Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

sharib

Advanced Member
  • Posts

    1,113
  • Joined

  • Last visited

Profile Information

  • Religion
    Shia Islam

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

3,634 profile views

sharib's Achievements

Newbie

Newbie (1/14)

221

Reputation

  1. سید اقبال رضوی شاربؔ بہ حضور امام رضؑا ع ( on his birth day that fell this week) امامِ ضامن و حق کے ولی کا سلسلہ لے کر مری رحلت ہو دنیا سے تو کم سے کم خطا لے کر کلامِ کبریا لے کر لسانِ مصطفؐیٰ لے کر ہوئی تجدیدِ دینِ حق دروسِ کربلا لے کر رضؑا سے بھائی سے ہمشیر کابے مثل سا رشتہ نہیں ممکن مگر زینبؑ تمہارے نقشِ پا لے کر درِ مولا پہ جانے کا سلیقہ بڑھ کے کہتا ہے رضؑا کا ذکر ہو معصومۂ قم کی رضا لے کر یہ سچ ہے موت نے دہشت میں رکھا تھا زمانے کو پہ شیریں ہو گئی کربل سے مرنے کی ادا لے کر ولی عہدی گراں تھی حق کے داعی کو مزاجاً بھی کیا منظور تدبیراً خدا سے مشورہ لے کر لو اسکے ظلم نے ہارون کو زندہ ہی کب چھوڑا وہ ڈر ڈر کر مرا اپنوں سے سازش کی وبا لے کر حدیثیں لینے نیشا پور اک سیلاب جب امڑا * کہا آئے ہو تو اٹّھو شروطِ لا الہ لے کر کرم کیجے کے پھر حاضر ہو در پر آپکے شاربؔ لبوں پر اپنے ہی اشعار سے مدح و ثنا لے کر *Imam Raza (عليه السلام) was sent by Haroon to Mashad, while on his way ,many people assembled to listen a few ahadith from Imam. Imam narrated with the chain of narrators to the effect that Allah says that la ilaha illalah is the fort of wahdaaniat whosoever comes in this fort is safe and we ahlulbait are the "shroot" شروطِ for this faith. This is known as hadith e zahb.
  2. سید اقبال رضوی شارب کلام عقیدت جھوٹی باتیں بنا رہیں ہیں لوگ سچ سے آنکھیں چرا رہیں ہیں لوگ جس نے پالا ہے دیں کے رہبر کو اس سے دامن بچا رہیں ہیں لوگ جو پنا گاہِ دین و مرسل ہے اس کو کافر بتا رہیں ہیں لوگ تیرا احساں ہے جو ابو طالب حجّ و عمرہ پہ جا رہے ہیں لوگ یہ تو بغضِ علی کی ہے تاثیر جو فضیلت چھپا رہیں ہے لوگ وہ جو کمتر بہت ہیں حیدر سے انکو افضل بتا رہیں ہے لوگ دیکھ شوری میں نام بولے علی مجھکو کس جا بٹھا رہے ہیں لوگ چھوڑ کر باب شہر علم کی رہ کیسے رستوں پہ جا رہے ہیں لوگ شانِ عمراں گھٹا کے کیوں شارب عاقبت کو گنوا رہے ہیں لوگ
  3. سید اقبال رضوی شارب حمد باری تعالیٰ تیرا ممدوح بھی دنیا میں ترا مرسل بھی حمد کرتا ہے جو کل نبیوں میں ہے افضل بھی رحمتوں سے تری کافر بھی اٹھاتے ہیں فیوض رحمتیں تیری ہیں انساں کے لئے مشعل بھی دو عدد پاؤں نے جینا مرا با معنی کیا دیکھا مکّہ بھی مدینہ بھی نجف کربل بھی نعمتِ عین ہیں آنکھوں کے مرے دونوں چراغ یہ جو بجھ جائیں تو دنیا ہو مری بوجھل بھی ہے کرم اسکا کہ حس اب بھی بچی ہے شارب اپنے افکار پہ کر لیتا ہوں کچھ صیقل بھی
  4. Covid -19 has taken a toll of rich and poor alike. There are many important personalities who been deprived of life thereby depriving society of philanthropic work and humanitarian gestures. One such a persona was Waqar Mehdi Rizvi , the editor of Avadhnama Group of Papers who is remembered for his catholic nature and work for the society, who expired as corona patient on 10th May 2021 in Lucknow. اقبال رضوی شارب (تأثرات : وقار رضوی کی رحلت پر ) کھو گئے تم کہاں" وقار" میاں کر گئے سب کو بے قرار میاں کوہ سے جیسے دودھیا جھرنا تم تھے اک ایسے آبشار میاں کوچے اس شہر کے سوالی ہیں ہے کہاں میرا افتخار میاں سر پھرے حکمراں کے دم سے ہے سارا لاشوں کا کاروبار میاں وقت سے پہلے مر گئے کتنے وہ نہیں پھر بھی شرم سار میاں تم نہ میری تھے اور نہ سودائی تم رہے حق کے طرف دار میاں لغزشیں در گزر وہ کرتا ہے رب نہیں رکھتا داغدار میاں قبر میں دیدِ مرتضیٰ ہوگی ٹھہرے تم حق کے شہ سوار میاں مولا عبّاس کے غلام ہو تم ہوگا برزخ کا بیڑا پار میاں پیروی تم نے اہل بیت کی کی عاقبت ہوگی سائے دار میاں بخش دے گا کہ وہ کریم جو ہے یوں تو شارب ہے گنہ گار میاں
  5. Salam and welcome back. When ShiaChat went through an upgrade in 2017, some fonts (Arabic, Farsi and Urdu) stopped working. Your topic Neda Ye Aayegee Hum Doosra Nahin Rakhte from 2012 was one of the posts that no longer shows the Urdu fonts. You are welcome to create a new topic with the correct fonts, if you still have the text.

    If you do not still have the text, I am sorry. You could reply in that old topic and ask members to check their own computer to look for the poem, if they copied your Urdu words to their own device.

    For all future posts with Urdu fonts, please keep a copy for your own records. We cannot know or guarantee if a similar incident might or might not occur.  

    1. sharib

      sharib

      salamalikum Hameedeh,

      thank you for responding .

      When I write anew Kalam , I always put it up first on Shiachat Urdu section.

      I was under the impression that it is safe here, but you clarified that it is not so.

      Ok what can we do .

      Anyways thank you again 

      Sharib 

       

       

  6. سید اقبال رضوی شارب (بہ حضور امام عالی مقام ) (shaban 3rd is the day of birth) ترے حضور میں اے عبدِ بے مثال سلام اے نورِ چشمِ محمّد علی کے لال سلام کسی کو وہ بھی دیا جو نصیب میں ہی نہ تھا بہ اِذْن رب کیے طفلی میں کیا کمال سلام چلا جو دین پہ خنجر پسِ رسول تو پھر گلا بڑھا دیا تو نے بطورِ ڈھال سلام ترا جہاد اک ایسا جوابِ بیعت تھا اٹھا نہ پھر کوئی ایسا کبھی سوال سلام کمالِ ظلم سے اونچا رہا ہے صبر ترا تو صابروں میں ہے وہ نقطۂ کمال سلام وہ ضرب کاری لگی کربلا کے جنگل میں کہ زخمِ کفر ہے تازہ بے اندمال سلام وہ حُر جو راندہِ درگاہِ زندگی ہوتا اسے بھی کر دیا گوہر بہ مثل لعل سلام لٹا کے دولتِ احباب اور جگر پارے ہے لب پہ شکرِ خدا غم نہ کچھ ملال سلام وہ اک صغیر جو نصرت کو تیری آیا تھا حیات اسکی تھی لے دے کے نصف سال سلام ہوئی جو حاضری در پر وہ خواب جیسی تھی عطا طویل ہو شارب کو اک وصال سلام
  7. سید اقبال رضوی شارب (منقبت مولا علی ١٣ رجب کے حوالے سے ) دل میں گر الفتِ حیدر کا گُزر ہو جاۓ یہ جہاں چیز ہے کیا عرش بھی سر ہو جاۓ آج جبریل کے استاد کی آمد کا ہے دن کیا تعجب ہے جو دیوار میں در ہو جاۓ نہ ولایت پہ یقیں ہو تو یقینی ہے یہ بات مثلِ ابلیس عبادت ہی صفر ہو جاۓ یہ جو اسلام ہے اک امن کی *دولت کا ہے نام گر نہ ہو حبِّ علی دولتِ شر ہو جاۓ ہو رمق بھر بھی جو حق دل میں تو یہ ممکن ہے مثلِ حُر بُجھتا دیا شمس و قمر ہو جاۓ میں ہوں مدّاح علی بند رکھوں گا نہ زباں پھر یہ دنیا بھلے ایدھر سے ادھر ہو جاۓ حسب توفیق تو اشعار یونہی لکھ شارب کچھ ترے واسطے بھی رخت سفر ہو جاۓ Daulat yahan aam maani mein bhi hai aur" Mulk " (nation)k maani mein bhi.
  8. غزل (سید اقبال رضوی شارب ) ہاتھ کیا آئیگا خود اپنے کو رسوا کر کے کچھ نہیں پاؤگے ابلیس کو سجدہ کر کے دل کے گلزار کو اک آن میں صحرا کر کے وہ مجھے چھوڑ گیا آنکھوں میں دریا کر کے بس یہی بات ہے جینے کا سہارا اب تو وہ بھی اک کربِ مسلسل میں ہے ایسا کر کے جو پڑوسی ہیں ہمارے وہ ہمی سے نالاں میرے اطوار نے چھوڑا مجھے تنہا کر کے جھوٹ ہی جھوٹ سے روشن ہے زمانہ اب تو بیٹھ جاتا ہوں سرِ شام اندھیرا کر کے اس نے ماحول بنا رکھا ہے یوں ظلم زدہ لب نہ کھولے کوئی حق بات کی چرچا کر کے آپ سے ہم سے چھپا تو نہیں سب جانتے ہے پہنچا ایوان حکومت میں وہ کیا کیا کر کے کیوں ستم ڈھائے زمانے کے بھلا ان سب پر جو تھے فرزند نبی زینتِ بطحا کر کے اب بھی کچھ دیر نہیں راہِ ندامت پکڑو مثلِ حُر بخش دیے جاؤگے توبہ کر کے بادلِ ظلم کو چھٹنا ہے سو چھٹ جائے گا ہاں مگر یوں نہ ہو اخلاق کو عنقا کر کے یہ بھی اک پھانس ہمیشہ کی ہے دل میں شارب اس نے کچھ بھی نہ کہا مجھ سے کنارہ کر کے
  9. مدحتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا (سید اقبال رضوی شارب ) عالمِ نسواں کی زینت فاطمہ رحمتِ عالم پہ رحمت فاطمہ بنت احمد وارثِ خلقِ عظیم کوہِ شفقت اور قناعت فاطمہ حدِّ فاصل کفر و حق کے درمیاں حق پرستی کی علامت فاطمہ آپکے دعوے سے پیدا ہو گئی نطق میں حاکم کے لکنت فاطمہ اسکی خصلت میں ہے بس بغض و نفاق جو نہیں رکھتا مودّت فاطمہ هل أتى کی شکل میں خالق نے دی آپکی روٹی کی قیمت فاطمہ در پہ تیرے آ کے عزرائیل بھی اذن کی رکھتا ہے حاجت فاطمہ عالمِ اسلام ہے ہر طرح سے آپ کا مرہونِ منّت فاطمہ پنجتن کی آج بھی دنیا میں ہے قلبِ مومن پر حکومت فاطمہ آپ کے صدقے میں کی اللہ نے عالمِ دوراں کی خلقت فاطمہ قبر اطہر ہاتھ سے مَس کر سکوں کیجیے حالات مثبت فاطمہ یہ جو کچھ اشعارِ مدحت ہو گئے آپکی نظرِ عنایت فاطمہ آپ سے شارب ہے یوں گریہ کناں بخش دیں نسلوں میں مدحت فاطمہ
  10. Thank you Guest sara for liking the ghazal. Many people asked about the lafz "indemal" as it is not commonly used. Indemal means the experience or the feeling of being healed. This ghazal is in the zameen of a very good poet "Feza Ibne Faizy who had also used this qafia. He is no more, he was in the profession of "cloth weaving " in Mau nath BHanjan city of Indian ....but in ghazal he had a special salahiyat. wassalam
  11. غزل (سید اقبال رضوی شارب ) وہ زخم دے کے مجھے اندمال پوچھے گا تڑپتے دیکھے گا اور میرا حال پوچھے گا مری تو جتنی بھی گزری ہے ہجر میں گزری تو مجھ سے کیا کوئی لطفِ وصال پوچھے گا وہ جسکی چاہ میں سب کچھ لٹا دیا میں نے وہی تو زیست کا حاصل مآل پوچھے گا مری تباہی میں جو ہاتھ ہے اسی کا ہے زمانہ مجھ سے بھلا کیا سوال پوچھے گا مرے وجود سے نفرت ہے اسکا سرمایہ ستم بھی ڈھائیگا کیوں ہوں نڈھال پوچھے گا تو کیا کہیگا اسے کیوں بھلا دیا شارب ترا ضمیر اگر یہ سوال پوچھے گا
  12. Revised and updated kalam ba huzoor e Imam e Asr(عليه السلام) Syed Iqbal Rizvi Sharib مولا کی ہوگی دید رہے اس خمار میں کتنی خزائیں دیکھ لیں اس اعتبار میں انسان بد سے ہو گیا بد تر خدا گواہ جب ڈھیل پاگیا کبھی اپنی مہار میں کب تک رہوگے دور ہماری نظر سے تم کیا کچھ کشش نہیں ہے ہماری پکار میں دید ار جانے کس گھڑی ہوگا خبر نہیں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں بس آپکی نظر پہ ہے موقوف زندگی خاکی ہوں کچھ نہیں ہے مرے اختیار میں دورِ جہاد میں بھی کسی کام آسکوں بھٹکیں نہ یہ قدم کبھی راہِ فرار میں دامن پہ کوئی داغ نہ ہی روح پر شکن جنکا ہدف یہ ہو وہی ہونگے شمار میں ہو جاۓ اسکی روح کو بالیدگی عطا شارب پھنسا ہے زیست کے لیل و نہار میں
  13. Salamalikum, How to make supplications is best demonstrated by Ali Bin Husain Imam Zainul Abedeen. Frazdaq ,the prominent Poet of Arabic Litt. wrote a fil badeeh Qaseedah when Crown Prince Hisham Abdul Malik felt belittled the way Imam Zainul Abedeen was given way to Hajr e Aswad by public during a Haj pilgrimage and Hisham pretended that he was not knowing who "the man" is. The Qaseedah is taken in high a esteem in Arabic Litt. Farazdaq`s actual name was Humam Bin Ghalib. He was contemporary of Al Muttannabih, another great Poet of Arabic Litt. Manqabat by Syed Iqbal Rizvi Sharib خطبوں سے اپنے تخت پہ یلغار کر گیا کیا بے نظیر کام گرفتار کر گیا کردارِ اہلِ بیت ہیں جنکو چراغ رہ انکی شفاعتوں کا وہ اقرار کر گیا `انکی جبینِ پاک سے پھیلا جو نورِ خاص وہ تیرگیِ دہر کو ضو بار کر گیا کوشش کے باوجود بھی قاتل نہ چھپ سکا سب کوششیں وہ ظلم کی بے کار کر گیا اُن جیسا کوئی نام بھی رکھتا نہیں ہے اب باطل کو اس طرح سے وہ مسمار کر گیا جمِ غفیر کائی کی مانند جب چھٹا لعنت کی گو ہشام پہ بوچھار کر گیا بولا ہشام میں تو انہیں جانتا نہیں یہ فقرہ اک محب کا دل آزار کر گیا بولے ہمام کون انہیں جانتا نہیں عظمت کا جسکی کعبہ بھی اظہار کر گیا اس مختصر مناقبِ زَيْن ٱلْعَبا کے بعد شارب بھی خود کو خلد کا حقدار کر گیا
  14. (غلامِ امامِ صادق ( ع ڈاکٹر کلب صادق مرحوم (سید اقبال رضوی شارب) ہمارے بیچ نہیں اب وہ عاشقِ صادق جو لمحہ لمحہ جیا بن کے وامقِ صادق وہ سوئی قوم جو جگتی ہے رات بھر یونہی انہیں کے بیچ سے چمکا تھا طارقِ صادق مشن تھا دُور جہالت ہو قوم کی جلدی وہ اس مشن میں رہا بن کے ناطقِ صادق غریب و بے کس و نادار سر اٹھا کے جئیں انھیں کے حق کو اٹھاتا تھا وائقِ صادق وہ با عمَل بھی تھا شیریں زبان ناصح بھی زمانہ اس لئے کہتا تھا شائقِ صادق تھا اجتہاد کا پیرو وہ علم و حکمت میں جدید ذہن جو رکھتا تھا شارقِ صادق بس اس لیے کہ بنے قوم وقت کی پابند نظیر بن کے دکھاتا تھا واثقِ صادق بڑی عزیز تھی انساں کی اسکو یک جہتی سو شرق و غرب ملاتا تھا فائقِ صادق جدا جدا سا دکھا سب کے درمیاں شارب وہ اپنے آپ میں یکتا تھا عاشقِ صادق Since most of the qafiyas are not so common, a loose equivalent is given for each one. Wamiq-mohbbat karne wala Tariq- Morning Star Natiq- spokesperson Waiq- supporter Shaiq- keen, shauq rakhne wala Shariq-Radiant Wasiq- full of ya queen Faiq- elevated, burgazeedah
×
×
  • Create New...