Jump to content
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!) ×
Guests can now reply in ALL forum topics (No registration required!)
In the Name of God بسم الله

taqvi5

Advanced Members
  • Content Count

    79
  • Joined

  • Last visited

1 Follower

About taqvi5

  • Rank
    Level 1 Member
  • Birthday 09/08/1978

Contact Methods

  • Facebook
    taqvi5@YAHOO.COM
  • Yahoo
    taqvi5@YAHOO.COM
  • Skype
    taqvi5

Profile Information

  • Location
    islam abad
  • Religion
    muslim

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

818 profile views
  1. ہم جیسے ۔ احمد فراز حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے کہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم جیسے برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ جیسا تو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم جیسے وہ اپنی ذات کی پہچان کو ترستے ہیں جو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم جیسے یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیں یہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم پہنچے سبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ سلطاں ترے لہو کو کریں گے سلام ہم جیسے تُو سر بریدہ ہوا شہرِ نا سپاساں میں زباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فراز بغاوتوں کے علم تھے مدام ہم جیسے
  2. ہم جیسے ۔ احمد فراز حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے کہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم جیسے برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ جیسا تو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم جیسے وہ اپنی ذات کی پہچان کو ترستے ہیں جو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم جیسے یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیں یہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم پہنچے سبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ سلطاں ترے لہو کو کریں گے سلام ہم جیسے تُو سر بریدہ ہوا شہرِ نا سپاساں میں زباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فراز بغاوتوں کے علم تھے مدام ہم جیسے
  3. thanxs a lot صدائے استغاثہ - افتخار عارف ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز سنائی دی تھی جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی بازگشت ہے اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا سامان کیا جاتا ہے اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا جاتا ہے تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے اچھے اچھے لوگوں کی باتیں سنتا تھا سچے سچے لوگوں کی باتیں پڑھتا تھا اور پہروں روتا تھا اور اب برسوں بیت گئے ہیں جن آنکھوں میں آنسو تھے اب ان آنکھوں میں حیرت ہے سچائی کی گواہی دینے والے آخر ظالم کو ظالم کہنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟ موت سے پہلے مرتے کیوں ہیں؟ great profile pic sister
  4. بسمه تعالی رہبر معظم کا صوبہ خراسان شمالی میں مسلح فورسز کے اجتماع سے خطاب 2012/10/12 بسم‌ ‌‌الله‌‌‌الرّحمن‌‌‌ الرّحيم‌‌‌ الحمد لله ربّ العالمين و الصّلاة على رسول‌‌‌الله و على ءاله الأطياب الأطهار. آپ عزیز جوانوں نے بہت ہی اچھا، عمدہ اور شیریں پروگرام پیش کیا ہے۔ نوجوانوں کے پاکیزہ اور شاداب دل چاہےمادی میدان ہو یا معنوی میدان ہو ہر میدان میں فضا کو جوش و جذبے اور روحانیت و معنویت سے لبریز کر دیتے ہیں۔ ہمارے ایک عزیز نوجوان نے بڑی عمدہ اور دلنشیں تلاوت کی۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھےفوج، پولیس، رضاکار فورس اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے عزیز نوجوانوں کے اجتماع میں حاضر ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ اس حساس علاقے میں بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح مسلح فورسز کی ذمہ داری بہت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ ہر ملک اور ہر قوم کے اندر اچھی تربیت یافتہ، ماہر اور طاقتور مسلح فورسز کا وجود ایک طرف اس قوم کے اندر احساس تحفظ پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے اور دوسری طرف ان بیرونی طاقتوں کے مد مقابل ایک حصار قائم کر دیتا ہے جن کی بھوکی اور توسیع پسندانہ نظریں کبھی کسی طرف اور کبھی کسی سمت میں گھومتی رہتی ہیں۔ جب کوئی قوم مسلح فورسز کی شکل میں اپنے قوی و توانا اور فولادی بازوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہے تو پھر اس ملک کے خلاف جارحیت کی فکر دشمنوں کے ذہن سے خارج ہوجاتی ہے۔ آپ عزیز جوانوں کو معلوم ہے اور معلوم ہونا چاہیےکہ اس دنیا مین جارح ، تسلط پسند اور توسیع پسند طاقتوں کا فائدہ جنگ اور قتل و غارت گری میں ہے۔ جنگ قدیم زمانے سے ہی جارح اور توسیع پسند طاقتوں کا حربہ رہا ہے جسے وہ دیگر اقوام کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔ مادی لحاظ سے ترقی یافتہ ہمارے اس دور میں بھی اسلحے کی فروخت اور سرمایہ داروں کی جیبیں بھرنے کے لئے جنگ کاحربہ کئی گنا زیادہ شدت کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے طاقتور حلقے خواہ وہ سیاستدانوں کا حلقہ ہو یا سرمایہ داروں کا، جو اسلحہ سازی کے کارخانے چلاتے ہیں، وہ ہمیشہ جنگ کی آگ بھڑکانے اور بد امنی پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، دیگر ملکوں اور قوموں پر بحران مسلط کر دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اس جذبے اور سوچ کو جو چیز مشتعل ہونے سے پہلے ہی دبا یا مٹا سکتی ہے وہ قوموں کی بھرپور آمادگی و بیداری ہے۔ یہ آمادگی و تیاری قوم کی عمومی آمادگی کی صورت میں بھی ہوتی ہے اور مسلح فورسز کی بھرپور تیاری کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ آج الحمد للہ پورے ملک میں ہمارے عوام اور ہمارے نوجوان وطن کےدفاع کے لئے بالکل آمادہ و تیار ہیں، ان کے اندر ملک کو ترقی کو راہ پر آگے لے جانے کا جذبہ بیدار اور موجزن ہے۔ وطن کے دفاع کی پہلی صف میں موجود ہماری مسلح فورسز بھی بحمد اللہ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور اور توانا ہیں۔ میرے عزیزو! امیر المؤمنین حضرت علی (علیہ الصلاۃ و السلام )مسلح فورسز کو رعایا کا حصار اور قلعہ قرار دیتے ہیں۔ یعنی یہ قوم کے طاقتور بازوؤں کا درجہ رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ارشاد فرماتے ہیں۔ «فالجنود باذن الله حصون الرّعيّة»؛(1) باذن الله کی قید لگائی ہے۔ فیصلہ کن امر تو ارادہ الہی ہے۔ مسلح فورسز اپنے دلوں کو، اپنے باطن کو ذکر الہی اور یاد پروردگار سے جتنا زیادہ مانوس بنائيں گی، اپنے اندر جتنی زیادہ معنویت پیدا کریں گی ان کی توانائی میں اتنا ہی اضافہ ہوگا، ان کی دفاعی صلاحیت اتنی ہی بڑھے گی۔ آپ ملاحظہ کیجئے کہ علاقے میں رونما ہونے والی دو جنگوں میں، (لبنان کے خلاف اسرائیل کی) تینتیس روزہ جنگ میں، اور غزہ کی بائیس روزہ جنگ میں، چھوٹے گروہوں نے بظاہر انتہائی طاقتور فوج پر غلبہ حاصل کر لیا جو اپنی طاقت کے بڑے دعوے کیا کرتی تھی۔ اسرائیلی فوج مادہ پرست فوج تھی،اللہ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتی تھی۔ جبکہ یہ تنظیمیں ذکر الہی سے مانوس تھیں، ان کے اندر روحانیت و معنویت جلوہ گر تھی۔ ہمارے ملک کے دفاعی محاذوں میں بھی روحانیت پر نوجوانوں کی خاص توجہ کی بہترین مثالیں ہیں۔ ہمارے محاذوں میں، ہماری دفاعی صفوں میں، ہمارے فوجی آپریشنز کی راتوں میں، سپاہیوں کا اللہ سے راز و نیاز ہمارا طرہ امتیاز ہے جس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ تاریخ میں یہ چیز ہمیشہ کے لئے درج ہو گئی ہے۔ مسلح فورسز کے اعلی حکام کو چاہیے کہ وہ مستعد اور آمادہ نوجوانوں کو قومی وقار کے دفاع کے لئے آمادہ، قومی تشخص اور سرحدوں کی حفاظت وپاسداری کے لئے تیار جانبازوں میں تبدیل کریں۔ آج ایرانی قوم اپنے دشمنوں کے سامنے کافی طاقتور بن چکی ہے۔ طاقت کا یہ احساس بے بنیاد اور کھوکھلا نہیں ہے، زمینی حقائق اس کا ثبوت ہیں، صداقت پر استوار احساس ہے۔ اس سے ہمارے دشمن بھی واقف ہیں۔ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، ہم کسی کے خلاف جارحیت میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن اس کے ساتھ ہی کسی بھی جارح اور تسلط پسند طاقت کے سامنے سرتسلیم خم بھی نہیں کرتے۔ ایرانی قوم اور مسلح فورسز کی آمادگی کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی دشمن کو جارحیت اور تجاوز کا تصور کرنے کی بھی اجازت نہیں دیں گی۔ انہوں نے اپنی مستعدی اور اپنے جوش و جذبے سے دشمن دل پر اپنی ایسی ہیبت بٹھا دی ہے کہ دشمن کی ساری باتوں اور دھمکیوں کو دنیا والے لاف و گزاف سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ آمادگی اسی طرح قائم رہنی چاہیے، اس کو روز بروز مضبوط و مستحکم بناناچاہیے، آپ یقین رکھیے کہ مسلح فورسز کو طاقتور بنانے اور اس کی معنویت میں اضافہ کرنےکی آپ کی ہر کوشش ایسی نیکی ہے جو اللہ کے یہاں لکھی جا رہی ہے۔ یہ علاقہ بڑے دلیر اور بہادرجانبازوں کا علاقہ ہے، جہاد کے میدان میں ان کی شجاعت کی داستانیں ابدی و دائمی داستانیں ہیں۔ میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں آپ تمام عزیز نوجوانوں کی توفیقات میں اضافہ کے لئے دعا کرتا ہوں اور آپ سب کی کامیابی ، سربلندی ،سرافرازی اور عاقبت ختم بخیر ہونےکا طلبگار ہوں۔ والسّلام عليكم و رحمةالله و بركاته‌‌‌ 1: نہج البلاغہ ، نامہ 53 سائٹ اطلاع رسانی دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ [www.Leader.ir]
  5. https://sites.google.com/site/noorulbaqi/ need ur advice
  6. https://sites.google.com/site/noorulbaqi/ need ur advice
  7. https://sites.google.com/site/noorulbaqi/ need ur advice
  8. خالد احمد اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے اے تشنگی، یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے سایہ ہے سر پہ چادرِ صبر و صلوٰۃ کا بادل کی آرزو ہے نہ بارش کی آس ہے سوئے دمشق صبر کا سکہ رواں ہوا اک رخ پہ ہے خراش تو اک رخ پہ لاس ہے اے زینِ عابدین، امامِ شکستگاں زنجیر زن ہواؤں میں کس خوں کی باس ہے اے سر بلند و سر بہ فلک اہلِ دین و دل مدفون کربلا میں ہماری اساس ہے تاجِ سرِ نیاز کا ہالہ ہے رفتگی آہِ امامِ دل زدگاں آس پاس ہے ممکن ہے کسطرح وہ ہماری خبر نہ لیں ہر سانس، تارِ پیرہنِ التماس ہے خالد شکست و فتح کے معنی بدل گئے بازارِ شام ہے کہ شبِ التباس ہے
  9. خالد احمد اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے یہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے اے تشنگی، یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیں اے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلا یہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے سایہ ہے سر پہ چادرِ صبر و صلوٰۃ کا بادل کی آرزو ہے نہ بارش کی آس ہے سوئے دمشق صبر کا سکہ رواں ہوا اک رخ پہ ہے خراش تو اک رخ پہ لاس ہے اے زینِ عابدین، امامِ شکستگاں زنجیر زن ہواؤں میں کس خوں کی باس ہے اے سر بلند و سر بہ فلک اہلِ دین و دل مدفون کربلا میں ہماری اساس ہے تاجِ سرِ نیاز کا ہالہ ہے رفتگی آہِ امامِ دل زدگاں آس پاس ہے ممکن ہے کسطرح وہ ہماری خبر نہ لیں ہر سانس، تارِ پیرہنِ التماس ہے خالد شکست و فتح کے معنی بدل گئے بازارِ شام ہے کہ شبِ التباس ہے
  10. Honesty100 Looks 70 Financial position 0 Family background 80 Humor 90 Religion 80%
  11. taqvi5

    Karbala

    salam, i have send some picter from noorulbaqi Introduction of Noor-ul-Baqi’ Bismillah-er-Rahmaan-er-Raheem Allah-Humma-Salleh-Alaa-Muhammad-Wa’aaley Muhammad Assalam-o-Alaikum, First of all we are thankful to God, Prophet Muhammad and his respectful household (peace be upon them) who were the real source of encouragement and strength to the members of Noor-ul-Baqi, in becoming together and in deciding doing something worthwhile and meaningful for our generation. Main Reason for forming – Why did we form Noor-ul-Baqi’? Most of us know and realize that we have been given this divine gift of coming here in Qom for our religious education where we can study with complete concentration and ease of learning facilities. We, the members of Noor-ul-Baqi’, wanted to do something useful for the generation of our times, which can be instantly recognized by the Imam of our time, Imam Mahdi (peace be upon him). We understood the fact that since we are in Qom, it becomes our responsibility to prepare the grounds for the re-appearance of our last Imam (peace be upon him) by uniting ourselves and putting our efforts towards the goal of learning and teaching. As Imam Ali has said,” It is the duty of a religious scholar to learn what he does not know, and to teach others what he knows.” The message of Imam Ali is very clear and concise, it explains that the students of religious studies should learn and acquire knowledge and after learning, they should start teaching and transferring that knowledge to masses. This is one of the main responsibilities of a religious scholar. Secondly, we all know that the Qom has been named in the predictions as a city from where the knowledge would spread to the whole world. We the members of Noor-ul-Baqi’ want to be part that. We believe each and every student of religious seminary of Qom should strive to be part of that. Our main encouragement – What motivated us? Few months back, a meeting with a scholar from Tabriz encouraged us to get together and do something creative. The name of this scholar is Agha Hussain Goddosi who is famous for his pictorial visualizations of Islamic and ethical subjects, which are equally important for youngsters and adults. Using these pictures he explains his topics and delivers his lectures to young people and children among the different cities of Iran. Upon our meeting we initially decided to use his work by translating in Urdu, English and other languages. But for our circumstances and our environment in Pakistan and possibly other South Asian countries, we came to realize that we need to work on certain other areas of importance. But starting from the translation of some of his projects has immensely helped us in improving our own translating, graphic designing, audio recording and video editing skills. Apart from these skills we also have improved our time management skills and in future our speed to finish these tasks would be even greater. Achievement – What have we achieved so far? Now we will explain you about our finished and ready projects. We translated two projects in two languages. The first project is about Imam Hussain and his travel from Medina to Karbala and we translated this project in English and Urdu languages. What we done creative in our picture projects, is that we have given them animated and film-looks and added an audio narration. So now anyone can watch and listen our videos and can easily grasp the message of the topic without the need of a lecturer. (InshAllah) The second project we translated in two languages English and Urdu is “Taqleed” or “To imitate”, particularly because its importance in our times where Topic of Taqleed is being ignored by some people. Third project is “Tazkiya” which is only translated in Urdu language for now. So until now we have five completed projects on shelf, which are available for purchases today at a very nominal price. Future Projects – What are our future aims? In the end, I would like to say that from onwards we would be striving even harder to work on our future projects. We will not rely on projects by others only but we will also work on topics, which are important in their nature, and the awareness about them in our societies does not exist. My request for you today, is to please provide us with your valuable comments, suggestions and ideas. So that in future we meet the demands of solutions for the problems of our times. We feel the pain of Jannat-ul-Baqi, and its physical destruction in our hearts and right along the way we also believe that the Baqi’ is one of the greatest sources of divine strength and a light of energy which we also felt and that is why named our group,
  12. salaam fa had, first i am said for what happens to u secondly my English is not good enough ...so i am not able to write exactly what i want to say if u understand Urdu i can share Ur problem and some advices as i understand there r few basic problem with u 1.family disturbance for u.in the case of divorce 2.the wedded Bohr girl 3.your dreams 4.your life if you don't divorce between these problems some related with psycho and some ones r from out side both of these problems need detail conversation not so easy to decide some thing and u do it i will be glad if we have chat so i can understand better and help u better plz recite this حسبنا الله و نعم الوکیل» (آل عمران ایه 171 as much as poss
  13. دُکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں سونا سوگند ہو گیا ہے غالب
  14. کیا پاس تھا قولِ حق کا، اللہ اللہ تنہا تھے، پہ اعدا سے یہ فرماتے تھے شاہ میں اور اطاعتِ یزیدِ گمراہ لا حَولَ و لا قُوّۃَ الّا باللہ (حالی)
×
×
  • Create New...