Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

sharib

Advanced Member
  • Content Count

    1,097
  • Joined

  • Last visited

About sharib

  • Rank
    Level 4 Member

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

3,351 profile views
  1. منقبت سید اقبال رضوی شارب جب نادِ علی میرے آقا کو گوارہ ہے کیا جرم اگر ہم نے حیدر کو پکارا ہے بس دینِ حقیقی کا جب دل میں منارہ ہے دنیا بھی ہماری ہے عقبٰی بھی ہمارا ہے آدم ہوں کہ خاتم ہوں ہر اک نے پکارا ہے پھر کیوں نہ کہیں حیدر ہم سب کا سہارا ہے آیاتِ قرانی کے چنتے ہو غلط مطلب چھوڑا جو درِ حیدر یہ اسکا خسارا ہے عشّاق علی ہی تو عشّاق محمّد ہیں سو انکے لبوں پر ہی من کنتُ کا نعرہ ہے پھر شُومئیِ قِسْمَت کا مت رکھیے گلہ جب کہ قرآں تو ہے ہاتھوں میں عترت سے کنارا ہے چہرے پہ نظر کرنا حیدر کے ،عبادت ہے یہ قولِ محمّد ہی ایمان
  2. سلام سید اقبال رضوی شارب ہر ایک لمحہ یہ تازہ ہے کیا کیا جائے غمِ حسین انوکھا ہے کیا کیا جائے تمام بادِ مخالف نہ کر سکیں خاموش چراغِ غم یونہی جلتا ہے کیا کیا جائے وہ جانتی ہے کہ عمّو نہ آئیں گے پھر بھی کہیں اک آس سی زندہ ہے کیا کیا جائے اِدھر عبادت و راز و نیازِ خالق ہے اُدھر تجلّیِ دنیا ہے کیا کیا جائے ہے آگ خیمے میں ہر سو امام غش میں ہیں فقط پھوپھی کا سہارا ہے کیا کیا جائے جواں بھتیجے کو کاندھوں پہ اٹھا لو زینب امامِ وقت بچانا ہے کیا کیا جائے لکھو سلام نئے دن عزا کے ہیں نزدیک نجات کا یہ سہارا ہے کیا کیا جائے قلیل نفری میں مجلس بپا کرو شارب نظامِ وقت ن
  3. بہ حضور امام حسن ع (سید اقبال رضوی شراب ) حَسَن کو حسنِ ازل کا جو شاہکار کیا سلام یوسفِ کنعاں نے بار بار کیا رموزِ سورۂ کوثر سے ہمکنار کیا حَسَن نے نانا کی عظمت کو ذی وقار کیا وہ طرزِ کار امامت نے اختیار کیا امیرِ ظلم کے مقصد کو تار تار کیا حَسَنْ کی صلح تھی صلحِ حدیبیہ کی طرح کہ جس نے کفر کے چہرے کو آشکار کیا علی کے گھر کے چراغوں کی کیا ثناء کیجے نثار جو بھی کیا حق پہ شاہکار کیا پڑا ہے وقت کبھی جب بھی دینِ افضل پر خدا نے آلِ محمّد پہ انحصار کیا بلند کرتے گئے اہل بیت اسکا وقار یزید یوں نے تو بس دیں کو شرمسار کیا دروغ گوئی ہوئی عام جب سرِ منبر حَسَن نے
  4. Bahot shukria aap dono ka Aqueel and Mariyam wassalam
  5. kalam e aqueedat (ba huzoor e imam e asr as) سیداقبال رضوی شارب تھی آرزو کہ عمر کٹے گی بہار میں کتنی خزائیں دیکھ لیں اس اعتبار میں انسان بد سے ہو گیا بدتر خدا قسم جب ڈھیل پاگیا کبھی اپنی مہار میں بیشک بہت نحیف ہیں لاغر ہیں ہم مگر ثابت قدم ہی نکلیں گے عہد و قرار میں کب تک رہوگے دور ہماری نظر سے تم کیا کچھ کشش نہیں ہے ہماری پکار میں دامن پہ کوئی داغ نہ ہی روح پر شکن کاش ایسا کوئی ہوتا ہماری قطار میں دیدار جانے کس گھڑی ہوگا خبر نہیں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں بس آپکی نظر پہ ہے موقوف زندگی خاکی ہوں کچھ نہیں ہے مرے اختیار میں دورِ جہا
  6. ba huzoor e Imam e Asr (atf) PAHLE DIN SE (Syed Iqbal Rizvi Sharib) ibne adam hun gunahgar hun pahle din se aur shafaat ka talabgar hun pahle din se main k ek hasrat e deedar hun pahle din se teri ulfat mein giraftar hun pahle din se mujhko sehat se yh beemari bhali hai maula main tere ishq mein beemar hun pahle din se tu ne de de k sahara mujhe baqui rakkha warna girti huee deewar hun pahle din se tum to waqif ho mere zaahir o baatin kya hain ba khuda Shah ka azaadar hun pahle din se s
  7. salamalikum, Barai mehrbani is sher وفا تھی آخری حد پر میانِ احمد و حیدر شہنشاہِ وفا وہ حد بھی پیچھے چھوڑے جاتے ہیں ko yun padhein وفا کی آخری وہ حد جو طے کی تھی زمانے نے شہنشاہِ وفا اُس حد کو پیچھے چھوڑے جاتے ہیں
  8. مدحت مولا عبّاس (سید اقبال رضوی شارب) Misra e tarah hai ""لئے عبّاس کو گودی میں حیدر مسکراتے ہیں " فرشتے جھومتے جنّ و بشر آنکھیں بچھاتے ہیں علی کے گھر میں لو عبّاس ڈھارس بن کے آتے ہیں قسیمِ نار و جنّت سے جو مومن لو لگاتے ہیں کبھی بہکیں بھی تو وہ راہ حق پر لوٹ آتے ہیں جہاں حسنین سے شمس و قمر آنگن میں ہوں روشن وہاں عبّاس مثلِ نجم خود بھی جگمگاتے ہیں خطِ عصمت سے گویا فاصلہ کچھ بھی نہیں انکا نہیں معصوم پھر بھی عصمتی جوہر دکھا تے ہیں کوئی اپنی شباہت دیکھ ہولے سے ہو خوش جیسے "لئے عبّاس کو گودی میں حیدر مسکراتے ہیں " جری کی شدّتِ دھاکِ شجاعت کو سلام اپنا فقط نظروں سے
  9. سید اقبال رضوی شارب (بحضور پانچویں علی امام محمّد باقر ع ) قراں میں شجرۂ طیّب کی جو تحریر رکھتے ہیں وہی شبّر بھی رکھتے ہیں وہی شبّیر رکھتے ہیں کھلے کیونکر نہ پھر ان سے طریقِ علم و فن آخر بطورِ جد جو شہرِ علم کی جاگیر رکھتے ہیں خوشی سے جھوم اٹھی جابر کی پتھرائی ہوئی آنکھیں ملیں پانچوں علی سے سب کہاں تقدیر رکھتے ہیں * نہ اسکی چل سکی دھمکی چلا سکّہ الہی کا ** شرِ قیصر کی مولا ایسی کچھ تدبیر رکھتے ہیں زمانہ کرتا آیا دشمنی عصمت کے پاروں سے کچھ اب بھی اپنے دل میں بغض کی شمشیر رکھتے ہیں وہی جس در
  10. wassalam bhai Jazakallah bhot shukria marhoomeen key haq mein aap ne dua ki.
  11. منقبت حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا ( سید اقبال رضوی شارب ) مادرِ حسنین اور امِّ ابیہا فاطمہ ساقیِ کوثر کی لا ثانی رفیقہ فاطمہ جسکو بلواتا سرِ دربار اے حاکم وہ ہے مرکزِ تطہیر ،صِدِّیقہ حنیفہ فاطمہ آج تک ہے دم بہ خود غاصب ترے خطبے کے بعد آئینہ قرآں کا وہ تونے دکھایا فاطمہ سورۂ کوثر ہوئی نازل ستائش میں تری انِّما نے بڑھ کے خود حلقہ بنایا فاطمہ فیض کل پاتا رہا سرکار سے صنفِ قوی صنفِ نازک نے بہت کچھ تجھ سے پایا فاطمہ کون بن سکتا تھا حیدر کی بھلا ڈھال و سپر وہ بھی تو نے بعد مرسل کر دکھایا فاطمہ مل نہیں سکتی شفاعت ہے یق
  12. Salaam alikum, aap sabhi hazraat ka main tah e dil se mamnoon hun k aap ne meri diljuee ka saman mohaiyya kiya. aur himmat bandhai. jawab mein Der is liye huee k waldeh ke inteqal ke 11 wen din mere bradar e nisbati (chhoti bahan key shauhar) syed haider raza bhi is dar e fani se kooch kr gaye. Ek sura e fateha ki aur guzarish hai. wassalam
  13. Dear co-members, With a very heavy heart I am penning down these few words that my mother Mrs. Kaniz Murtaza,bint e Fazal Imam left for heavenly abode on Dec 30th 2019. Inna lillahe wa inna ilahe rajeoon. I rushed to Lucknow from Doha to see her for the last time and came back today only. She was my first teacher who taught me Arabic for the purpose of Qur'an recitation even before she sent me to the nursery class. Right now I can not write what all is coming to my memories . I lost my father 10 years ago on 28th Dec 2009. A thread "ab main yateem hun " was written then in this Urdu
  14. سید اقبال رضوی "شارب " بہ حضور امام حسن عسکری( ع جشْن مولا جو مناؤ تو کوئی بات بنے مل کے نعرہ جو لگاؤ تو کوئی بات بنے مسکراہٹ سے چمک اٹّھے یہ دنیا ساری عید اک ایسی مناؤ تو کوئی بات بنے عسکری رعب ہو اخلاق مدینے والا ایسا رہبر کہیں پاؤ تو کوئی بات بنے بولے ہادیِ دہم خط مرا لے جاؤ بشیر* بی بی نرجس کو جو لاؤ تو کوئی بات بنے کھا کے مات اپنے ہی شاگردوں سے بولا اسحاق ** مجھ کو مولا سے ملاؤ تو کوئی بات بنے معتمد نام تھا اور قتل کیا تھا عمداً یہ حقیقت نہ چھپاؤ تو کوئی بات بنے جیتے جی قید تھے جس جا وہی مدفن ٹھہرا کچھ مصائب بھی سناؤ تو کوئی بات بنے دل زیارت سے کبھ
×
×
  • Create New...