In the Name of God بسم الله
-
Posts
1,158 -
Joined
-
Last visited
Reputation Activity
-
Syed Demanding got a reaction from Struggling_onn in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
عجب چیز ہے یہ شرافت بھی
اس میں شر بھی ہے اور آفت بھی
نامعلوم
-
Syed Demanding reacted to sharib in شعر پڑھتا ہی نہیں پانچ سے زیادہ شارب
سلام
سید اقبال رضوی شارب)
دامن سبط نبی چھوڑ کے جانے والا
ڈ وب ہی جاۓگا کشتی پہ نہ آنے والا
نام سن اسکا سماعت پے خراش آتی ہے
کتنا کم ظرف تھا عترت کو ستانے والا
برہمن چھوڑ میرا ہاتھ ،لکیروں پہ نہ جا
ہے نجف میں میری بگڑی کو بنانے والا
منزلت تم ہی کرو طےکہ ، کہاں تک ہےعلی
دیکھو تو کون ہے کاندھوں پے اٹھانے والا
یہ شعر ناظم محفل کے لئےجو اختصار پر اسرار کرتے ہیں )
شعر پڑھتا ہی نہیں پانچ سے زیادہ شارب
سامنے رہتا ہے اک آنکھ دکھانے والا
-
Syed Demanding got a reaction from baqar in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
یہ ٹوٹ کے بکھرا ھے کہ ٹوٹا ھے بکھر کے؟
ھم دل کی تباہی کا سبٌب ڈھونڈ رہے ہیں
فاخرہ بتول
-
Syed Demanding got a reaction from Brained in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
یہ ٹوٹ کے بکھرا ھے کہ ٹوٹا ھے بکھر کے؟
ھم دل کی تباہی کا سبٌب ڈھونڈ رہے ہیں
فاخرہ بتول
-
Syed Demanding reacted to sayedzeeshan in سلام- مصطفیٰ زیدی
ہر دور میں مظلومیت کی داستاں لکھی گئی
تادیبِ جبر و سلطنت کے درمیاں لکھی گئی
لمحوں کی زنجیروں میں سطرِ جاوداں لکھی گئی
تشریحِ بے عنواں، زبانِ بے زباں لکھی گئی
جتنا شعارِ محتسب دشوار تر ہوتا گیا
اتنا ہی ذکرِ خونِ ناحق مشتہر ہوتا گیا
اشکوں سے طغیانی اٹھی، آہوں سے افسانے بنے
جلتے ہوئے حرفوں کے خاکستر سے پروانے بنے
ہر خاکِ خوں آلود سے تسبیح کے دانے بنے
ہر تشنگی سے ساقیِ کوثر کے میخانے بنے
تردید کی تکرار میں حق کی صدا بڑھتی گئی
جبر و تشدد میں نوائے بے نوا بڑھتی گئی
تیغوں کا جوہر جل گیا جھنکار باقی رہ گئی
سیلاب کا رخ مڑ گیا دیوار باقی رہ گئی
شامِ وفا دارانِ طوق و دار باقی رہ گئی
صبحِ اذانِ سیدِ ابرار باقی رہ گئی
سقراط کے ہونٹوں کو چھو کر زہرِ قاتل مر گیا
کیلوں کا چھوٹا پن صلیبوں کو نمایاں کر گیا
سو داستانوں کا سبب اجڑے ہوئے لوح و قلم
پتھر کی رگ رگ میں ہزاروں نا تراشیدہ صنم
اونچی فصیلیں، جست کرتے حوصلوں کے، قد سے کم
مہوش کے زینے پر فروزاں ماہِ تاباں سے قدم
فاتح کے چہرے پر حزیمت کے نشاں اترے ہوئے
مفتوح کے در پر زمین و آسماں اترے ہوئے
خونِ شہیداں کو خراج اہلِ حق ملتا رہا
لیکن شہادت سے تو ہے مظلومیت کی ابتدا
بعدِ امامِ لشکرِ تشنہ دہاں جو کچھ ہوا
کس سے کہوں، کیسے کہوں، اے کربلا، اے کربلا
گردِ لب و مژگاں نہیں کربِ حلیمِ دل ہے یہ
لوح و قلم کے عجز کی سب سے بڑی منزل ہے یہ
کیسے رقم ہو بے کسی، بے حرمتی کی داستاں
اک کنبہِ عالی نسب کی در بدر رسوائیاں
اک اشک جس کو کر گئی سیراب تیروں کی زباں
اک سبز پرچم جھک گیا جو خاک و خوں کے درمیاں
اک آہ جو سینے سے نکلی اور فضا میں کھو گئی
اک روشنی جو دن کی ڈھلتی ساعتوں میں کھو گئی
وہ اہلبیتِ ہاشمی ہر لمحہ جن پر بار تھا
وہ عترتِ اطہار جن کو ہر نفس آزار تھا
جس ہاتھ سے تھپڑ پڑے وہ ہاتھ اک کردار تھا
عارض سکینہ کے نہ تھے تاریخ کا رخسار تھا
حرفِ تپاں اسلام کا منشور بن کر رہ گیا
جو زخم تھا تہذیب کا ناسور بن کر رہ گیا
وہ شامِ خونِ بے وطن، وہ شام ملبوسِ کہن
شورش، تحیر، رستخیزی، جاں کنی،دیوانہ پن
تضحیک، نفرت، طنطنہ، تعریض، عیاری، جلن
الٹی قناتوں کا سماں، لٹتی رداؤں کا چلن
الٹی قناتوں میں رواں آتش یزیدی جاہ کی
لٹتی صفوں میں در بدر عترت رسول اللہ (ص) کی
وہ جرمنی کا آشویز (Auschwitz) جاپان کا ہیروشیما
ان کی بھیانک نزع کی آواز کو کس نے سنا؟
ان کے تو لاکھوں دوست تھے لیکن یہ خونی سانحہ
ان کے لئے علمی مباحث کے سوا کچھ بھی نہ تھا
اپنی ذہانت کے علاوہ سب سے پردہ پوش تھے
سب جیسپر، سب مارکاوو، سب سارتھر خاموش تھے
سارے جرائم سے بڑی ہے یہ مہذب خامشی
اس کے تو آگے ہیچ ہے قاتل کی زہریلی ہنسی
اس علم کے ساغر میں شامل ہے ہلاکت علم کی
اس سے زیادہ اور کیا سنگین ہو گی دوستی
تاریخ پوچھے گی کہ جب مہمان ویرانے میں تھے
کوفے کے سارے مرد کس گھر کے نہاں خانے میں تھے؟
اور یاد رکھنا اے میرے ہم عصر، اربابِ ذکا
ہم پر بھی گر طاری رہا ہے عالم سنہرے خواب کا
کل ہم بھی ہوں گے رو برو ہم سے بھی پوچھا جائے گا
سننا پڑے گا ہم سب ہی کو کربلا کا فیصلہ
قاتل تو شائد عفو کے قابل ہوں وہ مجبور تھے
ہم دوست ہو کر کیوں ضمیرِ ارتقا سے دور تھے؟
وہ دود نعرہ حیدری کی آلِ پیغمبر کی لاش
وہ آیتوں کی گود میں سوئے ہوئے اکبر کی لاش
وہ اک بریدہ بازووں والے علم پرور کی لاش
وہ دودھ پیتے لوریاں سنتے علی اصغر کی لاش
معصوم بچے وحشیوں کی جھڑکیاں کھائے ہوئے
عون و محمد چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلائے ہوئے
ابرِ کرم، میساں قدم، کہسار قامت، آدمی
گلشن بہ کف، گوہر بہ لب، بارانِ رحمت، آدمی
لوحِ صداقت آدمی، مہرِ نبوت آدمی
دار الامارت کے ولی، درویش سیرت آدمی
وہ تشنہِ لب جو سمندر کا دہانہ پاٹ دیں
وہ موم جیسے دل جو تلواروں کا لوہا کاٹ دیں
اور اس کے بعد ایسی گھٹا ٹوپ آندھیوں کا قافلہ
تپتی ہوئی ریگِ رواں، جلتا ہوا دشتِ بلا
خونی چٹانیں، ناچتے شعلے، گرجتا زلزلہ
سفاک آنکھیں، سرخ تلواریں، کف آلودہ خلا
کالی فصیلیں، آتش و آہن کا منہ کھولے ہوئے
وحشی عناصر آبنوسی برچھیاں تولے ہوئے
تیزی سے چکر کاٹتی وحشت زدہ گونگی زمیں
جیسے کسی شے میں کوئی معنی کوئی مقصد نہیں
بے صوت لہجے، بے صدا آواز، بے ایقاں یقیں
حفظِ مراتب بے محافظ، حفظِ ایماں بے امیں
بادِ حوس کی زد میں شمعِ آبرو آئی ہوئی
ہر آستیں الٹی ہوئی، ہر آنکھ گہنائی ہوئی
سجاد سے زینب کا یہ کہنا کہ مولا جاگیے
غفلت سے آنکھیں کھولیے لٹتا ہے کنبہ جاگیے
اُٹھتے ہیں شعلے دیکھیے، جلتا ہے خیمہ جاگیے
اے باقیِ ذریتِ یٰس و طٰحہ جاگیے
سارے محافظ سو رہے ہیں اشقیا بیدار ہیں
طوق و سلاسل منتظر ہیں بیڑیاں تیار ہیں
سونی ہیں ساری بارگاہیں، نوحہ خواں ہیں چوکھٹیں
اجڑے ہوئے ہیں بام و در، ویراں پڑی ہیں مسندیں
مدھم ہوئیں، پھر بجھ گئیں ساری چراغوں کی لویں
ہم پر یکایک اجنبی سی ہو گئیں سب سرحدیں
ذروں کے دل بڑھتے گرجتے زلزلوں سے بھر گئے
چمڑے کے ٹکڑوں پر نمازیں پڑھنے والے مر گئے
مصطفیٰ زیدی
-
Syed Demanding reacted to sharib in الجھن کی طرح
salam
سید اقبال رضوی شارب
اشک برسا کہ غم شاہ مین ساون کی طرح
اپنی تقدیر کو چمکاءیے کندن کی طرح
ہے عبادت مین نہاں اجر رسالت کتنی
کربلا خوب بتا دیتا ہے درپن کی طرح
خوش ہے دوذخ کے یہ جتنے ہیں علی کے منکر
حشر مین کام مرے آءینگے ایندھن کی طرح
ہم کو دیتا ہے سکوں ماہ محرّم کا ہلال
کچھ کے اعصاب پہ چھا جاتا ہے الجھن کی طرح
ا س حقارت سے مرے مولا نے ٹھکرائی فرات
آب بھی ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح
صدقے اشکون کے کچھ ایسے ہیں مراسم شارب
مجھکو فردوس نظر آتا حے آنگن کی طرح
-
Syed Demanding reacted to Brained in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
Ajab Rasm hai Chaara Garr’on ki Mehfil mai
Lga ker Zakhm Namak se Masaaj krtay hain.
Ghareeb-e-Sheher tarasta hai ik Niwaley ko
Ameer-e-sheher k Kuttey b raaj kertay hain.
-
Syed Demanding reacted to sharib in پتا کیجیے میاں شجرہ کسی سے
سلام ( سید اقبال رضوی شارب ) عقیدت ہے اگر کچھ بھی نبی سے
تو ذکر مرتضیٰ کیجیے خوشی سے شکن ماتھے پہ ہے ذکر علی سے
پتا کیجیے میاں شجرہ کسی سے نیا اک دین سے ہوگا تعارف
محبّت کر کے دیکھو تو علی سے فدک ،جنگ جمل ،صفّین و کربل
یہ سب پیدا ہوئے بغض علی سے گلوءے خشک سے جو خون ٹپکا
حیات نو ملی دیں کو اسی سے زبان بے زباں پر تھا تبسّم
نہ تھا شکوہ کوئی تشنہ لبی سے تھا کتنا بے بس و مجبور ظالم
ہوا ثابت یہ اصغر کی ہنسی سے بالاخر ظلم ہی مغلوب ٹھہرا
نہ بیّت لے سکا جان نبی سے نہیں اک آنکھ بھاتا ہے وہ شارب
رکھے کینہ جو کچھ آل نبی سے -
Syed Demanding got a reaction from Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
ذرا ان کی شوخی تو دیکھنا لیے زلف خم شدہ ہاتھ میں
میرے پاس آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا -
Syed Demanding got a reaction from Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
یہ ٹوٹ کے بکھرا ھے کہ ٹوٹا ھے بکھر کے؟
ھم دل کی تباہی کا سبٌب ڈھونڈ رہے ہیں
فاخرہ بتول
-
Syed Demanding reacted to Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
Got this in a text message :D
بات ٹھہری جو عدل پر قایٔم
پھر یہ منّت، یہ التجا کیا ہے
چاند سا جب کہا تو کہنے لگے
چاند کہئے ناں، چاند سا کیا ہے؟
-
Syed Demanding reacted to Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
سہلِ ممتنع کی ایک خوبصورت مثال
شمع کا انجام نہ پوچھ
پروانے کے ساتھ جلی
-
Syed Demanding got a reaction from Brained in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
کل شب مجھے توحید سکھائی ہے خدا نے
سجدے میں ہوئیں سید۔ سجاد۴ کی باتیں
-
Syed Demanding got a reaction from Durr-e-Najjaf in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
کل شب مجھے توحید سکھائی ہے خدا نے
سجدے میں ہوئیں سید۔ سجاد۴ کی باتیں
-
Syed Demanding got a reaction from Brained in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
حاصل "کُن" ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
-
Syed Demanding got a reaction from Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
روز ملنے پہ نہیں نسبتِ عشقی موقوف
عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
میر تقی میر
-
Syed Demanding got a reaction from Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﯾﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺁﺝ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺘﻨﮧ ﻭ ﻓﺴﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ
-
Syed Demanding reacted to Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
آئے کوئی آکر یہ تیرے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
-
Syed Demanding reacted to Marbles in Zarabul Masl Ashaar
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے ان ہی اجزا کا پریشاں ہونا
-
Syed Demanding got a reaction from khoram in Zarabul Masl Ashaar
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی
-
Syed Demanding got a reaction from AnaAmmar1 in ضرورتِ رشتہ - السید کامل عباس الجعفري
ایک نوجوان ، سید زادہ ۔سینہ چوڑا ، دل کشادہ
نیک چلن اور سادہ ۔پست کم اور لمبا زیادہ
گورا بدن ، شیریں دہن ۔سلکی بال، آسودہ حال
لازوال ، باکمال ۔بلند خیال
حسن کا دلداہ، شادی پر آمادہ
ذات پات سے انکاری، اپنی سواری
اعلیٰ خاندان، خوبصورت گبھرو جوان
ایک عرصہ سے پریشان کیلئے
ایک حسینہ کنواری، مثلِ حور، چشم مخمور، چہرہ پُر نور، باتمیز و باشعور، نشہ شباب میں چور
صوم وصلوٰۃ کی پابند، سمجھدار اور صحت مند، با ہنر و سلیقہ مند
کم گفتار، با کردار، مکرو فریب سے عاری، دیکھنے میں پیاری
باادب باحیا، سراپا مہر ووفا،نہ شوقین سرخی و کریم ، نو پرابلم تعلیم
مہ جبیں، بے حد حسیں، پردہ نشیں
راضی بہ عقد ، سرو سا قد، آہستہ خرام ، شائستہ کلام، پیارا سا نام ، جس میں ہو سین یا لام
عجوبہ کائنات ، رفیقہ حیات
درکار ہے۔ جس کے بغیر زندگی بے کار ہے
نہ مسہری نہ چارپائی، نہ روئی بھری رضائی، نہ زیور طلائی ، نہ ہی کرسیاں میز، بالکل نہیں چاہیے جہیز
مزید بات چیت بالمشافہ یا بذریعہ لفافہ۔خط و کتابت پابندی صیغہ راز ہے کہ یہی شریفوں کا انداز ہے
-
Syed Demanding got a reaction from AnaAmmar1 in ضرورتِ رشتہ - السید کامل عباس الجعفري
نہیں جناب :( شاید اشتہار غلط سائٹ پر دے دیا میں نے یہاں کی حسینائیں یا تو اسکول جاتی ہیں یا پھر اتنی عمر کی ہیں کے سب بھول جاتی ہیں۔ :shifty:
-
Syed Demanding got a reaction from Marbles in Zarabul Masl Ashaar
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
-
Syed Demanding got a reaction from M.N.A. in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
حاصل "کُن" ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
-
Syed Demanding got a reaction from Marbles in KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY
حاصل "کُن" ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
