Jump to content
Sign in to follow this  
talib e ilm

بڑی مشکل، مخالف کو دشمن بنانا

Recommended Posts

بسم تعالی


 


یہ بڑی مشکل کا تیسرا مرحلہ ہے اور موضوع ہے اپنے مخالف کو دشمن بنانا حماقت ہے


 


مخالف اور دشمن بظاہر دو ملتی جلتی اصطلاحات لگتی ہیں لیکن ان دونوں میں  بڑا فرق ہے۔ اگرپاکستان کے شیعہ اور سنی  کو ان دو اصطلاحات کا فرق اور اس کے مصداق کی درست شناخت ہو جائے تو موجودہ صورتحال بہت بہتر ہو سکتی ہے۔


 


دشمن وہ ہے جو بھڑیئے کی طرح آپ کی جان کا دشمن ہوتا ہے اسکی ہر لحظہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو نقصان پہنچائے۔ جانی، مالی، نفسیاتی یا کسی بھی قسم کا، اور یہی اس کی دشمنی کا تقاضہ ہے۔


 


اس کے برعکس مخالف ہیں اورعام طور پر ہر مخالف دوسرے کی جان کا دشمن نہیں ہوتا کہ جس سے وہ اختلاف رکھتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف فقط سوچ ، نظر اور طور طریقے کا ہوتا ہے ممکن ہے دو دوستوں میں کسی موضوع پر اختلاف ہو جائے لیکن اس کے باوجود وہ اچھے دوست ہوں، والدین اور اولاد کا اختلاف، شوہر اور بیوی کا اختلاف یہ سب بظاہر کسی موضوع پر ایک دوسرے کے مخالف ضرور ہیں مگر اپنے رشتہ اور مضبوط بندھن کا پاس رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو احسن طریقے سے تحمل کرتے ہیں اور یہ اختلافات روز مرّہ زندگی میں ہر انسان کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں شاید ہی کوئی مخلوق یہاں ایسی بستی ہو جس کا کسی بھی موضوع پر دوسرے سے کوئی اختلاف نہ ہو۔


 


لیکن ہمارے ہاں بعض موارد میں مخالف کو احترام کی نگاہ سے دیکھنا بھی جرم سمجھاجاتا ہے۔ اور جو یہ کام انجام دے اسے بھی منافق سمجھا جاتاہے ،اپنے مخالف کی ہر بات کوغلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حتی اگر دن ہو اور ہمارا مخالف  بھی کہہ دے ابھی دن ہے تو بعض تعصب میں اسے بھی جٹھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔


 


اب اگر ہم چاہیں کہ مخالف کو اپنا دشمن بنا لیں تویہ کام بہت آسان ہے مثلاً آپ اپنے مخالف پر طنز ماریں، اس کی توہین و گستاخی کریں یا اس کے خلاف کوئی عملی اور غیر عادلانہ اقدام کریں، اس سے آپکا مخالف دشمن میں تبدیل ہو جاتاہے۔ اور جب تک یہ فرد مخالف تھا ہمارے لئے قابل تحمل تھا، ہمارا دوست تھا ہم اسکے ساتھا اٹھتے بیٹھتے تھے، کھاتے پیتے تھے، لیکن جیسے ہی آپ نے اس کے ساتھ نفرت آمیز سلوک کیا اور اسے اپنا دشمن بنالیا اب اس کے سائے سے بھی محتاط رہیں۔


 


 


اب ہہی معاملہ اہلسنت کا ہماری نسبت ہے۔ اہلسنت برادران شیعہ مسلّمہ عقیدے کےمطابق مسلمان ہیں۔ کچھ موضوعات میں آپس میں اختلاف ہے، یعنی ان موضوعات میں اہلسنت برادران ہمارے مخالف ہیں۔


 


اور سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ ان موضوعات کو سرِعام فقط تفریح کی غرض سے اچھالا جائے، ان اختلافی موضوعات میں اپنے مخالف کو فقط نیچا دیکھانے کی کوشش کی غرض سے عام کیا جائے، مخالف پر طنز طعنے کسے جائیں، تبرّہ کے نام پر ان کے مقدسات اور عقائد کی سر عام توہین کی جائے، تعصب اور ہٹ دھرمی دیکھائی جائے، اس عمل سے آپ کا مخالف بھی آپ کا دشمن ہوجائے گا۔۔ اور یوں بڑی آسانی سے ایک احمق اور نادان انسان شیعہ کو سنی کے مقابلے میں لاکر کھڑا کر دیتا ہے۔۔


 


ممکن ہے کہ بعض یہ کام خالص نیت کے ساتھ انجام دیں اور یہ بھی واضح ہے کہ دشمن بھی یہ کام انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ خود نہ شیعہ ہوگا نہ سنی مگر آگ لگانے کے لئے چنگاری کا کام کرے گا۔۔


 


ہم شیعہ حضرات کو اتنا باشعور اور بیدار ہو جانا چاہیئے کہ ہر اس جگہ جہاں سنی اور شیعہ میں اختلاف کی بوآرہی ہو وہاں ہوشیار ہو جائیں۔۔ گو کہ کوئی سنی اختلاف ڈال رہا ہو وہاں رد عمل ایسا نہ دیکھائیں کہ جلتی پر تیل کا کام کرے ہم شیعہ حضرات کی یہ کمزوریاں ہیں جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔۔


 


مثلاً فرض کریں اگر کوئی چاہے کہ کسی جگہ کو یا مثلاً اس فورم کو شیعہ اور سنی کےلئے میدان جنگ بنادے تو یہ کام بہت آسان ہے، مثلاً اگر دشمن یہاں ایک سنی یوزر بن کر آئے اور آکر شیعوں کو برا بھلا کہنا شروع کردے، تو اسکی ایک پوسٹ سے سارا شیعہ چیٹ باآسانی میدان جنگ بن سکتا ہے۔۔۔ تو تصور کریں کیا یہ کام گلی محلّوں، مجالس منبر پر نہیں ہوسکتا ؟


 


یہ ہم ہیں جو اپنے دشمنوں کی چالوں سے غافل ہیں، لیکن ہمارا دشمن ایک لحظے کے لئے بھی ہم سے غافل نہیں اور شیطانی منصوبے بناتا ہے


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

چند سال قبل شھر کراچی ۔ پاکستان میں ایک واقعہ پیش آیا تھا، ہوا کچھ یوں کہ کچھ غیر شیعہ بچے آپس میں کھیل رہے تھے ایک نے دوسرے کی طرف پتھر یا کوئی اور چیز پھینکی، اور یہ چیز نادانی میں الم مولا ابوفضل العباس علیہ سلام پر جالگی،


 


ہونا کیا تھا ادھر سے ہمارے بڑوں نے آکر ان بچوں کوخوب مارا اور اُدھر وہ بچے اپنے بڑوں کو لے آئے پھر شیعہ سنی کا جھگڑا شروع، ایس ایم ایس کے سلسلے شروع، سڑکیں بند، علاقہ بند، ٹائر گاڑیاں نظر آتش اور یہ نہ ختم ہونے والا فتنہ تین دن اور رات کے بعد کچھ عرصے کے لئے دب گیا۔۔ 


 


میرا دل کہتا ہے کہ اگر اس الم کی جگہ خود مولا عباس علیہ سلام ہوتے تو بھی ان بچوں کے ساتھ رحم دلی سے پیش آتے۔۔۔۔


 


کیا رسول خدا ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں ؟ ایک بڑھیا جو بغیر کسی ناغے کے روز رسول خدا ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی ایک دن وہ نہ آئی اور آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے، آپ  ﷺ نے کیا کیا ؟ آنحضرت اس کی تیمارداری اور طبیعت پوچھنے کے لئے اس کے گھر تشریف لے گئے۔۔۔۔ 


 


کیا اس قسم کے واقعات سے دور جاہلیت کی یاد تازہ نہیں ہوتی ؟ وہ رسول خدا ﷺ کی بعثت سے قبل کا دور؟ کہ اگر کسی کا جانوردوسرے شخص کی زمین سے ناحق پودہ توڑ لیتا تو اس زمین کا مالک اس جرم میں اس جانور کو ہتھیا لیتا، اور پھراس جانور کا اصل مالک اسکے قبیلے پر حملہ کردیتا اور یہ تنازعہ نسل اندر نسل جاری رہتا اور لوگ اس بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کرتے۔۔۔۔


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

Sunnis are not the problem. We have/had our differences between Sunni and Shia, but have lived together for 1400+ years. So personally I don't consider Sunnis to be issue. They are Muslims and are free to follow the Khulufa if they think that is the correct path to Nabi (pbuh).The problem is the disease that exists within Sunnis and yes it is from Sunnis, comes out of Sunnis and Sunnis are the ones that get it. Its called Takfirism and it raises its head every now and then where normal Sunnis mutate into animal called Takfiris and declare us Shia Kafir and start killing us brutally. They will kill us, our women, our children, everyone. Now a days they are backed by Petro dollars by Aale pigs.

 

Our enemies were/are not Sunnis but were/are and will always be Takfiris and if I had my way, I will never, ever, ever, ever, ever join hands with Takfiris. There is only one remedy to this non-reversible disease and that is to exterminate it OR they stay away from us and leave us alone completely.

 

 

REMEMBER:

 

NOT EVERY SUNNI IS A TAKFIRI BUT EVERY TAKFIRI IS A SUNNI

NOT EVERY SUNNIS IS ISIS/Lej/TTP BUT EVERY ISIS/Lej/TTP IS A SUNNI

Edited by Zaydif74

Share this post


Link to post
Share on other sites

درست فرمایا آپ نے وھابی یا وہ طبقہ جو اہلیبیت ؑ سے بغض رکھتا ہے وہ خوارج کی طرح ہیں۔


 


لیکن یہاں بات یہ ہو رہی ہے کہ کہیں ہمارا عمل ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے اہلسنت بھائی کو بھی اپنا دشمن بنا لیں، اور جیسا کہ اس قسم کی حماقتیں ہماری جانب سے ہورہی ہیں، اور یہی ان وھابیوں اور ہمارے اصل دشمن امریکہ اور اسرائیل کی خواھش ہے کہ ہر سنی شیعہ کا دشمن بن جائے۔۔ ان وھابیوں کا تبلیغی سلسلہ بہت تیزی سے کام کر رہا ہے، اور دوسروں کو بھی شیعہ کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ اور ہمارے بعض علماء، ذاکرین انھیں ثبوت فراہم کرتے ہیں اور دشمن کے کام کو مزید آسان تر کر رہے ہیں ۔۔۔۔ مثلاً اگر سر عام تبرّہ کیا جائے، تبرّہ روڈ بنائے جائیں، ان کے مقدسات کی انکے سامنے توہین کی جائیں، بی بی عائشہ کی سر عام توہین کی جائے اور گالیاں دی جائیں تو ایک سنی کے لئے اتنا ثبوت ہی کافی ہے کہ وہ شیعہ کا دشمن بن جائے۔۔


 


 


لہذا ہمیں بہت ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔۔۔ 


 


اسلام ہمیں تفرقہ کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی ہمارے رہبران دین اس چیز کی اجازت دیتے ہیں۔۔۔


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this  

×