Jump to content
Sign in to follow this  
talib e ilm

عزاداری کیوں ؟

Recommended Posts

تاریخ اپنے دامن میں ایسے بے شمار حوادث و واقعات رکھتی ہے جو مختلف پہلووں سے قابل ذکر ہیں۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تلخ سے تلخ واقعات بھی اپنی تلخی کھو دیتے ہیں۔ لیکن جب تذکرہ واقعہ کربلا کا ہو تو اس کی تاثیر لوگوں کے دلوں پر الگ ہی دیکھائی دیتی ہے۔۔


 


چودہ صدیوں پہلے پیش آنے والے اس آدھے دن کے واقعے کی تاثیر دیکھئے کہ آج تک ہمارے دلوں میں اس کی حرارت موجود ہے۔ عزاداری کے اس اہتمام کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بلکل تازہ ہے۔۔


 


سوال: ہم کیوں ہر سال اس شان و شوکت سے اس واقعے کو یاد کرتے ہیں؟


بعض ہم پر اعتراض بھی کرتے ہیں کہ آخر آپ لوگ اس واقعہ کو کب فراموش کریں گے۔۔۔


 


ممکن ہے ہم میں بہت سے ایسے ہوں جنہوں نے اپنے بزرگوں کی دیکھا دیکھی اس سلسلہ عزا کو جاری رکھا ہوا ہو، مثلاً محرم کے مخصوص ایام کی مجالس کے انتظامات جو پہلے ہمارے بڑے دیکھتے تھے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں اوراپنے بزرگوں کی قدیمی روایات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔


 


بعض اس کو حصول ثواب کا ذریعہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں، اور بعض یہ سوچ کر انجام دیتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور حاجتیں پوری ہوجائیں گی۔۔


 


ہم کیوں عزاداری کرتے ہیں اس سوال کا گہرا تعلق اس تفسیر اور اس تصویر کے ساتھ ہے جو کربلا کی ہمارے ذہنوں میں موجود ہے۔


بہت سے ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں کربلا کی صرف خیالی تصویر مومجود ہے۔۔ پس ان کی عزاداری کا انداز بھی اسی سے مشابہ نظر آتا ہے۔۔


 


ہمارے استاد فرماتے ہیں: کربلا کی کم و بیش بیس ایسی غلط تفاسیر ہیں جو اکثرکے ذہنوں میں ہیں۔۔


گنجائش نہیں کہ ہر تفسیر کو بیان کیا جائے مگر چند ایک یہ ہیں


**********************************************


 امام حسین ؑ نے اصلاً کوئی قیام ہی نہیں کیا، وہ مجبور تھے، یزید نے آپؑ سے بیعت لینے کیلئے آپؑ کو موقع ہی نہیں دیا، اور راستے میں ہی شھید کردیا۔۔ سوائے شھادت کہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔


 


 امام حسین ؑ نے قیام کیا تاکہ ان کے نام پر عزاداری ہو اور امت کے لئے ثواب کمانے کا ذریعہ بن جائے


 


 امت کے گناہ بخشوانے کے لئے قیام کیا


 


 


امت کو احکام اسلامی کا پابند بنانے کے لئے قیام کیا۔۔


*********************************************


چونکہ متعسفانہ ہم کلام امام حسین ؑ سے بہت زیادہ آشنائی نہیں رکھتے اور فقط مجالس، اور نوحہ خوانی و رسومات پر اکتفا


کرتے ہیں اس لئے کربلا کی حقیقی تفسیر سے بہت دور ہیں اور اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم عزاداری کی جہت سے بھی نہ آشنا رہتے ہیں اور ہم سے روح عزاداری بھی فراموش ہوجاتی ہے۔۔


                                                                                                                                    (جاری ہے)


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت سی وجوہات ہیں جس کے تحت یہ سلسلہ عزا یہ بیان مصائب یہ بیان واقعات کربلا اور یہ گریہ جاری رہنا چاہئے


 


ایک مشھور جملہ ہے


ہر روز، روز عاشورا ہے اور ہر زمین، زمین کربلا ہے۔


 


معرکہ کربلا یعنی وہ حق و باطل کی جنگ آج تک جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گی۔۔۔


پس جب تک باطل کا وجود ہے، یزیدیت کا وجود ہے ذکر سید شھداء بھی جاری رہے گا۔۔



 


ہم عزاداری برپا کر کے ایک طرف مولا حسین ؑ سے تجدید عھد کرتے ہیں کہ باطل کے مقابلے میں ہمیشہ سینہ سپر رہیں گے اور دوسری طرف ہمارا یہ عزاداری کرنا درحقیقت لاتعلقی والا راستہ بند کرنے کے مترادف ہے ۔۔


 ہم زیارت عاشورا میں تین گروہوں پر لعنت بھیجتے ہیں ان پرجنہوں نے آپؑ کو شھید کیا، جنہوں نے ان کی مدد کی اور وہ جنھوں نے آپ کی شھادت کو آنکھوں سے دیکھا مگر غیر جانبدار اور لاتعلق رہے۔۔



 


*********************************************


امام حسین ؑ جب کوفہ سے کربلا کی طرف سفر فرما رہے تھے تو راستہ میں ایک منزل پر آرام کے لئے قافلہ رکوادیا اور خیمے نصب کروائے، اس مقام پر نزدیک میں ایک شخص کا خیمہ موجود تھا، یہ شخص کوفہ سے مکہ کی طرف سفر کر رہا تھا اور آرام کے لئے ٹھیرا ہوا تھا۔۔


 


امام حسین ؑ نے اس کی جانب پیغام بھجوایا کہ مجھ سے ملنے چلے آئو، یہ شخص امام حسین ؑ کی شخصیت اور ان کے فضائل کو بخوبی جانتا تھا مگر لاتعلق رہنا چاہتا تھا۔۔ اس نے پیغام بھجوایا کہ میں غیر جانبدار ہوں اور اس معرکے میں کسی کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں۔۔


امام حسین ؑ حجت تمام کرنے خود اس کے خیمے میں چلے آئے اور اس سے کہا کہ ہمارے کاروان ِ حق و عدالت کے ساتھ آکر مل جائو۔


 


کہنے لگا میں آپؑ سے بہت محبت کرتا ہوں یہ بھی جانتا ہوں کہ حق کس کے ساتھ ہے لیکن میری زندگی ہے، کاروبار ہے، بیوی بچے ہیں، اور ابھی یہ سیاسی مسئلے اور جنگ کے لئے آمادہ نہیں ہوں لیکن دل سے آپ کے ساتھ ہوں یہ میرا گھوڑا ہے جو بہت ہی تیز دوڑتا ہے  اور یہ میری تلوار ہے جس سے میں نے خوب عزت کمائی ہے اور کوئی بھادر ان دونوں کا مقابلہ نہیں کرسکا یہ میں آپ کودیتا ہوں پس مجھے معاف فرمائیے۔۔



 


امام حسین ؑ نے اس سے فرمایا، ہم تمھاری تلوار اور گھوڑے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ ہم تمھارے لئے آئے تھے تمھاری نجات کے لئے آئے تھے، خدا کی قسم یہاں سے بہت دور نکل جائو کہ کل ہم شھید ہو جائیں گے اور ہمارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، پس جو بھی ہماری آہ و بکا سن لے اور مدد کے لئے نہ پہنچے اسے آتش جہنم سے رہائی نہیں ملے گی۔۔



*****************************


پس کیوں عزاداری برپا کریں؟  ایک وجہ یہ ہے کہ اپنے دور کی یزیدیت کو بے نقاب کریں اور ان چہروں سے بھی نقاب اٹھائیں جو حق و باطل کے معرکے میں لاتعلقی دیکھاتے ہیں۔۔


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

عزاداری برپا کرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ تاریخ کے اس اہم واقعے کو تحریفات سے مبرّہ  رکھا جائے، تاکہ یہ راہ نجات دنیا کی تمام انسانیت کے لئے کھلا رہے۔ اگر واقعات فراموش کردیئے جائیں تو واضح راہیں بھی مشکوک دیکھائی دیتی ہیں اور ہر طرف کنفیوژن اور سرگردانی دیکھائی دیتی ہے۔


مثلاً آج تک بہت سو کے لئے واضح نہیں کے علیؑ اور معاویہ میں آیا کوئی فرق ہے بھی یا نہیں ؟ دونوں کے ساتھ رضی اللہ لگاتے ہیں یہ اس لئے کیونکہ واقعات کو فراموش کردیا گیا۔


پس جب کسی تاریخی واقعے میں تبدیلی کر دی جائے تو پھر تشخیص کے معیارات بھی بدل جاتے ہیں۔۔


 


نمونے کے طور پر یہ واقعہ ملاحظہ کیجئے:


 


جب سونے کے تشت میں یزید نے امام ؑ کا سر مبارک منگوایا اور اپنی عصا سے امام کے دندانِ مبارک کی توہین کی اور گستاخانہ جملہ اپنی زبان پر جاری کئے تو ایک بزرگ اٹھا جو اپنے سن کی وجہ سے نابینا ہو چکا تھا جس کا نام ابو برسخ اسلمی تھا یہ صحابی رسول ﷺ تھا، کہنے لگا یزید کیا کررہا ہے؟ یزید نے اس نابینا سے کہا میں حسین ؑ کے دندان پر عصا سے ضرب لگا رہا ہوں، یہ سننا تھا اس بزرگ صحابی رسول کی کیفیت بدل گئی اور کہنے لگا تو جانتا ہے میں نے خود پیغمبرﷺ کو دیکھا ہے ان لبوں پر بوسہ دیتے ہوئے تو اسے عصا سے مار رہا ہے ؟


 


جب آہستہ آہستہ لوگوں میں حقیقت آشکار ہوئی تو اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے امام حسین ؑ کے نام پر مجلس تعزیت کروائی۔۔


یہ پہلی رسمی سرکاری مجلس تھی جو امام حسین ؑ کے نام پرہوئی جس کا بانی یزید لعنۃ علیہ ہے۔۔ اور واضح ہے کہ اس کے پیچھے محرک کیا تھا، جبکہ حقیقی عزاداری تو وہ تھی جو بی بی زینب (س) اور سید سجاد ؑ نے برپا کی۔۔۔


 


اس قسم کی  تحریف، فریب اور جھوٹ کے نتائج آج تک ہم دیکھ رہے ہیں، مثلاً بعض آج تک کہتے ہیں کہ یزید بے گناہ تھا اس نے امام حسین ؑ کوشھید نہیں کیا بلکہ ابن زیاد نے قتل کیا تھا۔۔ 


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this  

×