Jump to content
  • 0
Sign in to follow this  
Guest زاہد حسین

فسخ نکاح

Rate this question

Question

Guest زاہد حسین

ایک لڑکی رضا مندی سے نکاح کرتی ہے کچھ ماہ بعد رخصتی سے پہلے ہی وہ پہلے شوہر کو بتائے بغیر کسی دوسرے سے شادی کر لیتی ہے اور عدالت میں بیان دیتی ہے کہ میرا پہلا نکاح زبردستی ہوا تھا اس کا کیا حکم ہے۔پہلے شوہر کے لیے کیا حکم ہے ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

1 answer to this question

Recommended Posts

  • 0
کا
9975
 
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2009/01/17
 
 
سائٹ کے کوڈ fa717 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 3942
  • سیکنڈ اور
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سوال کا خلاصہ
رشته مانگنے اور منگنی کے بعد اور نکاح پڑھنے سے پهلے لڑکی لڑ کا آپس میں کس قسم کے تعلقات قائم کر سکتے هیں؟
سوال
میں ایک ٢٣ساله لڑکی هوں، طے پایا تھا که ایک شخص سے شادی کروں، لیکن کچھـ وجو هات کی بناپر یه کام انجام تک نه پهنچ سکا ، اس مدت کے دوران همارے آپسی تعلقات قائم تھے ، ایک دوسرے کو پیار کرتے تھے ، اب رشته مانگنے کا سلسله پھر سے شروع هوا هے، لیکن میرے باپ اس پر راضی نهیں هیں، اس حالت میں هم ایک دوسرے سے جدا نهیں هو سکتے تھے ، هم ایک دوسرے کے محتاج هیں خاص کر وه لڑا مجھـ سے جدانهیں هو سکتا هے – یه جانتے هوئے که همارے یه تعلقات گناه هے، لیکن ان تعلقات اور روابط کو ترک کر نا همارے لئے مشکل هے- اب همارا فرض کیا هے؟
ایک مختصر

خداوند حکیم ودانانےمرد اور عورت کو ایک دوسرے کے لئے پیدا کیا هے اور اسلام کے مطابق یه دونوں ایک دوسرے کے تکمله هیں، کیونکه ایک دوسرے کے امتحان کا وسیله هیں اور ایک دوسرے کے جذباتی روحی اور جنسی ضرورتوں کو پورا کرتے هیں-

 

اسلام نے مرد اور عورت کی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے ازدواج کا طریقه کار معین کیا هے اور مرد اور عورت کے در میان هر قسم کا رابطه انهی حدود میں هو نا چاهئے- بهت سے فقها کے نظریه کے مطابق بیٹی کے عقد ازدواج کے صحیح هو نے کی ایک شرط باپ کی رضا مندی هے – مگر یه که باپ بیٹی کی مصلحت کے خلاف کسی لڑ کے سے شادی کر نے کی اجازت نه دے-

 

بهر حال، چونکه ماں باپ همیشه اپنے فرزندوں کے خیرخواه هو تے هیں، اس لئے کوشش کی جانی چاهئے که صلاح و مشوره کے لائق افراد اور محله کے عالم دین کی مدد سے اس مشکل کو حل کیا جائے-

تفصیلی جوابات

اسلام کے مطابق مرد اور عورت ایک دوسرے کے متمم هیں اور ایک دوسرے کے لئے پیدا کئے گئے هیں، اس سلسله میں قرآن مجید کا ارشادهے :" اور اس کی نشانیوں میں سے یه بھی هے که اس نے تمھارا جوڑا تمھیں میں سے پیدا کیا هے تاکه تمھیں اس سے سکون حاصل هو اور پھر تمھارے در میان محبت اور رحمت قرار دی هے---" [1]

 

زن و مرد کی ضرورتوں میں سے ایک ، جنسی ضرورت هے، لیکن اس ضرورت کو پورا کر نے کے لئے اسلامی قوانین اور دستورات کے دائرے میں عمل کر نا چاهئے تاکه طرفین کی پاکی و عفت کے گوهر کو کوئی نقصان نه پهنچ سکے-

 

اسلام نے مرد اورعورت کی جنسی ضرورت کو پورا کر نے کے لئے از دواج کا قانون معین کیا هے اور مرد و عورت کے در میان هر قسم کا جنسی رابطه من جمله عاشقانه گفتگو، هاتھـ ملانا اور پیار ومحبت وغیره عقد از دواج موقت (مطعه) یا دائمی کے بعد انجام پانا چاهئے اور یهاں تک که جس لڑکی اور لڑ کے کی منگنی هو چکی هو اور ابھی عقد موقت نه پڑھا گیا هو اور مستقبل قریب میں ان کی شادی هو نے والی هو، وه ایک دوسرے سے جنسی لذت کا استفاده نهیں کر سکتے هیں، اگر چه عاشقانه گفتگو اور هاتھـ ملانے کی حد میں بھی هو-

 

اس بناپر،ضروری هے که آپ اپنے گزشته اعمال کے بارے میں خدا کے حضور توبه کریں اور چونکه خداوند متعال بخشنے والا اور مهر بان هے اور آپ کاکام جهل و نادانی کی وجه تھا، اس لئے آپ اگر حقیقی معنوں میں توبه کریں گے، تو انشا ءالله خدا وند متعال آپ کے گناهوں کو بخش دے گا اور اگر تم دونوں ایک دوسرے کو چاهتے هو، تو پهلے آپ آپس میں عقد نکاح پڑھایئے اور اس کے بعد آپس میں رابطه قائم کیجئے-

 

لیکن اگر آپ کا باپ اس شادی سے راضی نهیں هے، تو آپ کو جاننا چاهئے که ماں باپ همیشه اپنے فرزندوں کی سعادت اور خیر خواهی چاهتے هیں اور وه گرانقدر تجربه رکھتے هیں جو ان کے فرزندوں کے مستقبل کے لئے ایک بڑا سر مایه هے- اس لئے، آپ کو اپبے باپ کی مخالفت کی وجه جاننے کی کوشش کر نی چاهئے اور اس کے تجربوں سے زیاده سے زیاده استفاده کر نے کی کوشش کر نی چاهئےاور اگر آپ اطمینان بخش دلیل رکھتی هو تو اسے اپنی دلیل اور بر هان سے مطمئن کیجئے، تاکه وه اس ازدواج کی موا فقت کریں ، اگر پھر بھی آپ کا باپ اس شادی سے راضی نه هوا اور اپنی مخالفت کے سلسله میں کوئی اطمینان بخش دلیل بھی نه رکھتا هو اور تمھاری دلائل کو بھی قبول نه کرے ، تو اپنے خاندان کے مفکروں یا محلے کے عالم دین سے مدد حاصل کیجئےتا که اسے راضی کرسکیں- [2]

 

 

[1]   - سوره روم/٢٢-

[2]   - اس امر سےآگاهی حاصل کر نے کے لئے که کیا عقد ازدواج کے صحیح هو نے کے لئے باپ کی اجازت ضروری هے یا نهیں؟ ملاحظه هو- عنوان : کنواری لڑکی سے ازدواج موقت، سوال نمبر 3468 (3734)-

http://www.islamquest.net/ur/archive/question/fa717

 

 

What is the ruling on having a relation with a non-mahram girl?
question
If I speak with a girl without the knowledge of her family, a girl whom I intend to marry, is there any objection in it?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Your content will need to be approved by a moderator

Guest
You are commenting as a guest. If you have an account, please sign in.
Answer this question...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoticons maximum are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Sign in to follow this  

×