Jump to content
safeer786

Mimber Pe Bethny Waly Ki Kya Zimadari Hai?

Recommended Posts

Haq ko bayaan karo chahe woh tumhare apne khilaaf kyon na ho. Bani umayya ke daur me yeh Haq he mimber se bayaan hona band ho gaya tha jo aaj tak jari hai ab chahe uski parchain kuch doosre firkon me bhi agai ho.

Edited by alirex

Share this post


Link to post
Share on other sites

Wasalam

Mimber sirf khutba wa deeni bayaan ke liye hota hai, yani sirf Allah, Allah ke Rasool aur unke muqarrab bando ke liye, na ke gaaliya, lanat wa buhtan lagane ke liye ! Aur ye bhi farmaya gaya hai ki douran e khubta wa bayaan chup chap raho aur ghour se suno, lekin afsos aisa amal wa mahoul kaha raha.

Allah hafiz

Share this post


Link to post
Share on other sites

Wasalam

Mimber sirf khutba wa deeni bayaan ke liye hota hai, yani sirf Allah, Allah ke Rasool aur unke muqarrab bando ke liye, na ke gaaliya, lanat wa buhtan lagane ke liye ! Aur ye bhi farmaya gaya hai ki douran e khubta wa bayaan chup chap raho aur ghour se suno, lekin afsos aisa amal wa mahoul kaha raha.

Allah hafiz

Aap mahaul banate hain , mahaul khud ba khud ban nahi jata. Afsos karne se behtar hai Mahaul banaiye .. Aap khud baniye apne bachon ko banaiye jo aapki sunta hai usme woh changes laiye. Dekhiye 1+1 = 11 bhi ho jainge mehez pahal to kariye. Aksar log pahal se darte hain per rone se nahi darte ... Ab kahan woh raha yeh raha ... Koshish karein sab ho jata hai.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Aap mahaul banate hain , mahaul khud ba khud ban nahi jata. Afsos karne se behtar hai Mahaul banaiye .. Aap khud baniye apne bachon ko banaiye jo aapki sunta hai usme woh changes laiye. Dekhiye 1+1 = 11 bhi ho jainge mehez pahal to kariye.

{Aksar log pahal se darte hain per "rone" se nahi darte ... Ab kahan woh raha yeh raha}!! ... Koshish karein sab ho jata hai.

sabko pata hai koun rota hai aur

kounsa mahoul majlisi sahab ! Aapka jalsa mudde se hatt gaya. Baat chalrahi thi mimber ke mudde par aapne use 1+1=11 ka rukh de diya, misaal tou theek se dijiye 1+1 nahi 1&1=11, samjhe yaara.

Allah aise fitno se mehfuz rakhein.

M|s

Share this post


Link to post
Share on other sites

sabko pata hai koun rota hai aur

kounsa mahoul majlisi sahab ! Aapka jalsa mudde se hatt gaya. Baat chalrahi thi mimber ke mudde par aapne use 1+1=11 ka rukh de diya, misaal tou theek se dijiye 1+1 nahi 1&1=11, samjhe yaara.

Allah aise fitno se mehfuz rakhein.

M|s

Aapko nahi samajh me aya , kya kar sakte hain.

 

Allah Hafiz

Share this post


Link to post
Share on other sites
 

Asalam o alikum mimber e Rasool s.a.w.w pe bethne waloon ki kya zimadari hai? Is hwaly se Masoom a.s kya kehty hain? quran o sunnat ki roshni mein jawab digya

 

 

اس قسم کا تھریڈ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ واقعاً لوگ اس حوالے سے سنجیدہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

************************************************************************

 

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے تھوڑا سا ڈر لگتا ہے  کہ جب ہم اسلامی نکتہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرینگے کہ ذاکر یا خطیب کو کیسا ہونا چاہیئے تو ممکن ہے کوئی بڑی شخصیت اس معیار پر پوری نہ اترتی ہو یا بعض بڑی شخصیات اس کے برخلاف ہوں ۔ لہذا فوراً کسی کا جواب آجائے گا کہ فلاں شخصیت تو اس معیار پر پوری نہیں اترتی ؟

تو پہلے اس ابھام کو دور ہونا چاہیئے کہ ہمیں معیار دین سے لینے ہیں اور پھر ان معیارات پر تمام شخصیات کو تولنا ہوگا یہ نہ ہو کہ معیار شخصیت کو بنالیں اور پھر اسلام کی بھی رائے لینے کی کوشش کریں۔۔

 

امام علیؑ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کی نگاہیں حق کے بجائے فقط شخصیات پر ہوتی ہیں، اور وہ انہی کو دیکھ کر عمل کرتے ہیں۔ پس اگر شخصیات حق سے منحرف ہوجائیں تو یہ بھی خود بخود حق کو چھوڑدیتے ہیں۔۔۔

 

 

ایک حدیث غالباً امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے فرماتے ہیں:

 

خبردار ایسے عالم سے اپنا دین مت لینا جو دنیا پرست ہو، اگر ایسے عالم سے دین لیا تو وہ اپنی دنیا کمانے کے لئے تمھارا دین فروخت کردے گا۔۔۔

 

 

*************************************************************************

بعض فقظ مال، جاہ طلبی، اور منصب کے حصول کی خاطر منبر پر آتے ہیں، ان کا ہم  غم ان کی فیس ہوتی ہے جو انھیں بانی مجلس سے لینی ہوتی ہے، ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میرا ریٹ پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ جائے، بعض ایک ایک عشرے کے چھتیس لاکھ لیتے ہیں، اور بد قسمتی سے یہ باتیں غلط انداز میں عوام میں سرایت کر رہی ہیں۔ میاں! ہم فلاں ذاکر کو سننے جائیں گے کیوں؟ کیونکہ اُس کا ریٹ بہت زیادہ ہے۔۔۔۔

 

 

ظاھر ہے جب ایک ذاکر کو اپنی ریٹنگ بہتر کرنی ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام پسندانہ باتیں کر کے عوام کا دل جیتے اور جب عوام پسندانہ باتیں کسی ذاکر یا عالم کا مھور بن جائیں تو اس کی زبان سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کم ہی سنائی دیتا ہے۔

 

ہمارے استاد ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا جو خود ایک مجلس کا بانی تھا۔۔ اس نے اپنی داستان بیان کی، کہتا ہے ایک جگہ مجلس رکھوائی تھی ایک کے بعد ایک ذاکر نے پڑھنے آنا تھا کہ اچانک درمیان میں اس امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا اور لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، ایک ذاکر جس کو دعوت دی گئی تھی وہ اس بانی مجلس کے پاس آیا اور کہنے لگا میں اپنے مقررہ وقت پر پہنچ چکا ہوں اب اگر مجلس کس وجہ سے نہیں ہو رہی تو یہ میرا قصور نہیں ہے مجھے ھدیہ دیں  مجھے لیٹ ہو رہا ہیں آگے پڑھنے جانا ہے۔۔۔۔۔ان لاشوں کے ٹکڑوں کے درمیان اس شخص نے ھدیہ مانگا۔۔۔۔اور بانی مجلس نے دیا۔۔۔

ہم توقع نہ رکھیں کے ایسا شخص ہمیں مقصد حسینؑ سمجھائے گا۔۔۔۔

 مسلک شبیری سر کٹانے کا مسلک ہے مال لٹانے کا مسلک ہے۔۔۔اور مسلک شبیری کا سفیر دنیا پرست نہیں ہوتا بلکہ اپنی جان ھتیلی پر رکھ کر مقصد قیام امام حسین ؑ بتاتا ہے۔۔۔

 

اب اگر ایک غریب آدمی اپنے گھر مجلس رکھوانا چاہتا ہےتو اسےسب پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ میں اس عالم کو فیس کیسے دوں ؟

اسی محرم میں شھر کراچی کہ ایک قریبی گوٹھ میں تبلیغ کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔۔ جھاں تقریباً دو سو شعیہ گھر موجود تھے، پورے گوٹھ میں ایک یا دو امام بارگاہ کے علاوہ کوئی دینی مرکز موجود نہیں تھا، اور امام بارگاہ بھی فقط عاشورا کے دن کھلتے تھے سارا سال تالا۔۔۔۔

 

اس علاقے کے بچوں کے ساتھ ایک نشست ہوئی جن کی عمر کم و بیش ۷ یا ۸ سال کے درمیان ہوگی، ۱۵ بچوں میں سے فقط ایک بچے نے شیعہ کلمہ سنایا باقی اکثر نے دوسرے مسلک کے کلمے سنائے حتی بانی مجلس کے بچے کو بھی شیعہ کلمہ نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بانی مجلس سے اس بارے میں سوال کیا تو کہتا ہے یہاں سال بھر کوئی تربیت کا انتظام نہیں ہے یہ صرف قریبی اسکول جاتے ہیں جھاں انھیں دوسرے مسلک کی باتیں سکھائی جاتی ہیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ایک مولانا آتا تھا پھر اس نے ھدیہ زیادہ مانگنا شروع کردیا جو ہم نہیں دے سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 
Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

دوسری مشکل غریب کی محنت ہے۔۔۔


 


غریب کی محنت دراصل ایک واقعے کے طرف اشارہ ہے۔۔۔ ایک ذاکر صاحب منبر پر ایک واقعہ سنا رہے تھے اچانک کھنے لگے ہیاں تک واقعہ تاریخ میں لکھا ہے اس سے آگے مجھ غریب کی اپنی محنت ہے۔۔۔۔


 


 


منبر سے غیر مستند باتیں عام ہوچکی ہیں، واقعات اور روایات کو بے دریغ گڑھ کر پیش کیا جاتا ہے ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں بعض تو اس کام میں سب کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔۔


 


ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ ایک صاحب نے منبر سے پڑھ دیا،  آپ دوستوں کے چھروں پر مسکراہٹ کی خاطر نقل  کئے دیتا ہوں۔۔۔ البتہ اس میں عبرت کا پھلو بھی فراموش نہ ہو۔۔۔


***********************************************************


ایک ذاکر امام علی ع کے فضائل بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ امام کو غیب کا علم ہوتا ہے۔ پس ایک دلچسپ واقعہ بناتا ہے۔


کھتا ہے امام علی ع نے ایک جگہ دعوٰی کیا کہ مجھے غیب کا علم ہے اچانک ایک منافق کھڑا ہوا اور کھنے لگا کہ میں اس وقت مانوں گا جب آپ یہ بتائیں کہ میں آج شام کھانے میں کیا کھائوں گا۔۔ منافق کا ارادہ یہ تھا کہ امام ع کو غلط ثابت کروائے اور جس غذا کا امام نام لیں وہ نہ کھائے۔۔


 


پس امام نے اس منافق سے کھا تم خییر کھائو گے۔۔اور اس نے ارادہ کر لیا کچھ بھی ہو آج خییر نھیں کھانی۔۔


 


یہ شخص اپنے گھر آتا ہے پوچھتا ہے کھانے میں کیا ہے اس کی بیوی کھتی ہے خییر بنائی ہے۔۔ کہتا ہے خییر نہیں کھانی جاکر پڑوسیوں سے معلوم کرو۔۔۔۔ ایک ایک کر کے سارا علاقہ چھان مارتا ہے سب نے خییر ہی پکائی ہوتی ہے۔۔۔


 


آخر بھوک کی شدت سے مجبور ہوکر صحرا کی طرف نکل پڑتا ہے، ایک ملنگ دیکھائی دیتا ہے جو بھیڑیں چرا رہا تھا۔ ملنگ سے سوال کرتا ہے میں بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دو۔۔ ۔۔۔ ملنگ کھتا ہے یہ رہی چاول کی بوری اور یہ رہی بکریاں تازہ تازہ دودھ دھوتا ہوں اور خییر بناتا ہوں، مل کر کھائیں گے۔۔۔


 


منافق کھتا ہے بھئی علی ع کو غلط ثابت کرنے لئے تو خییر سے بچ کر تیرے پاس آیا ہوں۔۔ 


 


جب اس ملنگ کو ساری داستان سمجھ آئی تو اس منافق کے ہاتھ پیر باندھ دیئے پھر کھیر پکا کر زبردستی خوب کھلائی اور کھتا جاتا تھا میرے مولا سے ٹکر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔


***********************************************************************************************.


 


اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے چارے غریب نے کتنی محنت کی ہے۔۔۔۔


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام حسین ؑ نے واقعہ کربلا سے کچھ عرصہ قبل سرزمین منٰی میں علماء دین کو جعع کیا اور ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں ان علماء کی سستی اور امربلمعروف و نھی عن المنکر کو انجام نہ دینے کے حوالے سے ان کی شدید مذمت کی۔۔ جس کی تفصیل دوسرے تھریڈ پر موجو ہے۔۔

http://www.shiachat.com/forum/topic/234998011-lets-ask-imam-hussain-as-about-his-movement/

 

 اشارتاً اس خطبے سے کچھ مخصوص فرامین یہاں بھی نقل کئے جارہے ہیں۔۔

 

ثمَّ اَنْتمْ أیَّتھا الْعصٰابَة عصٰابَةٌ بالْعلْم مَشْھوْرَةٌ وَ بالْخَیْر مَذْکوْرَةٌ وَ بالنَّصیْحَة مَعْروْفَةٌ وَ باللَّہ فی اَنْفس النّٰاس مَھٰابَةٌ  یَھٰابکم الشَّریف وَ یکْرمکم الضَّعیف وَ یؤْثرکمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکمْ عَلَیْہ وَ لاٰ یَدَ لَکمْ عنْدَہ تشَفّعوْنَ فی الْحَوٰائج اذٰا امْتنعَتْ منْ طلاّٰبھٰا وَ تَمْشوْنَ فی الطَّریْق بھَیْبَة الْملوْک وَ کَرٰامَة اْلاَ کٰابر ،

 اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے  آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔

 اَلَیْسَ کلَّ ذٰلکَ انَّمٰا نلْتموہ بمٰا یرْجٰی عنْدَکمْ منَ الْقیٰام بحَقّ اللّٰہ وَ انْ کنْتمْ عَنْ اَکْثَر حَقّہ تقَصّروْنَ فَاسْتَخْفَفْتمْ بحَقّ اْلاَئمَّة فَاَمّٰا حَقَّ الضّعَفٰاء فَضَیَّعْتمْ وَ اَمّٰا حَقَّکمْ بزَعْمکمْ فَطَلَبْتمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتموْہ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتمْ بھٰا للَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشیْرَةً عٰادَیْتموْھٰا فی ذٰات اللّٰہ

 یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، معاشرے کے کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔

اَنْتمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہ وَ مجٰاوَرَةَ رسلہ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابہ  لَقَدْ خَشیْت عَلَیْکمْ اَیّھا الْمتَمَنّوْنَ عَلیَ اللّٰہ اَنْ تَحلَّ بکمْ نقْمَةٌ منْ نَقمٰاتہ لاَنَّکمْ بَلَغْتمْ منْ کَرٰامَة اللّٰہ مَنْزلَةً فضّلْتمْ بھٰا وَ مَنْ یعْرَف باللّٰہ لاٰ تکْرموْنَ وَ اَنْتمْ باللّٰہ فی عبٰادہ تکْرَموْن

 اسکے باوجود  آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

وَ قَد تَرَوْنَ عھودَ اللّٰہ مَنْقوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعوْنَ وَ اَنْتمْ لبَعْض ذمَم آبٰائکمْ تَفْزَعوْنَ وَ ذمَة رَسوْل اللّٰہ مَخْفوْرَةٌ مَحْقوْرَةٌ وَ الْعمْی وَ الْبکْم وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائن مھْمَلَةٌ لاٰ ترْحَموْنَ وَ لاٰ فی مَنْزلَتکمْ تَعْمَلوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَملَ فیھٰا تعیْنوْنَ  وَ بالادّھٰان وَ الْمصٰانَعَة عنْدَ الظَّلَمَة تٰامَنوْنَ کلّ ذٰلکَ ممّٰا اَمَرَکم اللّٰہ بہ منَ النَّھْی وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتمْ عَنْہ غٰافلوْن

 آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان۱ نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو بھی منع کرنے کے لئے کہا ہے ۔اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔

Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

(salam)

Is mawzu kai upar sab sai behtareen kitab, Muhaddith Nuri ki Lulu Wa Marjaan hai, jo Urdu main bhi hai. Kitab ko Urdu main yahan sai download kiya ja sakta hai: http://www.ziyaraat.net/findbook.asp?Escritor=All&Tema=All&orderby=titulo&idioma=Urdu&submitGo=+Display+&srchwhat=Mimbar

Wassalam

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now


×