judda Ya Ayn Zaat? Is the Son of Mary dead or is he endowed with eternal life? Are the Attributes of God separate from God, or do they form what He is? Ane Wale Se Maseeh-e-Nasiri Maqsood Hai Ye Mujaddid, Jis Mein Hon Farzand-e-Mariam Ke Sifat? Does the expected mean Jesus of Nazareth? Or a Renewer, endowed with the attributes of the Son of Mary? Hain Kalam Ullah Ke Alfaz Hadis Ya Qadeem Ummat Marhoom Ke Hai Kis Aqeede Mein Nijat? Are the letters of the Word of God New or of Old? In which of the doctrines does the salvation of the Blessed Community lies Kya Musalman Ke Liye Kafi Nahin Iss Dour Mein Ye Elahiyat Ke Tarshay Huwe Laat- O-Manaat? Are not enough to the Faithful in this age: These idols of worship carved by Metaphysical Theology? Tum Isse Begana Rakho Alam-e-Kirdar Se Ta Bisat-e-Zindagi Mein Iss Ke Sub Muhre Hon Maat Keep him separate from world of character Until he loses all the plans(tactical moves) of life Khair Issi Mein Hai, Qayamat Tak Rahe Momin Ghulam Chor Kar Auron Ki Khatir Ye Jahan-e-Be-Sabat Our safety lies in that Believer remains a slave till Doomsday: Renouncing this transitory world for others’ sake. Hai Wohi Shair-o-Tasawwuf Iss Ke Haq Mein Khoob Tar Jo Chupa De Iss Ki Ankhon Se Tamasha-e-Hayat What is good in his case is that poetry and mysticism Which may keep hidden from his eyes the game of Life. Har Nafas Darta Hun Iss Ummat Ki Baidari Se Mein Hai Haqiqat Jis Ke Deen Ki Ahtisaab-e-Kainat Every moment do I dread the awakening of this community Whose religion is, in reality, nothing short of taking account of the universe Mast Rakho Zikar-o-Fikar-e-Subhgahi Mein Isse Pukhta Tar Kar Do Mazaaj-e-Khanqahi Mein Isse Keep him well absorbed in the thought and contemplation of God in pre‐morning hours: Ye all make him grow stronger in his monastic disposition!
  8. Teesra Musheer THIRD COUNCILOR Rooh-e-Sultani Rahe Baqi To Phir Kya Iztarab Hai Magar Kya Uss Yahoodi Ki Shararat Ka Jawab? No cause for anxiety then, if the spirit of imperialism be preserved: But what counter‐measure to the mischief wrought by that Jew have you? Woh Kaleem Be-Tajalli, Woh Maseeh Be-Saleeb Neest Peghambar Wa Lekin Dar Baghal Darad Kitab That Moses without Light, that Jesus without the Cross: No prophet is he, yet with him a book he carries. Kya Bataun Kya Hai Kafir Ki Nigah-e-Parda Souz Mashriq-o-Maghrib Ki Qaumon Ke Liye Roz-e-Hisab I can hardly explain what significance does the infidel penetrating vision possess: It is, methinks, the day of reckoning for the peoples of the East and the West. Iss Se Barh Kar Aur Kya Ho Ga Tabiat Ka Fasad Torh Di Bandon Ne Aaqaon Ke Khaimon Ki Tanab! No greater corruption of human nature than this would be: Slaves have broken asunder the ropes of the masters’ tents. Chotha Musheer FOURTH COUNCILOR Torh Uss Ka Rumatul Kubra Ke Aewanon Mein Dekh Aal-e-Ceaser Ko Dikhaya Hum Ne Phir Ceaser Ka Khawab Watch its counteraction in the palaces of Imperial Rome: Again did we inspire in the descendants of Caesar the dream of Caesar. Kon Behar-e-Rome Ki Moujon Se Hai Lipta Huwa 'Gah Balad Choon Sanobar' Gah Nalad Choon Rabab Who is coiled round the waves of the Mediterranean? That now expands like a pine, and then wails like a rebeck! Teesra Musheer THIRD COUNCILOR Mein To Uss Ki Aaqabat Beeni Ka Kuch Qael Nahin Jis Ne Afrangi Siasat Ko Kiya Yun Behijab Little do I recognize him to be a man of far‐sighted wisdom: (A fool!) who has thus European politics exposed. Panchwan Musheer (Iblees Ko Mukhatib Kar Ke) FIFTH COUNCILOR (TURNING TO IBLIS) Ae Tere Souz-e-Nafas Se Kaar-e-Aalam Ustawar! Tu Ne Jab Chaha, Kiya Har Pardagi Ko Ashikaar O you! the fire of whose breath lends stability to the world‐process: Whenever you wished, everything hidden presently did you reveal. Aab-o-Gill Teri Hararat Se Jahan-e-Souz-o-Saaz Abla-e-Jannat Teri Taleem Se Danaye Kaar It is your fire that has transformed dead earth and water into a world of beauty and endeavour: Inspired by your instruction, the fool of Paradise turns a seer Tujh Se Barh Kar Fitrat-e-Aadam Ka Woh Mehram Nahin Sada Dil Bandon Mein Jo Mashoor Hai Parwardigar More closely familiar with man’s nature than you is not He: Who among the simpletons is known as God the Sustainer. Kaam Tha Jin Ka Fakat Taqdees-o-Tasbeeh-o-Tawaf Teri Gairat Se Abad Tak Sar Nigun-o-Sharamsaar Those whose business was confined to sanctifying, singing hymns and going round: Your sense of self‐respect has out them to shame for ever, with their heads hanging low. Garcha Hain Tere Mureed Afrang Ke Sahir Tamam Ab Mujhe In Ki Farasat Par Nahin Hai Atibar Though the wizards of Europe all are disciples to you: No longer have I faith in their sagacity left. Ye Yahoodi Fitna Gar, Woh Rooh-e-Mazdak Ka Barooz Har Kaba Hone Ko Hai Iss Ke Janoon Se Tar Tar That Jew, that mischief‐maker, that reincarnation of Mazdak: Each tunic is about to be torn to shreds by his fanaticism. Zagh-e-Dashti Ho Raha Hai Humsar-e-Shaheen-o-Chargh Kitni Sura’at Se Badalta Hai Mazaaj-e-Rozgar Behold! the wild crow is vying with the falcon and the hyena: Lo, how swiftly does the disposition of Time allow of a change! Cha Gyi Ashufta Ho Kar Wusat-e-Aflaak Par Jis Ko Nadani Se Hum Samajhe The Ek Musht-e-Ghubar It spread about, and covered the whole expanse of skies: What we unwisely had taken for a handful of dust. Fitna-e-Farda Ki Haibat Ka Ye Alam Hai Ke Aaj Kanpte Hain Kohsar-o-Murghzar-o-Ju’ay bar Such is the state of the ghastly dread of the morrow’s disturbance: To‐day tremble with overwhelming awe, mountains, meadows and rivers all. Mere Aaqa! Vo Jahan Zair-o-Zabar Hone Ko Hai Jis Jahan Ka Hai Fakat Teri Sayadat Par Madar That world is going to turn topsy‐turvy, my Lord! The world which resteth solely on your governance.
  9. Iblees Ki Majlis-e-Shura1936 THE DEVIL’S CONFERENCE IbleesIBLIS Ye Anasir Ka Purana Khail, Ye Dunya-e-Doon Sakinan-e-Arsh-e-Azam Ki Tamanaon Ka Khoon! This ancient game of elements, this base world! The frustration of the longings of the great Empyrean’s dwellers. Uss Ki Barbadi Pe Aaj Aamada Hai Woh Kaarsaaz Jis Ne Uss Ka Nam Rakha Tha Jahan-e-Kaaf-o-Noon Upon its destruction is bent to‐day that Fashioner of things, Who gave it the name, “The world of Be it so.” Mein Ne Dikhlaya Farangi Ko Mulukiyat Ka Khawab Mein Ne Tora Masjid-o-Dair-o-Kalisa Ka Fusoon I inspired in the European the dream of Imperialism: I broke the spell of the Mosque, the Temple and the Church Mein Ne Nadaron Ko Sikhlaya Sabaq Taqdeer Ka Mein Ne Muneim Ko Diya Sarmayadari Ka Junoon I taught the destitute to believe in Destiny: I infused into the wealthy the craze for Capitalism. Kon Kar Sakta Hai Uss Ki Aatish Soozan Ko Sard Jis Ke Hungamon Mein Ho Iblees Ka Souz-e-Daroon Who dare extinguish the blazing fire in him, Whose tumults are stimulated by the inherent passion of Satan? Jis Ki Shakhain Hon Humari Aabiyari Se Buland Kon Kar Sakta Hai Uss Nakhl-e-Kuhan Ko Ser Nigoon! Who could summon the courage to bend down the old tree, Whose branches their height to our watering owe? Pehla Musheer FIRST COUNCILOR Iss Mein Kya Shak Hai Ke Muhkam Hai Ye Ibleesi Nizam Pukhta Tar Iss Se Huwe Khuay Ghulami Mein Aawam Stable is the Satanic system, no doubt there is! It has further strengthened in the commoners their slavishness indeed. Hai Azal Se In Gharibon Ke Muqaddar Mein Sujood In Ki Fitrat Ka Taqaza Hai Namaz-e-Be Qayam Since the dawn of Time have these helpless mortals been ordained to prostration: Prayer devoid of the posture of standing straight is their nature’s constant urge. Arzoo Awwal To Paida Ho Nahin Sakti Kahin Ho Kahin Paida To Mer Jati Hai Ya Rehti Hai Kham In their heart no desire can in fact take its birth: But if it does, perchance, it dies or is left unripe. Ye Humari Saee-e-Peham Ki Karamat Hai Ke Aaj Sufi-o-Mullah Mukuliyat Ke Bande Hain Tamam What wonders have our hard, persistent endeavours wrought! To‐day finds the mystics and the priests all as subjects of Imperialism. Taba-e-Mashriq Ke Liye Mouzoon Yehi Afyoon Thi Warna 'Qawwali' Se Kuch Kam Tar Nahin 'Ilm E Kalam' Suited to the disposition of the East was this opium indeed: Otherwise Ilm‐i‐Kalam is no less self‐effacing than qawwali in effect Hai Tawaf-e-Hajj Ka Hungama Agar Baqi To Kya Kund Ho Kar Reh Gyi Momin Ki Taeg-e-Be Nayam What matters it, if the tumult of the pilgrimage and tawaf abides? For, rendered blunt, lies unused the unsheathed sword of the Faithful. Kis Ki Naumeedi Pe Hujjat Hai Ye Farman-e-Jadeed 'Hai Jihad Iss Dour Mein Mard-e-Musalman Par Haram!' Whose despair does this latest Ordinance prove: “To the Muslim in this age is forbidden fighting in Lord’s name”? Dusra Musheer SECOND COUNCILOR Khair Hai Sultani Jumhoor Ka Ghogha Ke Sherr Tu Jahan Ke Taza Fitnon Se Nahin Hai Ba-khabar! Is the clamour for “Government by the people” evil or good? Are you unaware of the fresh mischiefs of the world? Pehla Musheer FIRST COUNCILOR Hun, Magar Meri Jahan Beeni Batati Hai Mujhe Jo Mulukiyat Ka Ek Parda Ho, Kya Uss Se Khatar! Aware am I! but tells me my cosmic foresight: No danger from what is but a masquerade for imperialism. Hum Ne Khud Shahi Ko Pehnaya Hai Jumhoori Libas Jab Zara Aadam Huwa Hai Khud Shanas-o-Khud Nigar We ourselves have dressed imperialism in the garb of democracy When man has grown to be a little self‐conscious and self‐observant. Karobar-e-Sheher Yari Ki Haqiqat Aur Hai Ye Wujood-e-Meer-o-Sultan Par Nahin Hai Munhasar The true nature of the system of imperialism lies elsewhere: It depends not on the existence of an individual leader of king. Majlis-e-Millat Ho Ya Parvaiz Ka Darbar Ho Hai Woh Sultan, Ghair Ki Khaiti Pe Ho Jis Ki Nazar Be it a national assembly of the court of Parviz, Whoever casts a covetous eye on other’s harvest is a king. Tu Ne Kya Dekha Nahin Maghrib Ka Jumhoori Nizam Chehra Roshan, Androon Changaiz Se Tareek Tar! Have you not observed the democratic system of the West? With a brilliant exterior, its interior is darker than Genghis’s.
  10. امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے خصوصاً اس موضوع کو بہت اہمیت دی ہے، اور حکومت ِ اسلامی کے نام سے ایک بہترین کتاب تحریر کی ہے، جو ہر مسلمان اور خصوصاً شیعہ کو ضرور پڑھنی چاہئے۔۔ اسی طرح شاعر مشرق علامہ اقبال نے دین اور سیاست کی جدائی پر بھرپور شکوہ کیا ہے، اور اپنے کلام میں اکثر امت مسلمہ کو اس جانب متوجہ کیا ہے، کہ یہ جمھوریت شیطان یعنی انگریزوں کا دھوکہ ہے۔۔۔ A certain European* revealed a secret, Although the wise do not reveal the core of the matter. Democracy is a certain form of government in which Men are counted but not weighed.
  11. kya ap ko yaqeen hai ? Aren't hens remained in cages for weeks or months ? Then what about the one who is involved in this business ?
  12. اگر ہم دین اسلام کو مد نظر نہ بھی رکھیں تو بھی حکومت کی ضرورت بلا شک و شبہ واضح ہے اللہ تعالی نے انسان کو معاشرتی مخلوق بنایا ہے انسان کے نفس کے اندر اچھائیوں کے ساتھ برائیاں بھی موجود ہے، حرص لالچ اور دیگر منفی صفات بھی انسان میں پنپنا شروع ہو جاتی ہیں، اور سب تزکیہ نفس کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ اگر ایک انسان مجرم بن جائے اوراسکے جرائم بڑھتے چلے جائیں تو کون سی قوت و طاقت ہے کہ جس کے ذریعے لوگ اس کے مظالم سے محفوظ رہ سکیں ؟؟ مثلاً ایک چشمہ جو سب کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک طاقتور آکر سارے چشمے پر قبضہ کرلے اور سب کو محروم کر دے تو کون اسے روکے گا ؟ وہی کام جو امریکہ اور اسرائیل آج کررہے ہیں اسی طرح کون انسانوں کی ساری ضروریات پوری کر سکتا ہے؟ ایک انسان سارے کام خود نہیں کرسکتا، مثلاً خود ہی کسان بھی ہو اپنے لباس کے لئے درزی بھی ہو، اور مکان بنانےکے لئے انجنئر بھی ہو، بجلی بھی خود بنائے اور اپنا جوتا بھی خود سیئے یہ ممکن نہیں، انسان کی صلاحیتیں اور استعداد محدود ہیں،اور مجبور ہےکہ دوسرے انسانوں کے ساتھ ملے اور تبادلہ کرے یا معاشرت کرے ۔۔ معاشرہ اس طرح وجود میں آتا ہے، اور جب خاندان آباد ہوتے ہیں تو مفادات کا ٹکرائو ہوتا ہے، مظلوم اور ضعیف ہمیشہ پستا چلا جاتا ہے اور طاقتور مزید طاقتور تر ہو جاتا ہے، لہذا حکومت کی ضرورت ہے کہ مجرمین کو پکڑا جائے، اور قابو کیا جائے۔۔۔ حکومت انسان کی تمام اجتماعی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔۔۔ بغیر حکومت کے مجرمین مظلومین کو کچلتے ہیں۔۔ اسی طرح فاسد حکومت بھی نقصان دہ ہے لیکن حکومت کا عدم وجود اس سے بدتر ہے، صدام کی حکومت میں ۴ لاکھ مارے گئے اور جب صدام کو پھانسی دی گئی اور اب کوئی حکومت نہ تھی تو ان تین سے چار سالوں میں ۲۰ لاکھ لوگ مارے گئے۔۔ حکومت اگر کمزور پڑھ جائے یا ختم ہو جائیں تو سرکش مجرمین سر اٹھاتے ہیں۔۔ امام علی کو جب حق سے محروم کیا گیا اور لوگوں نے امام کا حق ماننے سے انکار کر دیا تو شجاعت اپنے عروج پر ہونے کے باوجود تلوار نیام میں رکھ لی کیونکہ فاسد حکومت پھر بہتر ہے اس بات سے کہ اصلاً کسی کی بھی حکومت نہ ہو۔۔ کیونکہ اس سے زیادہ قتل و غارت اور خون خرابہ ہوتاہے۔۔ روایات: کتاب الغارات میں ہے کہ امام علی فرماتے ہیں لوگوں کی اصلاح صرف امام کر سکتا ہے وہ امام یا تو پاکیزہ عادل ہوگا یا فاسق فاجر ہوگا۔۔ یہاں کلمہ امام حاکم کے طور پر استعمال ہوا ہے۔۔ نہج البلاغہ خطبہ ۴۰ صفحہ ۸۲میں ہے لوگوں کے لئے ایک امیر کو ہونا ضروری ہے چاہے وہ عادل ہو یا فاسد و فاجر ہو۔ حکومت کا مقصد ظالم سے اس کا منصب اور دولت چھین کر مظلوم کو دینا ہے، تاکہ معاشرہ کمال کی طرف بڑھےاسی حق کی ادائیگی کے لئے امام علی نے خلافت قبول کی تھی، اور نہج البلاغہ میں ہے کہ اگر مظلوم کو اس کا حق دلانا مقصود نہ ہوتا تو کبھی میں خلافت قبول نہ کرتا۔۔ تاریخ بشریت میں کوئی ایسا دور نہیں گذرا کہ لوگوں پر کوئی حکومت مسلط نہ ہو، معاشرے ہمیشہ حکومتوں کے زیرِ سایہ رہے ہیں، یا تو الہی حکومت کے زیرِ سایہ یا غیر الہی۔۔ انسانی خود ساختہ نظاموں میں سے ڈیموکرسی، بادشاہت، سوشلزم لبرلزم ، سرمایہ دارانہ نظام اور دیگر ہیں۔۔۔ البتہ سرمایہ دارانہ نظام کے سیاسی تفکر کا نام ڈیموکرسی ہے۔۔ اس کے مقابلے میں ایک نظام اسلام ہے، حکومتِ اسلامی ہے
  13. Rasool S.a.w.w farmatay hain: ایک نماز با جماعت پڑھنا بہتر ہے چالیس سال فرادا نماز پڑھنے سے، کسی نے پوچھا آیا آپ کی مراد ایک پورے دن کی نماز ہے ؟ رسول (pbuh) نے جواب دیا : نہیں صرف ایک نماز مستدرک الوسائل ج ۶ ص ۴۶۶
  14. A joke: Aik shaks Shaam gaya waha Aik mazar k pas kharay ho kar kisi sey pochta hai yay kis ka Mazar hai, us nay kaha Yay Hazrat e Hujr Ibn e Adi (ra) ka mazar hai jo Hazrat Ali (ra) k sahabi thay phir Sawal kia: " inhay kis nay Shaheed kia?" us nay jawab deya: "inhay Hazrat e Mavia (ra) nay shaheed kia!"
  15. کیوں بلا تفریق سب نے سمجھوتا کر لیا ؟؟ اور خاموشی اختیار کر لی ؟ کیونکہ ولایت کی تفسیر غلط کی گئی، مثلاًً یہ نظریہ کہ ولایت کا تعلق صرف معنوی عقیدہ سے ہے اورحکومت اور رہبری سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی امام صرف معنوی اور قلبی پیشوہ ہیں حکومت کے اختیارات انکے پاس ہونا ضروری نہیں، اور عوام ظاہر بین ہوتے ہیں، انہیوں نے دیکھا خلیفہ جو بھی ہو ہمارے امور تو چل رہے ہیں، ہمارے کاروبار تو چل رہے ہیں، مسجد تو آباد ہے، رسومات پر پابندی نہیں ہے اب کیا فرق پڑھتا ہے کہ خلیفہ یہ بنے یا وہ۔۔۔ لہذا بڑی آسانی سے اس فیصلے کو قبول کر لیا گیا۔۔۔ رسول ﷺ کوغدیر کے موقع پر یہی خوف تھا کہ امت کو ولایت کا معنی ہی سمجھ نہیں آئے گا یہ ولایت کا معنی دوست کریں گے۔۔۔ اسی خوف کی وجہ سے اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا تھا آپ کو جو پیغام کہا گیا ہےاسے پہنچا دیں اور خوفزدہ نہ ہوں اس دور میں بھی لوگوں نے بخن بخن (واہ واہ) کیا تھا اور آج تک ولایت کو صرف واہ واہ ہی مل رہی ہے۔۔۔
  16. Assalam o Alikum Bro Sharib you made Some Excellent answers But some of your comments need some clarification, let me share it with you in our native language which is more comfortable for me, if you don't mind..
  17. Will u pls provide me the link of 54 Important Changes which he made ?
  18. https://www.facebook.com/video.php?v=663650207087342 Bilashak Khuda Raazi Nai Hai. Must Watch.
  19. Asool e Deen may taqleed Jaez nahi, lakin Zanjeer e Zani Asool e Deen ka masla kaisay hai ? kis bunyad per ap isay aiteqadi masla kahtay hain ? or kia may yay kah sakta ho k may Allah per Emaan rakhta ho, ab namaz kis tarah parhni hai yay meri marzi hai ? Fatwa or Hukum may farq hai, Fatwa Mujtahid deyta hai, lakin Hukum faqat Rehber he dey sakta hai.. kum Mujtahdeen nay isay jaiz ka fatwa deya or aksar ney Haram, lakin Rehber e Muazam ka fatwa nahi hukum ha, or sab per bartari rakhta hai or Hukum per amul karna na faqat tamam logo per bulkay khud Mujtahdeen per bhi wajib hai, or amul na karna aisa he hai jaisay Imam ki na farmani.. ****************** awal yay wakia mustanad nahi, dosri bat yay k wakai Karbala may Hazrat e Abul Fazl e Abbas a.s k Bazu Shaheed huay thay, tou kia ab hum b muhabbat may apnay bazu kaat dein, or aglay sal sey yay rasm b azadari may shamil kar li jae ? Muhabat ka taqaza yay hota hai k Aimma a.s k rastay per chala jae, or is mushkil rastay ki sakhti ko bardasht kia jae or sabr b kia jae, is rastay may agar dushman tumharay hath kat dey, ya Khoon baha dey, phir b isteqamat dekhani hai asal Falsafa yay tha.. Mola Hussain a.s nay Hul min Nasir kaha tha, Mola ko apnay maqsad per chalnay walay us wakt nahi milay, Aj tuk Mola Hul min Nasir kah rahay hain azadari ka maqsad yay ha k Mola Hussain a.s k maqsad ko zinda rakha jae, Aj Iraq or Sham se Hal Min ki sadaa atee hai, Bibi Zainab s.a ki ziyarat gah nargay may hai, Da'ish ka leader Baghdadi Israil k kahnay per Iraq o Shaam mey Shia ka Qatl e Aam kar raha hai, or facebook or dosray social media per in k zulm ki dastan dekhi ja sakti hai, kiun aj k dour may Yazeed (Israil) k hotay huay b faqat apna Khoon bahatay ho, or Dushman k muqablay may ankhein band kar laytay ho?? Daish (ISIS) ki mojodgi k asar Pakistan may b numaya ho chukay hain, kia sotch kar gairat nahi atee k jab humari Ma behno ko Iraq or Sham ki tarah Aalmi Mandio may paish kia jae Khuda na Karay?? Azadari b ho or Zalim o Jabir Mehfooz b rahay, Azadari b ho or Yazeed apnay takht per baitha b rahay, yaqeenan kisi cheez ki kami rah gae hai, Rooh e Azadari ki kami hai Khoon bahanay ki nahi, khoon buhat bahaya jata hai, Kami yay rah gae hai k jo talwar or zanjeer Azadar apnay Jism per marta hai, wo kab Dushman e Aza k Senay per maray ga ????
  20. https://www.facebook.com/video.php?v=661242020661494 Watch the above video Zanjeer o Qama jaiz he kab hai ?
  21. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تاریخ میں ظلم و ستم کی عجیب و غریب داستانیں موجود ہیں، حتی آج بھی یہی داستانیں دہرائی جارہی ہیں، مثال کے طور پر موجودہ دور میں تکفیریوں کا لشکر ہی دیکھ لیجئے کہ کس طرح یہ نہتے مسلمانوں کا سر تن سے جُدا کرکے سلاخوں پر آویزاں کر رہے ہیں اور ان کی عورتوں کو اسیر بنا کرعالمی منڈیوں اور بازاروں میں فروخت کر رہے ہیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر غمِ حسین ؑ اور کربلا کو اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے؟ وہ کیا افتخارات ہیں جس کی وجہ سے کربلاء دیگر حوادث سے منفرد حیثیت رکھتی ہے؟ سوچنا اورسوال اٹھانا کوئی عیب نہیں ہے، چاہے اپنا اٹھائے یا پرایا بعض اس قسم کے سوالات کو حساس بناکر انکا طنزیہ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے سوال کرنے والا اپنے سوال پر پشیمان ہوتا ہے اور بےچارہ آئندہ سوچنے کی جرئت بھی نہیں کرتا۔ ہمارے پاس اپنے تمام اعمال کا مناسب جواز ہونا چاہیئے، نہ اس لئے کہ مخالف کو خاموش کرنا مقصود ہے، بلکہ اس لئے کہ خود اپنے اعمال کے درست ہونے کا یقین ہوجائے۔ یہ رونا جزبات کا رونا نہیں نامِ سید شہداء پر گریہ و ماتم کرنا، جلوس نکالنا اور عزاداری کرنا یہ سب علامتی کام ہیں اور اس کا مقصد امام حسین ؑ کی تحریک کو زندہ رکھنا ہے جو امام سجاد ؑ اور بی بی زینب (س) نے شروع کی تھی، کیا مقصد تھا اس تحریک کا جس کی خاطر اتنی عظیم قربانی پیش کی گئی؟ مقصد یہ تھا کہ اسلام محفوظ ہوجائے۔ اُس وقت اسلام یزیدیوں کے نرغے میں تھا طاغوت کے نرغے میں تھا، حاکمِ وقت یزید کا ہر ہر عمل عینِ دین سمجھا جاتا تھا، حسین ؑ نے اپنا سر دے کر اسلام کو بچا لیا اور آج ہم عزاداری برپا کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم بھی آمادہ ہیں کہ آج کے دور کی یزیدیت کو نابود کریں اور اسلامِ محمدی کو دوبارہ زندہ کریں یعنی عزاداری تحریک ہے جو ہر دور کے یزیدیت کو نابود کرنے کے لئے جاری ہے۔۔۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ تاریخ بھر میں بہت ظلم و ستم ہوئے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مگر کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطرقیام کیا ہو؟ کیا گذشتہ تاریخ سے لے کر آج تک کوئی ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ جو بھوک و پیاس برداشت کرنے کے بعد، اپنے خانوداے کو قربان کرنے کے بعد خود اپنے مقتل میں چل کر جائے اور اس کے موردِ نظر فقط یہ ہو کہ کسی طرح نانا کا دین بچ جائے ؟؟ نگاہیں تھک کر پلٹ آتی ہیں کہ ان میدانوں میں دور دور تک سوائے سید شہداء کے کوئی دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔ اسلام اتنی قیمت اور ارزش رکھتا ہے کہ اس پر حضرت علی اصغرؑ اور حضرت علی اکبر ؑ جیسی ہستیاں قربان کیں جائیں، اسلام ارزش رکھتا ہے کہ اس کی خاطر سید شہداء کا خون بہہ جائے اور اہلِ حرم کو اسیر ہونا پڑے۔۔
  22. Such a nice response by Imam Khomeini “The flag of Iran should not be a monarchist flag. The symbols should not be related to monarchy. The symbols should be Islamic. This cursed lion and sun symbol should be removed from all the ministries and offices. Anything resembling monarchy should be removed. The flag of Islam should be up.” We do not worship Iran, we worship Allah. For patriotism is another name for paganism. I say let this land [iran] burn. I say let this land go up in smoke, provided Islam emerges triumphant in the rest of the world.Imam Syed Ruhallah Mosvi Al- Khomeini R.A Allama Iqbal Said!! This is the destiny of nature; this is the secret of Islam— World‐wide brotherhood, an abundance of love! Break the idols of colour and blood and become lost in the community.Let neither Turanians, Iranians nor Afghan remain.
  23. I am not comparing anyone with Imam Hussain a.s, point was just their innocence... What should be your answer when I ask why we hate Kufi's....? Not just because they did wrong with Imam Hussain a.s, But they were going against their faith, against their rational thoughts. You know even many American Soldiers feel guilty when they were forced to kill Innocent Iraqis Yes ofcourse I was not engaged in such a situation, But one must not compromise on his standards. That is what Imam Hussain a.s taught us and i bet you were not put in such a worst situation in which Imam Hussain a.s was .... I think suicide is still better then to kill innocent people You must atleast feel guilty if you had killed even a single innocent...
  24. What Ibn e Ziyad did with the Kufis ? March to fight against Imam Hussain a.s or got martyred by Ziyad's army, their Families were also in danger.. Now What Kufis did ? and why we hate them ?
×
×
  • Create New...