Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

sharib

Advanced Member
  • Posts

    1,129
  • Joined

  • Last visited

Profile Information

  • Religion
    Shia Islam

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

4,070 profile views

sharib's Achievements

  1. Demolition of the Mazars at Jannatul Baqui in 1925 was not the first attempt...It is Strange that Mazar of Rasool e Khuda (صلى الله عليه وآله وسلم) is standing just in front of Jannatul Baqui and condemning the act and fatwa of demolition of Jannatul Baqui. First two ashaar come from this background...Syed Iqbal Rizvi Sharib. مرتبہ کیا رہ گیا پھر آیتِ تطہیر کا روضۂ اقدس جو ڈھایا مادرِ شبّیر کا گنبدوں کے ڈھانے والے ہوش کے ناخن تو لے گنبدِ خضرا ہے خود ہی فلسفہ تعمیر کا یہ ہیں عبّاسِ جری رتبہ نہ انکا پوچھئے رکھتے ہیں ورثہ یہ سارا حیدری شمشیر کا دم بہ خود بیٹھے تھے سب کے سب عدو دربار میں کس نہج سے ذکر ہو زینب تری تقریر کا جوش قاسم دیدنی تھا جنگ کے ہنگام میں حرف اک اک جی رہے تھے باپ کی تحریر کا خواب میں بولے ملک شارب ذرا مدحت تو لکھ اک نمونہ دے دیا میں نے مری تحریر کا
  2. Manqabat Bibi Fatima sa یہ کوثر فاطمہ کا ہے یہ جنّت فاطمہ کی ہے جو سچ پوچھو تو عالم پر حکومت فاطمہ کی ہے  انھیں کے بیٹے ہیں سردار جنّت کے جوانوں کے کفو ہے ساقیِ کوثر یہ عظمت فاطمہ کی ہے قراں شاہد ہے جس کی عزّت و تطہیر و عصمت کا وہ مدحت فاطمہ کی ہے فضیلت فاطمہ کی ہے  نگاہِ رب میں جو ہم سب کے ایمانوں کا جز ٹھہرے وہ قربت آلِ زہرا کی مودّت فاطمہ کی ہے فدک کے غاصبوں کو انکے ایواں میں ہی للکارہ یہ ہمّت فاطمہ کی ہے یہ جرأت فاطمہ کی ہے حدیثِ کِذب کو قرآن کے میزاں پہ جب تولا زبانِ خلق یہ بولی عدالت فاطمہ کی ہے شریکِ کارِ مرسل اور ماں کتنے اماموں کی تو یوں سمجھو نبوّت اور امامت فاطمہ کی ہے نہیں کر سکتے گریہ کھل کے مومن جس جگہ شارب نگر وہ فاطمہ کا ہے وہ تربت فاطمہ کی ہے
  3. آہ مولا علیؑسید اقبال رضوی شاربؔمسجد میں علیؑ شیرِ خدا قتل ہوا ہےاسلام کی تاریخ کا یہ بابِ سیہ ہےہر فتح ترے نام ہے ہر غزوہ ترا ہےتجھ سا کوئی کرّار نہ دیکھا نہ سنا ہےہے کب کوئی آقا کا صحابی علیؑ جیساسمجھو تو یہ قرآں میں خدا بول رہا ہےحکمت ہو شُجاعت ہو سخاوت کہ عبادتاولیٰ مرے مولا کا ہی نقشِ کفِ پا ہےروتے ہیں سبھی سبطِ نبی قنبر و میثممومن کے کلیجوں پہ بڑا ظلم ہوا ہےجز خالق اکبر تھا رسالت کا جو شاہدمعبود کے سجدے میں اسے مارا گیا ہےجبریلؑ بھی ششدر ہیں کہ استاد کو انکےکیا خوب صلہ قومِ مسلماں نے دیا ہے بو جہلی سیاست کے ہیں دیوان منوّر اسلام کے ایوان میں اک حشر بپا ہے شعبِ ابی طالب ہو کہ یثرب کی فصیلیں ہر وادیِ بطحا کا حجر محوِ بکا ہے گریہ جو مصائب پہ ترے کرتا ہے شاربؔکیوں کر نہ کرے عشق علیؑ خوں میں بسا ہے
  4. منقبت امام حسن ( ع ) سید اقبال رضوی شارب (Ramzan Fifteenth is the birthday of IMAM HASAN as.) آنگن میں فاطمؑہ کے یہ پہلا گلاب ہے اب وہ أبوَ الحسنؑ بھی ہے جو بو ترابؑ ہے شبّؑر کا بچپنا ہے علیؑ کا شباب ہے اس گھر پہ رحمتوں کا صلہ بے حساب ہے تشبیہ میں خلوص میں اطوار و فکر میں مولا حسنؑ رسول کی عکسی کتاب ہے وہ جس نے صلح توڑ کے فتنہ بپا کیا قرآں کی رو سے اس پہ خدا کا عتاب ہے جس جس نے بو تراب سے دامن بچا لیا ان سب کی دو جہان میں مٹّی خراب ہے ہم کو حدیثِ کشتی ہے ضامن نجات کی کشتی پہ جو سوار ہے وہ کامیاب ہے شاربؔ حسنؑ کے دشمنِ دیرینہ کی نہ پوچھ دونو جہاں میں تختۂ مشقِ عذاب ہے
  5. ماہِ رمضان (سید اقبال رضوی شارب ) گیا رجب گیا شعبان آ گیا رمضان تو اب تو جاگ تجھے ہو گیا ہے کیا نادان سنا ہے قید میں آ جاتا ہے بڑا شیطان سو اس مہینے میں کرتا ہے کم گنہ انسان اسی مہینے میں مولا حسنؑ کی آمد ہے تو پھر سجائیں نہ کیونکر انہیں کا دَسْتَر خوان بلائیں صوم سے آراستہ رفیقوں کو غروبِ شمس پہ کِھلوائیں خوش مزہ پکوان یہی مہینہ ہے جسمیں نہیں کوئی تفریق وہ کوئی عام سا انساں ہو یا بڑا سلطان ہر ایک گھر میں تبرّک کا سلسلہ پہنچے وہ کوئی اپنا ہو یا دور کا ہو یا انجان یہ جتنی مسجدیں ہر اک طرف ہمارے ہیں خدا کے ہوتے ہیں انمیں ہزار ہا مہمان وہ جس نے فاطمہ زہرا کا دل دکھایا تھا سنا ہے وقت نزع اسکے لب پہ تھا ہذیان جو کہہ رہا تھا کہ کافی ہے یہ کتاب بہت کتاب سے کوئی مشکل نہ کر سکا آسان اسی مہینے کی آخر کی طاق راتوں میں خدا نے قلب نبی پر اتارا تھا قرآن ہوئی تھی بدر میں جو فتح وہ بھی یاد کرو تھی ہجری دوسری اور ماہ وہ بھی تھا رمضان صدا وہ "فُزْتُ "کی ضربت کے ساتھ جب گونجی نمازیوں نے یہ جانا ولی ہوا قربان کریم تو ہے اے مالک گناہ بخش مرے مجھے نجات ملے یوں بھی ہو ترا احسان کلام یہ بھی تو شامل کیا ہی جائے گا چَھپے گا گر کبھی شاربؔ کوئی ترا دیوان
  6. خیمے سے کوئی دم کو اجالا نہیں گیا کلام از سید اقبال رضوی شارب (revised and extended) ہے کون سا وہ ظلم جو ڈھایا نہیں گیا لیکن علی کے عشق کا سودا نہیں گیا لگتا ہے یوں کہ عقل پہ پرکھا نہیں گیا قرآں کو رٹ لیا گیا سوچا نہیں گیا ہوتا نہ پھر طلاقِ ثلاثہ میں کوئی پیچ سچ یہ ہے آیتوں کو سنبھالا نہیں گیا آیات وہ قراں کی جو روشن ہیں مثلِ مہر ان سب کو "اتّفاق" سے سمجھا نہیں گیا حیدر نے پائی دوشِ نبی پر جو رفعتیں واں تک طیورِ فکر سے پہنچا نہیں گیا بو زر کے ساتھ میثم و قنبر بھی ہیں مثال جور و ستم سے سچ کو مٹایا نہیں گیا کھل جاتے ذہن و دل کے دریچے خدا گواہ کچھ ایسا باب علم سے پوچھا نہی گیا جو معترض ہے اب بھی عزائے حسین کا اس تک تو دینِ حق کا اجالا نہیں گیا معتوب ہی رہا وہ فرشتہ تمام عمْر جب تک درِ حسین پہ لایا نہیں گیا حُر آ گیا ادھر سے ادھر حق کی جیت ہے باطل کی سمت ایک بھی بندا نہیں گیا جب بجھ گئے چراغ تو حق نور دے اٹھا خیمے سے کوئی دم کو اجالا نہیں گیا دنیا میں اسکی خواہشِ فردوس رہ گئی "جو شخص کربلائے معلیٰ نہیں گیا" اصغر تری ہنسی میں نہاں تھی وہ کاری ضرب پتھر سے قلب والوں سے سنبھلا نہیں گیا شارب نمازیں پڑھتے ہوئے عمر ہو چلی لیکن عبادتوں میں بھٹکنا نہیں گی
  7. Manqabatبہ حضور امام عصر ( ع )(سید اقبال رضوی شارب )رجب کے شہر میں شعبان کے مہینے میںفلک سے رحمتیں اتریں زمیں کے سینے میںبھٹک رہے ہیں ہم آقا بنامِ ہجرِ طویلیہ کوئی جینا ہے کیا لطف ایسے جینے میںہے انتظار ترا اے امام عصر کہ ہمکوئی تو پائیں گے موقع ترے سفینے میںگناہ گار بہت ہیں, مرے امام ,پہ ہمولایتِ علی رکھتے ہیں اپنے سینے میںکرم کا اسکے سہارا تری شفا کا یقیںنجات ورنہ کہاں ہے مرے قرینے میںاسے فضیلتِ مولا علی کھٹکتی ہےنکل گیا جو بہت دور بغض و کینے میںوہ ایک اشکِ ندامت ہی حُر کے کام آیاچُھپی تھی بخششِ سرور اسی نگینے میںفقط یہ خام خیالی تلک نہ بات رہےچراغِ زیست بھجے یا خدا مدینے میںعروج دے مجھے خالق وہاں تلک شاربکہ حُب علی کی بہے خون اور پسینے میں
  8. Ba Huzoor e Imam e Asr(عليه السلام) منقبت (سید اقبال رضوی شارب ) اوجِ مہؑدی ہے الگ یوسفؑ ہیں کیا گلفام کیا اُنکی طاعت میں ہیں سب خورشید کیا اجرام کیا پیر و مرشد تو بتا باطل سے تجھ کو کام کیا مل رہا ہے واں سے کچھ تجھ کو حسیں انعام کیا گر نہیں حبِّ علیؑ پھر معتبر کچھ بھی نہیں ذکر کیا تکبیر کیا صلوات کیا احرام کیا نرم گوشہ اُنکا ہے سب دشمنانِ آل سے شِمْر کیا حجّاج کیا ہارون کیا صدّام کیا رزق کا وعدہ ہے اُسکا علم تم پر فرض ہے علم سے جو دور ہے پائیگا وہ اسلام کیا اقلیّت میں تم ہو گر تب چاہتے ہو عدل ہو ملتے ہی کثرت مگر کرتے ہو قتلِ عام کیا ہم تو تم کو جان سمجھیں تم وبالِ جاں ہمیں کچھ صلہ رحمی کا تم نے بھی سنا ہے نام کیا نصِّ قرآں سے بھی صاحب آپ کچھ سمجھے نہیں چھوڑ کر عترت کا در دیکھیں ہوا انجام کیا اُسکی وحدت نے تری جھکنے نہ دی شاربؔ جبیں وقت کیا حالات کیا اصنام کیا حکّام کیا
  9. منقبت ( سید اقبال رضوی شارب) اللہ مرے نصیب میں فکرِ رسا رہے دل میں ہمیشہ الفتِ صلّے عَلَى رہے خلقت پہ کیوں نہ اسکا اجارہ بنا رہے ہاتھوں میں جس کے زلفِ رسولِ خدا رہے ہر قاتلانِ آلِ عبا پر ہیں لعنتیں ہارون ہو یا پھر وہ *ابو سابغہ رہے یارب یہی دعا ہے کہ ہر آن دہر میں مجھکو خیالِ مرضیِ مشکل کشا ر ہے کوتاہی کچھ نہ ہو کبھی حقِّ امام میں لازم جو ہم پہ اجر ہے وہ سب ادا رہے خلقِ عظیم ہیں مرے آقا تو کیوں نہ پھر ہم سب کے بھی خلوص کا پرچم اٹھا رہے کاندھوں پہ بت شکن کبھی حسنین پشت پر چشمِ تصوّراں میں یہ منظر سجا رہے شارب تلاش حق ہے تو حیدر کے در پہ جا مرسل بھی پھر ترا ہو خدا بھی ترا رہے ابو سابغہ : Abu Saabigha yaani Shimr ( Qatil-e Imam Husain ki kunniyat thi)
  10. shukria bahot AbdusSibtain.... do ashaar aur bhi dekhein isee kalam ke.... ایک لغزش شعر میں دانستہ میں نے چھوڑ دی پھر سخن دانوں میں چرچا رات بھر میرا ہوا چند نوحے چند آنسو مختصر سینے پہ داغ کچھ برائے آخرت زادِ سفر میرا ہوا
  11. کلامِ عقیدت (سید اقبال رضوی شارب ) مطلعِ مدحت کہا جنّت میں گھر میرا ہوا کیا تعجّب عرش پر چرچا اگر میرا ہوا ذکر نے شبّیر کے شُسْتَہ زبانی دی مجھے عاشقانِ حق میں لہجہ معتبر میرا ہوا بولے شہ عبّاس جاؤ حُر کے استقبال کو شب تلک وہ تھا اُدھر وقتِ سحر میرا ہوا کیا ضروری ہے کہیں سردارِ جنّت بار بار جنّتی ہے وہ بشر جو ہمسفر میرا ہوا فطرسِ معتوب نے چھو کر یہ جھولے کو کہا شکریہ معبود پھر سے بال و پر میرا ہوا محفلِ میلاد سے منھ پھیر جب زاہد اٹھا زیرِ لب ابلیس بولا یہ بشر میرا ہوا یا خدا دیوانگی شارب کو دے بہلول سی کہہ دیں پھر آقا کہ یہ آشفتہ سر میرا ہوا
  12. Today is the day of victory of Khyber (near Madina) The victory in the battle of Khyber was a turning point in the history of Islam. It was very hard earned victory as muslim's constant effort for 39 days was fruitless. Prophet Muhammad (صلى الله عليه وآله وسلم) then called Hz.Ali and handed over the Flag to him. It was under the Command of Hz.Ali that Khyber was captured and the gigantic gate of Khyber was uprooted by Hz.Ali by the grace of Allah . منقبت (سید اقبال رضوی شارب ) بہت سے سورما جب ہو گئے لاچار خیبر میں علم لے کر چلے تب حیدرِ کرّار خیبر میں کھلونے کی طرح اک ہاتھ سے پکڑا تھا حیدر نے وہ در جو کھولتے تھے مل کے کچھ کفّار خیبر میں تھے جنکی نسل میں مومن انہیں وہ چھوڑ دیتی تھی علی کے ہاتھ سے چلتی تھی جب تلوار خیبر میں علم دوں گا اسے اللہ جسے محبوب رکھتا ہے قصیدہ پڑھ رہے تھے یوں مرے سرکار خیبر میں أحد بھی بدر بھی خندق بھی پیشِ مصطفیٰ ٹھہری بنے یوں ہی نہیں حیدر سپہ سالار خیبر میں علی ہر جنگ میں میدان کیسے مار لیتے ہیں اسی الجھن میں تھے کچھ کاغذی جرّار خیبر میں علی کی چشمِ آشوباں نے اک موقع دیا جنکو جری بن کر گئے پر ہو گئے فرّار خیبر میں کئے مرحب کے دو ٹکڑے فقط اک وار میں جس دم تو گویا توڑ دی اک آہنی دیوار خیبر میں جواں ہونے لگیں پسپا امیدیں ڈوبتی نبضیں علم لے کر چلے جب حیدرِ کرّار خیبر میں نہ اب ایڑی پہ یوں اچکو نہ پنجوں کا سہارا لو دکھائی کیوں نہ اب تک قوّتِ یلغار خیبر میں  کسی کا یا علی کہنا کوئی بدعت نہیں شارب وگرنہ پڑھتے کیوں نادِ علی سرکار خیبر میں
  13. can you write on hazrat ghazi abbas alamdar + bibi zainab manqabat

    1. sharib

      sharib

      yes why not ?

      I will send shortly

  14. منقبت مولا علی(ع ) سید اقبال رضوی شارب علی ہی مولا مرا ہے یہ جانتے ہو نا یہ مصطفیٰ نے کہا ہے یہ جانتے ہو نا وہ اوّلین مسلماں کا ہے شرف جسکو رسول حق کا عصا ہے یہ جانتے ہو نا جو ذواْلعشیرہ میں اٹّھا وہ ہم نوائی کو تو پھر نہ پیچھے ہٹا ہے یہ جانتے ہو نا وہ نفس بیچ کے مرضی خرید لیتا ہے خدا کی اس سے رضا ہے یہ جانتے ہو نا جہاں جہاں ہے علی حق وہاں وہاں ہوگا یہی تو حق کا پتا ہے یہ جانتے ہو نا نبی کو جنگ میں تنہا کبھی نہیں چھوڑا کچھ ایسی اسکی وفا ہے یہ جانتے ہو نا خدا کی آنکھ بھی اور دست کا لقب بھی وہی وہی تو وجہ خدا ہے یہ جانتے ہو نا پسِ رسول اس امّت کی بے وفائی پر عظیم صبر کیا ہے یہ جانتے ہو نا وہی تو ہے کہ جسے شہرِ علم عالم نے خود اپنا باب کہا ہے یہ جانتے ہو نا نکھارتے رہو کردار کچھ نہ کچھ شارب علی سے نام جڑا ہے یہ جانتے ہو نا
  15. سلام ( سید اقبال رضوی شارب) رکھا تھا نفس نے اجر و گنہ کے درمیاں مجھکو کنارے تک لے آئیں اہلِ بیتی کشتیاں مجھکو انہیں *"عالین" کا ہووے میسّر سائباں مجھکو کبھی راس آ نہیں سکتی ہیں جن سے دوریاں مجھکو خدا نے اپنی رحمت سے بنایا صاحبِ عزّت کبھی آنے نہ دی ذلّت میں ڈوبی ہچکیاں مجھکو مسائل نے،وسائل کی کمی نے جب بھی دی دستک رکھا آلِ محمد کی عطا نے شادماں مجھکو جو اللہ پر یقیں رکھتا ہو اور غائب کا قائل ہو دکھاۓ کیوں وجودِ مہدی پر وہ انگلیاں مجھکو تونگر بن کے اٹّھا ہوں بہ فیضِ ساقیِ کوثر وگرنہ مشکلوں نے کر دیا تھا نیم جاں مجھکو گلوئے عابدِ بیمار پر وہ طوقِ پُر نشتر تصوّر میں رلاتی ہیں کٹیلی بیڑیاں مجھکو سکینہ کو تمانچے کان سے بُندوں کا چھن جانا بہت ہیں خوں رلانے کو یہ ساری سختیاں مجھکو کہا اصغر نے میری بے گناہی رنگ لائے گی مری مظلومیت پر روئے گا سارا جہاں مجھکو مجھے مرنے سے اب کچھ خوف کم لگنے لگا شارب فنا سے ہی بقا تک لائے گی عمرِ رواں مجھکو *Jab Farishton ko hukm hua k Hz.Adam ka sajda karo to kuchh zawat e muqaddesa "Aleen" bhi maujood theein. Hz. Adam ke sajde ka hukm Aleen k liye nahin tha.
×
×
  • Create New...