Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

talib e ilm

Advanced Members
  • Content Count

    322
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by talib e ilm

  1. Aik mushkil jo buhat se rishto ko kharab karti hai or mamla talaaq tuk pohcha deyti hai, wo hai larki ya larkay k atraaf may aisay loog hotay hain jo galat fahmia paida karwatay hain, maslan larki ki saheli, khala, un ki ammi ya koi or fard larki ko ap k khilaaf uksaati hai, larki per dabaao dala jata hai, dekho kaisa nakaraa shauhar hai tumhara, itnay kum paisay kamata hai, fala ka shuahar dekho apni biwi ko kitna khush rakhta hai, maslan usay gari lay kar d hai lakin tumhara shauhar dekho tumharay liay kuch nahi karta, is tarah ap ko baaz kaam karnay per majboor kya jata hai, larki aise soorat e haal may shadeed dabao may aa jati hai, baaz mothers hamdardi kartay huay aise aag lagati hain k bacho ka hasta basta gher ujar jaata hai.. aj kal k dour may mobile, whats app or films b hain jo logo ki zindagian barbaad kar rahi hain, kitnay aisay cases hain k ziada whats app istemaal karnay or apnay life partner ko kam tawajah deynay par talaaqain dekhi gae hain.. pas is qisam k logo se talluq kaatna buhat zaroori hai jo usay ap k khilaaf kisi b tarah se misguide kar raha ho... ******************* dosri taraf khawateen ahsaasaati hoti hain, inhay apnay ahsaasaat ko muntaqil karnay k liay kisi fard ki zaroorat hoti hai jis se wo apna samjh kar baat kar sakay, apna dard e dil kar sakay, usay apnay tamam raaz bata sakay. ******** dosri bat yay k Is rishtay may 2 qisam ka talluq qaim karna buhat zaroori hai, aik jismaani or dosra qalbi.. yaqeenan ap samjh gae hon gae mera ishara kis taraf hai, pas agar yay 2 talluq qaim na hon, ya koi beech may rukawat ajae tou rishtay sust parh jatay hain, or muhabbat may kami ati hai.. ******* Aik or bat yay k jab hum apna masla batatay hain tou fitri hai k tamam mushkilaat dosro ki talash kartay hain, is taraf b nazar rahay k kon kon c ziadtiaan hai jo may apni ahlia k sath kar raha ho, kiun wo mujh se apna dard e dil nahi pati ? kiun mujahy tawaja nahi deyti, kahi mujh may koi kami tou nahi, kahi may nay kotaahi tou nahi ki ? *********** Shaid in may se koi nuqta ap k kaam aa sakay Khuda se dua hai k Ap dono Asooda or Muhabbato se bhari zindagi guzarain.. Wsalam
  2. السلام علیکم برادر محترم موضوع انتھای اہم اور سنجیدہ ہے۔۔ خدا نے قوموں کی تقدیر خود انہی کے ہاتھوں میں رکھی ہے، آج ہمارے ملک میں اگر کوئی اچھی رسومات دیکھائی دیتی ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی ہم اور ہمارے اجداد ہیں، اور اگر کوئی برائی دیکھای دیتی ہے تو یقینا اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔۔ ********* دوسری بات یہ کہ مسائل کی طرف دیکھنے کے مختلف زاویے ہوتے ہیں، عوام الناس عام طور پر جب بھی مسائل پر بات کرتے ہیں شکایتی انداز اختیار کرتے ہیں اور عام طور پر حالات کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو ٹھراتے ہیں۔ لیکن بعض دانشور حضرات جنکا دل اپنی قوم و ملت کے لئے دھڑکتا ہے وہ فقط شکوہ نہیں کرتے، حالات کا ذمہ دار صرف دوسروں کو نہیں ٹھراتے، معاشرتی اصلاح کے لئے صرف دوسروں کی طرف انگلی نہیں اٹھاتے بلکہ خود اس خرابے میں اترتے ہیں، اور اپنی توانائی کے مطابق معاشرے کی اصلاح کے لئے کوشش کرتے ہیں۔۔ کیونکہ ناتوانہ کو ناتوان کہنا، برے کو برا کہنا، خستہ حال کی خستہ حالی پر قہقہا لگانا بہت آسان کام ہے، لیکن اس کا ہاتھ تھام کر اسکی خستہ حالی اور ناتوانی کو بدل کر اسے توانا بنانا یہ اصل معرکہ ہے۔۔۔ اگرچہ اس موضوع سے کوئی ربط تو نہیں بنتا لیکن انسان لب پر آئی ہوئی بات کو کیسے روکے کے سید الشھداء ع نے جس موقعے پر قیام کیا اس وقت امت کی حالت آج ہماری حالت سے بدتر تھی، امت یزید جیسے فرد میں مبتلا ہوچکی تھی، امت کا درد دل رکھنے والے ۷۲ تن تھے جو تاریخ پر غلبہ پا چکے۔ آج مجلس حسین ع، جلوس عزا، یہ عزاداری اسی لئے ہے کہ ہم جمع ہوں اور وہ درد دل آج ہم اپنے قلب میں پیدا کریں، کہ جس درد نے مولا حسین ع کو اپنے وطن سے نکال کر کربلا پہنچایا۔۔ ********* سوال ہوا پاکستانیوں کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر وہ فخر کرسکیں؟ بے شمار نعمتیں خدا نے اس ملک اور اس میں رہنے والوں کو دی ہیں، ایک جو بہت نمایاں ہے وہ یہ کہ پاکستانیوں کے پاس مذھب سے لگائو کی حس دوسری قوموں سے بڑھ کر ہے، بلاتفریق شیعہ اور سنی کی بات کی جارہی ہے کہ مذھب کے نام پر ہر کام کرنے کو تیار ہیں حتی مر مٹنے کو تیار ہیں۔ مذھب سے یہ عقیدت اگرچہ مثبت ہے، لیکن اس سے ہمیشہ سو استفادہ کیا گیا، اور ہمیشہ اس طاقت کو فتنے اور فساد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، جس کا سبب یہ بنا کہ پاکستان دہشت گردی اور مذھبی جنونیوں کے لئے بھترین پناہ گاہ بن گیا۔۔ اگر اس مذھبی عقیدت کو درست جھت مل جاتی اور انھیں ایک بیدار کرنے والا رھبر نصیب ہوجاتا تو آج یہی ملت ہوتی کہ اسلام اور مسلمین کے دشمن اس سے پناہ مانگتے۔۔
  3. Urdu may baaz zarb ul misal or muhawray aisay hotay hain jin se muraad wo nahi li jate jo likha gaya hai, muraad kuch or li jate hai, batour e misaal kaha jata hai k falan sahib nay aisa kaam kya k shaitaan ko bhi sharam aa gaye... Yaha haqeeqat may shaitaan ko sharam ana muraad nahi hota, kaam ka bura hona bayan karnay ki koshish ki jate hai... Mumkin hai jo shair ap nay naqal kya hai is k likhnay walay ki murad b majazi ma'nay hon... is k bawajood is qisam k shair se avoid karna chahyay, jo logo ki tashweesh ka bais hain is qisam ki koi rivayat suni nahi gaye, k masalan shaitan nay imam a,s ka sajda dekh kr khuda se is trah kaha ho.... shaitan se hidayat ki taufeeq cheeni ja chuki hai, imam hussain a,s ki marifat k liay dil ka paak hona shart hai.... shaitan bandigaan e khuda ka dost kabhi nahi ho sakta...
  4. kabhi hum natejay ki taraf gour karain phir khud samjh ajae ga yay authentic hai ya nha... awal tou kahi parha nahi... agar likha ho, tou hur likhi hui cheez qabil e qabool b nahi hoti.. is ka nateeja yay nikalta ha k iblees dil ka bura nahi tha, bas thora takabur may aa gaya tha, is liay sajday sey inkar kar deya, ab Imam Hussain a,s ka sajda dekh kar khuda se tauba ki darkhast ki magar khuda nay maaf karny se inkaar kar deya..
  5. لشکر کا سب سے اہم ستون فوج کے کمانڈر ہوتے ہیں معاویہ کی نظریں امام حسن ع کی فوج کے کمانڈروں پر تھیں، اپنے آدمیوں کو احکام دیئے کہ امام حسن ع کی فوج کے ہر چھوٹے بڑے کمانڈر کے پاس جائیں اور ہر ایک کو خریدیں، اپنے آدمیوں سے کہتا ہے کہ وہ اب پہلے جیسے نہیں رہے، جنھوں نے ۳ سال پہلے مجھ سے جنگ کی تھی، کچھ بوڑھے ہوچکے ہیں، کچھ کی شادیاں ہوگئیں ہیں، کچھ شکم سیر اور اہلِ دنیا ہوچکے ہیں، انکے حوصلے اب پست ہیں، اور اب یہ شھادت طلب نہیں رہے۔۔ امام حسن ع کے چچا کا بیٹا، امام کا انتہائی مورد اعتماد شخص جس کو فوج کی سپھ سالاری کا شرف حاصل تھا، عبید اللہ ابن عباس، لالچ میں آکر ۴۰۰۰ کے لشکر سمیت معاویہ سے ملھک ہو گیا، جس میں اس کے قبائل اور علاقے کے لوگ شامل تھے۔۔ جنگ کے دوران معاویہ کے نفوذی امام حسن ع کے لشکر میں شامل ہوجاتے، اور سرداروں کے پاس آکر معاویہ کی پیشکش سناتے، ان کی مھارت کی مثال نہیں ملتی: خریدنے کا انداز ملاحظہ کیجئے۔۔ سرداروں سے سوال کرتے تم نے اتنی فداکاریاں کیں تمھیں کیا ملا آیا تمھارے حصے میں کوئی مال آیا ؟ سردار جواب دیتے کچھ نہیں ہم باقی لوگوں کی طرح سادہ زندگی گذارتے ہیں، معاویہ کے آدمی پوچھتے ہیں کیا برا نہیں سرداروں کو دوسروں کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ سالوں سے فداکاری کر رہے ہو پھر کیوں سب ایک طرح ہو ؟ یہ جواب دیتے آخر ہمارے رہبر امام حسن ع بھی اسی طرح ہیں، سادہ زندگی پسند کرتے ہیں، معاویہ کے آدمی کہتے اُن سے تمھارا کیا واسطہ، کب اپنے لئے جیو گے؟ تمھاری ترقی کب ہوگی ؟ اپنے گھر والوں بیوی بچوں کے لئے کب سوچو گے؟ کب تک شھید دیتے رہو گے؟ کب تک اس دبائو کا شکار رہنا چاہتے ہو کہ نہ جانے کب جنگ شروع ہوگی، کب حملہ ہوگا، کب جنگ ختم ہوگی کب ہم گھر جائیںگے ؟ پھر یہ آدمی سرداروں سے پوچھتے : امام حسن ع تمھیں اس کام کی کتی اجرت دیتے ہیں؟ پھر کہتے معاویہ کے پاس آئو وہ تمھیں اس سے ۲۵ گناہ زیادہ دے گا، بعض نے ۵۰ برابر اور بعض نے ۲۰۰ برابر کی پیشکش کی۔۔ پھر فوراً ایک بڑی نقدی رقم ان سرداروں کے ہاتھ میں رکھ دیتے اور Blank Cheque کے طور پر پیکش کرتے یعنی شھروں اور علاقوں کے نام لیتے اور پوچھتے کس علاقے کی فرمانروای پسند ہے ؟ جس علاقے کی حکومت چاہیئے نام بتائو وہاں کا سارا بیت المال تمھارا ہوگا، یہ سب کچھ صرف اور صرف ایک کام کے بدلے میں کہ حسن ابن علی ع کی مدد سے ہاتھ اٹھا لو ۔۔۔ مالی لحاظ سے کمزور اور ضعیف العقیدہ افراد کو ایک ایک کر کے شکار کر لیا۔۔۔ سب کی قیمتیں لگائیں، کچھ چھوٹی اور کچھ بڑی قیمت پر اکثر بکنے کے کئے حاضر تھے ۔۔ امام حسن ع کی فوج میں بعض ایسے سردار بھی تھے جنہوں نے امام علی ع کے ساتھ مل کر جنگیں لڑیں تھیں، جن کی مالی مشکلات تھیں ان میں سے بعض نے ہار مان لی، بعض کو شک و تردید میں ڈال دیا ، معاویہ کے آدمی ان کے پاس آتے اور کہتے آیا حسن ع کے پاس جنگ کی لیاقت ہے ؟ اسی طرح بعض کے اندر حس جاہ طلبی کو بڑھاتے مثلاً سرداروں سے کہتے تمھارے اندر کیا کمی ہے حسن ع تم پر سرداری کا کیا جواز رکھتے ہیں ؟ آیا تمھارا تجربہ کیا امام حسن ع سے کم ہے ؟ تم نے مولا علی ع کے ساتھ حسن ابن علی سے بڑھ کر جنگیں لڑیں ہیں۔۔ بعض اہلِ شھوت تھے ان کو معاویہ نے اپنی بیٹی دینے کا وعدہ کیا اور خرید لیا، بعض کی تاریخی سند موجود ہے جنہیں معاویہ نے خوبصورت ترین عورت دینے کے وعدے سے خریدا۔۔ بعض کو پلاٹ کے وعدے پر اور بعض کو عھدے کے وعدے پر خریدا۔۔ اسی طرح کُل ۸ بڑے کمانڈروں نے امام حسن ع سے خیانت کی۔۔ حتی امام حسن ع کو شھید کرنے کے لئے کچھ افراد چاہنے والوں کے لباس میں شامل ہوئے، ایک نے حملہ کیا جس کی وجہ سے امام زخمی بھی ہوئے۔۔ کام تمام ہوچکا تھا، اصلاً سپاھی نہیں تھے، اردوگاہ ہی نہیں تھی، امام حسن ع کے اپنے خیمے میں خائن بیٹھے تھے۔۔۔ جنگ کس امید پر لڑی جاتی ؟ جاسوسی اور نفسیاتی جنگ کے دو سرغنہ ماسٹر مائنڈ ایک بصرہ اور ایک کوفہ سے گرفتار بھی ہوئے، جس پر امام حسن ع نے انھیں سزا دی اور معاویہ کو خط لکھ کر اس کی مذمت کی، لیکن معاویہ کا جال اتنا مضبوط تھا کہ باقی گروہوں نے دھوکے اور لالچ سے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔۔۔ یہ ایک حقیر سی کوشش تھی کے صلح کے پیچھے مظلومیت امام حسن ع بیان ہو۔۔
  6. وہ اسباب جس کی بناء پر امام حسن ع کو تنھا کردیا گیا وہ یہ ہیں۔۔ امام حسن ع کے خلاف معاویہ نے نفسیاتی جنگ، پروپیگنڈہ اور جاسوسی سے زیادہ استفادہ کیا۔۔ معاویہ کے پاس جاسوسی اور نفسیاتی جنگ کی فوج کا نیٹ ورک بہت مضبوط تھا اور اس دور کا میڈیا معاویہ کے کنٹرول میں تھا، یعنی غلط اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے لئے اپنی مخصوص فوج کا جال امام حسن ع کی فوج اور چائنے والوں کے ارد گرد پچھا دیا۔۔ معاویہ کے آدمی ایک طرف سے چاہنے والوں اور امام کی فوج کے درمیان آکر یہ بحث چھیڑتے کہ معاویہ سے جنگ میں امام حسن ع کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں، جبکہ انکے والد بھی معاویہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور بلآخر شھید کردیئے گئے۔۔ دوسری طرف نفسیاتی دبائو ڈالا جاتا کہ ابھی معاویہ حملہ کرنے والا ہے، بس ابھی جنگ شروع ہونے والی ہے، ابھی سب مارے جائیں گے۔۔ ایک طرف سے اس قسم کی بحث چھیڑتے جس سے شان امامت اور امام حسن ع کی منزلت کم ہوجائے جس سے کمزور عقیدہ لوگ شک میں پڑھ جاتے جیسے امام حسن کے بارے میں مشھور کردیا کہ ان کی ۳۵۶ بیویاں ہیں، وہ اہل دنیا ہیں، اپنے بابا علی ع کی طرح سادہ زندگی نہیں گذارتے اشرافیت کے ساتھ رہتے ہیں، اپنی خلافت کے لئے بڑے بڑے محل اور قلعے بنائے ہیں ماذاللہ۔۔۔ ایک طرف سے مومنین اور شیعوں کے درمیان یہ مشھور کرتے کہ معاویہ اور امام حسن ع نے پس پردہ آپس میں مذاکرات کر لئے ہیں لہذا اب معاویہ سے جنگ کی تیاری بے فائدہ ہے۔۔ ایک طرف سے اپنوں کے لباس میں آکر معاویہ کے آدمی داخلی دبائو ایجاد کرتے کہ آخر کب تک جنگ لڑیں، کتنے شھید دیں ؟ اب تو کوئی خاندان ایسا نہیں بچا جس نے شھید نہ دیا ہو، کتنے زخمی پڑے ہیں مزید کتنا نقصان اٹھائیں ۔۔ اب بہت ہو چکا۔۔ اسی طرح لشکر کے ایک طبقے کو شک و تردید میں ڈال دیا کہ آیا امام حسن ع درست فیصلہ کر رہے ہیں یا نہیں۔۔۔
  7. کتب اہلسنت اور کتب اہل تشیع میں روایات موجود ہیں کہ رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں حسن و حسین (ع) کا دوست میرا دوست ہے اور انکا دشمن میرا دشمن ہے۔۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی ان سے جنگ کرے اس کے باوجود پیغمبر (ص) کا دوست بھی ہو۔۔ واقعاً قابل تعجب ہے کہ معاویہ اور امام حسن (ع) کی جنگ میں بھی بعض ابھی تک شک کا شکار ہیں۔۔۔ اور دونوں کے نام کے ساتھ رضی اللہ کا اضافہ کرتے ہیں ۔۔۔ ایک جفا جو بعض نادان ان دونوں اماموں کے حق میں کرتے ہیں وہ یہ کہ ایک کو صلح پسند امام کہتے ہیں اور دوسرے کو جنگ پسند ۔۔۔ پیغمبر (ص) کی یہ حدیث قابل توجہ ہے فرماتے ہیں: حسن اور حسین (ع) ہر دو امام ہیں چاہیں قیام کریں یا سکوت۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام آئمہ اطھار (ع) کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے نجات اسلام و مسلمین اور رشد انسانیت، کبھی حکمت کا تقاضہ صلح ہوتی ہے اور کبھی یہ مقصد جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ کبھی بھی بنیادی طور پر مقصد جنگ یا صلح نہیں ہوتا، جنگ یا صلح کسی مقصد کو نظر میں رکھ کر کی جاتی ہے۔۔ حتٰی شھید ہونا بھی مقصد نھیں ہوتا، ہاں اگر ھدف شھادت کے بغیر حاصل نہ ہو تو ہزاروں کی فوج کے مقابلے میں امام حسین (ع) ۷۲ افراد کے ساتھ قیام کرتے ہیں، لیکن اگر مقصد شھادتوں سے بھی حاصل نہ ہو تو حکومت اور ہزاروں کی فوج رکھنے کے باوجود امام حسن (ع) صلح کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ صلح امام حسن اور واقعہ کربلا میں ۲۰ سال کا وقفہ ہے اس دوران حالات میں تبدیلیاں آئیں، امام حسن ؑ اور امام حسین (ع) کی زندگی کے سیاسی حالات ایک دوسرے سے بہت جدا تھے۔۔۔ آگے چل کر انشاءاللہ اس بات کو واضح کیا جائے گا کہ حالات میں کیا فرق تھا، کیوں ایک امام حکومت کے باوجود صلح کرتے ہیں، اور دوسرے امام افراد کم ہونے کے باوجود قیام کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ لیکن اس وقت ایک اور بحث جو اس سے زیادہ اہم ہے اور جس کی طرف شاید ہم نے اب تک نہ سوچا ہو اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے۔۔:۰ ۲۱ رمضان امام علی ع کی شھادت ہوئی اور اسکے بعد صرف چھ ماہ تک امام حسن ع کی خلافت کا عرصہ ہے اور پھر معاویہ سے صلح ہوئی۔۔ اجمالی طور پر ہم سب عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام حسن (ع) نے اسلام اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد کی خاطر معاویہ سے صلح کو ترجیح دی ہوگی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا عوامل باعث بنے کے حکومت علوی جو اتنی شھادتوں اور محنتوں سے قائم ہوئی فقط چھ ماہ کے عرصے میں صلح پر ختم ہوگئی ؟ جب خلافت امام علی (ع) کے حوالے کی گئی تھی اور حقدار کی طرف حق پہنچ گیا تھا، تو ہم تصور نہیں کرسکتے لوگ اور خصوصاً شیعہ کس قدر خوش تھے۔۔ خود امام علی ع فرماتے ہیں لوگ اس طرح میری بیعت کرنے کے لئے مسجد میں دوڑے چلے آرہے تھے کہ مجھے خوف ہونے لگا کہ کہیں حسن و حسین ع کچل نہ جائیں۔۔۔ عورتیں اس طرح آرہی تھیں کہ قریب تھا کہ عورتوں کی چادریں سروں سے ہٹ جائیں، عصا کے سہارے چلنے والے بوڑھوں کا یہ عالم تھا کہ اپنی عصا کو چھوڑ کر دوڑ رہے تھے کہ جلدی سے میری بیعت کرلیں۔۔۔ تاریخ میں یہ بھی نقل ہے کہ امام حسن ع کی بیعت کا منظر امام علی کی بیعت سے زیادہ پرجوش تھا۔۔۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی خوشی کا کیا عالم ہوگا۔۔۔ ہم ایمان رکھتے ہیں امام حسن ع کا کام حکیمانہ ہوگا کہ صلح کو ترجیح دی، اس میں شک نہیں کہ کام حکیمانہ تھا، لیکن سوال یہ ہے کیوں ترجیح دی؟ وہ امام جو معاویہ سے جنگ کے لئے لشکر ترتیب دیتے ہیں پھر اچانک صلح کی طرف کیسے مائل ہوئے ؟ ارد گرد کیا حالات تھے ؟ کیسے امام کو تنھا کیا گیا ؟ کیوں شھادت بھی بے فائدہ تھی ؟ اس بحث کو چھیڑنے کا مقصد قارئین کا ٹائم پاس کرنا نہیں ہے اور نہ مقصد صرف یہ ہے کہ لکھنے والے اور پڑھنے والے تک ثواب پہنچ جائے، اس کے پیچھے ایک محرک ہے کہ انسان عبرت حاصل کرے، یہ ابحاث آج ہمارے معاشرے اور ہمارے دور سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، ارد گرد ایسے بے شمار عوامل دیکھائی دیتے ہیں کہ رہبر کو کیسے تنھا کیا جاتا ہے، دشمن کا طریقہ واردات سمجھنے میں مدد ملتی ہے، ان عوامل کو جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ خدانہ کرے یہ تاریخی حقیقت پھر آشکار ہوجائے اور ایک بار پھر زمانے کے امام مظلومیت کے ساتھ تنھا رہ جائیں۔۔۔
  8. امام حسن علیہ صلاۃ و سلام کی ولادت کے ایام ہیں تمام عاشقان ولایت و امامت کو ان ایام کی مناسبت سے مبارکباد عرض ہے۔۔ عمومی طور پر ہم امام حسن (ع) کی حیات پاک سے متعلق زیادہ آشنائی نہیں رکھتے۔ یہی مناسبتیں ہوتی ہیں جس میں ہمیں موقع ملتا ہے کہ آئمہ اطہار (ع) کی زندگی کے مختلف پھلووں سے آشنا ہوں۔ جشن اور محفل فضائل میں تھوڑا بہت تذکرہ ہوجاتا ہے لیکن حیات امام کے مختلف شعبے ایسے ہیں جن کی معرفت ابھی بیان کی محتاج ہے۔ کوشش ہوگی کے امام کی زندگی کے وہ پھلو بیان ہوں جو عام طور پر منبروں اور محفلوں میں بیان نہیں کئے جاتے۔۔۔ چاہے شیعہ ہوں یا سنی ہر دو مسلک کی کتابوں میں امام حسن (ع) کے بے تحاشا فضائل موجود ہیں۔۔ اخلاقی پھلو: امام حسن (ع) کسی راہ سے گذر رہے تھے کہ اچانک ایک شامی اموی نزدیک آیا اور آپ کو برا بھلا اور گالیاں دینے لگا۔۔ ماذاللہ۔۔ وہ شخص خود روایت کرتا ہے کہ جو کچھ میری زبان پر آیا میں نے بول دیا، امام حسن (ع) نے خاموشی سے سنا اور سننے کے بعد چلنے لگے، وہ شخص دوبارہ امام (ع) کی طرف بڑھا اور پھر نازیبا اور توہین آمیز الفاظ سے امام کو مخاطب کرنے لگا۔۔ امام نے خاموشی سے سننے کے بعد اس سے فرمایا میں نے سن لیا، اور امام دوبارہ چلنے لگے یہ شخص کہتا ہے میں نے چند بار یہ عمل دہرایا اور بلاخر خود خستہ ہوگیا۔۔۔ پھر اچانک دیکھتا ہے کہ امام اس کی طرف پلٹ کر آتے ہوئے اسے صدا دے رہے ہیں۔۔ جب امام اس شخص کے قریب آئے تو اس سے مخاطب ہو کرفرمایا، معلوم ہوتا ہے تم اس شھر میں نئے ہو اور غریب الوطن ہو، اگر کوئی مشکل ہے تو بتائو میں خود حل کروں، اگر کوئی مالی مشکل ہے تو میں اپنی توانائی کے مطابق اسے برطرف کروں، اگر حق طلب ہو اور کوئی سوال کرنا چاہتے ہو تو سوال کرو کہ میں جواب دوں، اگر میرے مخالف یا دشمن ہو تو دلیل بتائو تاکہ بات کروں، اگر آوارا ہو تو بتائو پناہ دوں، ہمارے پاس غریب الوطن افراد اور مسافروں کے لئے ایک گھر موجود ہے ۔ وہ شخص کہتا ہے امام نے مجھے جانے نہ دیا، بلکہ بہت اصرار کیا اور مجھے اپنے گھر مھمان بنالیا، امام حسن (ع) کے ہمراہ سر سفرہ بیٹھ کر کہتا ہے میری نگاہیں شرم سے جھک گئیں، میری ہمت نہ ہوئی کہ سر اٹھائوں، اور میرا دل کر رہا تھا کہ کاش زمین کھل جائے اور میں اس میں گڑھ جائوں۔۔۔ اخلاق اور کردار امام حسن (ع) سے متاثر ہو کر بعد میں یہ شخص شیعیان امام میں سے ہوگیا۔۔۔ ************** کسی چائنے والے نے امام (ع) سے سوال کیا کیوں کبھی ایسا نہیں ہوا کے آپ کے در سے کوئی گدا خالی ہاتھ پلٹ گیا ہو؟ ہمیشہ ضرورتمند کی ضرورت پوری کرتے ہیں، یا اس کی پریشانی کو دور کردیتے ہیں ۔۔ امام جواب میں فرماتے ہیں: وہ گدا ہیں اور میں خود بھی اللہ کے سامنے گدا ہوں، مجھے شرم آتی ہے کہ انھیں خالی ہاتھ رخصت کردوں جب کہ میں بھی سائل ہوں۔۔ خدا کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ خیر و احسان کرتا ہے، پس میری بھی یہی عادت ہے کہ خدمت خلق کروں، خوفزدہ ہوں کہ اگر اپنی اس عادت کو ترک کردوں، کہیں خدا اس عادت کو ترک نہ کردے۔۔
  9. ایک چیز فطری ہے کہ جب بھی ہمارے سامنے کوئی نظریہ رکھا جائے جس کی طرف تھوڑی بہت رغبت ہو، ہمارا ذہن فوراً مصادیق کی تلاش شروع کردیتا ہے مثلاً یہی نظریہ کہ اسلام اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں لہذا اب ہمارا ذہن اپنے زمانے میں اس نظریہ کی حامل جماعتوں، تحریکوں یا پرچموں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ جہاں اکثر سادہ لوح افراد دھوکہ کھاتے ہیں، شیطان اور خناس عموماً انہی جگھوں پر اپنا جال بچھائے ہوئے ہوتے ہیں۔۔ ہر ایک کا نعرہ یہ ہوتا ہے کہ سب کو چاہیئے ہمارے پرچم کے نیچے جمع ہوں ہم ہی حق پر ہیں۔۔ ہر ایک دعویدار ہوتا ہےکہ ہم ہی اہل ولایت ہیں۔۔۔ حتی امام خمینی کا نام بھی بارہا ایسی جگہ اور ایسے مقصد کے لئے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس کا امام خمینی کی افکار اور انکی راہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔ اس مرحلے پر بہت ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ مناسب یہی ہے کہ افکار کی درست شناخت ہو جائے تاکہ اس بازار سے صحیح جنس کو پہچاننے میں آسانی ہو۔۔
  10. یہ مسئلہ(علماء کا سیاست سے غیرجانبدار رہنا) آج کا نہیں، یہ مسئلہ بنی امیہ کے زمانے میں ایجاد ہوا اور پھر بنی عباس کے دور میں اس میں شدت آئی اور آج کے دور میں بھی بیگانوں کے ہاتھوں سے اس میں وسعت ایجاد ہوئی۔۔ اُنھوں نے اس مسئلہ کو اس طرح ہوا دی کہ علماء اور متدین افراد نے بھی اس پر یقین کرلیا، اب اگر ایک عالم سیاسی مسائل میں وارد ہو تو اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔۔۔ یہ استعماری دشمن کا ایک بڑا منصوبہ تھا جس پر بعض لوگوں نے یقین کرلیا۔ (امام خمینی)۔ دین و سیاست کی جدائی دراصل بنو امیہ کا دیا ہوا تحفہ ہے، جنھوں نے اقتدار کی حوس میں اسلامی تعلیمات میں تحریف کیں ۔۔۔ ہمارے لئے انتھائی غور و فکر کا مقام ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم زبان سے اموی خلافاء سے اظہار برائت کریں اور ہمارے اعمال اور افکار ان کی تعلیمات سے ملتے جلتے دیکھائی دیں۔۔۔
  11. انفرادی مسائل ہوں یا اجتماعی، لوگوں کی فلاح و بھبود کے امور ہوں یا دشمن سے نبرد ، جنگ ہو یا صلح، فتنوں سے مقابلہ ہو یا اسلام کا دفاع، احکام دین کا بیان ہو یا تعلیم و تربیت ان تمام امور کی سرپرستی اسلام نے کی ہے اور یہی ہماری اسلامی تاریخ ہے۔۔ اور اگر ہم آج اپنے زمانے کو دیکھیں تو یہ مسائل ماضی سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں، ماضی کے مقابلے میں اسلام کا دشمن آج زیادہ طاقتور ہوچکا ہے، خالص اور ناب اسلام معاشرے سے تو کیا مسجد اور مدرسوں سے بھی گُم ہو چکا ہے، فتنوں میں کئی گُنا بڑھ کر شدت آئی ہے، ہر روز اسلامی سرحدوں پر کمر توڑ حملے ہو رہے ہیں۔۔ اسلام کے نام پر مظلوموں کا قتل عام ہو رہا ہے، اسلام کی خوفناک تصویر پیش کی جارہی ہے۔۔۔۔ لہذا آج ہمیں خالص اسلام کی، ماضی سے زیادہ ضرورت ہے اور اسلام کا دامن تھامنے کے سواء ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔۔ البتہ خالص اسلام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔ نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ آج جس اسلام پر ہم عمل پیرا ہیں یہ وہی اسلام ناب محمدی ہے یا بنی امیہ یا بنی عباس کا پھیلایا ہوا اسلام ہے۔۔ یا امام خمینی کی تعبیر کے مطابق اسلام امریکائی ہے۔۔ ************************ اگر ہم قبول کرتے ہیں کہ کسی بھی دور میں دین اسلام، سیاست اور معاشرے کے کسی چھوٹے بڑے مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا تو ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کی تاریخ یہ رہی ہے پھر ہمارا آج کیسے مختلف ہوگیا ؟ آخر مسلمان پر کونسی آفت آئی جس کے نتیجے میں وہ سکیولرزم کو قبول بھی کرتا ہےبلکہ اسکا داعی بھی بنا ہوا ہے ؟ یا دوسرے الفاظ میں اسلام کے لبادے میں سیکولرزم کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ کس نے امت مسلمہ کے ٹریک کو اس مھارت سے بدل دیا ؟ اور مسلمانوں سے اتنی بڑی خیانت کی اور اسلام کی اس عظیم طاقت کو اسلام سے چھین لیا۔۔۔۔ اس طرز تفکر کا آغاز کب ہوا یہ ایک علمی موضوع ہے جس پر تاریخ دانوں کی مختلف آرائیں ہیں۔۔ ممکن ہے لفظی اعتبار سے سکیولرزم چند صدیوں سے زیادہ پرانہ لفظ نہ ہو۔۔ لیکن ایک بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ بنو امیہ کے دور حکومت میں یہ سوچ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی اور کہا جاسکتا ہے کہ معاویہ اسکے بانیوں میں سے ہے۔۔ عرض ہوا کہ رسول خدا ص اور امام علی ؑ کے دور خلافت میں دین و سیاست میں کسی قسم کی جدائی نہ تھی۔۔ امام علی ؑ کی شھادت کے بعد معاویہ نے مکاری اور طاقت کے بلبوطے پر خلافت حاصل کی۔۔۔ خلیفہ بننے کے بعد اپنے قدم مضبوط کرنے کے لئے اور بغاوت سے بچنے کے لئے غلط افکار لوگوں میں عام کروائے، جس کے لئےمعاویہ نے کرائے کے خطیبوں اور راویوں کا سہارا لیا جنہوں نے مسجدوں اور مقدس منبروں سے غلط نظریات اور عقیدوں کو لوگوں میں عام کیا۔۔۔ مثلاً یہ عقیدہ عام کروایا کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جو کچھ انجام پاتا ہے خدا کی مرضی سے ہے لہذا اگر معاویہ خلیفہ ہے تو یہ بھی خدا کی مرضی سے ہے۔۔ اور خلیفہ جیسا بھی ہو اللہ کی طرف سے نعمت ہے۔۔۔ اسی طرح امام علی ع پر سب و شتم کروایا، تاکہ شامیوں کو دھوکہ دے سکے کے خلافت کے حقدار امام علی ع نہیں ہو سکتے۔۔۔ معاویہ نے کس طرح اسلام اور سیاست میں جدائی ڈالی اس کا ایک نمونہ یہ ہے۔۔ جب اپنے قدم جما لئے اور امام حسن ع سے مکاری کے ساتھ صلح میں کامیاب ہو گیا تو کوفہ آیا اور منبر پر جاکر کہنے لگا۔۔۔۔ شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید ج ۱۶ ص ۱۵ البدایه و النهایه ابن کثیر ج ۸ ص ۱۳۱
  12. پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں اگر کوئی مرد تمھارے پاس آئے اور( تمھاری بیٹی کےلئے تم سے سوال کرے)، جس کا اخلاق اور دین قابل قبول ہو تو اسے اپنی بیٹی دے دو اور اگر ایسا نہ کیا تو زمین پر فتنہ و فساد برپا ہوگا۔۔ (نهج الفصاحه ، ح247) ٌ********************************************* اگر کوئی شخص جوانی میں شادی کرلے تو شیطان کہتا ہے افسوس ہو۔۔اس شخص نے اپنےدین کو میرے شر سے بچا لیا۔۔۔ (كنز العمال . ح44441) ******************************************* شادی کرو کیونکہ اس سے تمھاری روزی میں اضافہ ہوگا۔۔ (بحار الانوار . ج103 0ص217) ****************************************** اے جوانو جلد شادی کرو، اور زناء سے پرھیز کرو، کیونکہ زناء تمھارے دلوں سے ایمان کی جڑوں کو ہلا دے گا۔۔ (مكارم الاخلاق . ص96)
  13. بعض علماء کی علمی خدمت یہ ہوتی ہے کہ اپنی علمی مھارت سے اسلام کو سیکولرزم کے ساتھ سازگار بنایا جائے، یا دیگر طریقوں سے اسلام کو معاشرتی مسائل سے دور رکھا جائے ،قطع نظر اس سے کہ انکے احداف کیا ہیں ممکن ہے بعض قربتاً الا اللہ یہ کام انجام دیتے ہوں، لیکن اس کام کا کم سے کم نقصان یہ ہے کہ اسلام سے اس کی قدرت و توانائی کو چھین لیا جاتا ہے۔۔۔۔ ہم امام خمینی کے کلام میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ایسے علماء کی امام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔۔۔ ہر ایک کا احترام اور علمی مقام اپنی جگہ لیکن ہر کلمہ گو اور خصوصاً ایک شیعہ اثنا عشری کی امام خمینی سے آشنای بہت ضروری ہے۔۔۔ موضوع کے اندر رہتے ہوئے ادنیٰ سی کوشش کی جارہی ہے کہ امام خمینی (رح) کے کلام اور انکی افکار سے آشنای پیدا ہو۔۔۔۔ آیا خلیفہ کا تعین کرنا صرف اس لئے ہے کہ احکام بیان ہوں ؟ خود آنحضرت (ص) نے احکام کو بیان کیا تھا، احکام کو کتابوں میں لکھا جاچکا تھا لوگوں کے ہاتھ میں دیا جاچکا تھا تاکہ لوگ عمل کرلیں۔۔جبکہ یہ بلکل واضح ہے کہ خلیفہ کا تعین حکومت کے لئے تھا۔ ہمیں اس لئے خلیفہ کی ضرورت ہے تاکہ (اسلامی) قوانین کا اجراء ممکن ہو، قوانین کو نافذ کرنے کے لئے مجری(نافذ کرنے والے) کی ضرورت ہے، دنیا کے تمام ممالک میں اسی طرح ہوتا ہے، صرف قوانین کا ہاتھ میں ہونا فائدہ نہیں دیتا اور انسان کو سعادت تک نہیں پہنچا سکتا لہذا قوانین کے نفاذ کے لئے ایک قوت و طاقت کا ہونا ضروری ہے۔۔ اسلام کے پاس حکومت کا مکمل پروگرام موجود ہے۔۔ اسلام نے کم و بیش پانچ سو سالوں تک حکومت کی ہے، اگرچہ اُس وقت احکام اسلامی اس طرح اجراء نہ ہوسکے جیسے ہونے چاہیئے تھے، اس کے باوجود (اسلام نے) اپنی شان و شوکت سے بڑے بڑے ممالک اور علاقوں کی سرپرستی کی ہے یہ گمان نہیں کیا جائے کہ اسلام کے پاس دوسرے ادیان اور خصوصاً مسیحیت کی طرح سوائے چند اخلاقی باتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اور ملک کی سیاست اور ملک کا نظام چلانے کے لئے کوئی نقشہ نہیں ہے۔۔ شریعت مقدس اس طرح نہیں ہے۔۔ یوں نہیں کہا جاسکتا کہ فقط نماز، دعا اور زیارت ہی احکام کے زمرے میں آتے ہیں، نہیں بلکہ یہ اسلام کے مختلف ابواب میں سے صرف ایک باب ہے۔۔۔ جبکہ اسلام کے پاس سیاست ہے، ملک کو چلانے لئے ڈھانچہ ہے، اسلام بڑے بڑے ممالک کی سرپرستی کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ پیغمبر (ص) اور امام علی (ع) نے حکومت تشکیل دی ہے، انکے منتخب گورنر ہوا کرتے تھے، ان کے پاس افواج کا نظام ہوتا تھا۔۔ تمام فرامین امام خمینی سے متعلق کتاب صحیفہ نور سے اقتباس ہیں۔۔
  14. اگر سوال ہو کہ کون ہے جس نے آج کی صدی میں دنیا کے سامنے اسلام کی درست تصویر پیش کی، تو بلاتفریق امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا نام سر فہرستہے۔۔۔۔ ممکن ہے بعض خیال کریں کے یہ سب شخصیت پرستی کی بنیاد پر کہا جارہا ہے ۔ اور بعض سوال بھی کرتے ہیں کہ اتنے مجتھدین اور مراجع ہیں صرف امام خمینی ہی کیوں ؟ تو ایک طالب علمانہ جواب یہ ہے کہ ہر ایک کا مقام اپنی جگہ مگر جو کام اس بزرگوار نے کیا اس کی مثال صدیوں کی تاریخ میں نہیں ملتی، وہ اسلامی معارف جو اسلامی دنیا فراموش کر چکی تھی امام نے انھیں زندہ کیا نہ فقط کتابوں اور رسالوں میں زندہ کیا بلکہ معاشرے کے اندر زندہ کیا۔۔ اسلام کے لبادے سے غلط افکار اور غلط نظریات کے گرد و غبار کو صاف کیا اسلام کو مسجد اور مدرسوں کی چار دیواری سے باہر نکال کر معاشرے میں نافظ کیا ۔۔ علامہ اقبال گو کہ امام خمینی کے زمانے میں رحلت فرما چکے تھے لیکن ایسی انقلابی شخصیت کی بشارت علامہ اقبال نے بہت پہلے ہی دے دی تھی، جوانان عجم (ایرانیوں) کو مخاطب کرتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں: تمھارے زندان کی دیواروں میں موجود سوراخ سے دیکھ رہا ہوں کہ ایک مرد آرہا ہے جو غلاموں کی زنجیروں کو توڑ دے گا۔۔۔۔ (یہاں غلامی سے مراد ایرانیوں کی فکری غلامی ہے، مراد مغرب زدگی ہے)۔۔ علامہ اقبال ہوں یا امام خمینی دونوں کا نظریہ اس بارے میں ایک ہے کہ اسلام معاشرے کے تمام پہلووں میں راہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ اور ہم معاشرے کی تشکیل میں اسلام کے محتاج ہیں۔۔۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کے امام خمینی کی اس موضوع سے متعلق کیا رائے ہے۔(بشرط زندگی)۔۔
  15. Asalam o Alikum

    Replying to this topic

    Surely I am interested in helping You Brother... but unfortunately might not... because I am not so much perfect in English.... 

    I am more comfortable with Urdu btw...

    But looking forward how can I lend a helping hand to you...

    1. Show previous comments  3 more
    2. talib e ilm

      talib e ilm

      Salam

      If you want to convenience anyone you must need to read his psyche.

      This question links us to human psyche and their behavior. for e.g some people accept things by the way how we presents it, some are attracted by sources we presents, some are always behind the public figures to accept or deny things, sometime people hate to see references or sources as well.

      Not all the time copy and paste really works but ofcourse if we have to convince a follower of Hanafi School of thought then we must need some solid references to present it.

      Without analyzing his psyche, likes and dislike it is almost impossible for me to convince him.

      Khuda Hafiz

    3. A175

      A175

      I'll send it, but you're right.

      It's not so much to tell him I'm right and he's wrong, but to say that I'm not wrong if that makes any sense.

       

       Jazakallah khayr for your help, akhi

    4. talib e ilm

      talib e ilm

      It's not so much to tell him I'm right and he's wrong, but to say that I'm not wrong if that makes any sense.

      Salam

      Great !! this would be the right approach..

  16. ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ آپ جیسے فاضل علمائے کرام اس فورم کی زینت ہیں اور اپنے قیمتی لمحات میں سے یہاں بھی وقت دیتے ہیں۔۔ آپ سے استفادہ کا سلسلہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔۔۔ ہم تہہ دل سے آپ کے ممنون و مشکور ہیں،۔۔ آپ کے استاد گرامی یقیناً قابل احترام شخصیت کے مالک ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔۔اور ظاھراً اس مقالے سے متعلق اپنے خدشات آپ کو خصوصی پیغام کے ذریعے ارسال کررہا ہوں ۔۔ اور شرمندہ ہوں کے بندے نے فارغ التحصیل کے سامنے جسارت کی۔۔۔ آخر میں آپ سے دست بستہ گذارش ہے کہ معاشرتی مسائل پر خوبصورت مقالات کا یہ سلسلہ جاری رکھئے۔۔۔ شکریہ
  17. بنیادی اچھائی اور برائی یا غلط اور صحیح کا معیار ہماری عقل ہے اور شریعت ان مسائل میں عقل کی تائید کرتی ہے، اور صرف اُن مسائل میں راہنمائی کرتی ہے جن کا احاطہ ہماری عقل کے بس میں نہیں ہے۔۔ مثلاً جھوٹ برا ہے، چوری برا فعل ہے، ظلم بری چیز ہے، مھربانی اچھی صفت ہے ان باتوں کو سمجھنے کے لئے ہماری عقل شریعت کی محتاج نہیں ہے، فطرتاً انسان ان باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ ایک لادین آدمی بھی اس بات کو قبول کرتا ہے۔۔ حتی ظلم کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ظلم بری چیز ہے۔۔۔ لہذا ایسے کسی شخص پر اتمام حجت کرنے والی چیز اس کی عقل ہے۔۔ ***************** عقائد کی بحث میں جب ہم توحید کے دلائل دیتے ہیں تو ایک اہم برھان وجوب امکان ہے، یعنی کوئی چیز خود سے وجود میں نہیں آسکتی، پس اس دنیا کا خالق کون ہے؟ یہ سوال ہر عقل رکھنے والے انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔۔۔ چاہے کوئی انپڑھ ہو یا عالم فاضل ۔۔۔ ہر شخص فطرتاً جاننا چاہتا ہے کہ اسے کس توانا ذات نے پیدا کیا ؟ کیوں پیدا کیا ؟ اور آگے اس کا کیا ہوگا ؟ امام علی (ع) کا مشھور جملہ سب کے علم میں ہے، فرماتے ہیں: اسی طرح توحید کی بحث میں ایک برھان نظم ہے، یعنی اس جھان کے اندر موجود نظم کو دیکھ کر ناظم کے بارے میں آگاھی حاصل کی جائے۔۔ مثلاً کون سی طاقت ہے جس کی بدولت سورج اپنے وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے ؟ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ سورج اپنے مقررہ وقت سے کچھ لمحے پہلے یا بعد میں طلوع ہوا ہو۔۔ ایک صحراء نشین جو دنیا سے بے خبر ہو وہ بھی بلاخر ان چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اورتلاش شروع کر دیتا ہے۔۔ بشرط یہ کہ گناہ سے خود کو آلودہ نہ کیا ہوا ہو۔۔۔ خدا کے وجود کی نشانیاں خود انسان کے اپنے اندر پائی جاتی ہیں۔۔۔ جھان تک اجر کی بات ہے تو ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جتنی اس نے اپنے وسائل کے مطابق سعی و کوشش کی ہو ۔۔۔ اور یہ خدا کی عدالت کا تقاضہ ہے کہ کسی سے اس بارے میں سوال نہ کرے جو اس کے بس سے باہر ہو۔۔
  18. اسلام علیکم بعض چیزیں ہوتی ہیں جن پر شرم نہیں فخر کرنا چاہیئے۔۔۔ مثلاً فخر کرنا چاہیئے کہ ہمارے پاس بہترین اور باتقوی ترین مراجع و مجتھدین کرام موجود ہیں، اور اس سے بڑھ کر فخر کرنا چاہیئے کہ ہمارے پاس نظام ولایت فقیھ موجود ہے۔۔۔۔ فخر کرنا چاہیئے کہ اسلامی انقلاب جو ایران میں واقع ہوا یہ دنیا بھر کے تشیع کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔۔۔۔ ہم فخریہ طور پر دنیا کے سامنے اپنا نظام مرجعیت اور نظام ولایت فقیھ پیش کرسکتے ہیں۔۔۔۔ اور ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ اس اسلامی انقلاب کی قیادت باتقوی اور بابصیرت رھبر کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔ وہ رھبر جنھوں نے تیس سالوں میں ناقابل تحمل بحرانوں کا دلیری سے سامنہ کیا۔۔ اور آج بھی ساری استعماری طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔۔۔ *********************** ان جیسی مقدس اور باتقوی شخصیات کے لئے یہ سوال اٹھانا کہ جب امام زمان (عج) پردہ غیبت سے جلوہ افروز ہونگےتب آیا یہ شخصیات اپنے منصب کو امام کے حوالے کریں گی یا نہیں؟ یا یہ کہ عوام ان کے استعفیٰ کو قبول کرے گی یا نہیں ایسے شکوک و شبھات اٹھانے کا کم سے کم نقصان یہ ہے کہ ایک عام فھم آدمی مرجعیت اور رہبریت کو مشکوک نگاھوں سے دیکھنا شروع کردے گا۔۔۔۔ مرجعیت اور رہبریت جب قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور یہ خود امام کے حکم کی بجاآوری ہے پھر ہم کس چیز سے خوفزدہ ہوں؟ اب جب کے اعتراض اٹھایا گیا ہے تو بہتر ہے جواب خود آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے سنا جائے ۔۔۔۔ https://www.shiatv.net/video/b462f3ad750d65d42a3a کچھ سال قبل جب دشمن نے اس اسلامی انقلاب پر کمر توڑ حملہ کیا اور ایرانی صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا پروپیگنڈہ کیا اور رھبر کے خلاف تہمتیں لگائیں تاکہ عوام کو اس اسلامی نظام حکومت سے بدظن کیا جائے تب رہبر میدان میں آئے اور اسی خطبے کی ایک مختصر کلپ یہ ہے۔۔ اس حساس موقع پر امام زمانہ کو مخاطب کیا اور کہا۔۔۔۔ اردو ترجمہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔۔۔۔
  19. اس موضوع کو انتخاب کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جتنا نقصان اس سیکولر طبقے نے اسلامی معاشروں کو پہنچایا ہے اتنا کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا، اگر سیکولر اور تکفیری طرز تفکر کا موازنہ کریں تو بلامبالغہ سیکولرزم آج بھی زیادہ خطرناک ہے۔۔ بسا اوقات تکفیریوں کو چلانے والا اور انکی مکمل پشت پناھی کرنے والا یہی سیکولر طبقہ ہوتا ہے۔۔۔۔ بظاھر انکے نعرے پر امن اور دوسروں کو جذب کرنے والے ہوتے ہیں جیسے روشن فکری کا مشھور نعرہ ۔۔۔ لیکن درحقیقت اور پس پردہ یہ وہی طرز تفکر ہے جس نے اسلام کو معاشرے سے باہر نکال کر مسجد اور خانقاہوں کی چار دیواری میں محدود کردیا۔۔ بعض کے نزدیک بے دین افراد یا ایسے کلمہ پڑھنے والے لوگ سیکولر ہوتے ہیں جو اسلامی احکام کی پابندی نہیں کرتے، مثلاً جس آدمی نے بلکل داڑھی نہیں رکھی یا جس خاتون نے حجاب نہیں کیا وہ سیکولر ہے، جبکہ یہ سیکولر کی غلط تعریف ہے۔۔ ممکن ہے ایک کلمہ گو جو نماز روزے کا پابند ہو اور اپنی شرعی ذمہ داریاں بھی پوری کرتا ہو اور تمام برے کاموں سے بھی خود کو بچاتا ہو اس کے باوجود ذہنی اور فکری طور پر مکمل سیکولر ہو۔۔ کیونکہ سیکولرزم کی مختصر تعریف یہ ہے کہ دین کا دائرہ فقط عبادت اور بعض رسومات تک محدود کردیا جائے اور دین کو معاشرے کے تعلیمی، ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر اہم اور حساس پھلووں سے بے دخل کردیا جائے۔۔۔۔ اگر سیکولرزم کی اس تعریف کو مد نظر رکھ کر معاشرے کی طرف نگاہ کی جائے تو بڑے بڑے دیندار بھی سیکولر دیکھائی دیتے ہیں جنھوں نے بظاھر دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے مگر سوچنے کا انداز وہی سیکولر ہے۔۔۔ آج ہم اسلامی جمھوریہ پاکستان کی مثال لے لیں، نام اسلام کا ہے، لیبل بہت خوبصورت ہے لیکن معاشرے کے کسی شعبے میں اسلام کا ذرہ برابر بھی عمل دخل نہیں ہے۔۔ جب بھی معاشرتی مسائل یا سیاست پر بات کی جائے تو ایک خوف یہ ہوتا ہے کہ سننے والا فوراً ایک منفی تاثر اپنے ذہن میں بٹھا لے گا کیونکہ ہم میں سے اکثر کے ذہنوں میں سیاست کی منفی تصویر موجود ہے یعنی جب سیاست کا نام آئے تو فوراً ذہن میں دھوکہ، فریب، جھوٹ، بد عنوانی اور انہی جیسی اصطلاحات آجاتی ہیں۔۔۔ اور جب کوئی دین سے وابسطہ فرد جیسے عالم اس بارے میں کوئی بات کردے تو پھر معاشرہ اس کے تقدس کا قائل نہیں رہتا۔۔۔ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ آج اس دنیا کی سیاست اور خصوصاً ہمارے ملک کی سیاست انہی اصطلاحات کی رہین منت ہے۔۔۔ ہمارے استاد ایک خوبصورت مثال دیتے ہیں کے اگر کسی آدمی نے زندگی بھر کیڑہ لگا ہوا سیب دیکھا ہو اور اسی کو کھاتا رہا ہو، پھر اچانک اس کے سامنے ایک خالص اور بغیر کیڑے والا سیب رکھا جائے تو وہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا اور کہے گا کہ یہ سیب ابھی ٹھیک سے پکا ہی نہیں۔۔ بلکل یہی مشکل لفظ سیاست کی ہمارے ساتھ ہے۔۔ یہ مثبت سیاست ہی ہے جومعاشرے کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے جس کے بناء معاشرہ ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔۔۔ سیاست کی بہت سادہ تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ معاشرہ چلانے کے لئے تدبیر کرنا۔۔۔ اگر ہم خود اپنی اسلامی تاریخ کا جائـزہ لیں تو باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ آیا اسلام معاشرے کے اندر سیکولرزم یا کوئی اور ازم کو برداشت کرتا ہے یا نہیں؟ اور یہ کے اسلام سیاست کو کس طرح دیکھتا ہے ؟سب کے علم میں ہے صرف یاد دھانی کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔۔ ****************** تمام انبیاء (ع) کی خلقت کا مقصد یہی تھا کہ لوگوں کو ظالموں سے نجات دلوا کر یکتا پرستی کی طرف بلایا جائے، حضرت موسیٰ (ع) نے فرعون کو اس کے دربار میں للکار کر یہی کہا تھا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی یہ حکومت میرے حوالے کردے۔۔ پھر اسلام کی سرحدوں میں اضافہ ہوا، رسول خدا (ص) نے جنگیں کیں، جنگوں میں تدبیر سے کام لیا، خود شریک ہوتے، تلوار چلاتے، ماہرین جنگ سے مشورے لیتے مثلاً جنگ خندق میں حضرت سلمان فارسی کے مشورے پر خندق کھدوائی، بصیرت کے ساتھ کبھی صلاح کی تو کبھی جنگ۔۔ یہ مسجد تھی جھاں سے رسول خدا (ص) لوگوں کو جنگ کے لئے بلاتے، مسجد سے مال تقسیم فرماتے، مسجد میں ہی معاشرے کے تمام مسائل پر بات ہوتی، مسجد میں ہی پریس کانفرنس ہوتی، رسول خدا (ص) کا گورنر ہاوس دراصل مسجد تھی۔۔۔ تو یہ سب چیزیں سیاست کے زمرے میں آتی ہیں۔۔ پھر رسول خدا (ص) کا امام علی (ع) کو اپنا جانشین بنانا، اس کے اندر سیاسی پہلو بھی موجود ہے یعنی وہ تمام معاشرتی معاملات، اب آپ (ص) کے بعد امام علی (ع) کے حوالے ہوئے، وہ لوگ جو پیغمبر کی وفات کا انتظار کر رہے تھے انھیں پیغمبر نے خلافت کے لئے مایوس کردیا۔۔۔ پھر امام علی (ع) نے لوگوں کی فلاح و بھبود کے لئے کنویں کھودے۔۔ نہج البلاغہ کے حصہ مکتوب میں جو سب سے بڑا خط امام نے لکھا وہ حضرت مالک اشتر کو مصر کا حاکم مقرر کرتے ہوئےلکھا، انھیں سیاسی نصیحتیں کیں کہ کس طرح ٹیکس وصول کرنا مثلاً تمھارے سپاہیوں کو چاہیئے کہ جب وصول کرنے جائیں تو سلام کریں محبت سے پیش آئیں، اسی طرح نصیحت کی کہ عوام سے کس طرح پیش آنا، فوجی کمانڈر اور چیف سے تمھارا رویہ کیسا ہو، تاجروں سے برتائو کیسا ہو، تمھارے مشیر میں کون سی صفات ہوں اور کون سی نہ ہوں، کس طرح حد جاری کرنا، یہ سب سیاسی معملات ہیں۔۔۔ پھر امام حسن (ع) نے معاویہ کے خلاف جنگ کے لئے ایک بڑا لشکر ترتیب دیا، پھر حالات کی وجہ سے حکمت کے تحت صلح بھی کی یہ ایک سیاسی عمل تھا۔۔ امام حسین (ع) کا حاکم وقت یزید کے خلاف قیام اپنے اندر بہت سے سیاسی پہلو رکھتا ہے۔۔ جو پہلے بیان ہو چکے ہیں۔۔ تمام آئمہ اطھار (ع) کی یہی کوشش رہی ہے حتی اس زمانے کی آخری حجت سے ہماری امیدیں بھی یہی ہیں کہ وہ دنیا میں ظالمین کو ان کے ظلم سمیت نابود کر کے پرچم عدالت قائم فرمائیں گے بلاخر یہ بھی ایک سیاسی عمل ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔۔ خلاصہ کلام یہ کہ ایک ہی دین میں دو متضاد راستے تصور نہیں کیے جاسکتے، یعنی اسلام اور سیکولرزم ایک ساتھ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔۔ اسلام معاشرے کے کسی پہلوسے کبھی بھی لاتعلق نہیں ہوسکتا نہ ماضی میں ایسا تھا، نہ آج یہ ممکن ہے اور تا قیامت یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔
  20. بلکل بجا اور درست سوال اٹھایا ہے۔۔۔ بہت خوب برادر خدا اس خاندان کو نابود کرے جس نے پوری دنیا میں فتنوں کے بیچ بوئے یہ خادم نہیں خائن حرمین ہیں۔۔۔
  21. جوش و جزبات میں ہی صحیح لیکن آج کا زمانہ شیعہ اثنا عشری کو اسی عنوان سے پہچانتا ہے، اور ہم اپنا اظہار وجود اسی شعار سے کرتے ہیں۔ لبیک یا حسین یہ شعار خود اپنے اندر بہت بڑی حقیقت ہے یہ شعار دوسرے شعاروں کی طرح نہیں ہے کے جسے جوش و جزبات میں آکر بلند کیا جائے اور کچھ دیر بعد معاملہ ختم ہوجائے۔ بعض دفعہ انسان جوش و ولولے میں ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ جس کی حقیقت اور کیفیت کی طرف زیادہ توجہ نہیں ہوتی، کچھ یہی معاملہ اس شعار کے ساتھ ہے۔۔ درحقیقت یہ ایسا شعار ہے جو کسی تحریک کو جاری رکھنے کے لئے بلند ہوتا ہے اور خاص طور پر اس شعار کا بھرم باقی رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر ایک درد دل رکھنے والا انسان چند لحظوں کے لئے اپنے دل و دماغ کو اس مادّہ پرست دنیا کے لئے بند کرلے اور فقط اس شعار لبیک یا حسین کے بارے میں سوچے ، کے آخر کس ھستی سے مخاطب ہے اور انھیں کیا پیغام دے رہا ہے؟ تو میرا ایمان ہے احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور اپنی شخصیت میں انقلاب برپا کرنے کےلئے یہی عمل کافی ہے۔۔ اگر متوجہ ہو جائیں کہ لبیک یا حسین یعنی کیا، تو شاید ہم مولا حسین ع کے روبرو شرمندہ ہوجائیں کہ مولا کس منہ سے آپ کو لبیک کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ آج ہمیں اور ہمارے معاشرے کو اس شعار کو عملی کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، لہذا ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے کے اس شعار میں جوش ، جزبہ اور ولوے کے ساتھ ساتھ حقیقت کا رنگ بھی نظر آئے۔۔ ******************* لبیک یا حسین یعنی ہم یہ عزاداری ہمیشہ باقی رکھیں گے لبیک یا حسین یعنی مائیں اپنے بچوں کو حسین حسین سکھاتی رہیں گی لبیک یا حسین یعنی یہ غم ہماری نسلوں میں منتقل ہوتا رہے گا دراصل لبیک یا حسین ایک جواب ہے صدا ھل من ناصر کا لبیک یا حسین یعنی دین کی نصرت کے لئے اے امام ہم بھی حاضر ہیں لبیک یا حسین یعنی ہم اسلام کی سرحدوں کے محافظ ہیں لبیک یا حسین یعنی امر بالمعروف لبیک یا حسین یعنی نہی عن المنکر لبیک یا حسین یعنی تلواروں کے سائے میں نماز لبیک یا حسین یعنی ہم قلیل ہونے کے باوجود اسلام کی نصرت کریں گے۔۔۔۔۔۔۔ لبیک یا حسین یعنی اگر ہم تنھا بھی رہ جائیں آپ کے مقصد کو زندہ رکھیں گے لبیک یا حسین یعنی گولیوں اور زندانوں سے خوفزدہ نہ ہونا لبیک یا حسین یعنی حق کے مقابلے میں مصلحتوں کا شکار نہ ہونا لبیک یا حسین یعنی ذلت پر شھادت کو ترجیح دینا لبیک یا حسین یعنی ذلت ہم سے دور ہے ************** لبیک یا حسین یعنی ظلم و ظالمین کے خلاف مبارزہ لبیک یا حسین یعنی یزید وقت کے چھروں سے نقاب اتارنا لبیک یا حسین یعنی ہم یزیدی اوصاف والوں کو اپنا حاکم نہیں مان سکتے لبیک یا حسین یعنی یزیدیت کی حکومت کو نابود کرنا لبیک یا حسین یعنی ماتمیوں کے یہ ہاتھ طماچہ بن کر ہر دور میں یزیدی چھروں پر برسیں گے ************** لبیک یا حسین یعنی خود پیاسہ رہ کر دشمن کو پانی پلانا لبیک یا حسین یعنی پیام امن و امان لبیک یا حسین یعنی حر کا مقدر لبیک یا حسین یعنی مقصد حسین ابھی فراموش نہیں ہوا لبیک یا حسین یعنی ہم مسلمانوں کے مسائل سے لاتعلق نہیں ہیں لبیک یا حسین یعنی بیداری ************** لبیک یا حسین یعنی اس راہ میں ہمارا شیر خار بھی حاضر ہے لبیک یا حسین یعنی اس راہ میں جوانوں کا لھو حاضر ہے لبیک یا حسین یعنی اے تلواروں آئو اور راہ حسین پر ہمارے ٹکڑے کر دو لبیک یا حسین یعنی ہمارے ماں باپ آپ کے پاک مقصد پر قربان ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔ ************** لبیک یا حسین یعنی جس غم نے اے مولا آپ سے اپنا وطن چھڑایا وہ غم آج ہمارے سینوں میں بھی موجود ہے مختصر یہ کہ لبیک یا حسین یعنی اسلام کی عزت و آبرو آج ہمارے دوش پر ہے
  22. بعض دفعہ علامہ اقبال پر رشک آتا ہے، کہ وہ بات جو طویل مقالوں میں سمجھانا دشوار ہو اقبال دو سادہ مصرعوں میں سمجھا دیتے ہیں۔۔۔ آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
  23. بسم تعالی ایک ناانصافی جو کبھی کبھار ہم نادانی میں یا بعض جان بوجھ کر انجام دیتے ہیں وہ یہ کہ انبیاء اور آئمہ اطہار ع کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے لئے اسوہ اور رول ماڈل نہیں بننے دیتے، اور کچھ دیندار تو دوسروں کو بھی اس کام سے روکتے ہیں۔۔ ممکن ہے کوئی سوچے ایک مسلمان یا اہلیبیت ع کا ماننے والا ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟ مگر متسفانہ بعض دفعہ ایک عقیدت مند نادانی میں حقیقت کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ ************************* مثال پیش خدمت ہے تاکہ بات واضح ہو جائے۔۔۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انبیاء اور آئمہ اطھار ع نے ہمیشہ ظلم و جبر کے خلاف آواز حق بلند کی ہے، رسول خدا ص اور امام علی ع نے اپنے ہاتھوں سے بت توڑے ہیں، کیا کسی نے سنا کہ امام علی ع کی نگاہوں کے سامنے کوئی چھوٹا سا ظلم ہو رہا ہو اور امام خاموشی سے گذر گئے ہوں ؟ پھر دیکھیں امام حسین ع کا ظالم یزید کے مقابلے میں قیام کرنا اور اسی طرح بے شمار واقعات ہیں جن کو بیان کرنا یہاں ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ بہت اچھا لگتا ہےجب ہم کہتے ہیں رسول خدا ص نے بت شکنی کی۔۔ امام حسین ع نے یزید کے خلاف قیام کیا اور اسے شکست دی، لیکن جب سوال ہم سے ہو کہ اے پیروکار اھلیبیت! کیوں یہ کام تم نے نہیں کیا ؟ کیا رسول خدا ص کی طرح کبھی بت شکنی کی ؟ مولا حسین ع کی طرح کبھی کسی یزید کو سرنگون کیا ؟ ایک جواب جو اکثر سننے کو ملتا ہے کہ این کجا و آن کجا۔۔۔ ہم کہاں اور وہ کہاں، وہ کہاں کہ جو پیکر نور ہیں اور ہم کہاں جو سر تا پا گنھگار ہیں۔۔ ہم ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔۔۔ جو ان کے جیسا بننے کی کوشش بھی کرے وہ گمراہ ہے۔۔ یہ بات بلکل برحق ہے مگر اس سے مراد بلکل الٹ لی جاتی ہے۔۔ پس اگر اس راہ پر چلنا گمراہی ہے تو قرآن میں کیوں ارشاد ہوا کہ پیغمبر ص کی زندگی میں مومنین کے لئے نمونے ہیں؟ اور اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو یہ ھستیاں ہمارے لئے قابل پیروی ہیں اور نہ ہی ان کی راہ و روش قابل عمل ہے۔۔ یہ بلکل نادرست تفکر ہے۔۔ درست ہے کہ ہم ان کی خاک پا کے برابر بھی نہیں وہ اعلیٰ مقام انھی کے شایان شان ہے کوئی بشر اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا مگر اس سے مراد یہ نہیں لی جا سکتی کہ انکی راہ پر چلنا جرم ہے ۔۔۔ شیعہ کا معنی ہی پیچھے چلنے والا ہے۔۔۔۔ شعیان علی یعنی امام علی کے پیچھے چلنے والے۔۔۔ بے شک حسین ع نجات کی کشتی ہیں۔۔ مگر کب ؟ جب ہم ان کی راہ پر چلیں۔۔ اور جو مولا حسین ع کی راہ پر چلتا ہے پھر مولا اسے عطا بھی کرتے ہیں۔۔۔ اگر اپنے زمانے میں دیکھنا چاہیں تو خمینی ؒ بت شکن کو دیکھیں جنھوں نے امام حسین ع کی راہ پر قدم رکھا تو آج اسلام کو اور مذھب تشیع کو پوری دنیا میں عزت اور سربلندی نصیب ہوئی ہے۔۔ امام خمینی خود فرماتے تھے کہ ہمیں یہ کامیابی سید الشھداء کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے۔۔۔۔
  24. امام حسین ؑ نے واقعہ کربلا سے کچھ عرصہ قبل سرزمین منٰی میں علماء دین کو جعع کیا اور ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں ان علماء کی سستی اور امربلمعروف و نھی عن المنکر کو انجام نہ دینے کے حوالے سے ان کی شدید مذمت کی۔۔ جس کی تفصیل دوسرے تھریڈ پر موجو ہے۔۔ http://www.shiachat.com/forum/topic/234998011-lets-ask-imam-hussain-as-about-his-movement/ اشارتاً اس خطبے سے کچھ مخصوص فرامین یہاں بھی نقل کئے جارہے ہیں۔۔ ثمَّ اَنْتمْ أیَّتھا الْعصٰابَة عصٰابَةٌ بالْعلْم مَشْھوْرَةٌ وَ بالْخَیْر مَذْکوْرَةٌ وَ بالنَّصیْحَة مَعْروْفَةٌ وَ باللَّہ فی اَنْفس النّٰاس مَھٰابَةٌ یَھٰابکم الشَّریف وَ یکْرمکم الضَّعیف وَ یؤْثرکمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکمْ عَلَیْہ وَ لاٰ یَدَ لَکمْ عنْدَہ تشَفّعوْنَ فی الْحَوٰائج اذٰا امْتنعَتْ منْ طلاّٰبھٰا وَ تَمْشوْنَ فی الطَّریْق بھَیْبَة الْملوْک وَ کَرٰامَة اْلاَ کٰابر ، اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اَلَیْسَ کلَّ ذٰلکَ انَّمٰا نلْتموہ بمٰا یرْجٰی عنْدَکمْ منَ الْقیٰام بحَقّ اللّٰہ وَ انْ کنْتمْ عَنْ اَکْثَر حَقّہ تقَصّروْنَ فَاسْتَخْفَفْتمْ بحَقّ اْلاَئمَّة فَاَمّٰا حَقَّ الضّعَفٰاء فَضَیَّعْتمْ وَ اَمّٰا حَقَّکمْ بزَعْمکمْ فَطَلَبْتمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتموْہ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتمْ بھٰا للَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشیْرَةً عٰادَیْتموْھٰا فی ذٰات اللّٰہ یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، معاشرے کے کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔ اَنْتمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہ وَ مجٰاوَرَةَ رسلہ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابہ لَقَدْ خَشیْت عَلَیْکمْ اَیّھا الْمتَمَنّوْنَ عَلیَ اللّٰہ اَنْ تَحلَّ بکمْ نقْمَةٌ منْ نَقمٰاتہ لاَنَّکمْ بَلَغْتمْ منْ کَرٰامَة اللّٰہ مَنْزلَةً فضّلْتمْ بھٰا وَ مَنْ یعْرَف باللّٰہ لاٰ تکْرموْنَ وَ اَنْتمْ باللّٰہ فی عبٰادہ تکْرَموْن اسکے باوجود آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وَ قَد تَرَوْنَ عھودَ اللّٰہ مَنْقوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعوْنَ وَ اَنْتمْ لبَعْض ذمَم آبٰائکمْ تَفْزَعوْنَ وَ ذمَة رَسوْل اللّٰہ مَخْفوْرَةٌ مَحْقوْرَةٌ وَ الْعمْی وَ الْبکْم وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائن مھْمَلَةٌ لاٰ ترْحَموْنَ وَ لاٰ فی مَنْزلَتکمْ تَعْمَلوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَملَ فیھٰا تعیْنوْنَ وَ بالادّھٰان وَ الْمصٰانَعَة عنْدَ الظَّلَمَة تٰامَنوْنَ کلّ ذٰلکَ ممّٰا اَمَرَکم اللّٰہ بہ منَ النَّھْی وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتمْ عَنْہ غٰافلوْن آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان۱ نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو بھی منع کرنے کے لئے کہا ہے ۔اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔
×
×
  • Create New...