Jump to content
Aabiss_Shakari

جاوید چوہدری شام کے متعلق سچ بولنے لگے

Recommended Posts

دنیا میں سات بڑی اسلامی فوجی طاقتیں تھیں‘ ترکی‘ پاکستان‘ ایران‘ عراق‘ لیبیا‘ شام اور مصر۔ یہ ساتوں افواج اسرائیلی عزائم کے راستے میں رکاوٹ تھیں‘ یہودی روایات کے مطابق دنیا کا یہ فیز چھ ہزار سال پر مشتمل ہے‘ یہودی کیلنڈر 3766 قبل مسیح میں شروع ہوا‘ یہ اب تک 5778 سال پورے کر چکا ہے‘ یہودیوں کا خیال ہے قیامت کو صرف 222 سال باقی ہیں‘ یہودیوں نے ان برسوں میں بیت المقدس کی جگہ دوبارہ ہیکل

سلیمانی بھی تعمیر کرنا ہے اور آخری جنگ بھی لڑنی ہے‘ یہ ہیکل سلیمانی کو ”تھرڈ ٹمپل“ بھی کہتے ہیں‘ روایات کے مطابق ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد دجال آئے گا‘ یہ دنیا کی آخری عالمی جنگ چھیڑدے گا‘ عیسائی عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑدجال کو قتل کر دیں گے جبکہ اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ امام مہدی کے ساتھ مل کر اسے قتل کریں گے‘ یہ جنگ کے بعد مدینہ تشریف لے جائیں گے‘ 45 سال حیات رہیں گے‘ ان کے بعد حضرت معقد کی حکومت آئے گی‘ یہ 30 سال حکومت کریں گے‘ پھر سینوں سے اچانک قرآن اڑ جائے گا اور پھر دنیا کے اختتام کا سلسلہ شروع ہو جائے گا‘ یہودی عقائد کے مطابق ہیکل سلیمانی اگلے تیس سال کے اندر مکمل ہونا چاہیے‘ پچاس سال کے اندر دجال کو ظاہر ہونا چاہیے اور پھر ایک لمبی جنگ شروع ہو جانی چاہیے‘ یہودی‘ عیسائی اور مسلمان تینوں کے مطابق آخری جنگ کا میدان شام ہو گا‘ یہ جنگ ”لد“ کے مقام پر ہو گی اور ”لد“ شام میں واقع ہے‘ حضرت امام مہدی خراسان میں پیدا ہوں گے‘ جنگ کا ایک حصہ عراق اور ترکی میں بھی لڑا جائے گا اور ایک میدان بلوچستان میں بھی سجے گا‘ یہودی اس جنگ کی تیاری کر رہے ہیں‘ یہ جلد سے جلد یہ تمام علاقے اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں‘ یہ ہیکل سلیمانی بھی بنانا چاہتے ہیں چنانچہ یہ مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگیں کھودتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ سمجھتے

ہیں یوں یہ مسجد کسی دن گر جائے گی اور یہ اس کی جگہ تھرڈ ٹمپل یا ہیکل سلیمانی تعمیر کر لیں گے‘ یہ اسلامی دنیا کی ساتوں افواج اور پاکستان کے ایٹم بم کو اپنے عزائم کے  راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں‘ یہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے ساتوں اسلامی افواج کو تباہ کرتے چلے جا رہے ہیں‘ عراق اپنی فوج کے ساتھ تباہ ہو گیا‘ لیبیا کی فوج

بھی ختم ہو گئی‘ مصری فوج بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے‘ ترک فوج بھی مشکل دور سے گزر رہی ہے‘ شام خانہ جنگی کا شکار ہے‘ یہ خانہ جنگی اس کی فوج کو کھا جائے گی

 

یہ پانچ سات برسوں میں اپنے دفاع کےلئے روس کا محتاج ہو جائے گا اور پیچھے رہ گئے ایران اور پاکستان ‘یہ دونوں اس وقت عالمی ٹارگٹ ہیں‘ یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں پاکستان اور ایران بھی کسی نہ کسی طرح گلف کی جنگ کا حصہ بن جائیں‘ یہ لوگ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی ختم کرنا چاہتے ہیں‘ شام اسرائیل کی سرحد پر واقع ہے‘ یہ ایک مضبوط فوج کا مالک بھی تھا لہٰذا شام کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا چنانچہ مضبوط فوج شام کا پہلا گناہ‘ اس کا پہلا ایشو تھا۔

شام کا دوسرا ایشو گیس پائپ لائین تھا‘ روس یورپ کےلئے گیس کا سب سے بڑا سپلائر ہے‘ روسی پائپ لائین ترکی آتی ہے اور یہ ترکی سے یورپ میں داخل ہو جاتی ہے‘ قطرکے شمال مشرق میں 1971ءمیں گیس کا دنیا کاسب سے بڑا ذخیرہ دریافت ہوا‘ قطر بھی یورپ کو گیس سپلائی کرنا چاہتا ہے‘ قطر کی پائپ لائین سعودی عرب ‘ اردن‘ شام اور ترکی سے یورپ جائے گی‘ امریکا اس معاملے میں قطر اور سعودی کے ساتھ کھڑا ہے‘ یہ یورپ کو قطری گیس سپلائی کر کے روس کی مناپلی بھی توڑنا چاہتا ہے اور اپنی گیس کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہتا ہے‘

روس شامی صدر بشارالاسد کے قریب ہے‘ شامی صدر روس کی خواہش پر قطری پائپ لائین کو راستہ نہیں دے رہے تھے چنانچہ امریکا‘ سعودی عرب اور قطر نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کر لیا اور یہ فیصلہ شام کی تباہی کا باعث بن گیا‘ شام میں بھاری ”سرمایہ کاری“ ہوئی‘ فوج کے اعلیٰ عہدیدار خریدے گئے‘ ریٹائر فوجی بھی اکٹھے کئے گئے‘ اپوزیشن کو بھی سرمایہ اور ہتھیار دیئے گئے اور میڈیا بھی بشار الاسد کے خلاف کھڑا کر دیا گیا‘ امریکی اشارے پر اپوزیشن نے شام میں انسانی حقوق‘ مساوات اور آزادی رائے کی تحریکیں شروع کر دیں‘

اپوزیشن نے 15 مارچ 2011ءکو درعا شہر میں حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا‘ حکومت نے مظاہرہ روکنے کی کوشش کی‘ تصادم ہوا اور پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ فوج کے اندر سے ایک گروپ الگ ہوا اور اس نے ”فری سیرین آرمی“ کے نام سے اپنا گروپ بنا لیا‘ یہ گروپ حکومتی فورسز سے گتھم گتھا ہو گیا‘ امریکا نے ترکی کے ساتھ مل کر شام کی سرکاری فورسز پر حملہ کر دیا‘ سعودی عرب بھی میدان میں کود پڑا‘ یہ القاعدہ اور داعش کو شام لے آیا‘

کرد بھی اٹھ کھڑے ہوئے‘ امریکا نے ان کو بھی ہتھیار دے دیئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے شام میں خوفناک خانہ جنگی شروع ہو گئی‘ خانہ جنگی میں روس اور ایران بشار الاسد کے ساتھ کھڑے ہو گئے‘ ایران مقدس مقامات اور مزارات بچانے کےلئے بھی میدان میں آیا اور یہ ہم عقیدہ ہونے کی وجہ سے بھی بشار الاسد کی مدد کر رہا ہے جبکہ روس قطر کی پائپ لائین سے بچنے کےلئے شام کے ساتھ کھڑا ہے‘ ترکی نے شروع میں کھل کر امریکا اور سعودی عرب کا ساتھ دیا لیکن جب15 جولائی 2016ءکو طیب اردگان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور اس بغاوت کے ڈانڈے امریکا میں جا ملے تو یہ امریکا کی سازش بھی سمجھ گیا اور یہ اس سے دور بھی ہو گیا‘

ترکی اس وقت شام کی جنگ کو اپنی سرحدوں سے دور دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے‘ یہ بڑی حد تک بشار الاسد کی مدد بھی کر رہا ہے۔شام تقریباً سات سال سے خانہ جنگی کا شکار ہے‘ یہ خانہ جنگی حلب‘ درعا‘ حمال‘ حمص‘ ادلب اور لداقیہ جیسے شہروں کو بھی نگل گئی اور اس نے پورے شام کے تارپور بھی ہلا دیئے ہیں‘ حلب اور حمص دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں‘ یہ ثقافت‘ آرٹ اور آثار قدیمہ کے مراکز ہیں‘ حلب کو یونیسکو نے عالمی ورثہ بھی قرار دے رکھا ہے‘

دہشت گردوں نے یہ دونوں شہر تباہ کر دیئے‘ حمص کی حالت بھی پتلی ہے‘ ادلب کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بن چکا ہے‘ رقہ شہر ملبے کا ڈھیر ہے اور لداقیہ اپنے ہی مزار کا چراغ بنتا جا رہا ہے‘ شام میں اس وقت سینکڑوں جتھے‘ گروپ اور لشکر برسرپیکار ہیں‘ القاعدہ النصر فرنٹ کے نام سے شیعہ کمیونٹی کو قتل کر رہی ہے‘ داعش سنی اور شیعہ دونوں کا قتل عام کر رہی ہے ‘ کرد قوم پرست سب کے ساتھ لڑ رہے ہیں‘ فری سیرین آرمی سرکاری فوج کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے‘

امریکا اور روس دونوں نے شام میں اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں‘ ترک فوجیں‘ ادلب‘ لداقیہ اور حلب تک پہنچ چکی ہیں جبکہ سعودی عرب نے اپنی سرحدوں کے ساتھ کیمپ بنا رکھے ہیں‘ یہ جنگی لشکروں کو سرمایہ بھی دے رہا ہے‘ ہتھیار بھی اور خوراک بھی لیکن شام خانہ جنگی کے باوجود تیزی سے سنبھل رہا ہے‘ ملک کے نوے فیصد شورش زدہ علاقے دوبارہ حکومت کے قبضے میں آ چکے ہیں‘ القاعدہ اور داعش شام سے افغانستان منتقل ہو رہی ہےں‘ یہ اب پاکستان اور ایران کو ٹارگٹ کریں گے‘

فری سیرین آرمی دم توڑتی جا رہی ہے اور کرد علیحدگی پسند بھی پسپائی اختیار کر رہے ہیں‘ شام کے بہتر ہوتے حالات دنیا بھر کے لئے حیران کن واقعہ ہے‘ امریکا اور اس کے اتحادی اس صورتحال سے پریشان ہیں‘ اسرائیل کے دکھ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ سوال یہ ہے شام نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ صدر بشار الاسد ہیں‘ یہ جنگ کے دوران دمشق میں ڈٹے رہے‘ یہ اور ان کا خاندان اس وقت بھی دمشق کی سڑکوں پر پھرتا رہا جب دہشت گرد دمشق کی پہاڑیوں تک پہنچ چکے تھے اور انہوں نے شہر کا پانی تک بند کر دیا تھا‘

بشار الاسد اس وقت بھی ملک سے باہر گئے اور نہ ہی انہوں نے اپنا خاندان باہر بھجوایا‘ یہ اگر ایک بار ملک سے باہر چلے جاتے تو آج شام چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہوتا ‘دمشق شہر پر اسرائیل کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا‘ یہ اس شخص کی استقامت اور بہادری تھی جس نے شام کو بچا لیا‘ دوسرا حکومت نے جنگ کے زمانے میں بھی سرکاری نظام نہیں ٹوٹنے دیا‘ حکومت کے تمام محکمے بھی کام کرتے رہے اور ملک میں کسی چیز کی قلت بھی پیدا نہیں ہوئی جبکہ دوسری طرف باغیوں کے علاقوں میں قتل وغارت گری بھی ہوئی‘ آبروریزیاں بھی ہوئیں‘

قاضی عدالتیں بھی بنیں اور اشیائے صرف کی قلت بھی پیدا ہوئی چنانچہ لوگوں نے سوچا غاصب بشار الاسد ان نام نہاد انقلابیوں سے سو درجے بہتر ہیں اور یہ باغیوں سے کٹ کر حکومتی فورسز کے ساتھ شامل ہوتے چلے گئے اور یوں باغی ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ہم شام سے دو چیزیں سیکھ سکتے ہیں‘ میاں نواز شریف بشار الاسد بنیں‘ یہ خود بھی واپس آئیں اور اپنے خاندان کو بھی واپس لے کر آئیں‘ یہ اپنے مقدمات مردانہ وار فیس کریں‘ یہ جلد یا بدیر کامیاب ہو جائیں گے اور دوسرا وہ لوگ جنہوں نے عراق اور شام کو تباہ کر دیا وہ اب ہماری سرحد پر اکٹھے ہو رہے ہیں‘ یہ لوگ ہماری فوج اور ایٹمی پروگرام کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ملک میں شیعہ سنی جنگ بھی چھیڑنا چاہتے ہیں چنانچہ ہمیں چوکنا ہونا ہوگا ورنہ ہم دوسری صورت میں اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2017/10/31/377001

Share this post


Link to post
Share on other sites

شام تمام

”میں سات سال سے بے روزگار ہوں‘ سیاحت ختم ہو چکی ہے‘ ہوٹل انڈسٹری دم توڑ چکی ہے اور دست کار ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں“ ولید کی آنکھوں میں اداسی تھی‘ ہم دمشق کی پاکستان سٹریٹ کے ایک ریستوران میں بیٹھے تھے‘ ہماری میز کھانوں سے بھری تھی‘ ولید ہمارا گائیڈ تھا‘ وہ ہمیں اداس لہجے میں جنگ کے اثرات بتا رہا تھا‘ اس کا کہنا تھا شام کا ہر خاندان جنگ سے متاثر ہوا‘ پورے ملک میں کوئی ایسا خاندان نہیں

جسے اس جنگ نے نقصان نہ پہنچایا ہو‘ لوگوں کی جائیداد یںچلی گئیں‘ لوگ بے گھر ہو گئے‘ لوگ بے روزگار ہو گئے اور لوگ لاشیں اور زخمی اٹھانے پر مجبور ہو گئے‘ میں نے ولید سے پوچھا ”آپ پڑھے لکھے ہو‘ انگریزی لکھنا‘ پڑھنا اور بولنا جانتے ہو‘ آپ کسی دوسرے ملک میں پناہ لے لیتے“ وہ مسکرایا اور بولا ”دمشق اور برداشت ہم لوگوں کی عادتیں ہیں‘ ہم دمشق چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی صبر“ میں بھی مسکرانے پر مجبور ہو گیا۔میں نے دو راتیں اور تین دن دمشق میں گزارے‘ میں ان تین دنوں میں شام اور شامیوں کی قوت برداشت‘ زندگی سے بھرپور محبت اور ملک سے وفاداری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ یہ سات سال سے خوفناک جنگ بھگت رہے ہیں‘ یہ ان سات برسوں میں اپنوں کے ہاتھوں بھی مرتے رہے اور انہیں غیر بھی مارتے رہے ‘ ملک کے اندر ایک درجن گروپ برسر پیکار رہے‘ عمارتیں ڈھا دی گئیں‘ سڑکیں اور پل اڑا دیئے گئے‘ پانی اور بجلی بھی بند کر دی گئی‘ فلائیٹس اور ٹرین سروس بھی معطل ہے‘ شام عالمی پابندیوں کی زد میں بھی ہے‘ آسمان سے بھی بم برستے رہے اور یہ خودکش حملوں میں مارے جاتے رہے لیکن یہ اس کے باوجود پسپا نہیں ہوئے‘ان کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوا‘ ان کی برداشت نے دم نہیں توڑا‘ آپ یقین کیجئے میں نے تین دنوں میں دمشق کی کسی سڑک‘ کسی بازار میں کسی قسم کی افراتفری نہیں دیکھی‘ ہر چیز

معمول کے مطابق تھی‘ ٹریفک پولیس ٹریفک کنٹرول کر رہی تھی‘ بازار میں کھوے سے کھوا چل رہا تھا‘ دکانیں اشیاءسے بھری تھیں اور خریدارجی بھر کر خریداری کر رہے تھے‘شام میں جنگ کے ایام میں بھی کرائم ریٹ صفر تھا‘ اشیائے صرف کی فراوانی تھی اور یہ پاکستان سے ارزاں بھی تھیں‘ بالخصوص کھانے کی کسی چیز کی قلت نہیں تھی‘ خواتین مطمئن اور

مسرور نظر آ رہی تھیں‘ یہ پورے اعتماد کے ساتھ بازاروں اور گلیوں میں گھوم رہی تھیں‘ سرکاری دفتر‘ سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں کھلی تھیں اور مسجدیں آباد تھیں‘

 

دمشق میں ہزاروں کی تعداد میں قہوہ خانے اور ریستوران ہیں‘ آپ کسی گلی میں نکل جائیں آپ کو وہاں قہوہ خانے اور ریستوران ملیں گے اور یہ تمام گلی تک مصروف ہوں گے‘ شہر میں دریا کے دونوں کناروں پر ربوہ کا علاقہ ہے‘ اس علاقے میں بڑے بڑے ریستوران ہیں‘ یہ ریستوران ہر شام آباد ہو جاتے ہیں‘ ہزاروں لوگ شام کے وقت ان ریستورانوں کا رخ کرتے ہیں‘ کھانا کھاتے ہیں اور جی بھر کر ناچتے ہیں‘ ہر ریستوران میں لائیو میوزک چلتا ہے اور لوگ خاندان سمیت موسیقی کی دھنوں پر رقص کرتے ہیں‘

پرانے شہر کے پرانے گھروں میں بھی ریستوران ہیں‘ یہ ریستوران بھی بارہ بجے تک آباد رہتے ہیں‘ موسیقی اور رقص لوگوں کے مزاج میں شامل ہے‘ قہوہ خانے صبح تک آباد رہتے ہیں‘ لوگ عموماً ناشتہ بھی باہر کرتے ہیں یا پھر باہر سے منگوا کر کھاتے ہیں‘ آٹا اور روٹی حکومت کے کنٹرول میں ہے‘ گھر میں روٹی پکانے کی اجازت نہیں‘ حکومت نے ملک بھر میں سرکاری تندور بنا دیئے ہیں‘ ملک میں کوئی بھی شخص 50 پاﺅنڈ ادا کر کے روٹیوں کا پیکٹ حاصل کر سکتا ہے‘

یہ رقم پاکستانی روپوں میں دس روپے بنتی ہے اور پیکٹ میں آٹھ دس روٹیاں ہوتی ہیں گویا پورا خاندان دس روپے میں پیٹ بھر لیتا ہے‘ سبزیاں‘ پھل اور گوشت وافر اور سستے ہیں‘ بجلی‘ گیس اور پانی پاکستان کے مقابلے میں بہت سستے ہیں‘ پاکستانی قونصل جنرل عبدالجبارترین دو ماہ میں صرف دو ہزار روپے پاکستانی بل دیتے ہیں‘ یہ اس بل میں تین اے سی بھی چلاتے ہیں‘ گیس اور پانی بھی اتنے ہی سستے ہیں‘ آپ حکومت کا نظام بھی ملاحظہ کیجئے‘

جنگ کے دوران بے شمار علاقے حکومت کے کنٹرول سے نکل گئے لیکن حکومت اس دوران بھی متاثرہ علاقوں کے سرکاری ملازموں کو تنخواہیں دیتی رہی‘ حکومت کے اہلکار ہر مہینے صندوقوں میں نوٹ بھر کر متاثرہ علاقوں میں جاتے تھے‘ باغی انہیں راستہ دیتے تھے‘ یہ ملازمین کو تنخواہ دیتے تھے اور دمشق واپس آ جاتے تھے‘ جنگ کے سات برسوں میں باغیوں اور حکومت کے دوران یہ معاہدہ رہا‘ باغی سرکاری ملازمین کو تنگ نہیں کریں گے اور یہ تنخواہوں کی فراہمی بھی نہیں روکیں گے‘

یہ معاہدہ آخر تک قائم رہا‘ حکومت 90 فیصد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر چکی ہے‘ صرف دس فیصد علاقوں میں جنگ جاری ہے لیکن سرکاری ملازمین کو ان علاقوں میں بھی باقاعدگی سے تنخواہ ملتی ہے اور یہ اپنی سرکاری ڈیوٹی بھی دے رہے ہیں‘ شام میں فوجی ٹریننگ لازم ہے‘ ملک کا ہر اٹھارہ سال کا نوجوان فوج میں خدمات سرانجام دیتا ہے‘ صرف ان نوجوانوں کو استثنیٰ حاصل ہے جو ماں باپ کے اکیلے بیٹے ہیں یا پھر وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں‘ ایف اے تک تعلیم لازم بھی ہے اور مفت بھی‘

سکول جنگ کے دوران بھی کھلے رہے‘ دمشق میں ایک پاکستانی سکول بھی ہے‘ یہ ملک کا واحد کیمبرج سکول ہے‘ سفارتکاروں کے بچے بھی یہاں پڑھتے ہیں اور شام کے بزنس مینوں‘ بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے بچے بھی۔ صدربشار الاسد کے بیٹے نے بھی پاکستانی سکول سے امتحان دیا تھا‘مرتضیٰ بھٹو مرحوم کی بیگم غنویٰ بھٹو اس پاکستانی سکول میں استاد تھیں‘ فاطمہ بھٹو پاکستانی سکول کی طالبہ تھیں‘ مرتضیٰ بھٹو بیٹی کو سکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے‘

یہ اس دوران غنویٰ بھٹو سے ملے اور دونوں نے شادی کر لی۔ دمشق یونیورسٹی عرب دنیا کی جدید اور بڑی یونیورسٹی کہلاتی ہے‘ یہ بھی جنگ کے دوران کھلی رہی‘ گاڑیاں سستی ہیں اور بڑی تعداد میں ہیں‘ لوگ اپنی گاڑیاں گلیوں میں کھڑی کر کے گھر چلے جاتے ہیں لیکن کسی قسم کی چوری چکاری اور واردات نہیں ہوتی‘ بھکاری بہت کم ہیں‘ لوگ صابر اور شاکر ہیں‘ یہ غربت میں بھی عزت سے گزارہ کر لیتے ہیں‘ خواتین حسن اور جمال کا مجسمہ ہیں‘

شام کی عورت حسن اور وفاداری میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتی ہے‘ فرعون بھی اپنے لئے ملکاﺅں‘ خادماﺅں اور کنیزوں کا انتخاب شام سے کیا کرتے تھے‘ آج بھی عرب تاجروں‘ شہزادوں اور رﺅساءکی کم از کم ایک بیوی شامی ہوتی ہے‘ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں‘ آپ دکانوں پر جائیں‘ ریستورانوں‘ کافی شاپس یا پھر سرکاری دفتروں کا دورہ کریں آپ کو وہاں خواتین ملیں گی‘ شامی عورت بااعتماد بھی ہے اور بے خوف بھی‘ یہ دن ہو یا رات بے خوف ہو کر باہر نکلتی ہے‘

یہ چیز ثابت کرتی ہے شام میں خواتین محفوظ ہیں‘ خواتین کو لباس میں بھی آزادی حاصل ہے‘ میں نے وہاں برقع بھی دیکھا‘ سکارف بھی‘ جینز بھی اور سکرٹ بھی‘ کسی کو کسی پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ معاشرے میں مساوات بھی ہے‘ کھانے کے وقت ڈرائیور اور صاحب دونوں اکٹھے میز پر بیٹھتے ہیں‘ میں نے تین دنوں میں کسی کو کسی کے ساتھ جھگڑتے‘ لڑتے‘ تکرار کرتے یا پھر اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھا‘لوگ ایک دوسرے سے محبت سے ملتے ہیں‘

اختلاف بھی نرم لہجے میں کرتے ہیں‘ یہ چیز ثابت کرتی ہے تہذیب اور شائستگی ان کے جینز میں شامل ہے اور سات سال کی خوفناک جنگ اور خانہ جنگی بھی ان جینز کو متاثر نہیں کر سکی‘ یہ لوگ عربی کے علاوہ فرنچ بھی جانتے ہیں اور انگریزی بھی‘ یہ لوگ جذبے سے لبالب بھرے ہوئے ہیں‘ آپ کسی اجنبی کو سلام کریں وہ نہ صرف پورے جذبے کے ساتھ جواب دے گا بلکہ رک کر آپ کا حال احوال بھی پوچھے گا‘ یہ چند لمحوں میں آپ کے میزبان بھی بن جاتے ہیں‘

میں نے حنانیا چرچ سے واپسی پر گلی میں ایک خوبصورت قدیم گھر دیکھا‘ گھر کا دروازہ کھلا تھا‘ صحن میں ایک نوجوان بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا‘ میں نے سلام کیا‘ اس نے ہمیں اندر بلا لیا‘ وہ جارج تھا‘ کرسچین تھا‘ نسلوں سے دمشق میں رہ رہا تھا‘ گھر تین سو سال پرانا لیکن انتہائی خوبصورت تھا‘ جارج نے ہمیں قہوہ پلایا اور ہم پانچ منٹ میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے‘ میں اگلی بار اس کے گھر میں رہوں گا اور وہ پاکستان آئے گا‘ شام کے گھر دلچسپ ہوتے ہیں‘

گھر کے چاروں اطراف کمرے ہوتے ہیں‘ درمیان میں صحن ہوتا ہے اور صحن میں پتھر کا گول فوارہ اور انگور کی بیلیں ہوتی ہیں‘ گھر کی ساری کھڑکیاں‘ سارے دروازے صحن میں کھلتے ہیں‘ شام کا یہ آرکیٹکچر مراکش گیا اور پھر وہاں سے سپین اور پرتگال چلا گیا‘ آپ کو یہ آرکیٹکچر سسلی اور فرانس کے جنوبی علاقوں میں بھی ملتا ہے اور لاہور کی قدیم حویلیوں میں بھی‘ یہ تمام شہر دمشق سے متاثر لگتے ہیں۔میں نے دمشق میں تین اور دلچسپ چیزیں بھی دیکھیں‘

یہ لوگ اپنے صحن کو فولڈنگ چھتوں اور پردوں سے ڈھانپ لیتے ہیں‘ یہ پردے سردیوں میں فولڈ کر دیئے جاتے ہیں اور گرمیوں اور بارشوں میں کھول دیئے جاتے ہیں ‘ دو‘ یہ لوگ مصروف وقت میں مصروف بازاروں اور مصروف شاہراﺅں پر کسی بھی جگہ کسی بھی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی پارک کر دیتے ہیں لیکن اپنا موبائل فون ”ڈیش بورڈ“ پر چھوڑ جاتے ہیں‘ اگلی گاڑی کا مالک آتا ہے‘ پچھلی گاڑی کے ڈرائیور کو فون کرتا ہے اور وہ آ کر اپنی گاڑی ہٹا لیتا ہے

اور یوں دونوں کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور سوم آپ دمشق کے کسی بھی شخص سے ملیں‘ آپ جنگ کے سات برسوں بعد بھی اس سے اس کا حال پوچھیں‘ وہ مسکرائے گا‘ آسمان کی طرف دیکھے گا‘ الحمد للہ کہے گا اور پھرپورے جذبے کے ساتھ جواب دے گا ”اللہ کا بہت بہت کرم ہے“ آپ کو شام کے کسی شہری کے ہونٹوں پر شکوہ یا شکایت نہیں ملے گی

http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2017/10/29/376259

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now


  • Recent Posts on ShiaChat!

    • Wa aleykumsalaam, Here is what our Aimmah has to say on this regard. 1 - محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن ابن محبوب، عن جميل بن صالح، عن أبي عبيدة، عن أبي جعفر (عليه السلام) قال: إن ناسا أتوا رسول الله (صلى الله عليه وآله) بعد ما أسلموا فقالوا: يا رسول الله أيؤخذ الرجل منا بما كان عمل في الجاهلية بعد إسلامه؟ فقال لهم رسول الله (صلى الله عليه وآله): من حسن إسلامه وصح يقين إيمانه لم يأخذه الله تبارك وتعالى بما عمل في الجاهلية ومن سخف إسلامه ولم يصح يقين إيمانه أخذه الله تبارك وتعالى بالأول والآخر. Muhammad ibn Yahya has narrated from Ahmad ibn Muhammad ibn ‘Isa from ibn Mahbub from Jamil ibn Salih from abu ‘Ubaydah from abu Ja’far(as), who has said the following: “Certain people came to the Messenger of Allah after accepting Islam and said, ‘O Messenger of Allah, will any of us, after accepting Islam, be held responsible for what he had done in the time of ignorance?’ The Messenger of Allah said, ‘Whoever is good in his Islam and corrects the certainty of his belief is not held responsible for his acts in the time of ignorance in the judgment of Allah, the Most Blessed, the Most High. Whoever’s Islam is nonsense and has not corrected the certainty of his belief will be held responsible in the judgment of Allah, the Most Blessed, the Most High, for his past and later deeds.’” Source: al-Kafi by Shaykh Kulayni, Vol 2, Pg 461, H 1.  Al-Mahaasin by Shaykh al-Barqi, Vol 1, Pg 250, H 264. Grading: Allamah Majlisi said hadeeth is "Saheeh" (Authentic) in his Mirat ul Uqool, Vol 11, Pg 383. Shaykh Bahbudi also grades this hadeeth as "Saheeh" (Authentic) in his Saheeh al-Kafi, Vol 1, Pg 132.   2 - علي بن إبر هيم، عن أبيه، عن القاسم بن محمد الجوهري، عن المنقري، عن فضيل بن عياض قال: سألت أبا عبد الله (عليه السلام)، عن الرجل يحسن في الاسلام أيؤاخذ بما عمل في الجاهلية؟ فقال: قال النبي (صلى الله عليه وآله): من أحسن في الاسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية ومن أساء في الاسلام اخذ بالأول والآخر. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from al-Qasim ibn Muhammad al- Jawhari from al-Minqari from Fudayl ibn al-‘Iyad who has said the following: “Once I asked abu ‘Abd Allah(as), ‘Will a man who is good in Islam be held responsible for his deeds in the time of ignorance?’ The Imam said, ‘The Holy Prophet has said, “Whoever is good in Islam will not be held responsible for his deeds in the times of ignorance and anyone who is not good in Islam will be held responsible for his acts of the past and those thereafter.’” Source: al-Kafi by Shaykh Kulayni, Vol 2, Pg 461, H 2.  Wa aleykumsalaam
    • should n't the sign be ">" instead of "=".
    • A bird in hand is better than two in a bush. 
    • So far you are winning. Try this:      
    • Lived there for 4 years brother
×