Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

sharib

Advanced Member
  • Content Count

    1,107
  • Joined

  • Last visited

About sharib

  • Rank
    Level 4 Member

Profile Information

  • Religion
    Shia Islam

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

3,469 profile views
  1. سید اقبال رضوی شارب (منقبت مولا علی ١٣ رجب کے حوالے سے ) دل میں گر الفتِ حیدر کا گُزر ہو جاۓ یہ جہاں چیز ہے کیا عرش بھی سر ہو جاۓ آج جبریل کے استاد کی آمد کا ہے دن کیا تعجب ہے جو دیوار میں در ہو جاۓ نہ ولایت پہ یقیں ہو تو یقینی ہے یہ بات مثلِ ابلیس عبادت ہی صفر ہو جاۓ یہ جو اسلام ہے اک امن کی *دولت کا ہے نام گر نہ ہو حبِّ علی دولتِ شر ہو جاۓ ہو رمق بھر بھی جو حق دل میں تو یہ ممکن ہے مثلِ حُر بُجھتا دیا شمس و قمر ہو جاۓ میں ہوں مدّاح علی بند رکھوں گا نہ زباں پھر یہ دنیا بھلے ایدھر سے ادھر ہو جاۓ حسب توفیق تو اشعار یونہی لکھ شارب کچھ ترے واسطے بھی رخت سفر ہو
  2. غزل (سید اقبال رضوی شارب ) ہاتھ کیا آئیگا خود اپنے کو رسوا کر کے کچھ نہیں پاؤگے ابلیس کو سجدہ کر کے دل کے گلزار کو اک آن میں صحرا کر کے وہ مجھے چھوڑ گیا آنکھوں میں دریا کر کے بس یہی بات ہے جینے کا سہارا اب تو وہ بھی اک کربِ مسلسل میں ہے ایسا کر کے جو پڑوسی ہیں ہمارے وہ ہمی سے نالاں میرے اطوار نے چھوڑا مجھے تنہا کر کے جھوٹ ہی جھوٹ سے روشن ہے زمانہ اب تو بیٹھ جاتا ہوں سرِ شام اندھیرا کر کے اس نے ماحول بنا رکھا ہے یوں ظلم زدہ لب نہ کھولے کوئی حق بات کی چرچا کر کے آپ سے ہم سے چ
  3. مدحتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا (سید اقبال رضوی شارب ) عالمِ نسواں کی زینت فاطمہ رحمتِ عالم پہ رحمت فاطمہ بنت احمد وارثِ خلقِ عظیم کوہِ شفقت اور قناعت فاطمہ حدِّ فاصل کفر و حق کے درمیاں حق پرستی کی علامت فاطمہ آپکے دعوے سے پیدا ہو گئی نطق میں حاکم کے لکنت فاطمہ اسکی خصلت میں ہے بس بغض و نفاق جو نہیں رکھتا مودّت فاطمہ هل أتى کی شکل میں خالق نے دی آپکی روٹی کی قیمت فاطمہ در پہ تیرے آ کے عزرائیل بھی اذن کی رکھتا ہے حاجت فاطمہ عالمِ اسلام ہے ہر طرح سے آپ کا مرہونِ منّت فاطمہ پنجتن کی آج بھی دنیا میں
  4. Thank you Guest sara for liking the ghazal. Many people asked about the lafz "indemal" as it is not commonly used. Indemal means the experience or the feeling of being healed. This ghazal is in the zameen of a very good poet "Feza Ibne Faizy who had also used this qafia. He is no more, he was in the profession of "cloth weaving " in Mau nath BHanjan city of Indian ....but in ghazal he had a special salahiyat. wassalam
  5. غزل (سید اقبال رضوی شارب ) وہ زخم دے کے مجھے اندمال پوچھے گا تڑپتے دیکھے گا اور میرا حال پوچھے گا مری تو جتنی بھی گزری ہے ہجر میں گزری تو مجھ سے کیا کوئی لطفِ وصال پوچھے گا وہ جسکی چاہ میں سب کچھ لٹا دیا میں نے وہی تو زیست کا حاصل مآل پوچھے گا مری تباہی میں جو ہاتھ ہے اسی کا ہے زمانہ مجھ سے بھلا کیا سوال پوچھے گا مرے وجود سے نفرت ہے اسکا سرمایہ ستم بھی ڈھائیگا کیوں ہوں نڈھال پوچھے گا تو کیا کہیگا اسے کیوں بھلا دیا شارب ترا ضمیر اگر یہ سوال پوچھے گا
  6. Revised and updated kalam ba huzoor e Imam e Asr(عليه السلام) Syed Iqbal Rizvi Sharib مولا کی ہوگی دید رہے اس خمار میں کتنی خزائیں دیکھ لیں اس اعتبار میں انسان بد سے ہو گیا بد تر خدا گواہ جب ڈھیل پاگیا کبھی اپنی مہار میں کب تک رہوگے دور ہماری نظر سے تم کیا کچھ کشش نہیں ہے ہماری پکار میں دید ار جانے کس گھڑی ہوگا خبر نہیں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں بس آپکی نظر پہ ہے موقوف زندگی خاکی ہوں کچھ نہیں ہے مرے اختیار میں دورِ جہاد میں بھی کسی کام آسکوں بھٹکیں نہ یہ قدم کبھی راہِ فرار میں دامن پہ کوئی داغ نہ ہی روح پر شکن جنکا ہدف یہ ہو وہی ہونگے شمار میں ہو جاۓ
  7. Salamalikum, How to make supplications is best demonstrated by Ali Bin Husain Imam Zainul Abedeen. Frazdaq ,the prominent Poet of Arabic Litt. wrote a fil badeeh Qaseedah when Crown Prince Hisham Abdul Malik felt belittled the way Imam Zainul Abedeen was given way to Hajr e Aswad by public during a Haj pilgrimage and Hisham pretended that he was not knowing who "the man" is. The Qaseedah is taken in high a esteem in Arabic Litt. Farazdaq`s actual name was Humam Bin Ghalib. He was contemporary of Al Muttannabih, another great Poet of Arabic Litt. Manqabat by Syed Iqbal Rizvi Sharib
  8. (غلامِ امامِ صادق ( ع ڈاکٹر کلب صادق مرحوم (سید اقبال رضوی شارب) ہمارے بیچ نہیں اب وہ عاشقِ صادق جو لمحہ لمحہ جیا بن کے وامقِ صادق وہ سوئی قوم جو جگتی ہے رات بھر یونہی انہیں کے بیچ سے چمکا تھا طارقِ صادق مشن تھا دُور جہالت ہو قوم کی جلدی وہ اس مشن میں رہا بن کے ناطقِ صادق غریب و بے کس و نادار سر اٹھا کے جئیں انھیں کے حق کو اٹھاتا تھا وائقِ صادق وہ با عمَل بھی تھا شیریں زبان ناصح بھی زمانہ اس لئے کہتا تھا شائقِ صادق تھا اجتہاد کا پیرو وہ علم و حکمت میں جدید ذہن جو رکھتا تھا شارقِ صادق بس اس لیے کہ بنے قوم وقت کی پابند نظیر بن کے دکھاتا تھا واثقِ صادق
  9. منقبت (حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا ) سید اقبال رضوی شارب شریکِ کارِ رسولِ خدا ہیں بنت نبی صراطِ حق کے لیے رہنما ہیں بنت نبی تمام دہر کی مشکل کشا ہے ذاتِ علی سکون و راحتِ مشکل کشا ہیں بنتِ نبی نگاہِ رب میں بڑا مرتبہ ہے بی بی کا قران میں سببِ هَلْ اتیٰ ہیں بنتِ نبی شرف کہ مرسلِ اعظم اٹھیں پئے تعظیم تو اس شرف میں تو بعد از خدا ہیں بنتِ نبی خدا نے بھیج کے رضواں کے ہاتھ سے جوڑا ہر اک پہ کر دیا ثابت کے کیا ہیں بنت نبی شہیرِ سورۂ توبہ سوارِ دوشِ رسول علی سے نفس خدا کی انا ہیں بنت نبی رحیم و رحمتِ عالم کے در سے
  10. منقبت سید اقبال رضوی شارب جب نادِ علی میرے آقا کو گوارہ ہے کیا جرم اگر ہم نے حیدر کو پکارا ہے بس دینِ حقیقی کا جب دل میں منارہ ہے دنیا بھی ہماری ہے عقبٰی بھی ہمارا ہے آدم ہوں کہ خاتم ہوں ہر اک نے پکارا ہے پھر کیوں نہ کہیں حیدر ہم سب کا سہارا ہے آیاتِ قرانی کے چنتے ہو غلط مطلب چھوڑا جو درِ حیدر یہ اسکا خسارا ہے عشّاق علی ہی تو عشّاق محمّد ہیں سو انکے لبوں پر ہی من کنتُ کا نعرہ ہے پھر شُومئیِ قِسْمَت کا مت رکھیے گلہ جب کہ قرآں تو ہے ہاتھوں میں عترت سے کنارا ہے چہرے پہ نظر کرنا حیدر کے ،عبادت ہے یہ قولِ محمّد ہی ایمان
  11. سلام سید اقبال رضوی شارب ہر ایک لمحہ یہ تازہ ہے کیا کیا جائے غمِ حسین انوکھا ہے کیا کیا جائے تمام بادِ مخالف نہ کر سکیں خاموش چراغِ غم یونہی جلتا ہے کیا کیا جائے وہ جانتی ہے کہ عمّو نہ آئیں گے پھر بھی کہیں اک آس سی زندہ ہے کیا کیا جائے اِدھر عبادت و راز و نیازِ خالق ہے اُدھر تجلّیِ دنیا ہے کیا کیا جائے ہے آگ خیمے میں ہر سو امام غش میں ہیں فقط پھوپھی کا سہارا ہے کیا کیا جائے جواں بھتیجے کو کاندھوں پہ اٹھا لو زینب امامِ وقت بچانا ہے کیا کیا جائے لکھو سلام نئے دن عزا کے ہیں نزدیک نجات کا یہ سہارا ہے کیا کیا جائے قلیل نفری میں مجلس بپا کرو شارب نظامِ وقت ن
  12. بہ حضور امام حسن ع (سید اقبال رضوی شراب ) حَسَن کو حسنِ ازل کا جو شاہکار کیا سلام یوسفِ کنعاں نے بار بار کیا رموزِ سورۂ کوثر سے ہمکنار کیا حَسَن نے نانا کی عظمت کو ذی وقار کیا وہ طرزِ کار امامت نے اختیار کیا امیرِ ظلم کے مقصد کو تار تار کیا حَسَنْ کی صلح تھی صلحِ حدیبیہ کی طرح کہ جس نے کفر کے چہرے کو آشکار کیا علی کے گھر کے چراغوں کی کیا ثناء کیجے نثار جو بھی کیا حق پہ شاہکار کیا پڑا ہے وقت کبھی جب بھی دینِ افضل پر خدا نے آلِ محمّد پہ انحصار کیا بلند کرتے گئے اہل بیت اسکا وقار یزید یوں نے تو بس دیں کو شرمسار کیا دروغ گوئی ہوئی عام جب سرِ منبر حَسَن نے
  13. Bahot shukria aap dono ka Aqueel and Mariyam wassalam
  14. kalam e aqueedat (ba huzoor e imam e asr as) سیداقبال رضوی شارب تھی آرزو کہ عمر کٹے گی بہار میں کتنی خزائیں دیکھ لیں اس اعتبار میں انسان بد سے ہو گیا بدتر خدا قسم جب ڈھیل پاگیا کبھی اپنی مہار میں بیشک بہت نحیف ہیں لاغر ہیں ہم مگر ثابت قدم ہی نکلیں گے عہد و قرار میں کب تک رہوگے دور ہماری نظر سے تم کیا کچھ کشش نہیں ہے ہماری پکار میں دامن پہ کوئی داغ نہ ہی روح پر شکن کاش ایسا کوئی ہوتا ہماری قطار میں دیدار جانے کس گھڑی ہوگا خبر نہیں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں بس آپکی نظر پہ ہے موقوف زندگی خاکی ہوں کچھ نہیں ہے مرے اختیار میں دورِ جہا
×
×
  • Create New...