Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

hesham102001

Advanced Member
  • Posts

    301
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by hesham102001

  1. یہ بات تمام مسلمان علماء جانتے ہیں کہ شیعہ حضرات مولا علیؑ ابن ابی طالبؑ کو رسولؐ اللہ کا خلیفئہ بلا فصل مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سقیفہ کی حکومت کے منکر ہیں اور شیخین کو غاصبان خلافت تصور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اہل تسنن علماء شیخین کی خلافت کو ‘خلافت راشدہ’ تصور کرتے ہیں۔ پھر ان دونوں کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے جعلی احادیث کا سہارا لیتے ہیں جن میں شیخین کی تعریفوں کے پل باندھے گۓ ہیں ، چنانچہ جب کسی شیعہ کو سر عام گھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور الگ الگ زاویوں سے شیخین کی بابت ان سے سوالات پوچھے جاتے ہیں تو بات بڑھ جاتی ہے، ہوتا یہ ہے کہ دوران گفتگو اگر کوئ شیعہ اپنے عقیدے کی بنیاد پر شیخین کی فضیلت کا منکر نظر آۓ تو اس پر ‘رافضی’ ہونے کا الزام عاید کر دیا جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ نویں امام – جواد الائمہ امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔ مامون رشید نے امام جوادؑ کے علم و فراست سے مرعوب ہوکر اپنی بیٹی ام الفضل سے ان کی شادی کردی۔ یہ بات ما مون کے خاندان، بنی عباس کے بہت سے لوگوں کو ناگوار گزری۔ ان لوگوں نے امام جوادؑ (جو اس وقت ظاہرًا دس یا بارہ سال کے تھے) کو علمی مناظرے میں شکست دینے کے لیے بصرہ کے ایک بزرگ عالم اور مفتیء اعظم یحییٰ بن اکثم کو مامون کے دربار میں طلب کیا۔ ایک روز خلیفہ کی موجودگی میں جب امام جوادؑ، یحییٰ بن اکثم اور دوسرے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، یحییٰ نے امام علیہ السلام سے کہا : روایت ہوئی ہے کہ جبرئیلؑ ،پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پہنچے اور کہا : یا محمدؐ ! خداوند عالم نے آپ پر سلام کہا ہے اور کہا ہے : میں ابوبکر سے راضی ہوں، https://saqlain.org/ اس سے پوچھو کہ کیا وہ بھی مجھ سے راضی ہے؟ اس حدیث کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟ امامؑ نے فرمایا : جس راوی نے یہ خبر نقل کی ہے اس کو دوسری وہ خبر بھی بیان کرنی چاہئے تھی جو پیغمبرؐ اکرم نے حجة الوداع میں بیان کی تھی ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو بھی میرے اوپر جھوٹی تہمت لگائے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، لہذا اگر میری کوئی حدیث تمھارے سامنے پیش کی جائے تو اس کو کتاب خدا اور میری سنّت سے ملا کر دیکھو، جو بھی کتاب خدا اور میری سنّت کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو کچھ کتاب خدا اور میری سنت کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دو ۔ امام محمد تقی (علیہ السلام) نے مزید فرمایا : (ابوبکر کے متعلق) یہ روایت خدا کی کتاب سے موافقت نہیں رکھتی کیونکہ خداوند عالم نے فرمایا ہے : ہم نے انسان کو خلق کیا ہے اور ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے اور ہم اپنے بندے سے اس کی شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہیں (سورهّ ق: 16)۔کیا ابوبکر کی خوشنودی یا ناراضگی خدا کے لیے پوشیدہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھتا؟ یہ بات عقلی طور پر محال ہے۔ یحییٰ نے کہا : اس طرح بھی روایت ہوئی ہے : ابوبکر اور عمر زمین پر اس طرح ہیں جیسے آسمان پر جبرئیلؑ و میکائیلؑ ہیں ۔ آپؑ نے فرمایا : اس حدیث کے متعلق بھی غور و فکر سے کام لو۔ جبرئیلؑ و میکائیلؑ خداوندعالم کی بارگاہ میں مقرب دو فرشتے ہیں اور ان دونوں سے کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ہے اور یہ دونوں ایک لمحہ کے لئے بھی خدا کی اطاعت کے دائرے سے باہر نہیں ہوئے ہیں جبکہ ابوبکر اور عمر ایک عرصے تک مشرک تھے اگر چہ ظہور اسلام کے بعد مسلمان کہلائے مگر ان کی بیشتر عمر حالت شرک اور بت پرستی میں گزری ہے۔ اس بناء پر محال ہے کہ خداوند عالم ان دونوں کو جبرئیلؑ اور میکائیلؑ سے تشبیہ دے ۔ یحییٰ نے کہا : اسی طرح ایک اور روایت ہوئی ہے کہ ابوبکر اور عمر اہل بہشت میں بوڑھے لوگوں کے سردار ہیں۔ اس حدیث کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا : اس روایت کا صحیح ہونا بھی محال ہے کیونکہ تمام اہل بہشت جوان ہوں گے اوران کے درمیان کوئی ایک بھی بوڑھا نہیں ہوگا(تاکہ ابوبکر اور عمر ان کے سردار بن سکیں) یہ روایت بنی امیہ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اس حدیث کے مقابلے میں کھڑی کی ہے جو امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام ) کے متعلق بیان ہوئی ہے ،نقل ہوا ہے کہ حسنؑ و حسینؑ ،جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ یحییٰ نے کہا : یہ بھی ایک روایت نقل ہوتی ہے کہ “عمر بن خطاب اہل بہشت کے چراغ ہیں۔” آپؑ نے فرمایا : یہ بھی محال ہے کیونکہ بہشت میں خدا کے مقرب فرشتے، انبیاء، جناب آدم، آنحضرتؐ اور تمام فرشتے موجود ہیں پھر کس طرح ممکن ہے کہ بہشت ان کے نور سے روشن نہ ہو لیکن عمر کے نور سے روشن ہوجائے؟ یحییٰ نے کہا : روایت ہوئی ہے کہ “سکینہ” عمر کی زبان سے بولی ہوئ باتیں ہیں۔ (یعنی عمر جو کچھ کہتے ہیں وہ ملائکہ اور فرشتوں کی طرف سے ہے) ۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا : ۔۔۔ ابوبکر جو کہ عمر سے افضل تھے، منبر کے اوپر کہتے تھے : میرے پاس ایک شیطان ہے جو مجھے منحرف کردیتا ہے، لہذا تم جب بھی مجھے منحرف ہوتے ہوئے دیکھو تو میرا ہاتھ پکڑ لینا ۔ یحییٰ نے کہا :یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں نبوت کے لئے مبعوث نہ ہوتا تو یقیناً عمر مبعوث ہوتے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:یقیناً کتاب خدا (قرآن کریم) اس حدیث سے زیادہ سچی اور صحیح ہے، خداوند عالم نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : “”وَ اِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِیِّینَ مِیْثٙاقَہُمْ وَ مِنْکَ وَ مِنْ نُوحٍ وَ اِبْراہِیمَ وَ مُوسٙیٰ وَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ أَخَذْنا مِنْہُمْ مِیْثاقاً غَلیظاً”” ( سورہ احزاب، آیت ٧) ۔ اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیاء( علیہم السّلام) سے اور بالخصوص آپؐ سے اور نوح (علیہ السلام)،ابراہیم (علیہ السّلام)، موسیٰ (علیہ السّلام) اور عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء سے عہد و پیمان لیا تھا پھر کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کو بدل دیتا؟ انبیاء میں سے کسی ایک نبی نے ذرا سی دیر کے لئے بھی شرک اختیار نہیں کیا ، لہذا کس طرح ممکن ہے کہ خداوند عالم ایسے شخص کو نبوت کے لئے مبعوث کرے جس کی عمر کا اکثر و بیشتر حصہ خدا کے شرک میں گزرا ہو؟ نیز پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : جس وقت آدمؑ آب و گل کے درمیان تھے (یعنی ابھی خلق نہیں ہوئے تھے) میں اس وقت بھی نبی تھا ۔ یحییٰ نے پھر کہا : روایت ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : کبھی بھی مجھ سے وحی قطع نہیں ہوئی اور اگر قطع ہوئی تو مجھے یہ خیال آیا کہ وحی خطاب (عمر کے باپ) کے گھر میں منتقل ہوگئی ہے ۔ یعنی نبوت میرے گھر سے ان کے گھر میں منتقل ہوگئی ہے ۔ آپؑ نے فرمایا : یہ بھی محال ہے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ پیغمبرؐ اکرم اپنی نبوت میں شک کریں ، خداوند عالم فرماتا ہے : خداوند فرشتوں اور اسی طرح انسانوں کے درمیان سے انبیاء کا انتخاب کرتا ہے ( سوره حج: 75) ۔ اس بناء پر خدا کے انتخاب کے بعد پیغمبر اکرم (ص) کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا) ۔ یحییٰ نے کہا : روایت میں ذکر ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا : اگر عذاب نازل ہوتا تو عمر کے علاوہ کسی اور کو نجات نہ ملتی ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا :یہ بھی محال ہے کیونکہ خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (ص) سے فرمایا ہے : جب تک تم ان کے درمیان ہو اس وقت تک خداوند عالم ان پر عذاب نہیں کرے گا اور جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے اس وقت تک ان پر عذاب نہیں ہوگا (سوره انفال: 33) ۔ اس وجہ سے جب تک پیغمبر اکرم (ص) ان کے درمیان ہیں اور جب تک لوگ استغفار کرتے رہیں گے، خدا ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا. (علامہ طبرسى، احتجاج، ج 2، ص 247 – 248 – ، علامہ مجلسى، بحار الأنوار، ج 50، ص 80 – 83) دیکھا آپ نے کتنی خوب صورتی سے قرآنی اور عقلی دلائل کے ذریعہ امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے مقابل ایک بزرگ مفتی کی تمام روایات کو کنارے لگا دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بنی امیہ کے دور میں جعلی احادیث کا ایک کاروبار گرم رہا اور اسی زمانے میں اہلبیتؑ کی عظمت کو کم کرنے کے لیے شیخین کی فضیلت سے متعلق جھوٹی باتیں امت میں عام کی گئیں۔ اس لیے ان تمام احادیث کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔ (اس سلسلہ میں علامہ میر حامد حسین ہندی کی معرکۃ الاراکتاب شارق النصوص فی تکذیب فضایل۔۔ قابل مطالعہ ہے۔)
  2. Reading Time: 2 minutes Some Saudi Salafi scholars invited Allamah Amini ((رضي الله عنه).) – the author of the Al-Ghadeer, arguably the most decisive book on the event of Ghadeer – for dinner. However Allamah Amini ((رضي الله عنه).) turned down their invitation. They insisted that Allmah Amini ((رضي الله عنه).) accompany them. On insistence, Allmah Amini ((رضي الله عنه).) acceded to their request. However, he put a condition that there would be no discussion or debate over dinner. They agreed. After dinner, a Salafi scholar in the assembly (there were around 70-80 of them) attempted to initiate a discussion. However, Allamah Amini ((رضي الله عنه).) refused to be drawn into a debate. Some of them suggested that in order to increase divine blessings, every scholar in the gathering should narrate a tradition from the Holy Prophet ((صلى الله عليه وآله وسلم).a.) so that the gathering is illuminated through it. Those present there were are renowned traditionalists (Haafiz-e-hadees), a title conferred on those who have memorized at least a hundred thousand traditions. They started narrating traditions one by one until it was Allamah Amini’s ((رضي الله عنه).) turn. CLICK HERE FOR MORE STORIES Allamah Amini ((رضي الله عنه).) said – My condition for narrating the tradition is that when I have narrated the same, each one should confirm whether he considers this tradition authentic or not. All those present agreed. Thus Allamah Amini ((رضي الله عنه).) narrated the famous tradition of the Holy Prophet of Islam ((صلى الله عليه وآله وسلم).a.): قال رسول الله (صلوات الله علیه و آله ) : من مات و لم یعرف امام زمانه مات میته جاهلیه ‘One who dies without recognising the Imam of his time dies the death of ignorance.’ Thereafter he asked each and every person to testify the authenticity of the tradition. Everyone testified that the tradition was indeed authentic. Then Allamah Amini ((رضي الله عنه).) said: Now that you all accept this tradition, I have a question for each one of you: Did Fatima Zahra (s.a.) recognise the Imam of her time or not? And if she did, who was the Imam of Fatima Zahra (s.a.)? All the scholars present fell silent for a long time, with their heads bowed down. And since they didn’t have any reply, they began leaving the assembly one by one. Clearly they were in a fix. If they claim – she didn’t recognize (her Imam), then they are saying Fatima Zahra (s.a.) left the world in a state of disbelief (Allah forbid), and it is impossible that the Chief of all Women of the Worlds dies a disbeliever (Allah forbid)! If they say she did recognize (her Imam), then they have to find another Imam for her in place of Abu Bakr, since Bukhari (the most prominent scholar of Ahle Tasannun) says: ماتت و هي ساخته عليهما Fatima (s.a.) left the world in a state of intense anger at Abu Bakr (and Umar – as the narration says علیهما i.e. both of them) Since the Ahle Tasannun scholars were cornered and had no option but to testify to the legitimacy and leadership Ali b. Abi Talib ((عليه السلام).), they left the assembly with their heads hanging in shame.
  3. Dr. Muhammad Hadi, son of Ayatullah Allama Amini Najafi (author of the acclaimed book Al-Ghadeer), writes that he saw his father in a dream, four years after his expiry. This incident was in the year 1394 A.H. On Thursday, at the time of dawn. His father seemed very happy and joyful. I advanced, saluted my father, and kissed his hand. I asked, ‘Which action have you performed that has gladdened you so much and made you so prosperous.’ He said, ‘What did you say?’ I repeated, ‘Which action have you performed that has gladdened you so much and made you so prosperous. Was it compilation of the book Al-Ghadeer, or some other book, or initiating the library in the name of Amir al Muminin ((عليه السلام).)?’ He replied, ‘I don’t follow what you mean, please explain your query more clearly.’ I replied, ‘Father, you have departed for the everlasting abode. What religious obligation or service has been the source of your salvation?’ Incidents About Allama Amini (رضي الله عنه) My father, after pondering over my question, replied, ‘My son, it is only and only the Ziyarat of Sayyadush Shohada, Imam Husayn ((عليه السلام).).’ I said, ‘Father, you must be aware of the ongoing war between Iran and Iraq, due to which all contacts between the two nations have ceased. Ziyarat of Karbala has now become impossible for us.’ He said, ‘Participate in the gatherings and assemblies of Imam Husayn ((عليه السلام).). You will get the same reward as Ziyarat of Imam Husayn ((عليه السلام).). My son, I have said this to you many times before this, and I am telling you about it even now and my son, never ever abandon the recitation of Ziyarat Ashura. Consider its recitation as your most important duty, and give it the rightful place in your life. The effects of its recitation are the means of salvation in this world and the hereafter. I am hopeful for your duas.’ Allamah Amini’s son writes, ‘My father despite his busy schedule used to recite Ziyarat Ashura, and used to recommend this Ziyarat to others as well. That is why I have been persistently reciting this Ziyarat for the past thirty years.’
  4. ایک مجلس میں ضرار نے ہشام بن حکم سے سوال کیا:” اگر علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) واقعًا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصی تھے تو انہوں نے https://saqlain.org/ وفات پیغمبرؐ کے بعد اپنی وصایت کا دعوی کیوں نہیں کیا؟” ہشام نے جواب دیا:”کیوں کہ علیؑ کیلئے ایسا کرنا ضروری نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے بارہا علیؑ کے وصی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ غدیر کے میدان میں بھی اور اس کے پہلے جنگ تبوک میں بھی مگر لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان اعلانات سے لوگوں پر حجت تمام ہو چکی تھی اس لیے علیؑ کے لیے ضروری نہیں تھا کہ دوبارا لوگوں کو اپنی ولایت کی طرف دعوت دیتے۔ اگر ایسا ضروری ہوتا تو آدمؑ بھی شیطان کو اپنے سجدے کی دعوت دیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔علیؑ نے بھی اسی طرح صبر کیا ہے جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے کیا ہے۔” المناقب لابن شهر اشوب ج۱ ص۲۷۰
  5. الله عزوجل نے انسانوں پر جن چیزوں کو واجب کیا ہے اُن میں اُس کی توحید کا اقرار ہے, اُس کے نبی کی نبوّت کا اقرار ہے اور حضرت علیؑ ابن ابی طالب کی ولایت کا اقرار بھی ہے. جس طرح اُس کی توحید اور نبی کی نبوّت کے اقرار میں کوئ رعایت نہیں ہے اسی طرح خالق کائنات نے مولا علیؑ کی ولایت کے اقرار میں بھی کسی طرح کی کوتاہی کی گنجائش نہیں رکّھی ہے. اس معاملے میں اُس نے انبیاء کرام سے بھی اُن کی ولایت کے قبول کرنے کا مطالبہ رکّھا ہے. بلکہ روایتوں میں تو یہ بھی ملتا ہے کہ جتنا زیادہ اِن انبیاءؑ نے اِس ولایت کو تسلیم کیا ہے اُتنا زیادہ اُن کا رتبہ اور مرتبہ خدا کے نزدیک بلند سے بلند تر ہوا ہے. ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻌﺼﻼﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ہواہے کہ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺷﮑﻢ ﻣﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ https://saqlain.org/ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯽ ﭘﭩﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺁﺅ ﻏﻼﻡ ﺩﻭ ﭘﭩﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﭘﭩﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﭩﯽ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﭩﯿﺎﮞ ﮐﮭﻮﻝ ﻟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﭩﯿﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻼﻡ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻧﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﯾﻮﻧﺲ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﻧﮕﻼ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﯾﻮﻧﺲ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺷﮑﻢ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍُن ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ‏( ﻋﻠﯽؑ ‏) ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ اُنہوں ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﮑﻢ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ کئے ﮔئے ﺗﮭے ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍُنہوں ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﮑﻢ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﻭﻻﯾﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍنہیں ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﺁﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍنہیں ﺑﺎﮨﺮ ﺍﮔﻞ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖؑ ﮐﯽ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻨﮑﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﻧﺎﺭ ﺩﻭﺯﺥ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﻣﻌﺠﺰﺍﺕ ﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ – ﻋﻼﻣﮧ ﺳﯿﺪ ﮨﺎﺷﻢ ﺍﻟﺒﺤﺮﺍﻧﯽ – ﺝ ٢ – ﺍﻟﺼﻔﺤﺔ ٣٢٨،٣٢٧ اس رویت سے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ تمام اہلبیت علیہم السلام کی ولایت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے. اِس ولایت کے قبول نہ کرنے میں کسی کو رعایت نہیں ہے.جب نبی خدا کے لئے اس کا قبول کرنا لازمی ہے تو عام امتی کی کیا حیسیت ہے. ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠﮧ ﺍﻟﺬﯼ ﺟﻌﻠﻨﺎ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺘﻤﺴﮑﯿﻦ ﺑﻮﻻية ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ(ع). کیٹاگری میں : امام علی ابن ابی طالب (ع)
  6. http://anecdotesofahlulbayt.com/ it contains approximately 2000 stories / incidents on the following topics Akhlaq topic wise Ahlulbayt (ams) Prophets (عليه السلام) Companions scholars Miracles Shaitan Debates Audio stories
  7. “O lions, seize them!” Reading Time: < 1 minute Sayyid Hashim Bahrani, author of Tafseer Burhan narrates that Mansur Dawaniqi summoned seventy natives of Kabul and told them: “You are experts in magic and Ja’far bin Muhammad is also [God forbid] a sorcerer like you. If you can perform a magic trick, which defeats him, I will give you a lot of money.” They began to work upon this and first of all prepared seventy pictures of lions in the court of Mansur. Each of the sorcerers sat near the picture he had sketched. Mansur also sat upon his throne wearing his crown and ordered his men to present Imam Ja’far bin Muhammad ((عليه السلام).), the sixth Divine Proof. When the Imam entered, his eyes fell upon those present there like it is mentioned in the Ziyarat: The seeing eyes of Allah. Then he raised his hands towards the heavens and mentioned some words; some of them softly and some aloud. Then he said: “Woe be on you! I would render your magic and sorcery ineffective.” http://anecdotesofahlulbayt.com/ Then he issued a command and said: “O lions, seize them!” It is mentioned in another report that he said: “O images, each of you, seize your companion!” So, each of the images turned into a ferocious lion and seized its companion. Mansur fell down from his throne unconscious. When he regained senses, he sought the forgiveness of the Imam and said: “My lord and master, tell these lions to return those fellows.” Imam ((عليه السلام).) said: “If the staff of Musa ((عليه السلام).) had returned what it swallowed, they would have also done the same.” That is since the staff of Musa ((عليه السلام).) did not restore those serpents, these would also not do that (Madinatul Maajiz, 363 & 364) Reference : Isbaatul Wilayah (Part One) – Ayatullah AliNamazi Shahroodi ((رضي الله عنه).)
  8. إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِين َ [آلِ عمران: 96] یقینًا سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لیے تیار کیا گیا،وہ بکہ(مکہ) کی سرزمین پر ہے، یہ مکان عالمین کے لیےمبارک اور ہدایت ہے۔ کعبة الله کی اہمیت اور منزلت کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نماز کی قبولیت کے لیے جو شرائط ہیں ان میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ انسان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہونا چاہیے۔ کعبہ کی منزلت اور احترام کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا نے اس عمارت کو ‘بیت الله’ اپنا گھر کہا ہے۔ اس مکان کو قرآن نے ‘اوّل بیت’ کے لقب سے بھی یاد کیا ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لیے بنایا گیا ہے۔ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اس مبارک مکان کو خدا کے برگزیدہ بندوں نے تعمیر کیا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے لیے خدا نے اپنے خلیل جناب ابراہیمؑ اور ان کے فرزند ذبیح اللہ جناب اسماعیلؑ کی خدمات لی ہیں۔ اتنا ہی نہیں رب کائنات نے لفظ ‘طہّرا بیتی للطائفین’ کا استعمال کرکے اس کی عظمت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اس مکان کو خدا کے دو معصوم نبیوں نے’طواف کرنے والوں کے لیے پاک کیا ہے۔ خانہ کعبہ کی عظمت و احترام کا سلسلہ عہدِ ابراہیمی سے رہا ہے۔ قریش اس مکان کا طواف کرتے تھے اور اس کو اپنے لیے مبارک سمجھتے تھے۔ جب ابرہا نے خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو الله نے اپنے اس مکان کی حفاظت ابابیل کے ذریعے کروائی اور اس کے پورے لشکر کو تہس نہس کردیا۔ قریش کی تاریخ میں خانہ کعبہ سے متعلق ایک اور مشہور واقعہ درج ہے وہ یہ کہ قریش کے سردار سید الابطحیٰ جناب ابوطالبؑ کے فرزند علی ابن ابی طالب کی ولادت بھی اس مکان میں ہوئ ہے۔ مکہ میں اسلام آنے کے بعد بھی اس مکان کی قدر و منزلت میں کوئ کمی نہ آئ بلکہ دین اسلام نے اس مقدس مکان کو ‘قبلہ’ کی حیثیت عطا کی ہے جس سے اس خانہ کعبہ کی منزلت میں اور اضافہ ہوگیا۔ اسی لیے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصی اور خلیفہ بلا فصل کی منزلت کے لیے خانہ کعبہ کی مثال دی ہے۔ https://saqlain.org/ قال رسول اللّه صلّی اللّه علیه و آله و سلم: یا علی أنت بمنزلة الکعبة رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: “اے علیؑ،تمھاری منزلت کعبہ کی ہے۔” (اہل تسنن کتاب- کنوز الحقائق ص ۲۰۳) رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں امیرالمومنین علیہ السلام کی ایک مرکزی حیثیت ہے۔ جس طرح خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی ہے اس کی طرف سے رخ ہٹالینے سے نماز باقی نہیں رہتی اسی طرح علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی محبت سے دل پھیر لینے سے مومن مومن نہیں رہ جاتا۔ جس طرح کعبہ ‘بیت الله’ ہے اور ایک عظیم شعائر اللہ ہے۔ اسی طرح علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی ذات پاک کو الله سے خاص نسبت ہے۔ اس حقیقت کا اظہار احادیث نبویؐ میں موجود مولا علیؑ کے لیے عین الله، وجہ الله، لسان الله، جنب الله وغیرہ القاب کا استعمال ہے۔ اسی طرح خانہ کعبہ کی مثال دیتے ہوے سرورِ کائناتؐ نے امت کی رہنمائ کی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی پیروی ان پر فرض ہے۔ امت کو علیؐ کی ضرورت ہے علیؑ کو امت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات اہل تسنن کی کتابوں میں بھی درج ہے۔ بطور نمونہ یہ جملہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی مشہور و معروف حدیث میں ملتا ہے کہ “(اے علی) تمھاری مثال کعبہ کی ہے،لوگ اس کے پاس جاتے ہیں وہ لوگوں کے پاس نہیں جاتا” (اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ جلد 4 صفحہ 31)۔ اس طرح کی روایات طرفین یعنی اہل تشیع اور اہل تسنن دونوں کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ایک روایت میں ہم دیکھتے ہیں :قال رسول اللّه علیه و آله و سلم: مثل علیّ فیکم أو قال: فی هذه الامة کمثل الکعبة المشرفة النظر إلیها عبادة و الحج إلیها فریضة. (علامة عبد اللّه الشافعی کتاب المناقب) “علیؑ کی مثال اس امت میں کعبہ شریف کی سی ہے،اس کی طرف نظر کرنا عبادت ہے اور اس کی طرف حجّ کیلئے جانا فریضہ ہے۔” سرورِؐ کائنات کی یہ حدیث ان احادیث کے مطابق ہے جن میں یہ جملے ملتے ہیں ” علیؑ کے چہرے کی زیارت کرنا عبادت ہے” “علیؑ کا ذکر عبادت ہے”۔ اسی طرح کی ایک اور روایت میں ہے- قال رسول اللّه صلّی اللّه علیه و آله و سلم، أنت بمنزلة الکعبة تؤتی و لا تأتی، فان أتاک هؤلاء القوم فسلّموها إلیک یعنی الخلافة فاقبل منهم و إن لم یأتوک فلا تأتهم حتّی یأتوک. (اہل تسنن عالم علامة الشیخ جلال الدین عبد الرحمن السیوطی کی کتاب -ذیل اللئالی ص ۶۲) رسول الله صلی الله علیہ وآلہ: “اے علی تمھاری منزلت کعبہ کی ہے، لوگ کعبہ کے پاس جاتے ہیں وہ لوگوں کے پاس نہیں جاتا۔ اگر یہ امت تم کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلے تو تم بھی ان کی حاکمیت قبول کرلینا اور اگر یہ لوگ تمھارے پاس نہیں آتے تو تم بھی ان کے پاس مت جانا، جب تک وہ خود تمھارے پاس نہیں آتے” مرسلِ اعظم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اس قول سے نہ صرف یہ کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی خلافت ثابت ہوتی ہے بلکہ اس بات کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام نے خلافت حاصل کرنے کے لیے کیوں تلوار نہیں اٹھائ۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے فورًا بعد مولائے متقیان کا خاموشی اختیار کر لینا اسی سبب سے تھا کہ آپ کو رسولؐ الله نے خاموش رہنے کا حکم دیا تھا۔ غاصبوں نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو حکومت و خلافت سے دور کرکے علیؑ کا نقصان نہیں کیا ہے بلکہ امت کا نقصان کیا ہے۔ وہیں امت نے علیؑ کو خلافت سے محروم نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے رسول اکرم کے حکم کو نظرانداز کیا ہے
  9. Grief for Fatima (s.a.) and hatred for her enemies is defining trait of Imamat Doubt The infallible Imams (a.s.) were consumed with grief over the untold difficulties and afflictions heaped on Fatima Zahra (s.a.), the Holy Prophet’s (s.a.w.a.) beloved daughter, by the pseudo-caliphs. Shaikh Abbas al-Qummi (r.a.) says: The sufferings of Fatima Zahra (s.a.) were more painful to her infallible sons (a.s.), the Imams (a.s.), than the wounds of swords and knives; and her pain was more scorching to them (a.s.) than fire. It was decreed for them (by Allah the High) to observe dissimulation (taqiyyah) and thus, they could not reveal the sufferings of Fatima Zahra (s.a.). Thus, when the name of Fatima (s.a.) was taken in their presence, their hearts would turn sorrowful and anyone with intellect could observe its effect on their noble visages. (Bait Al-Ahzaan, p. 136) This grief was a defining feature of their Imamat and made itself evident in two ways – weeping over her (tawalla) and cursing her tormentors (tabarra). Reply 1. Imam Muhammad b. Ali al-Jawad’s (a.s.) grief 2. Imam Muhammad b. Ali al-Baqir’s (a.s.) grief 3. Imam Jafar al-Sadiq’s (a.s.) grief The following incidents illustrate this point to some extent. Back to Top1. Imam Muhammad b. Ali al-Jawad’s (a.s.) grief Zakariyya Ibn Adam narrates: One day, I was in the presence of Imam Ali Reza (a.s.) when his son, Imam Muhammad al-Jawad (a.s.), who was less than four years old, was brought to him. As he came in, he (a.s.) struck his palms on the ground, raised his head towards the heavens and remained engrossed in deep thought for a long time. Seeing this, Imam Reza (a.s.) (asked him) – May I be your ransom! What are you thinking about? Imam Jawad (a.s.) replied: I am engrossed in thought regarding the sufferings that befell my mother, Fatima (s.a.). By Allah! I will bring out those two men (Shaikhain) from their graves and burn them and then scatter their ashes into the seas. Hearing this, Imam Reza (a.s.) asked his son to be brought closer to him, kissed him (a.s.) on his forehead and remarked, ‘May my parents be your ransom! You are worthy for this affair (Imamat).’ Mustadrak Wasaail al-Shia vol. 1 p. 123 Dalaail al-Imaamah p. 212 Ithbaat al-Wasiyyah p. 218 Madinah al-Ma’ajiz, vol. 7 p. 325 Behaar al-Anwaar vol. 50 p. 59 Back to Top2. Imam Muhammad b. Ali al-Baqir’s (a.s.) grief It is related that whenever Imam Muhammad Baqir (a.s.) was afflicted with fever, he (a.s.) would treat the fever by keeping cloth pieces immersed in cold water on his body and call out loudly O Fatima, the daughter of Muhammad! that his voice could be heard from the entrance of the house. Rauzah al-Kafi, p. 87 Behaar al-Anwaar, vol. 62 p. 102 Bait al-Ahzaan fi Masaaeb Sayyidah al-Niswaan (s.a.), p. 135 In explanation of this tradition, Allamah Majlisi (r.a.) says that Imam Baqir (a.s.) desired that by invoking the sacred name of Fatima (s.a.), he would ward off fever. Shaikh Abbas al-Qummi (r.a.) says: I strongly believe that fever could afflict the sacred body of the Imam (a.s.) due to the sufferings of his mother Fatima (s.a.) which were lying concealed in his (a.s.) sacred heart. He (a.s.) would cleanse the heat of the fever with water through the remembrance of his mother Fatima (s.a.) and her sufferings. This is similar to an afflicted person who tries to lessen his sorrows through sighs and deep breaths. Bait al-Ahzaan, p. 136 Back to Top3. Imam Jafar al-Sadiq’s (a.s.) grief It is related that Imam Sadiq (a.s.) asked al-Sakuni whom Allah the High had blessed with a daughter: ‘What name have you chosen for her?’ He replied: ‘Fatima.’ On hearing (just the mention of Fatima), Imam Sadiq (a.s.) exclaimed sorrowfully: ‘Alas! Alas!’ Saying this, he (a.s.) placed his hand upon his forehead and sat down, grieving….Thereafter, Imam (a.s.) advised, “Now that you have named her Fatima, never abuse her, curse her or beat her. (i.e. out of reverence for Fatima (s.a.) and possibly also because she had to face all this at the hands of her enemies.).” Al-Kafi, vol. 6 p. 48-49 Tahzeeb al-Ahkaam, vol. 8 p. 112 Bait al-Ahzaan, p. 136 No wonder that Imam Sadiq (a.s.) unfailingly cursed, naming four men and four women after every obligatory prayer, for how they had treated Fatima Zahra (s.a.). Al-Kafi, vol. 3, p. 342 Tahzeeb al-Ahkaam, vol. 2 p. 321 The list of the infallible guides (a.s.) moved by Fatima’s (s.a.) plight is merely illustrative. The incidents are numerous and involve the highest personalities like the Holy Prophet (s.a.w.a.) and Ameerul Momineen (a.s.).
  10. Why do we observe Ayyam-e-Fatimiyah(sa). Video Clip in Urdu http://oppressionsuponjanabezahra.blogspot.com/2018/01/why-do-we-observe-ayyam-e-fatimiyahsa.html يارب محمد عجل فرج آل محمد يارب محمد أحفظ غيبة أبنه محمد يارب محمـــد أنتقم لأبنه محمـــد "O Lord of Muhammad! Hasten the reappearance of the progeny of Muhammad. O Lord of Muhammad! Protect the occultation of Muhammad. O Lord of Muhammad! Hasten the revenge of daughter of Muhammad.”
  11. https://theziyaratofashurah.wordpress.com/
  12. The Ziyarat of Ashurah – Introduction“Salutations upon Hussain, and upon Ali Ibnil Hussain, and upon the children of Hussain and upon the companions of Hussain!”It is a firmly established fact that just as it is impossible to comprehend and grasp the greatness, excellence, position and status of Ahle Bait (a.s.), it is impossible for us to comprehend the connotations, implications and significance of their words and statements in their entirety. Of course, we can have some basic understanding of their words, which makes us realize their high stature and distinction. Ziyaarate Ashurah too falls in a similar category. Its greatness, benefits and rewards cannot be entirely comprehended or enumerated. Hence whatever is being written in this article concerning Ziyaarate Ashurah is like taking a few drops from a vast ocean. As the old Arabic cliché goes, ‘If the entire ocean cannot be encircled and seized, then at least take from it to the extent of your thirst.What else could be a greater merit for this Ziyarat than to be the ‘Word of Allah’ (Hadithe Qudsi)? No other Ziyarat bears this eminence and superiority. The difference between the Holy Quran and Ziyarate’ Ashurah is the same as the difference between the Holy Quran and Hadithe Qudsi. If the words from Allah claim to be a miracle from the aspect of meaning and concept, then they are the verses of the Holy Quran. But if there is no claim of miracle from the aspect of meaning and concept, then these divine words are called as ‘Hadithe Qudsi’. And if the concept is from Allah, but the words are those of the Holy Prophet (s.a.w.a.), then it is called as ‘Hadith’. However there is no doubt that this Ziyarat is Hadithe Qudsi.Safwan (r.a) narrates that Hazrat Jibraeel (a.s.) conveyed this Ziyarat to Holy Prophet (s.a.w.a.) on divine command. What is important at this point is to appreciate that this Ziyarat is Hadithe Qudsi and it has reached Imam Baqir (a.s.) through his noble ancestors who received it from Holy Prophet (s.a.w.a). Imam Baqir (a.s.) made ‘public’ this Ziyaarat for the first time. This is because like all other divine laws that were delayed, the delay in the communication of Ziyarate Aashoora in the public domain also had a divine rationale.(Ref: Shifa al-Sudoor, p. 51 by Abul Fazl Tehrani)
  13. salam one of the best sites on wilayat of Imam Ali (as ) AFTAAB E WILAYAT PLEASE SEE AND FOWARD TO OTHERS TOO
  14. salam one of the best sites on wilayat of Imam Ali (as ) AFTAAB E WILAYAT PLEASE SEE AND FOWARD TO OTHERS TOO
  15. SALAMA ALAIKUM IT HAS ZIYARAT ASHURA WITH TRANSLATION IN ENGLISH, URDU, FRENCH , GUJRATI , PERSAIN LANGUAGES ALSO HAS AUDIO , VIDEO RECITATIONS BY DIFFERENCE RECITORS
  16. SALAAMUN ALAIKUM Alqamah bin Mohammed ibn Hazrami (r.a.) narrates ‘I requested Imam Baqir (a.s.) to teach me a dua that I should recite on the day of Aashoora after the reciting the Ziyaarat of Imam Husain (a.s.) – from near his (a.s.) grave or from a distance.’ Imam (a.s.) replied ‘O Alqamah, whenever you wish to recite the Ziyaarat of Imam Husain (a.s.), you first perform two units of prayers. Then turn towards the grave of Imam Husain (a.s.) and while pointing towards it, you first say ‘Salam’ and then ‘Takbir’. Thereafter, you recite this Ziyaarat (Ziyaarate Aashoora). If you do so, then as if you have recited the supplication read by the angels while visiting the grave of Imam Husain (a.s.). Moreover, when you recite this Ziyaarat, then, Allah will increase your grade ten lakh times You will be included among those people who were martyred along with Imam Husain (a.s.) On the day of Judgment, you will be included among the martyrs You will get the reward of all the Prophets (a.s.) who have visited the grave of Imam Husain (a.s.) from the day that he (a.s.) was martyred till date. And the way of reciting the Ziyaarat is like this…’ (Then Imam (a.s.) recited the entire Ziyaarate Aashoora for Alqamah (r.a.) (Ref: Kaamil al-Ziyaarat, Ibn Qoolwayh, Ch. 71, p.194) At the end of this tradition, Imam Baqir (a.s.) says ‘O Alqamah, if you can, then recite this Ziyaarat every day send salutations to Imam Husain (a.s.). You will get all the rewards (of the one who recites it on the day of Aashoora).’ CLICK HERE TO VISIT THE BLOG "THE ZIYARAT OF ASHURAH " FOR THE IMPORTANCE , MERITS , AUTHENCITY AND VARIOUS AUDIO AND VIDEO RECITATIONS OF ZIYARAT E ASHURA IN DIFFERENT LANGUAGES
  17. SALAM THIS TIME HIS TOPIC IS ON GHADEER IT WILL BE WORTH LISTENING INSHALLAH
  18. SALAM PLEASE CLICK BELOW TO WATCH VIDEO OF MAULANA SADIQ HASAN SAHAB 2015 http://www.hussainiat.com/album/2269/01-majlis-29-zilhaj-1436--2015/18680.aspx
  19. SALAAMUN ALAIKUM Alqamah bin Mohammed ibn Hazrami (r.a.) narrates ‘I requested Imam Baqir (a.s.) to teach me a dua that I should recite on the day of Aashoora after the reciting the Ziyaarat of Imam Husain (a.s.) – from near his (a.s.) grave or from a distance.’ Imam (a.s.) replied ‘O Alqamah, whenever you wish to recite the Ziyaarat of Imam Husain (a.s.), you first perform two units of prayers. Then turn towards the grave of Imam Husain (a.s.) and while pointing towards it, you first say ‘Salam’ and then ‘Takbir’. Thereafter, you recite this Ziyaarat (Ziyaarate Aashoora). If you do so, then as if you have recited the supplication read by the angels while visiting the grave of Imam Husain (a.s.). Moreover, when you recite this Ziyaarat, then, Allah will increase your grade ten lakh times You will be included among those people who were martyred along with Imam Husain (a.s.) On the day of Judgment, you will be included among the martyrs You will get the reward of all the Prophets (a.s.) who have visited the grave of Imam Husain (a.s.) from the day that he (a.s.) was martyred till date. And the way of reciting the Ziyaarat is like this…’ (Then Imam (a.s.) recited the entire Ziyaarate Aashoora for Alqamah (r.a.) (Ref: Kaamil al-Ziyaarat, Ibn Qoolwayh, Ch. 71, p.194) At the end of this tradition, Imam Baqir (a.s.) says ‘O Alqamah, if you can, then recite this Ziyaarat every day send salutations to Imam Husain (a.s.). You will get all the rewards (of the one who recites it on the day of Aashoora).’ CLICK HERE TO VISIT THE BLOG "THE ZIYARAT OF ASHURAH " FOR THE IMPORTANCE , MERITS , AUTHENCITY AND VARIOUS AUDIO AND VIDEO RECITATIONS OF ZIYARAT E ASHURA IN DIFFERENT LANGUAGES
  20. Lamentations, breast-beating and mourning in memory of Husainâs martyrdom are not sanctioned by Islam. Though such martyrdoms are tragic, the Holy Prophet (s.a.w.a.) has forbidden holding mourning ceremonies on the death of any person. People of Jaahiliyyah (ignorance) used to mourn over their deceased then the Holy Prophet (s.a.w.a.) stopped the Muslims. Reply: Azaadaari (mourning) is a means to express sorrow for the hardships suffered by the Ahle Bait (a.s.) at the hands of the caliphs of their time. The words of Imam of Ahle Sunnah Allamah Fakhrudeen Raazi are notable: âIt is our firm belief that one who dies with love for the descendants of Muhammad (s) dies a martyr.â (Tafseer-e-Kabir, vol 7, pg 390) We read in Al-Bidaayah wa al-Nihaayah of Ibne Kasir in vol. 4, pg. 45, Beirut ed. It is narrated by Abu Hurariah that the Prophet (s.a.w.a.) used to visit the graves of martyrs every year. When he (s.a.w.a.) would reach the entrance of the mountain, he (s.a.w.a.) would say (to the martyrs): âAssalamoalaikum bi maa sabartumâ. This means âPeace be on you due to your patience and you have reached a pleasant place due to this.â Then after the Prophet (s.a.w.a.), Abu Bakr also used to come (every year), and after him Umar used to do the same and then Usman also did the same. We read in Al-Bidaayahwa al-Nihaayah vol. 6 pg. 360: Umar said âWhenever I venture out at sunrise, I remember the death of my brother Zaid b. Khattab.â Obviously the remembrance of his brotherâs death did not make him laugh; he was sorrowful (azaadaar). We find in Taarikh-e-Yaqoobi, vol. 1, pg. 3: The father and mother of humanity (Hazrat Adam (a.s.) and his wife Hazrat Hawwa (a.s.)) wept for their son Haabeel for so long that their tears turned into a stream. In Rauzah al-Shuhadaa, pg 30 the same incident has been quoted by Mulla Husain Waaiz Kashifi who adds: Tears from Adamâs (a.s.) right eye were flowing like the River Dajla and like the River Euphrates from his left eye. Perhaps the following tradition may prove more convincing: After the burial of the Prophet (s.a.w.a.), the companions in a state of sorrow were virtually throwing dust over themselves, and were crying due to the separation from their beloved. Especially Hazrat Faatemah (s.a.) was inconsolable; she was looking at the faces of her sons Imam Hasan (a.s.) and Imam Husain (a.s.) and was crying at their plight and her own plight. Even Aaesha was continuously crying and wailing. For several days and nights the voices of crying and mourning rose from this house which became house of grief (Baytul Huzn) and separation. (Madaarij al-Nubuwwah, vol 2, pg. 753-754) Mulla Ali Qaari in his book Al-Mirqaat fi Sharh al-Mishkaat from a narration by Imam Ahmed b. Hanbal quotes Imam Husain (a.s.): âWhoever weeps and cries upon me remembering my pain and miseries, Allah shall grant him Paradise.â (Al-Mirqaat fi Sharh al-Mishkaatwith reference to Taarikh-e-Ahmedi, pg 277, printed in Kanpur) One can refer to the Holy Quran via this hadis in Ahle Sunnahâs authoritative work Tafseer-e-Durr al-Manthoor, vol. 4 pg 31: The Prophet (s.a.w.a.) was asked: What was the extent of Hazrat Yaqoobâs (a.s.) mourning for his son? He (s.a.w.a.) replied, âIt was on par with mourning of 70 men and women.â And what was the reward for this? He (s.a.w.a.) retorted, âIt is on par with one hundred martyrs.â And we read in Tafseer Khazaan vol.3 pg 253: Yusuf (a.s.) said to Hazrat Jibrail (a.s.): Is my father adhering to mourning? Hazrat Jibrail (a.s.) said: The mourning of Yaqoob (a.s.) is on par with 70 men and women mourning. He then asked, âWhat is the reward for this mourning?â He said: The reward for this mourning is on par with mourning of 100 martyrs. Doubt: The Holy Prophet (s.a.w.a.) stopped the Muslims from doing all this and directed them to observe patience by saying âInnaalillaahi wa innaa ilayhiraajiâoonâ. A number of authentic traditions are available on the subject. To quote one of them: He is not from our group who slaps his cheeks, tears his clothes and cries in the manner of the people of Jaahiliyyah. (Saheeh Bukhari). Reply: Please refer to the Holy Quran, which permits crying: âAnd he turned away from them, and said: O my sorrow for Yusuf! And his eyes became white on account of the grief, and he was a repressor (of anger).â (Surah Yusuf (12): 84) If you refer to the exegesis of this verse, it will be clear how much Prophet Yaqoob (a.s.) cried for his son ultimately forfeiting his eyesight in the process. In Surah Nahl (16): 53, Allah declares: âAnd whatever favor is (bestowed) on you it is from Allah; then when evil afflicts you, to Him do you cry for aid.â When Umar heard of Numan b. Muqrinâs death he beat his head and screamed, âO what a pity that Nuâman died.â (Kanz al-Ummal, vol.8, pg. 117, Kitaab al-Maut) As narrated by Tabari in his Taarikh vol. 9 pg. 183 (English translation by Ismail Poonawala): Abbas narrates: I heard Aaesha say: The Messenger of Allah died on my bosom during my turn, I did not wrong anyone in regard to him. It was because of my ignorance and youthfulness that the Messenger of Allah died while he was in my lap. Then I laid his head on a pillow and got up beating my chest and slapping my face along with the women. (Ibn Katheer in al Bidaayah wa al-Nihaayah vol 5, pg 420) Also refer to Ibn Katheer in al Bidayah wan Nihayah: The Messenger of Allah (s.a.w.a.) died while he was in my lap. Then I laid his head on a pillow and got up beating my face along with other women. According to Saheeh-e-Bukhaari: Anas b. Malik narrated: We went with Allahâs Apostle (s.a.w.a.) to the blacksmith Abu Saif, and he was the husband of the wet-nurse of Ibrahim (the son of the Prophet (s.a.w.a.)). Allahâs Apostle took Ibrahim, kissed him and smelled him. Later, we entered Abu Saifâs house at that time, Ibrahim was breathing his last and the eyes of Allahâs Apostle (s.a.w.a.) started shedding tears. Abdul Rahman b. Auf said, âO Allahâs Apostle! Even you are weeping!â He said, âO Ibn Auf, this is mercy.â Then, he wept more and said, âThe eyes are shedding tears and the heart is grieved, and we will not say except what pleases our Lord, O Ibrahim! Indeed we are grieved by your separation.â Saheeh-e-Bukhaari, vol 2, book 23, tradition 390 We read in the traditions about the Holy Prophet (s.a.w.a.): âThe Prophet of Allah (s.a.w.a.) was in a state where he was beating his chest.â References: 1.  Saheeh-e-Bukhari vol. 2 pg 50 2.  Sunan-e-Nesaai vol. 3 pg 305 3.  Adhaan al Mufreed pg 426 4.  Saheeh-e-Muslim vol 1 pg 291 5.  Musnad-e-Abi Awaana vol. 2 pg 292 âThere is nothing against Islam in expressing grief, sorrow or in crying and weeping at the loss of a loved one.â Fayz al Bari fi Sharh-e-Saheeh Bukhari, vol 12, pg 462, Egypt ed. We read in Ahle Sunnahâs authority work Maarij al-Nubuwwah chap 1 pg 248: Hazrat Adam (a.s.) was so distressed that he smashed his hands onto his knees and the skin from his hands caused gashes from which bone could be seen. We read in Al-Bidaayah wa al-Nihaayah vol. 5, pg 243: âWhen Prophet (s.a.w.a.) died on the bed, the women who were around him (s.a.w.) had made their faces red by beating their faces.â Doubt: Even Husain (a.s.), shortly before his demise, had advised his beloved sister Zainab (a.s.), not to mourn over his death in this manner. He said, âMy dear sister! I swear upon you that in case I die you shall not tear your clothes, nor scratch your faceâ¦â Reply: It is obvious from the numerous incidents of Zainabâs (s.a.) weeping in the presence of Imam Husain (a.s.) before his martyrdom that these statements are false and misleading. When the forces of Yazid planned to attack the camp of Imam Husain (a.s.), Hazrat Zainab (s.a.) came to Imam Husain (a.s.) and asked why was there so much noise outside their tents, Imam replied that I just saw Holy Prophet (s.a.w.a.) in a dream and he (s.a.w.a.) said that I will be meeting him (s.a.w.a.) tomorrow, hearing this Hazrat Zainab (s.a.) started crying and beating herself on the face. Al-Bidaayahwa al-Nihaayah, vol 8, pg 176, Beirut ed. In the same book it is mentioned: Hazrat Zainab (s.a.) heard the elegies from Imam (a.s.). Reflecting on the tragedy of Karbala and the martyrdom of Imam Husain (a.s.) she cried, lamented and beat herself on the head until she fainted. Al-Bidaayahwa al-Nihaayah, vol 8, pg 177, Beirut ed. Similarly, we read in Sunan-e- Ibn Maajah, vol. 2, pg 285, published 1313 AH in Egypt. Saad b. Abi Waqqaas reported from Holy Prophet (s.a.w.a.) that he said ââ¦shed tears and cry and if you canât cry then make a crying face.â The death of Imam Husain (a.s.) is an event on which not only humans, but even the jinn, angels, animals, birds, the sky and trees, have lamented. Thus, it is written that the sky wept for forty days on (the martyrdom of) Imam Husain (a.s.). Yanabi al-Mawwaddah by Allamah Shaikh Sulaiman Hanafi Qundoozi, Constantinople ed. pg 392 Hafiz Abu Noaim writes in Hilyah al-Awliyaa on the authority on Imam Shaâbee, Zuhri, and Abu Qataadah: When Imam Husain (a.s.) was martyred, the sun was eclipsed (so long) so that the stars appeared. Waqiyaat-e-Karbala pg 75 Shah Abdul Aziz Dehalvi has narrated the lamenting and wailing of the jinn on pg. 96 of his book titled Sirr al-Shahaadatain. He has also quoted the verses of the elegy recited by the jinn while weeping over Imam Husain (a.s.). Umme Salmah (r.a.) has also narrated: I heard the jinn mourning for Husain. 1.     Tarikh al-Kabir by al-Bukhari (the author of Saheeh), vol 4, part 1, pg 26 2.     Fazaaâil al-Sahaabah, by Ahmed b. Hanbal, vol 2, pg 776, tradition 1,373 3.     Tabarani, vol 3, pg 130-131 4.     Tahzib vol. 7 Suyuti states: When Imam Husain was martyred, the corners of the sky remained red for a four month period. (Tafseer-e-Durr al-Manthoor vol. 6, pg. 31) We find in the traditions that even the first and the second caliphs didnât find lamenting loudly un-Islamic or against the Sunnah. Refer to Kashf al-Ghummah pg. 175: Abu Bakr and Umar would cry in such a way that the neighbors could hear them. Again in the same book we read: When Saad Ibn Maaz died, the Prophet (s.a.w.a.), Abu Bakr and Umar cried. Ayesha narrates âI recognized the cries of Abu Bakr and Umar although I was in my houseâ. (Kashf al-Ghummah, pg. 174) Aaesha called people to read elegies on her fatherâs death and she herself lamented. (Tarikh Kaamil, vol 2, pg 288; Iqd al-Fareed, vol 3, pg 65) On the day that Abu Bakr died, the situation seemed as if Madinah would be flooded with tears. (Tarikh al-Khamees, vol 2, pg 330) There are numerous other traditions which prove the permissibility of Azaadaari in the light of the Holy Quran and the teachings of the Messenger of Allah (s.a.w.a.) and his revered companions. However, some Muslims choose to ignore them and raise the bogey of azaadaari being a form of innovation and deviation. Conclusion Itâs an undeniable fact that the Holy Prophet (s.a.w.a.) has given all Muslims the bounty of Islam for which we collectively cannot repay him. However, the only way we could try to do that is to follow the Holy Quran which states: Say: I do not ask of you any reward for it but love for my near relatives.. Surah Shura (42): 23 The Holy Prophet (s.a.w.a.) has also stated, âHusain (a.s.) is from me and I am from Husain (a.s). The Quranic verse and prophetic tradition are more than enough for any Muslim worth his salt to acknowledge the excellence of Ahle Bait (a.s.). The least one can do is remember and love the Prophet (s.a.w.a.) and his family (a.s.) rather than remaining partial to those who were responsible ever since the advent of Islam for hurting the Holy Prophet (s.a.w.a) like Abu Sufyan, his son Muawiyah and his grandson Yazid. Shah Abdul Aziz Muhaddis-e-Dehlavi while explaining the philosophy of martyrdom writes in the preface of his book âSirr al-Shahaadatainâ: âThe martyrdom of Imam Husain (a.s.) is in reality the martyrdom of his grandfather Muhammad Mustafa (s.a.w.a).â Last few traditions from the Holy Prophet (s.a.w.a.) It has been mentioned in reliable traditions that often Holy Prophet (s.a.w.a.) mourned for Imam Husain (a.s.), which was obviously before his martyrdom. The well-known scholar of 10th century A. H. Allauddin Muttaqi Hindi in his book âKanz al-Ummaalâ has quoted Ibn Abi Shaibah, who has related from Umme Salmah, the wife of Holy Prophet (s.a.w.a.), that â” Once Imam Husain (a.s.) came to Holy Prophet (s.a.w.a.) when I was sitting near the door. I saw that the Holy Prophet (s.a.w.a.) had something in his palm, which affected him, making him weep profusely. By now Imam Husain (a.s.) had fallen asleep in his lap. I asked about the matter. He replied: âJibrail has brought the earth of the place where Husain (a.s.) will be martyred and informed me that people of my Ummah will slay him.â Kanz-ul-Ummaal vol. 2 One day, Umm Fazl, wife of Abbas â” the Prophetâs (s.a.w.a.) uncle â” approached the Prophet (s.a.w.a.) and informed him (s.a.w.a.), âO Prophet of Allah! I had a nightmare. I dreamt as if a piece of your flesh was flung in my arms.â The Prophet (s.a.w.a.) informed, âThe dream is true. Faatemah will give birth to a son and he will be brought to you.â As predicted on Husainâs (a.s.) birth, he was brought in my lap. One day, I brought the infant to the Prophet (s.a.w.a.). For some time, the Prophet (s.a.w.a.) took his eyes away from the infant. When he (s.a.w.a.) glanced at the infant again, his eyes welled up with tears. I said, âMay my father and mother be sacrificed on you O Prophet of Allah, why are you crying?â He (s.a.w.a.) informed, âI have just been informed by Jibrael that my nation will kill him.â I asked, âWill it be this son?â He replied in the affirmative. Jibraeel also brought reddish sand for me.â Al-Mustadrak alaa al-Saheehain by Haakim Neishapouri, vol 3, pg 176
  21. 8TH SHAWWAL -1345 AH / April 21, 1925 - DESTRUCTION OF THE GRAVES IN JANNATUL BAQI MEDINA AND JANNATUL MUALLAH MAKKAH On 8th Shawwal, Wednesday, in the year 1345 AH (April 21, 1925), mausoleums in Jannatul al-Baqi (Madina) were demolished by King Ibn Saud. JANNAT UL BAQI AFTER DEMOLITION ORIGINAL JANNAT UL BAQI In the same year (1925), he also demolished the tombs of holy personages at Jannat al-Mualla (Makkah) where the Holy Prophet (s)'s mother, wife, grandfather and other ancestors are buried. JANNAT UL MUALLA AFTER DESTRUCTION JANNAT UL MUALLAH BEFORE 1925 Destruction of sacred sites in Hijaz by the Saudi Wahhabis continues even today. According to some scholars what is happening in Hijaz is actually a conspiracy plotted by the Jews against Islam, under the guise of Tawheed. The idea is to eradicate the Islamic legacy and heritage and to systematically remove all its vestiges so that in the days to come, Muslims will have no affiliation with their religious history CLICK HERE TO READ MORE
×
×
  • Create New...