Jump to content
Sign in to follow this  
Aabiss_Shakari

شام سے کرائے کے قاتلوں کا فرار

Recommended Posts

شام سے کرائے کے عالمی قاتلوں کا فرار
کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال

شام سے کرائے کے عالمی قاتلوں کا فرار
خامریکی حواری شام میں حلب اور ایلیپو سے پسپائی پر کیوں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ جھوٹی کہانیاں اور لغو داستانیں گھڑی جا رہی ہیں۔ لکھنو اور اودھ کی نوحہ کناں ڈومنیوں کی طرح ایسا ماتمی واویلا کیا جا رہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس لئے کہ امریکی شام میں برسرپیکار اپنے حواریوں کو یقین دلا چکے تھے کہ 2016ءدسمبر سے پہلے شام کے حصے بخرے کر کے اسے تار تار کر دیا جائے گا‘ اس لئے حوصلہ نہ ہاریں اور پوری طاقت سے بشار الاسد کی سرکاری فوج کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ سی آئی اے (CIA) کے سربراہ جان برینن (John Brennan) نے کہا تھا شام کو ایک ملک کے طور پر یکجا رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے شام کا مستقبل تاریک ہے۔ برینن نے (Aspen Securty Form) سے خطاب کرتے ہوئے شام کے مستقبل کے بارے میں پہلی بار کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ قبل ازیں فروری 2016ءمیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ نے جنگ بندی میں ناکامی کی صورت میں پلان بی (Plan B) پر عملدرآمد شروع کر دے گا۔ اسی طرح امریکی سینیٹ خارجہ کمیٹی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے جان کیری نے کہا تھا کہ اب بہت تاخیر ہو چکی شام کو متحد رکھنا ناممکن ہو گا اس لئے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے شام سٹیفن ڈی مستورا نے تو شام کی متوقع شکست و ریخت کے تناظر میں مختلف خود مختار علاقوں کے نقشے کی نقش گری شروع کر دی تھی لیکن بشار الاسد کے مخالف تمام شامی گروپوں نے اپنے مادر وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی تمام تجاویز مسترد کر دیں کہ امریکہ کو شام میں کوئی شیخ مجیب الرحمن اور مکتی باہنی نہ مل سکی جو اپنے وطن کو دو لخت کرانے کے لئے دشمنوں سے مل جائے۔
ان مایوس کن حالات میں جب کرائے کے قاتلوں اور نام نہاد جہادیوں نے شام کو چاروں طرف سے گھیرا رکھا تھا بشار الاسد نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل مادر وطن شام کے ایک ایک انچ کو واگزار کرانے کا عزم ظاہر کرتے رہے۔ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں 4 لاکھ مرد و زن اور بچے شہید ہو چکے ہیں‘ جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ گھر سے بے گھر ہو چکے۔ امریکہ نے ....
بھان متی نے کنبہ جوڑا“
”کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا‘
کو متحد کر کے ڈھیلا ڈھالا شیطانی اتحاد تشکیل دیا تھا جس میں راندہ درگاہ مظلوم کرد‘ اسد دشمن شامی گروپ اور درندگی کی انتہا کو پہنچے ہوئے داعش کا وحشی گروہ بھی شامل تھا۔ صرف مختلف ریاستوں اور ممالک میں بٹے ہوئے کردوں نے شام کے اندر تین آزاد اور خود مختار علاقے تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن ستم گر ستمبر کے آتے آتے روسی صدر پیوٹن پانچ سال سے جاری اس خانہ جنگی میں بشارالاسد کی حمایت میں کود پڑے‘ روسی فضائیہ نے چن چن کر اسد حکومت کے باغیوں اور عالمی دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دئیے۔ جس پر ساری دنیا میں کہرام برپا کر دیا گیا کیونکہ شاطر امریکی تو دسمبر 2016ءسے پہلے بشار الاسد کو تخت دمشق سے ہٹانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن حلب اور ایلیپو میں امریکی ٹوڈیوں کی فیصلہ کن شکست نے شام کی شکست و ریخت کے تمام خواب پریشان کر دئیے اور شامی حکمت کاروں نے حلب اور ایلیپو کی فتح کا اعلان 12 ربیع الاول کے مقدس اور مبارک دن کیا جس کا ذکر لبنانی حزب اﷲ کے سربراہ سید حسن نصراﷲ نے اپنے تہنیتی خطاب میں بھی کیا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ ترکی‘ قطر اور خلیج تعاون کونسل میں شام ریاستوں کے جمع کردہ قاتلوں کے گروہوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے‘ خوراک اور گولہ بارود کے محفوظ ذخائر تباہ ہو چکے ہیں‘ داعش درندے اپنے دیگر حواریوں سمیت راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ شام میں عالمی بغاوت‘ سعودی بادشاہت اور شامی آمریت کی جنگ کو کفر و اسلام کا حصہ قرار دینے والے باطل گروہ ڈالروں اور ریالوں کی جھنکار پر امت کو گمراہ کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ اب یہ چالباز اسے سنی شیعہ تنازعہ میں بدلنے کے لئے تاریخ کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس طرح روس اور پیوٹن کے اقدامات کو آرتھوڈکس چرچ کی فلسطین اور حجاز مقدس میں تاریخی جارحیت کے فسانے گھڑ گھڑ کر سنا رہے ہیں۔
شام میں جنگ کا پانسہ پلٹ چکا ہے دمشق میں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں جہاں حماس کی قیادت اپنے میزبان بشار الاسد کی فتح پر ہدیہ تبرک پیش کر رہی ہے۔ حرف آخر یہ کہ شاطر امریکیوں نے پاک فوج کو اس تنازعے میں الجھانے کی ہر ممکن کوشش کی‘ حجاز مقدس کے تحفظ ‘ سعودی عرب میں برسرروزگار 30 لاکھ پاکستانیوں کے معاشی مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے اور وزیراعظم نواز شریف کو احسان شناسی کے نام پر مسلح افواج کو یمن کی جنگ میں الجھانے پر آمادہ کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی گئی لیکن سلام صد سلام سید مشاہد حسین اور ان کے ساتھی ارکان پارلیمان پر جنہوں نے یہ سب تدبیریں اور مکر کی چالیں بڑی دانش مندی سے ناکام بنادیںجبکہ پاکستان کے منہ زور برادر مسلم ممالک نے فوجی اتحاد میں زبردستی شامل کرنے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا‘ لیکن جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے بھی فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے اس مکر و فریب کے جال میں آنے سے انکار کر دیا۔ مشرق وسطیٰ میں تاریخ نیا ورق الٹ رہی ہے۔ دمشق فتح کرنے کے خواب پریشان ہو چکے ہیں‘ کرائے کے قاتلوں کے گروہ فرار ہو رہے ہیں۔ 2017ءکا سورج اہل شام کے لئے ‘ دمشق کے لئے پرامن اور خوشحال مستقبل کی نوید بن کر آ رہا ہے۔ چہار سو یہ صدا گونج رہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ مکر کرنے والوں کے مقابلے میں بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this  

×