Jump to content
Sign in to follow this  
Aabiss_Shakari

ہمیں شفاعت کیسے نصیب ہو گی؟

Recommended Posts

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

 

 *دماغ کی بتی جلاؤ*


*ڈاکـــــــــــــٹر رضوان کــــــــے فـــــــــــضــــــائل* 

ازقلم: الاحقر محمد زکی حیدری


حسین بخش ملنگ کے مرشد  باوا اشرف شاہ عرف چولیاں والی سرکار نے حسین بخش اور اپنے دیگر مریدوں کو بتایا کہ کراچی میں سید رضوان زیدی نامی ایک سید ڈاکٹر ہے بہت ہی قابل ڈاکٹر ہے. اس کے ہاتھ سے شفا ملتی ہے.
مرشد کی اس بات کو حسین بخش نے دل پہ لکھ لیا، اب جب بھی کوئی بیمار اسے ملتا تو وہ اس کے سامنے ڈاکٹر رضوان کے فضائل بیان کرنا شروع کر دیتا کہ ڈاکٹر رضوان جیوے جیوے! سید ہے، سچا سید ہے! حق ڈاکٹر رضوان! شفا ملتی ہے اس سید کے ہاتھ سے! 

ایک دن حسین بخش ملنگ کو تمباکو نوشی زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے کھانسی کا حملہ ہوا اس کی کھانسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. اسے ڈاکٹر رضوان کے پاس لایا گیا. حسین بخش کی نظر جیسے ہی ڈاکٹر پر پڑی تو اس کے قدموں پہ جھکا، ہاتھ جوڑ کر کہا حق سید! واقعی ڈاکٹر ہو، سچے سید ہو، شفا آپ کو میراث میں ملی ہے! حق ڈاکٹر رضوان! 

ڈاکٹر مسکرائے اور کہا کہ میں بیشک سید ہوں مگر انسان کا خادم ہوں. آپ وارڈ میں جائیں میں آپ کو وزٹ کر لیا کرونگا ان شاء اللہ بہت جلد شفایاب ہو جائیں گے. 
حسین بخش نے پھر فضائل شروع کر دیئے لیکن اسی دوران اسے کھانسی شروع ہو گئی، سو اس کے ساتھی ملنگ اسے بازو کا سہارا دے کر وارڈ میں لے گئے. 

وارڈ میں نرسوں کو ڈاکٹر نے ھدایت کردی تھی کہ اس مریض کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے. پہلی نرس جب ڈرپ لے کر حسین بخش کو لگانے گئی تو حسین بخش ملنگ نے انکار کردیا کہنے لگا کیسی بوتل (ڈرپ)! ڈاکٹر رضوان سچے سید ہیں، میرے مرشد نے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے کئی مریضوں کو شفا دی ہے. شفا ڈاکٹر رضوان دیگا یہ بوتل لگانے سے کیا فائدہ. یہ کہہ کر پھر ڈاکٹر کے فضائل شروع کردیئے. 

ایک دوسرے ڈاکٹر آئے انہوں نے حسین بخش کو سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا. ڈاکٹر نے اسے بہت سمجھایا کہ دیکھیں ڈاکٹر رضوان تو بیشک شفا دیں گے مگر جب آپ ان کی ھدایات پر عمل کریں گے تب ہی شفا ملے گی نا. 
یہ سن کر حسین بخش آگ بگولہ ہوگیا کہنے لگا: تُو ڈاکٹر ہے نا تجھ سے ڈاکٹر رضوان صاحب کی تعریف برداشت نہیں ہوتی، تو جلتا ہے، یہ تیرا عقیدہ ہوگا کہ شفا اس بوتل (ڈرپ) اور ان گولیوں اور سوئیوں (انجیکشنز) میں ہے، لاکھ گولیاں کھا لو لیکن ڈاکٹر رضوان کی لکھی ہوئی نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں. 

اتنے میں اسے سخت کھانسی شروع ہو گئی سارے ھسپتال کا عملہ پریشان کہ کریں تو کیا کریں. آکسیجن ماسک لگاؤ تو پھینک دیتے ہیں، سیرپ نہیں پیتے، انجیکشن لگانے نہیں دیتے، اور تو اور جب موقع ملے ھسپتال کے لان میں جاکر سگرٹ پہ سگرٹ پیئے جا رہے ہیں، جب کہ ڈاکٹر رضوان نے اسٹاف کو سختی سے منع کیا تھا کہ اس مریض کو علاج کے دوران سگرٹ بلکل نہ پینے دی جائے. 

حسین بخش ھسپتال کے لان میں بیٹھ کر زور زور سے "حق ڈاکٹر رضوان! حق سید" کہتا رہتا،  جو لوگ اسے ملتے انہیں بتاتا کہ ڈاکٹر رضوان یہ ڈاکٹر رضوان وہ، سارا دن ڈاکٹر رضوان کی تعریف... 

بالقصہ ایک دن حسین بخش ملنگ کو کھانسی کے دوران خون کی الٹی آئی اور وہ چل بسا. اس کے ساتھی ملنگ رونے لگے، تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر رضوان بھی وارڈ میں داخل ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کی تھیلی تھی جو اس نے حسین بخش ملنگ کے ساتھی کو دی اور کہا کہ اگر حسین بخش کے علاوہ اور بھی ایسے میرے چاہنے والے ہیں وہ جب بیمار پڑیں تو انہیں ھسپتال مت لانا مجھے فون کر دینا میں کفن بھجوا دونگا کیونکہ *ڈاکـٹر کے ھاتھ سے شـــفا اسے ہی ملتی ہے جـو ڈاکٹر کی بات پہ عـــــــــــــــــمــــــــــــــــــــــــل کرے* 


    *بتی سوال* 

کیا ہــــــــــــم ســــــــب بھـــــــــی مــــــــولا علـــــــــی (ع)  و اھلــــــــــبیت (ع) ســـــــــے ایســـــــی شـــــــفاعت کـــــــی امیـــــــــد رکھــــــــتے ہیں جیـــــــــسی حسین بخش ملـــــــــنگ ڈاکٹر سیـــــــــد رضوان زیــــــدی ســــــــے رکھــــــتا تھا؟
کیا علی (ع) کی ھدایات نماز، روزہ، گناہ سے دوری وغیرہ پہ عـــــــمــــــل کیئے بغیر صرف فضائل سننے و بیان کرنے سے ہمیں شفاعت مل جائے گی؟ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this  

×