Jump to content
Aabiss_Shakari

اقوال معصومین بمعہ حوالہ جات

Recommended Posts

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر انسان وہ ہوتا ہے جو ان میں سب سے زیادہ سخی ہوتا ہے۔”
غررالحکم حدیث8453

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام حسن عسکری علیہ السلام کے چند معرفت بخش اقوال

ظ اخاه سراً فقد زانه و من وعظ علانیة فقد شانه
 جو اپنے مومن بھائی کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کی شان بلند کر دیتا ہے اور جو علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ اس برادر مومن کو رسوا کر دیتا ہے ۔
(تحف العقول،ص۵۲۰)

ما اقبح بالمومن ان تکون له رغبه تذله
مومن کے لئے کتنا برا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی خواہش کرے جو اس کے لئے ذلت اور رسوائی کا سبب بنتی ہیں ۔
(تحف العقول،ص۵۲۰)

اقل الناس راحة الحقود
کینہ رکھنے والے کو کبھی آرام نہیں ملتا ۔
(تحف العقول،ص۵۱۸)

لا یشغلک رزق مضمون عن عمل مفروض
رزق کا ضامن خدا ہے اس لئے تمھارا رزق تمھیں واجبات سے نہ روک دے ۔
(تحف العقول عن آل الرسول،ص۵۱۹)

التواضع نعمه لا تحسد علیه
 تواضع ایسی نعمت ہے جس سے کوئی حسد نہیں کرتا ۔
(تحف العقول،ص۵۱۸)

من الفواقر اللتی تقصم الظهر ،جارٍ اِن رای حسنة اخفاها و اِن رای سیئةافشاه
انسان کے لئے ایک کمر شکن مصیبت وہ پڑوسی ہے جو اسکی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور اسکی برائیوں کو فاش کرتا ہے
۔(بحارالانوار،ج۷۸،ص۳۷۲)

جرأۃ الولد علیٰ والده فی صغره تدعوا الیٰ العقوق فی کبره
بچپن میں فرزند کی گستاخی بڑے ہو کر اس کے عاق ہونے کا سبب بنتی ہے ۔
(بحارالانوار،ج۷۸،ص۳۷۴)

لا تمار فیذهب بهاءک ولا تمازح فیجترء علیک
 لڑائی جھگڑے سے انسان کا احترام ختم ہو جاتا ہے اور زیادہ مذاق کرنے سے انسان گستاخ ہو جاتا ہے ۔
(بحارالانوار،ج۷۶،ص۵۹)

Share this post


Link to post
Share on other sites

✨امـام زمـانہ(عج) سے قـرب پـیـدا کرنے کے اعـمـال ✨

امام زمانہ علیہ السلا م کا قرب حاصل کرنے کا واحد راستہ، ان کی مرضی کے مطابق حرکت کرنا ہے اور آنحضرت(عجل اللہ فرجہ ) کی رضایت فقط دین پر عمل اور اس کے دئیے ہوئے احکامات اورفرائض کو انجام دینے کی وجہ سے ممکن ہے۔ 

کیا جو شخص ہوائے نفس اورشیطان کی پیروی اور الہی فرامین میں سستی کرکے خدا کے غضب کو حاصل کرے ، امام زمانہ علیہ السلام کی رضایت حاصل کرسکتاہے؟

اللہ تعالی فرماتاہے:

{اِنَّ الذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلْ لَھُمْ الرَّحْمٰنُ وُدَّا}

" بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے عنقریب رحمان، لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کرے گا۔"

( سورہ مریم ، آیہ-96.)

اس آیت شریفہ کے مطابق، محبت کی پیدا کرنے کی شرط، ایمان اورعمل صالح ہیں۔ ان صالح اعمال میں چند اعمال کی اہمیت زیادہ ہے اور امام مہدی علیہ السلام نے بھی ان کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ ان کی انجام دہی کے ذریعے آنحضرت (عج) کی محبت اوررضایت کو حاصل کیاجاسکتاہے ۔

٭٭ نـمـــاز، بالخصوص اوّل وقت کی نمـاز کو اہمیت دینـا:

امام زمانہ علیہ السلام سے صادر ہونے والی توقیع میں آیا ہے: 

''نماز سے زیادہ کوئی عمل شیطان کی ناک کو خاک میں نہیں رگڑتا پس نماز پڑھو اوراس کی ناک کو خاک میں رگڑو۔‘‘

( بحارالانوار، ج-3۳، ص -182.) 

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

''اللہ تعالی کی رحمت، اس شخص سے دور ہے جو ستاروں کے ظاہر ہونے تک نماز مغرب اور ستاروں کے پوشیدہ ہونے تک نماز صبح میں تأخیر کرتا ہے۔‘‘

( بحارالانوار، ج-52 ، ص-15 ، ح-13.)

٭٭ مــال و حـلال کے مصـرف اور کسب میں غـور و فکـر کرنـا:

امام زمانہ علیہ السلام سے صادر ہونے والے خط میں آیا ہے: 

'' تم نے جو کچھ میرے لئے بھیجا ہے میں اس میں اسے قبول کرتاہوں کہ حلال اور پاکیزہ ہو ، لیکن جو لوگ ہمارے مال کو اپنے مال سے مخلوط کرے ، جو شخص ہمارے مال کو حلال سمجھ کر کھائے اس نے پیٹ میں آگ بھری ہے۔

( بحارالانوار، ج-53، ص-180 ، ح-10.)

٭٭ دوســروں کی مــدد اور مسلمــانــوں کے امور پـر تـوجہ دینـا:

امام زمانہ علیہ السلام ایک خط میں فرماتے ہیں:

'' ہم نے تمہیں بے سہارا نہیں چھوڑا ہے اور تمہیں نہیں بھلایاہے۔‘‘

( بحارالانوار، ج-53 ، ص-174 ، ح-7 ) 

یہ قدرتی بات ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو امام کا پیروکار اور مرید جانتا ہے اسے چاہئے کہ وہ امام کی طرح عمل بھی کرے۔

٭٭ ظہــور کے لـئے مـیــدان فـراہم کرنـا:

امام زمانہ علیہ السلام چاہتے ہیں کہ اس امر میں میرے چاہنے والے ہمت کریں اور آنحضرت(عج) کی اتباع کرتے ہوئے ان کے ظہور کی تعجیل کے لئے کوشش کریں اور اس کے لئے دعا کیا کریں:

{ اکثروا الدعا بتعجیل الفرج فان ذلک فرجکم } 

ظہور کی تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے فرج اور وسعت ہے ۔‘‘

( بحارالانوار ، ج-53، ص-180، ح-10.)

٭٭ اور زنـدگی کے امــور میں علــمـاء کی طرف رجوع کـریں : 

{ فاما الحوادث الواقعہ فارجعوا فیھا الی رواۃ احادیثنا فانھم حجتی علیکم وانا حجۃ اللہ علیھم } 

" زندگی کے حوادث اورواقعات میں ہماری احادیث کے راویوں (علماء) کی طرف رجوع کرو بیشک وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں۔‘‘

( بحارالانوار ، ج-53، ص-180، ح-10.)

کیونکہ علماء کی طرف رجوع، لوگوں کے دین کی حفاظت اوران کے درمیان و حدت و اتحاد کا باعث ہے۔

''اگر ہمارے شیعہ اپنے کئے ہوئے وعدہ کی وفا کرتے تو ان سے ہماری ملاقات میں تأخیر نہ ہوتی ۔‘‘ 

( بحارالانوار، ج -53، ص -۱76، ح -8.)

٭٭ تــلاوت قــرآن:

اس بات پر خدا کا خاص حکم ہے حتی ایک آیت میں دو مرتبہ تلاوت قرآن کا حکم دیا گیاہے:

{ فَاقْرَؤُا ماتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرآن } 

" جس قدر ہوسکے قرآن کی تلاوت کرو۔ "

( سورہ مزمل، آیہ 20.)

امام زمانہ علیھم السلام نے آئمہ معصومین علیہ السلام کی قبور کی زیارت ، ائمہ علیھم السلام کے زیارت ناموں، بالخصوص زیارت عاشورا کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

کیا آپ نے اللہ کو دیکھا ہے؟
______________
حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا آپؑ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ؟ 
تو جواب میں فرمایا:
مَا کُنْتُ اَعْبُدُ رَبّاً لَمْ اَرَہُ ۔
میں ایسے رب کی بندگی کرنے کے لیے آمادہ نہیں جو نظر نہ آئے،
قَالَ: وَ کَیْفَ رَاَیْتَہُ؟
کہا: 
آپ نے اللہ کو کیسے دیکھا؟
قَالَ: وَیْلَکَ لَا تُدْرِکُہُ الْعُیُونُ فِی مُشَاہَدَۃِ الْاَبْصَارِ وَلَکِنْ رَاَتْہُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْاِیْمَانِ ۔
فرمایا: 
بصر کے مشاہدے کے ذریعے آنکھیں اسے نہیں دیکھتیں بلکہ حقائقِ ایمان کی روشنی میں دل اسے دیکھتے ہیں.
(اصول الکافی ۱ : ۹۷ باب فی ابطال الرؤیۃ۔۔۔۔)

Share this post


Link to post
Share on other sites

<بسم اللہ الرحمٰن الرحیم>
(غور طلب) 
جابر بن یزید جعفی سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا و سردار ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام کی اٹھارہ سال تک خدمت کرتا رہا۔ جب میں نے آپ سے جانے کی اجازت چاہی اور وداع کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے آپ (ع) کی خدمت میں عرض کیا: ائے میرئے مولا و آقا ! کیا میرئے جانے میں جلدی نہیں ؟

امام (ع) نے فرمایا: ائے جابر ! اٹھارہ سال بعد بھی۔

جابر نے عرض کیا : ہاں  کیونکہ آپ وہ سمندر ہیں  جسکا پانی ختم نہیں ہو سکتا اور اس کی گہرائی تک رسائی ممکن نہیں ہے

امام (ع) نے فرمایا: ائے جابر ! ہمارئے شیعوں کو میری جانب سے سلام کہنا اور ان کو باور کرانا کہ ہمارئے اور اللہ عزوجل کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور اس کا تقرب اس کی اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ہے 

ائے جابر ! جو شخص اللہ کی اطاعت کرئے اور ہماری محبت رکھتا ہو وہ ہی ہمارہ دوست ہے اور جو شخص اللہ کی نافرمانی کرئے گا اسکو ہماری محبت فائدہ نہیں دئے گی

ائے جابر ! کون ہے وہ جو اللہ سے سوال کرئے اور وہ اسکو عطا نہ کرئے یا جو اللہ پر بھروسہ کرئے اور وہ اس کی کفایت نہ کرئے یا وہ اللہ پر اعتماد کرئے اور وہ اسکو نجات نہ دئے

ائے جابر ! دنیا کو اپنے لئیے اس پڑاو والی جگہ کی مانند قرار دئے جس جگہ تو اپنی  سواری سے استراحت کیلیئے اترا ہے  اور پھر وہاں سے کوچ کا ارادہ رکھتا ہے ۔ دنیا سواری کی مانند ہے  اور اس کا سوار سویا ہوا ہے اسکو بیدار ہونا چاھیئے ، جبکہ تو اس کے فرش پر ہے جو سوار نہیں  اور اس کی رعنائی اور بلندی کو اخذ نہ کرو ۔ یا اس دنیا کو اپنے لیئے اس لباس کی مانند قرار دو جس کو تو نے زیب تن  کیا ہوا ہے اور اسکو حتماَ اتارنا ہے یا اس لونڈی کی مانند قرار دو جس سے تو مقاربت کر رہا ہے 

ائے جابر ! یہ دنیا عقلا کے نزدیک  ڈھلتے ہوئے سائے کی مانند ہے ۔ لاالہ الااللہ (یعنی توحید) کا اقرار کرنا یہ توحید پرستوں کیلیئے اعزاز ہے ۔ نماز خلوص کو ثابت کرتی ہے  اور انسان سے تکبر کو دور کرتی ہے ۔ زکوٰۃ رزق کو پاک کرتی ہے ۔ روزہ اور حج دل کو سکون عطا کرتے ہیں ۔ قصاص اور حدود اسلامی، جانوں کو محفوظ رکھنے کیلیئے ہیں ۔ اور ہم اہل بیت (ع) کی محبت دین کا نظام ہےاور اللہ تعالٰی ہمیں اور آپ سب کو ان میں سے قرار دئے جو تنہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی طرف حریص ہیں ۔ 

حوالہ: امالی شیخ طوسی (رح) ۔ باب 11۔ حدیث 29۔ صفحہ 296 طبع: قم

Share this post


Link to post
Share on other sites

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام:

کمر شکن بلاؤں میں سے ایک وہ ہمسایہ ہے جو جب کوئی اچھائی وخوبی دیکھتا ہے تو چھپاتا ہے اور جب برائی دیکھتا ہے تو اسے فاش کرتا ہے ۔

تحف العقول ص ۸۹۰

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ
ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ
ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻧﮧ
ﺷﮑﺮﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ
ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ
ﺑﮭﮕﺎ ﻧﮧ ﺩﻭ۔
ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ:ﺣﮑﻤﺖ12
TAC PAK

Share this post


Link to post
Share on other sites

الامام علی ع

ہر ظرف کسی بھی چیز سے بھر جاتا ہے جو اسکے اندر قرار دی جائے. لیکن علم کا ظرف ایسا ہے جو علم کی وجہ سے  وسیع ہو جاتا ہے.

نهج البلاغه،ص505

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“اپنے آپ کو اچھی صفات (اپنانے) پر مجبور کرو،کیونکہ بری صفتیں تو انسان کی فطرت میں شامل ہی ہیں۔”
مستدرک الوسائل حدیث13159

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“اللہ تعالیٰ لمبی آرزوئیں رکھنے والے بدعمل انسان کو دشمن رکھتا ہے۔”
غررالحکم حدیث7216

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو استغفار کےہوتے ہوئے مایوس ہوتا ہے۔”
نہج البلاغہ حکمت87

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭ ﮮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﺟﺴﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﭘﮑﯽ ﺭﻭﺡ ﻟﺮﺯ ﺟﺎﮮ
__________________________________________________
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭ !
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ،
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﻨﮧ ﻭ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻃﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ،
‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ‏)
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﺭﺍﺋﺸﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ،
ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺨﺘﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮕﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﺨﺘﮯ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﻮ،
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻓﺨﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﭧ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﺭﺍﺋﺸﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺯﺍﺋﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺨﺘﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮕﯿﺎﮞ ﺁﺧﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ،
ﮨﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻓﻨﺎﮦ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ،
ﮐﯿﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺼﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ؟
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮ !
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﻮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﮯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺻﺒﺢ ﺷﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﯾﺎ ﮨﮯ،
ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺒﺘﻼﮮ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ
ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻡ ﺗﻮﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺍﺳﮯ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﺎﻓﻞ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ‏( ﻣﻮﺕ ‏) ﺍﺱ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،
ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﺘﺒﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﺪﺍﻋﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺗﻘﺎﺏ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺫﺭﺍ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺴﺎﻧﯽ ﻣﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﺮﮐﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ،
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻻﺩﺍ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻻ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺣﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺑﺠﺎ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺭﮨﻮ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ :
ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ، ﺧﻄﺒﮧ ﻧﻤﺒﺮ 97

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“اچھے اخلاق وہ ہوتے ہیں جو تمہیں بزرگانہ کام انجام دینے پر آمادہ کریں۔”
غررالحکم حدیث5350

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“کامیابی احتیاط کے اصولوں کے سا تھ ہوتی ہے اور احتیاط تجربوں سے حاصل ہوتی ہے۔”
غررالحکم حدیث10863

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“جو خدا کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ اس کے لیے اپنا دروازہ کھول دیتا ہے۔”
غررالحکم حدیث3751

Share this post


Link to post
Share on other sites

*" فرمــانِ امــیرالمومــنین علیــہ الســلام "*
*حضرت امــام عــلی (ع) نے فرمــایا*:

*جسم کی چھے حالتیں ہیں* :
 ( تندرستی , بیماری , موت , حیات , نیند , بیداری )
اوراسی طرح 
*روح کی بھی چھے حالتیں ہیں*
١- روح کی حــیات عــلم ہے. 
٢- روح کی مــوت اسکی جہــالت ہے. 
٣- روح کی بیمــاری شــک ہے. 
٤- روح کی صحـت یقــین ہے.
٥- روح کی نینــد غفــلت ہے. 
٦- روح کی بیــداری اسکی نگــہبانی ہے.

*( ہــدیتــہ الشیعــہ , صفحــہ ٣٧٢ )*

Share this post


Link to post
Share on other sites

بهترین اور قابل قدرترين افراد:

قالَتْ فاطمه الزھرا(سلام الله علیہا):

تم میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کا سامنا کرتے وقت زیاده نرم اور زیاده مہربان ہو اور تم میں سے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ زیادہ مہربان اور زیاده بخشنے والے ہوں.

(دلال الامامه ص76 و کنزالعمال ، ج‌ 7، ص225)

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“خواہشاتِ نفسانی پر غالب آجاؤ، تمہاری حکمت پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی۔”
غررالحکم حدیث6944

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام علی علیہ السلام نے فرمایا
“لالچی انسان اپنی تمام تر توانائیاں وہاں پر ضائع کرتا رہتا ہے جہاں اس کے لیے ضرر ہی ضرر ہوتا ہے۔”
غررالحکم حدیث6588

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now


×