Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

talib e ilm

Advanced Member
  • Posts

    325
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by talib e ilm

  1. بعض دفعہ علامہ اقبال پر رشک آتا ہے، کہ وہ بات جو طویل مقالوں میں سمجھانا دشوار ہو اقبال دو سادہ مصرعوں میں سمجھا دیتے ہیں۔۔۔ آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
  2. بسم تعالی ایک ناانصافی جو کبھی کبھار ہم نادانی میں یا بعض جان بوجھ کر انجام دیتے ہیں وہ یہ کہ انبیاء اور آئمہ اطہار ع کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے لئے اسوہ اور رول ماڈل نہیں بننے دیتے، اور کچھ دیندار تو دوسروں کو بھی اس کام سے روکتے ہیں۔۔ ممکن ہے کوئی سوچے ایک مسلمان یا اہلیبیت ع کا ماننے والا ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟ مگر متسفانہ بعض دفعہ ایک عقیدت مند نادانی میں حقیقت کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ ************************* مثال پیش خدمت ہے تاکہ بات واضح ہو جائے۔۔۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انبیاء اور آئمہ اطھار ع نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف آواز حق بلند کی ہے، رسول خدا ص اور امام علی ع نے اپنے ہاتھوں سے بت توڑے ہیں، کیا کسی نے سنا کہ امام علی ع کی نگاہوں کے سامنے کوئی چھوٹا سا ظلم ہو رہا ہو اور امام خاموشی سے گذر گئے ہوں ؟ پھر دیکھیں امام حسین ع کا ظالم یزید کے مقابلے میں قیام کرنا اور اسی طرح بے شمار واقعات ہیں جن کو بیان کرنا یہاں ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ بہت اچھا لگتا ہےجب ہم کہتے ہیں رسول خدا ص نے بت شکنی کی۔۔ امام حسین ع نے یزید کے خلاف قیام کیا اور اسے شکست دی، لیکن جب سوال ہم سے ہو کہ اے پیروکار اھلیبیت! کیوں یہ کام تم نے نہیں کیا ؟ کیا رسول خدا ص کی طرح کبھی بت شکنی کی ؟ مولا حسین ع کی طرح کبھی کسی یزید کو سرنگون کیا ؟ ایک جواب جو اکثر سننے کو ملتا ہے کہ این کجا و آن کجا۔۔۔ ہم کہاں اور وہ کہاں، وہ کہاں کہ جو پیکر نور ہیں اور ہم کہاں جو سر تا پا گنھگار ہیں۔۔ ہم ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔۔۔ جو ان کے جیسا بننے کی کوشش بھی کرے وہ گمراہ ہے۔۔ یہ بات بلکل برحق ہے مگر اس سے مراد بلکل الٹ لی جاتی ہے۔۔ پس اگر اس راہ پر چلنا گمراہی ہے تو قرآن میں کیوں ارشاد ہوا کہ پیغمبر ص کی زندگی میں مومنین کے لئے نمونے ہیں؟ اور اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو یہ ھستیاں ہمارے لئے قابل پیروی ہیں اور نہ ہی ان کی راہ و روش قابل عمل ہے۔۔ یہ بلکل نادرست تفکر ہے۔۔ درست ہے کہ ہم ان کی خاک پا کے برابر بھی نہیں وہ اعلیٰ مقام انھی کے شایان شان ہے کوئی بشر اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا مگر اس سے مراد یہ نہیں لی جا سکتی کہ انکی راہ پر چلنا جرم ہے ۔۔۔ شیعہ کا معنی ہی پیچھے چلنے والا ہے۔۔۔۔ شعیان علی یعنی امام علی کے پیچھے چلنے والے۔۔۔ بے شک حسین ع نجات کی کشتی ہیں۔۔ مگر کب ؟ جب ہم ان کی راہ پر چلیں۔۔ اور جو مولا حسین ع کی راہ پر چلتا ہے پھر مولا اسے عطا بھی کرتے ہیں۔۔۔ اگر اپنے زمانے میں دیکھنا چاہیں تو خمینی ؒ بت شکن کو دیکھیں جنھوں نے امام حسین ع کی راہ پر قدم رکھا تو آج اسلام کو اور مذھب تشیع کو پوری دنیا میں عزت اور سربلندی نصیب ہوئی ہے۔۔ امام خمینی خود فرماتے تھے کہ ہمیں یہ کامیابی سید الشھداء کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے۔۔۔۔
  3. امام حسین ؑ نے واقعہ کربلا سے کچھ عرصہ قبل سرزمین منٰی میں علماء دین کو جعع کیا اور ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں ان علماء کی سستی اور امربلمعروف و نھی عن المنکر کو انجام نہ دینے کے حوالے سے ان کی شدید مذمت کی۔۔ جس کی تفصیل دوسرے تھریڈ پر موجو ہے۔۔ http://www.shiachat.com/forum/topic/234998011-lets-ask-imam-hussain-as-about-his-movement/ اشارتاً اس خطبے سے کچھ مخصوص فرامین یہاں بھی نقل کئے جارہے ہیں۔۔ ثمَّ اَنْتمْ أیَّتھا الْعصٰابَة عصٰابَةٌ بالْعلْم مَشْھوْرَةٌ وَ بالْخَیْر مَذْکوْرَةٌ وَ بالنَّصیْحَة مَعْروْفَةٌ وَ باللَّہ فی اَنْفس النّٰاس مَھٰابَةٌ یَھٰابکم الشَّریف وَ یکْرمکم الضَّعیف وَ یؤْثرکمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکمْ عَلَیْہ وَ لاٰ یَدَ لَکمْ عنْدَہ تشَفّعوْنَ فی الْحَوٰائج اذٰا امْتنعَتْ منْ طلاّٰبھٰا وَ تَمْشوْنَ فی الطَّریْق بھَیْبَة الْملوْک وَ کَرٰامَة اْلاَ کٰابر ، اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اَلَیْسَ کلَّ ذٰلکَ انَّمٰا نلْتموہ بمٰا یرْجٰی عنْدَکمْ منَ الْقیٰام بحَقّ اللّٰہ وَ انْ کنْتمْ عَنْ اَکْثَر حَقّہ تقَصّروْنَ فَاسْتَخْفَفْتمْ بحَقّ اْلاَئمَّة فَاَمّٰا حَقَّ الضّعَفٰاء فَضَیَّعْتمْ وَ اَمّٰا حَقَّکمْ بزَعْمکمْ فَطَلَبْتمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتموْہ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتمْ بھٰا للَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشیْرَةً عٰادَیْتموْھٰا فی ذٰات اللّٰہ یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، معاشرے کے کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔ اَنْتمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہ وَ مجٰاوَرَةَ رسلہ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابہ لَقَدْ خَشیْت عَلَیْکمْ اَیّھا الْمتَمَنّوْنَ عَلیَ اللّٰہ اَنْ تَحلَّ بکمْ نقْمَةٌ منْ نَقمٰاتہ لاَنَّکمْ بَلَغْتمْ منْ کَرٰامَة اللّٰہ مَنْزلَةً فضّلْتمْ بھٰا وَ مَنْ یعْرَف باللّٰہ لاٰ تکْرموْنَ وَ اَنْتمْ باللّٰہ فی عبٰادہ تکْرَموْن اسکے باوجود آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وَ قَد تَرَوْنَ عھودَ اللّٰہ مَنْقوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعوْنَ وَ اَنْتمْ لبَعْض ذمَم آبٰائکمْ تَفْزَعوْنَ وَ ذمَة رَسوْل اللّٰہ مَخْفوْرَةٌ مَحْقوْرَةٌ وَ الْعمْی وَ الْبکْم وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائن مھْمَلَةٌ لاٰ ترْحَموْنَ وَ لاٰ فی مَنْزلَتکمْ تَعْمَلوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَملَ فیھٰا تعیْنوْنَ وَ بالادّھٰان وَ الْمصٰانَعَة عنْدَ الظَّلَمَة تٰامَنوْنَ کلّ ذٰلکَ ممّٰا اَمَرَکم اللّٰہ بہ منَ النَّھْی وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتمْ عَنْہ غٰافلوْن آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان۱ نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو بھی منع کرنے کے لئے کہا ہے ۔اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔
  4. بغص اہل فکر حضرات کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا معاشرے کے کسی شعبے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کا سیاست، حکومت، داخلی اور خارجی مسائل، اقتصاد، سماج، تعلیم اور کسی شعبے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان تمام امور میں ترقی کے لئے ہمیں مغرب کی طرف رخ کرنا چاییئے۔ یعنی معاذاللہ اسلام آج کے دور کے جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتا کیونکہ ان کے نزدیک ایک مسلمان کا اسلام سے تعلق فقط مسجد، خانقاہ، کلیسا اور امام بارگاہ کی حد تک ہونا چاہیئے۔ ایسے افراد کو ہم لبرل یا سیکیولر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور ان حضرات کی کوشش ہوتی ہے کہ واقعہ کربلا سے بھی ان تمام پھلووں سے صرف نظر کیا جائے اسی لئے قیام پاک سید شھداء کو مشکوک ثابت کرتے ہیں اور عجیب و غریب توجیھات کرتے ہیں ان سب کے لئے عرض ہے کہ امام حسین ؑمعاذاللہ لبرل اور سیکیولر نہیں تھے۔ اسلام جن کے دوش پر پلا ہے آئیے ان سے بھی رائے لیں۔ امام حسینؑ نے ایک مقام پر کوفیوں کو خط لکھا اوراسطرح خطاب کیا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ، مِنَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِىٍّ إِلى سُلَیْمانِ بْنِ صُرَد، وَ الْمُسَیِّبِ بْنِ نَجْبَةَ، وَ رُفاعَةِ بْنِ شَدّاد، وَ عَبْدِاللهِ بْنِ وال، وَ جَماعَةِ الْمُؤْمِنِینَ، أَمّا بَعْدُ: فَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ(صلى الله علیه وآله) قَدْ قالَ فِی حَیاتِهِ: «مَنْ رَأى سُلْطاناً جائِراً مُسْتَحِلاًّ لِحُرُمِ اللهِ، ناکِثاً لِعَهْدِ اللهِ، مُخالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ، یَعْمَلُ فِى عِبادِاللهِ بِالاِثْمِ وَ الْعُدْوانِ ثُمَّ لَمْ یُغَیِّرْ بِقَوْل وَ لا فِعْل، کانَ حَقیقاً عَلَى اللهِ أنْ یُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ». وَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ هؤُلاءِ الْقَوْمَ قَدْ لَزِمُوا طاعَةَ الشَّیْطانِ، وَ تَوَلَّوْا عَنْ طاعَةِ الرَّحْمنِ، وَ اَظْهَرُوا الْفَسادَ، وَ عَطَّلُوا الْحُدُودَ وَاسْتَأْثَرُوا بِالْفَیءِ، وَ أَحَلُّوا حَرامَ اللّهِ، وَ حَرَّمُوا حَلالَهُ، وَ إِنِّی أَحَقُّ بِهذَا الاَمْرِ لِقَرابَتِی مِنْ رَسُولِ اللّهِ(صلى الله علیه وآله). خدا کے نام سے جو بڑا مھربان رحم کرنے والا ہے، حسین ابن علیؑ کی جانب سے سلیمان بن صرد، مسیب بن نجبہ، رفاعہ بن شداد، عبداللہ بن وال اور سب مومنین کوفہ کے نام: تم سب جانتے ہو کے پیغمبر ص نے اپنی زندگی میں فرمایا تھا کہ تم میں سے جو کوئی بھی ظالم و ستمگر حکمران کو دیکھے کہ جو حرام خدا کو حلال کرتا ہو اور عھد الٰھی کو توڑتا ہو اور پیغمبر اکرم ص کی سنت کی مخالفت کرتاہو اور خدا کے بندوں کے درمیان ظلم و ستم کرتا ہو، لیکن (ایسے شخص) کے خلاف عملاً یا قولاً مبارزہ (قیام) نہ کریں پس وہ اس بات کے سزاوار ہیں کے اللہ ان سب کو اس ظالم ستمگار کے ساتھ ہی [جھنم] میں وارد کرے۔ تم جانتے ہو کہ اس گروہ [بنی امیہ] نے شیطان کی اطاعت پر کمر کس لی ہے اور خدا کی اطاعت سے دستبردار ہوگئے ہیں، فساد کو عام کردیا ہے اور حدود الہٰی کو پامال کردیا ہے، مسلمانوں کے بیت المال کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں، حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام شمار کرتے ہیں۔ اور میں پیغمبر ص سے قرابت اور نزدیکی رشتہ کی وجہ سے خود کو دوسروں سے زیادہ سزاوار سمجھتا ہوں کے ان لوگوں کے خلاف مبارزہ [قیام] کروں- فتوح ابن اعثم، ج 5، ص 143-145 ; مقتل الحسین خوارزمى، ج 1، ص 234-235 و بحارالانوار، ج 44، ص 381-382
  5. Sadly he was released. But interestingly he was freed by the efforts of UK Individuals. UK is supposed to be the source of outrage among Muslims of the world.
  6. دوسری مشکل غریب کی محنت ہے۔۔۔ غریب کی محنت دراصل ایک واقعے کے طرف اشارہ ہے۔۔۔ ایک ذاکر صاحب منبر پر ایک واقعہ سنا رہے تھے اچانک کھنے لگے ہیاں تک واقعہ تاریخ میں لکھا ہے اس سے آگے مجھ غریب کی اپنی محنت ہے۔۔۔۔ منبر سے غیر مستند باتیں عام ہوچکی ہیں، واقعات اور روایات کو بے دریغ گڑھ کر پیش کیا جاتا ہے ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں بعض تو اس کام میں سب کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔۔ ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ ایک صاحب نے منبر سے پڑھ دیا، آپ دوستوں کے چھروں پر مسکراہٹ کی خاطر نقل کئے دیتا ہوں۔۔۔ البتہ اس میں عبرت کا پھلو بھی فراموش نہ ہو۔۔۔ *********************************************************** ایک ذاکر امام علی ع کے فضائل بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ امام کو غیب کا علم ہوتا ہے۔ پس ایک دلچسپ واقعہ بناتا ہے۔ کھتا ہے امام علی ع نے ایک جگہ دعوٰی کیا کہ مجھے غیب کا علم ہے اچانک ایک منافق کھڑا ہوا اور کھنے لگا کہ میں اس وقت مانوں گا جب آپ یہ بتائیں کہ میں آج شام کھانے میں کیا کھائوں گا۔۔ منافق کا ارادہ یہ تھا کہ امام ع کو غلط ثابت کروائے اور جس غذا کا امام نام لیں وہ نہ کھائے۔۔ پس امام نے اس منافق سے کھا تم خییر کھائو گے۔۔اور اس نے ارادہ کر لیا کچھ بھی ہو آج خییر نھیں کھانی۔۔ یہ شخص اپنے گھر آتا ہے پوچھتا ہے کھانے میں کیا ہے اس کی بیوی کھتی ہے خییر بنائی ہے۔۔ کہتا ہے خییر نہیں کھانی جاکر پڑوسیوں سے معلوم کرو۔۔۔۔ ایک ایک کر کے سارا علاقہ چھان مارتا ہے سب نے خییر ہی پکائی ہوتی ہے۔۔۔ آخر بھوک کی شدت سے مجبور ہوکر صحرا کی طرف نکل پڑتا ہے، ایک ملنگ دیکھائی دیتا ہے جو بھیڑیں چرا رہا تھا۔ ملنگ سے سوال کرتا ہے میں بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دو۔۔ ۔۔۔ ملنگ کھتا ہے یہ رہی چاول کی بوری اور یہ رہی بکریاں تازہ تازہ دودھ دھوتا ہوں اور خییر بناتا ہوں، مل کر کھائیں گے۔۔۔ منافق کھتا ہے بھئی علی ع کو غلط ثابت کرنے لئے تو خییر سے بچ کر تیرے پاس آیا ہوں۔۔ جب اس ملنگ کو ساری داستان سمجھ آئی تو اس منافق کے ہاتھ پیر باندھ دیئے پھر کھیر پکا کر زبردستی خوب کھلائی اور کھتا جاتا تھا میرے مولا سے ٹکر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ ***********************************************************************************************. اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے چارے غریب نے کتنی محنت کی ہے۔۔۔۔
  7. اس قسم کا تھریڈ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ واقعاً لوگ اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ************************************************************************ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے تھوڑا سا ڈر لگتا ہے کہ جب ہم اسلامی نکتہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرینگے کہ ذاکر یا خطیب کو کیسا ہونا چاہیئے تو ممکن ہے کوئی بڑی شخصیت اس معیار پر پوری نہ اترتی ہو یا بعض بڑی شخصیات اس کے برخلاف ہوں ۔ لہذا فوراً کسی کا جواب آجائے گا کہ فلاں شخصیت تو اس معیار پر پوری نہیں اترتی ؟ تو پہلے اس ابھام کو دور ہونا چاہیئے کہ ہمیں معیار دین سے لینے ہیں اور پھر ان معیارات پر تمام شخصیات کو تولنا ہوگا یہ نہ ہو کہ معیار شخصیت کو بنالیں اور پھر اسلام کی بھی رائے لینے کی کوشش کریں۔۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کی نگاہیں حق کے بجائے فقط شخصیات پر ہوتی ہیں، اور وہ انہی کو دیکھ کر عمل کرتے ہیں۔ پس اگر شخصیات حق سے منحرف ہوجائیں تو یہ بھی خود بخود حق کو چھوڑدیتے ہیں۔۔۔ ایک حدیث غالباً امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے فرماتے ہیں: خبردار ایسے عالم سے اپنا دین مت لینا جو دنیا پرست ہو، اگر ایسے عالم سے دین لیا تو وہ اپنی دنیا کمانے کے لئے تمھارا دین فروخت کردے گا۔۔۔ ************************************************************************* بعض فقظ مال، جاہ طلبی، اور منصب کے حصول کی خاطر منبر پر آتے ہیں، ان کا ہم غم ان کی فیس ہوتی ہے جو انھیں بانی مجلس سے لینی ہوتی ہے، ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میرا ریٹ پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ جائے، بعض ایک ایک عشرے کے چھتیس لاکھ لیتے ہیں، اور بد قسمتی سے یہ باتیں غلط انداز میں عوام میں سرایت کر رہی ہیں۔ میاں! ہم فلاں ذاکر کو سننے جائیں گے کیوں؟ کیونکہ اُس کا ریٹ بہت زیادہ ہے۔۔۔۔ ظاھر ہے جب ایک ذاکر کو اپنی ریٹنگ بہتر کرنی ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام پسندانہ باتیں کر کے عوام کا دل جیتے اور جب عوام پسندانہ باتیں کسی ذاکر یا عالم کا مھور بن جائیں تو اس کی زبان سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کم ہی سنائی دیتا ہے۔ ہمارے استاد ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا جو خود ایک مجلس کا بانی تھا۔۔ اس نے اپنی داستان بیان کی، کہتا ہے ایک جگہ مجلس رکھوائی تھی ایک کے بعد ایک ذاکر نے پڑھنے آنا تھا کہ اچانک درمیان میں اس امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا اور لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، ایک ذاکر جس کو دعوت دی گئی تھی وہ اس بانی مجلس کے پاس آیا اور کہنے لگا میں اپنے مقررہ وقت پر پہنچ چکا ہوں اب اگر مجلس کس وجہ سے نہیں ہو رہی تو یہ میرا قصور نہیں ہے مجھے ھدیہ دیں مجھے لیٹ ہو رہا ہیں آگے پڑھنے جانا ہے۔۔۔۔۔ان لاشوں کے ٹکڑوں کے درمیان اس شخص نے ھدیہ مانگا۔۔۔۔اور بانی مجلس نے دیا۔۔۔ ہم توقع نہ رکھیں کے ایسا شخص ہمیں مقصد حسینؑ سمجھائے گا۔۔۔۔ مسلک شبیری سر کٹانے کا مسلک ہے مال لٹانے کا مسلک ہے۔۔۔اور مسلک شبیری کا سفیر دنیا پرست نہیں ہوتا بلکہ اپنی جان ھتیلی پر رکھ کر مقصد قیام امام حسین ؑ بتاتا ہے۔۔۔ اب اگر ایک غریب آدمی اپنے گھر مجلس رکھوانا چاہتا ہےتو اسےسب پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ میں اس عالم کو فیس کیسے دوں ؟ اسی محرم میں شھر کراچی کہ ایک قریبی گوٹھ میں تبلیغ کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔۔ جھاں تقریباً دو سو شعیہ گھر موجود تھے، پورے گوٹھ میں ایک یا دو امام بارگاہ کے علاوہ کوئی دینی مرکز موجود نہیں تھا، اور امام بارگاہ بھی فقط عاشورا کے دن کھلتے تھے سارا سال تالا۔۔۔۔ اس علاقے کے بچوں کے ساتھ ایک نشست ہوئی جن کی عمر کم و بیش ۷ یا ۸ سال کے درمیان ہوگی، ۱۵ بچوں میں سے فقط ایک بچے نے شیعہ کلمہ سنایا باقی اکثر نے دوسرے مسلک کے کلمے سنائے حتی بانی مجلس کے بچے کو بھی شیعہ کلمہ نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بانی مجلس سے اس بارے میں سوال کیا تو کہتا ہے یہاں سال بھر کوئی تربیت کا انتظام نہیں ہے یہ صرف قریبی اسکول جاتے ہیں جھاں انھیں دوسرے مسلک کی باتیں سکھائی جاتی ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ایک مولانا آتا تھا پھر اس نے ھدیہ زیادہ مانگنا شروع کردیا جو ہم نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔
  8. Unlike other Marjas, atleast I never heard such an awkaward tone on such a sensitive issue. "Jo tumhay Mana karay isay kaho: Hum teray sir per nahi Mar rahay or tu apnay sir ko mehfoz rakh." Alhumdulillah even SC members are very cautious with their statements, .. His place is of great worth, he must be careful about the consequences of his statements.
  9. Comming Back to the topic "Lets hear something logical about the issue" https://www.shiatv.net/video/990653176
  10. Wilayat e Faqeeh: Under the occultation of Imam Mahdi a.j and by His will, "Authority of Islamic Jurisprudence who lead society on an individual and collective level, in order to maintain Islamic teachings on its right direction." Specially it covers all the political aspects of a society. Wali e Faqeeh is the ultimate person who owns complete authority over Ummah. Even if he orders to fight against enemies of Islam it is necessary to do that. Every Marja and Mujtahid have to follow single Wali e Faqeeh, Now some people use to twist it, and make it extraordinary complicated. There is a complete system of its selection. After Bypassing the system of Wilayat I may not announce that I am Wali e Faqeeh,
  11. Let me continue: I see 10 people doing tatbir and 100 taking their pics and videos, and hundred thousands are watching and making fun of Islam... It wouldn't be the matter of concern for me, if it doesn't pose threat to Shia's Image throughout the world.. Even if a single man destroys an image of Islam we must defend that... Take a look how: https://www.facebook.com/Mashrabe.Naab/videos/661242020661494/
  12. I would not say much beacuse it may divert the topic. Muqallideen have to follow their Mujtahid in Jurisprudence issues only.. Mujtahideen never owns wilayat over their muqallideen Wilayat is a status for one leadership... i.e Supreme Leadership
  13. For me, he lost his authencity when he said there were only 3 Shias some 100 years before.. And please correct me, it seems Statement contradiction as well. In beginning he used taunting language "listen o molvi" (an awkward language not appropriate with his post) and said this issue is not subject to taqleed, every one has a right to judge whether this act harms the religion or not, and one MUST act according to his own conclusion.... Suddenly he took back the right and said I am wali faqeeh and ORDERING you to perform it.
  14. Keeping the issue a side, this clip expose his personal envy and jealousy for an another scholar. خواص بی بصیرت
  15. Although we must condemn it, but on the other hand it shows the careful consideration of our enemies. Brainwashing should not be an easy task, it requires struggle of years, specific environment, capabilities of the preacher and most important analyzing human psyche. I think "suicider" must be considered academically, How the preachers successfully fill their hearts with Shia Hatred, this need to be analyzed.
  16. برادر عمار بہت خوب لکھا ہے آپ نے ************************ Bro Waiting for him, agar hum tasub ki nigah se na dekhain, or bay-taraf ho kar khayal karain, tou kya yahi nateejah nikalta hai ? hum gairo ki bat nahi kartay, magar kia wakai hum dawa kar saktain hain k Shia confuse nahi aj ka dour may ?
  17. I don't know about the authenticity of Micheal Brant's comments but there is a link of one of the famous website, which also covers that news: Reference has been presented of an Iranian famous newspaper which covers the news .روزنامه جمهوری اسلامی،‌ مورخ 4/3/83، ص 16 Non Persian users need to translate the article: http://farsi.khamenei.ir/others-article?id=10180
  18. انکار بیعت کے بعد جب امامؑ نے مدینہ سے سفر کا ارادہ کیا تو ابو حنفیہ جو امام ؑ کے بھائی اور امام علیؑ کے فرزند تھے انھیں وصیت لکھ کر دی اور حکم دیا کہ آپ مدینہ میں ہی ٹھریں اور ہمیں مدینہ کے حالات سے باخبر کرتے رہیں۔ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ» هذا ما أَوْصى بِهِ الْحُسَیْنُ بنُ عَلِىِّ بْنِ أَبِی طالِب إِلى أَخیهِ مُحمَّد الْمَعْرُوفِ بِابْنِ الْحَنَفِیَّةِ: أَنَّ الْحُسَیْنَ یَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللّهُ وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، جاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ الْحَقِّ، وَ أَنَّ الْجَنَّةَ وَ النّارَ حَقٌّ، وَ أَنَّ السّاعَةَ آتِیَةٌ لارَیْبَ فیها، وَ أَنَّ اللّهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، وَ أَنّی لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَ لا بَطِراً وَ لا مُفْسِداً وَ لا ظالِماً وَ إِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاِصْلاحِ فِی أُمَّةِ جَدِّی، أُریدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعرُوفِ وَ أَنْهى عَنِ الْمُنْکَرِ وَ أَسیرُ بِسیرَةِ جَدِّی وَ أَبی عَلىِّ بْنِ أِبی طالِب(علیه السلام)، فَمَنْ قَبِلَنِی بِقَبُولِ الْحَقِّ فَاللّهُ أَوْلى بِالْحَقِّ وَ مَنْ رَدَّ عَلَىَّ هذا أَصْبِرُ حَتّى یَقْضِىَ اللّهُ بَیْنی وَ بَیْنَ الْقَوْمِ بِالْحَقِّ وَ هُوَ خَیْرُ الْحاکِمینَ، وَ هذِهِ وَصِیَّتِی یا أَخی اِلَیْکَ وَ ما تَوْفیقی إِلاّ بِاللّهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْهِ أُنیبُ یہ وصیت ہے حسین ابن علیؑ کی اپنے بھای محمد حنفیہ کے لئے : حسین ؑ شھادت دیتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؑ انکے بندے اور رسول ہیں جو حق تعالی کی طرف سے حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے اور روز حساب بغیر کسی شک کے آنے والا ہے، اور خداوند قبر میں سونے والوں کو دوبارہ ضرور اٹھائے گا۔ اور میں طغیان، فساد، اور ظلم و ستم کے لئے قیام نہیں کر رہا ہوں، بلکہ صرف اپنے نانا رسول خد(ص) کی امت کی اصلاح چاہتا ہوں، اور میں چاہتا امر بلمعروف و نہی عن المنکر کروں اور اپنے جد رسول خدا اور پدر گرامی علی ابن ابی طالبؑ کی سیرت پر عمل کروں، جس نے حق بات میں میرا ساتھ دیا، وہ خدا سے اس کا اجر پائے گا، اور جس نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا، تو میں انتظار کروں گا یہاں تک کہ خدا میرے اور ان لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے، کہ خدا بھترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ مقتل الحسین خوارزمى، ج 1، ص 188-189. فتوح ابن اعثم، ج 5، ص 33-34
  19. اقبال لاھوری یکی از ارادت مندان امام حسین ؑ بود، یک جا تقابل بسیار خوب بین عقل حوس پرور و عشق کرد و در بارای تحریک امام حسینؑ چنین فرمود هر که پیمان با هوالموجود بست گردنش از بند هر معبود رست مؤمن از عشق است و عشق از مؤمن است عشق را ناممکن ما ممکن است عقل سفاک است و او سفاک تر پاک تر چالاک تر بیباک تر عقل در پیچاک اسباب و علل عشق چوگان باز میدان عمل عشق صید از زور بازو افکند عقل مکار است و دامی می زند عقل را سرمایه از بیم و شک است عشق را عزم و یقین لاینفک است آن کند تعمیر تا ویران کند این کند ویران که آبادان کند عقل چون باد است ارزان در جهان عشق کمیاب و بهای او گران عقل محکم از اساس چون و چند عشق عریان از لباس چون و چند عقل می گوید که خود را پیش کن عشق گوید امتحان خویش کن عقل با غیر آشنا از اکتساب عشق از فضل است و با خود در حساب عقل گوید شاد شو آباد شو عشق گوید بنده شو آزاد شو عشق را آرام جان حریت است ناقه اش را ساربان حریت است آن شنیدستی که هنگام نبرد عشق با عقل هوس پرور چه کرد آن امام عاشقان پور بتول سرو آزادی ز بستان رسول الله الله بای بسم الله پدر معنی ذبح عظیم آمد پسر بهر آن شهزاده ی خیر الملل دوش ختم المرسلین نعم الجمل سرخ رو عشق غیور از خون او شوخی این مصرع از مضمون او در میان امت ان کیوان جناب همچو حرف قل هو الله در کتاب موسی و فرعون و شبیر و یزید این دو قوت از حیات آید پدید زنده حق از قوت شبیری است باطل آخر داغ حسرت میری است چون خلافت رشته از قرآن گسیخت حریت را زهر اندر کام ریخت خاست آن سر جلوه ی خیرالامم چون سحاب قبله باران در قدم بر زمین کربلا بارید و رفت لاله در ویرانه ها کارید و رفت تا قیامت قطع استبداد کرد موج خون او چمن ایجاد کرد بهر حق در خاک و خون غلتیده است پس بنای لا اله گردیده است مدعایش سلطنت بودی اگر خود نکردی با چنین سامان سفر دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد دوستان او به یزدان هم عدد سر ابراهیم و اسمعیل بود یعنی آن اجمال را تفصیل بود عزم او چون کوهساران استوار پایدار و تند سیر و کامگار تیغ بهر عزت دین است و بس مقصد او حفظ آئین است و بس ماسوی الله را مسلمان بنده نیست پیش فرعونی سرش افکنده نیست خون او تفسیر این اسرار کرد ملت خوابیده را بیدار کرد تیغ لا چون از میان بیرون کشید از رگ ارباب باطل خون کشید نقش الا الله بر صحرا نوشت سطر عنوان نجات ما نوشت رمز قرآن از حسین آموختیم ز آتش او شعله ها اندوختیم شوکت شام و فر بغداد رفت سطوت غرناطه هم از یاد رفت تار ما از زخمه اش لرزان هنوز تازه از تکبیر او ایمان هنوز ای صبا ای پیک دور افتادگان اشک ما بر خاک پاک او رسان اقبال لاهوری
  20. بعض کہتے ہیں امام حسین ؑ اس مسئلہ خلافت سے لاتعلق اور غیر جانبداررہنا چاہتے تھے اور یزید کے لئے خلافت میں کوئی رکاوٹ ایجاد نہیں کرنا چاہتے تھے وہ یزید تھا جس نے امام حسین ؑ کو کربلا میں گھیر لیا اور یہ واقعہ رونما ہوا۔۔ یہ نظریہ درست نہیں امام حسین ؑ فرماتے ہیں إِنّا لِلّهِ وَإِنّا إِلَیْهِ راجِعُونَ وَعَلَى الاِْسْلامِ اَلسَّلامُ إِذْ قَدْ بُلِیَتِ الاُْمَّةُ بِراع مِثْلَ یَزیدَ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ جَدِّی رَسُولَ اللهِ(صلى الله علیه وآله) یَقُولُ: «اَلْخِلافَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلى آلِ أَبِی سُفْیانَ فَإِذا رَأَیْتُمْ مُعاوِیَةَ عَلى مِنْبَرى فَاَبْقِرُوا بَطْنَهُ» وَقَدْ رَآهُ اَهْلُ الْمَدینَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَبْقَرُوا فَابْتَلاهُمُ اللهُ بِیَزیدِ الْفاسِقِ ہم خدا کی طرف سے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنا ہے! اور جب امت یزید جیسے حکمرانوں میں مبتلا ہوجائے تو اسلام کی فاتحہ پڑھ دینی چاہیئے اور بتحقیق میں نے اپنے نانا رسول خدا (ص) سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ : خلافت آل ابوسفیان پر حرام ہے، پس جب تم معاویہ کو منبر پر دیکھو تو اسے ختم کردو۔۔۔ اب لوگوں نے اسے منبر پر دیکھا اور نہیں مارا نتیجتاً خدا نے انھیں یزید جیسے فاسق حکمران میں مبتلا کردیا لهوف، ص 20؛ ومثیرالاحزان، ص 10. *********************************************************************************** کوفیوں پر اتمام حجت بھی ضروری مرحلہ تھا کیونکہ جب کوفیوں کو خبر ملی کے امام حسین ؑ نے یزدید کی بیعت سے انکار کردیا ہے تو امام حسین ؑ کی حمایت میں خط لکھے اور یقین دلایا کہ آپ کوفہ آئیں ہم آپ کی نصرت کے لئے آمادہ ہیں۔۔۔ ایک روایت کے مطابق ۱۸۰۰۰ اٹھارہ ہزار خط امام کو موصول ہوئے۔ اگر امام ؑ ان پر حجت تمام نہیں کرتے اور اپنے سفیر حضرت مسلم ابن عقیل کو انکی طرف نہ بھیجتے تو واقعہ کربلا کے بعد کوفیوں کو یہ کہنے کا جواز مل جاتا کہ ہم تو آمادہ تھے امام نے ہماری دعوت قبول نہیں کی، پس کوفیوں کے چہرے سے نقاب اتارنا بھی ضروری تھا۔ یہاں ایک نکتہ اہم ہے اور وہ یہ کہ امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار کوفیوں کے بھروسے پر نہیں تھا ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں- امام حسینؑ جانتے تھے کہ کوفی وفادار نہیں ان پر تقیہ نہیں کیا جاسکتا انہوں نے بابا علی اور بھائی حسن ؑ کے ساتھ بھی بے وفائیاں کیں ہیں۔ حتی امام نے بیعت سے انکار پہلے کیا تھا اور خطوط کا سلسلہ بعد میں شروع ہوا۔ پس اگر کوئی سوال اٹھائے کہ اگر کوفی خطوط نہ لکھتے تو کیا امام قیام کرتے ؟ تو جواب یہی ہوگا کہ جی ہاں ! کیونکہ قیام کا محرک کوفیوں کے خطوط نہیں تھے جیسا کہ امام کے خطبات سے یہ بات واضح ہے۔۔ ابن عباس جو امام حسین ؑ کے کزن تھے امام کو مشورہ دیتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ آپ نے عراق کا ارادہ کیا ہے اس کے باوجود کے آپؑ جانتے ہیں کہ یہ لوگ فریب کارہیں اور آپ کو جنگ میں تنہا چھوڑ دیں گے، لہذا جلدی نہ کریں اور مکہ میں ہی ٹھر جائیں۔۔ امام حسین ؑ نے جواب میں فرمایا: «لاَنْ اُقْتَلَ وَاللّهِ بِمَکان کَذا اَحَبَّ اِلَىَّ مِنْ اَنْ اُسْتُحِلَّ بِمَکَّةَ، وَ هذِهِ کُتُبُ اَهْلِ الْکُوفَةِ وَ رُسُلُهُمْ وَ قَدْ وَجَبَ عَلىَّ اِجابَتُهُمْ وَ قامَ لَهُمُ الْعُذْرُ عَلَىَّ عِنْدَ اللّهِ سُبْحانَهُ»؛ اگر میں وہاں مارا جائوں تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بجائے اس کے کہ میں یہیں پر ٹھر جائوں اور مکہ کی حرمت پامال ہوجائے۔۔۔ اس کے علاوہ یہ کوفیوں کے خطوط ہیں، مجھ پر لازم ہے کہ ان کی دعوت کا جواب دوں تاکہ حجت ِ خدا ان پر تمام ہوجائے۔ . معالى السبطین، ج 1، ص 246 ************************************************************************
  21. I think Shiachat is well moderated and is pure from enemy's intrusion. I believe moderators are doing enough to maintain Shiachat on its core principals. (But still a lot more have to be done in this regard). I have seen many forums up-til now, what make SC different from other forums is its friendly environment for every school of thoughts.
  22. بجائے اس کے کہ ایک ہی موضوع پر نئے تھریڈ بنائے جائیں میں نے سوچا کہ اس پرانے تھریڈ کو ہی جاری رکھا جائے ********************************* اگر ہم قیام سید شھداء (ع) پر نگاہ کریں اور اس حوالے سے خود فرامین امام حسین ؑ کو دیکھیں تو یقیناً ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کے قیام سید شھداء کی اصلی وجوہات یہ تھیں۔۔ (۱ یزید کا خلیفہ بننا اور خلافت پر آتے ہی بیعت کا سوال کرنا (۲ کوفیوں کے خطوط کے باعث ان پر اتمام حجت کرنا (۳ رسول خدا (ص) کی امت کی اصلاح یعنی امر بلمعروف اور نہی عن المنکر جو امام کا اصلی ھدف تھا خدا سے دعا ہے کہ ان تمام عوامل کو دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ بیان کر نے کی توفیق نصیب ہو تاکہ ہم پر واضح ہو کہ قیام امام حسین ؑ کی حقیقت کیا تھی، یہ موضوع ہر انسان کے لئے اہم ہے مگر ایک عزادار کے لئے انتھائی اہمیت کا حامل ہے، اگر یہ موضوع حل ہو جائے تو ہم جان لیں گے کہ وہ کیا چیز ہے جس کی قیمت اور ارزش امام حسین ؑ کے لئے اپنے خون سے زیادہ ہے، اور جس کی قیمت امام کے لئے اپنی اولاد، اصحاب اور چاہنے والوں سے بھی بڑھ کر ہے۔۔ وہ کیا چیز ہے کہ جس کی خاطر امام خود اپنے اہل و عیال کو قربان کرنے پر آمادہ ہیں۔۔۔
  23. تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست با من میا کہ مسلکِ شبّیرم آرزوست [مجھے تیر و نیزہ و خنجر و شمشیر کی آرزو ہے، (اے دنیا پرست و آسائش پسند) میرے ساتھ مت آ کہ مجھے مسلکِ شبیر (ع) کی آرزو ہے۔] از بہرِ آشیانہ خس اندوزیَم نگر باز ایں نگر کہ شعلۂ در گیرم آرزوست [ایک آشیانہ بنانے کیلیے میرا تنکا تنکا جمع کرنا دیکھ، اور پھر یہ بھی دیکھ کہ مجھے اس آشیانے کو جلا ڈالنے کی آرزو ہے۔] کتاب: پیام مشرق علامہ اقبال
×
×
  • Create New...