Jump to content
Sign in to follow this  
talib e ilm

شھید مظفر کرمانی کی کچھ یادیں کچھ باتیں

Recommended Posts

شھید کے ایک قریبی ساتھی کی زبانی


 


 


مجھے کچھ عرصہ شہید کے ساتھ رہنے اور شہید کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔میں نے جوکچھ دیکھااور محسوس کیا وہی اس وقت نذر قارئین ہے۔


میں سب سے پہلے شہید کے اہداف کے بارے میں بات کروں گا۔


شھید مظفر علی کرمانی کے اہداف :


 


1.    دین اور تشیع کی مکتبی شناخت : شہید کرمانی کی پریشانی  اور ہم و غم یہ تھا کہ  شیعوں کو تشیع کی عمیق شناخت نہیں اور نہ ہی انہیں اسلام کی شناخت ہے  انہوں نے تشیع کی صحیح شناخت کے لئے  نہ صرف شیعوں کے درمیان  بلکہ اہل سنت  اور وہابیوں کے اندر جاکر جراتمندانہ طور پر تشیع کی شناخت کروائی۔ وہ  امام خمینی کے حقیقی پیروکار اور عاشق تھے انہیں یقین تھا کہ  مسلمانوں کی نجات کا  واحد راستہ  اسلام ناب محمدیﷺ کی پیروی اور اسلام امریکائی سے دوری  میں ہے ۔اسلام ناب یعنی خالص اور حقیقی اسلام جبکہ اسلام امریکائی یعنی التقاطی اسلام، متحجرانہ اسلام   ( ہمارے معاشروں میں رائج اسلام  وہی التقاطی اور متحجرانہ اسلام ہے جبکہ ہمیں حقیقی اور خالص اسلام اپنا نا ہے اور اپنی نسلوں میں منتقل کرنا ہے)۔ شہید کرمانی فرمایا کرتے تھے کہ اصلی اور خالص دین پر گرد پڑی ہوئی ہے اور گرد بھی مٹی کی نہیں بلکہ پیسوں کی ، ثروت کی جسے ہٹانا بہت ہی مشکل کام ہے ۔شہید کہتے تھےکہ حقیقی اسلام ، شمیشر اور تلوار سے کے مانند ہے  ۔تلوارجتنی زیادہ چلتی ہے اتنی ہی کندہ ہوجاتی ہے مگر  لوہے کی شمشیر کو تیز کرنے کے لئے ایک خاص قسم کے آلے کی ضروت ہے مگر حقیقی اسلام  جوشرک و کفر سے آلودہ ہوجاتاہے   اوراسے تیز کرنے کے لئے جس آلے کی ضرورت ہے وہ پاک انسان کا خون اور  پاکیزہ مومن کی شخصیت ہے۔


 


2.    انقلاب اسلامی کا دفاع :شہید کرمانی اکثراپنی محافل میں کہا کرتے تھے کہ شیعوں کو عالمی سطح پر آنے کے لئے ضروری ہے کہ   اپنی شناخت، انقلاب اسلامی سے کروائیں یہی وہ تشیع کا   درست چہرہ ہے کہ جس سے امریکہ جیسا دشمن بھی ڈرتا ہے ،یہ وہ شیعہ ہے کہ جو سیاسی  و اجتماعی لحاظ سےدنیا کے نقشے میں صف اول میں موجود ہے اور اگر اس نے راہ انقلاب کو ترک کر دیا تو   اس کو اپنے گھر ،گلی اور محلے کے علاوہ  کوئی بھی پہچان نہیں سکے گا  اس صورت میں یہ دنیا سے محو ہو جائے گا۔ یاد رہے وہ شیعہ کہ  جو عالمی لحاظ سے دینا میں  صف  اول میں  ہے اس کے لئے  خطرات  بھی زیاد ہیں ہر وقت دشمن  کے نشانے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ دشمن کی آنکھ میں کانٹا ہے وگرنہ  محض نعرے بازاور رسوم و رواج کےپابند شیعے سے دشمن کوکوئی خطرہ نہیں بلکہ خود  دشمن اس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے  وہ چاہتا ہے کہ شیعہ فقط رسومات اور عبادت گاہوں تک محدود رہے اوراپنی حقیقی پہچان کو بھول جائے،سیاست کی بات نہ کرئے،  نظام امامت کی بات نہ کرئے ،ولایت فقیہ کا شعار نہ دے، سیاست سے دور رہے، عدالت کی بات نہ کرے، جہانی حکومت کے خواب نہ دیکھے، تو ایسے شیعوں کو دنیا قبول کرتی ہے  نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان کی حمایت بھی کرتی ہے، انہیں مجالس اور جلوس کے  پرمٹ (اجازت)بھی دیتی ہے ،  انہیں عزاداری کرنے کی اجازت بھی دیتی ہے نہ صرف اجازت دیتی ہے بلکہ ان کے ساتھ ایسے مراسم میں شرکت بھی کرتے ہیں اور حکومتی سرپرستی میں  مراسم انجام پاتے ہیں۔ دشمن کو معلوم ہے کہ  اگر شیعوں کے افکار تبدیل ہوجائیں اور ان میں بصیرت پیدا ہوجائے تو یہ ہمارے  اہداف و  مقاصد کےلئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں  لہذا ضروری ہے   کہ   ملت تشیع سے اس کی شناخت چھین لی جائے اوراسے ایک رسوماتی فرقے میں بدل دیا جائے۔ تشیع کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی طرح سے ان کے نظریے اور آئیڈیالوجی کو  تبدیل کیا جائے  اور یہ کام  بعض شیعہ  نادان  علماء  کے ذریعے  سے انجام دینے کو شش کی جا رہی ہے  ۔ شیعہ عالم (ناداں)کہتا ہے  کہ ہمارا انقلاب اسلامی سے کیا تعلق، ہمیں سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، ہماری رسومات اور عبادات اچھی طرح سے انجام پاجائیں ہمیں ثواب مل جائے کافی ہے پھرہم کامیاب ہیں۔   ایک اور چیز جس کے ذریعے سے  دشمن  شیعہ آئیڈیالوجی  کو ختم کرنے کے لئے چاہتا ہے وہ  جاہل اور کم فہم عزادار ہیں  ان کو   کہاجاتا ہے کہ  آپ عزاداری کریں  ہم آپ کی  ہر طرح سے مدد کرے گے نہ صرف مدد کریں گے بلکہ آپ کے ساتھ مل کر عزاداری بھی کریں گے لیکن  فقط رسوماتی عزاداری انجام دینی ہے نہ حقیقی عزداری ۔


 


 


Kirmani4.jpg


 


 


3.    ولایت فقیه  کی ترویج ا صول اور مبانی :  شہید کرمانی کو  ولایت فقیہ کے پیروکار تو دور کی بات اگر  کوئی اس کا حامی بھی مل جاتاتو  اس کے سامنے اتنہائی خضوع و خشوع سے پیش آتے تھے  اوراس کا بہت احترام کرتےکیونکہ خود راہ ولایت   پر گامزن تھے اور اگر کوئی  ولایت فقیہ کی مخالفت کرتا تھا  پہلےتو اس کو  استدلال سے قانع کرنے کی کوشش کرتے  اگر وہ قانع نہیں ہوتالجاجت دکھاتا تو اس وقت   شہید کرمانی  اس کی لجاجت کی بناپر سخت رویہ اختیار کرتے تھے شہید  اکثر کہا کرتے  تھے کہ زمانہ  غیبت  میں ولایت فقیہ تشیع کی اصل  شناخت و پہچان ہے اگر کوئی  شیعہ ،ولایت فقیہ کی مخالفت کرتا ہے  تو وہ حقیقی  شیعہ  نہیں ہو سکتا بلکہ  ایک  شعاری  شیعہ ہے  کہ جو  واقعیت سے بہت دور ہے  امامت تشیع کی  شناخت  ہے اور ولایت فقیہ استمرار امامت ہے ۔جو شیعہ ولایت فقیہ سے دور ہے  وہ درحقیقت امامت سے کوسوں دور  ہے  اس نے صوفیوں کی امامت اپنائی ہوئی ہے  جس کا اثر ہماری زندگیوں میں نہیں بلکہ ہمارے ذہن کے کسی گوشہ و کنار میں ہے ۔جب ائمہ کی شہادت اور ولادت کے ایام آتے ہیں تو یہ نام نہاد شیعہ اپنے ذہنی اعتقاد  کی تسکین کے لئے تھوڑی بہت ہل چل کر لیتا ہے جبکہ امامت کا مقام وہی ہے کہ جو  جسم کے اندر  موجود دل کا مقام  ہے انسانی حیات میں  دل  کا مرکزی کردار ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح سے امامت ہے امامت کے بغیر شیعہ،شیعہ نہیں ہے اور غیبت امام زمانہ  عج میں ولایت فقیہ  تسلسل امامت  ہےپس   ولایت فقیہ سے دوری درحقیقت امامت سے دوری ہے۔


 


4.    پاکستان میں انقلاب اسلامی کے قیام کے لئے کوشش: اس  کے لئے انہوں نے ابتداسے کام شروع کیا اور لوگوں میں  دینی آگاہی اور شعور  پیدا کرنے کے لئے  کوشش جاری رکھی اوراکثر کہا کرتے تھے کہ انشاء اللہ ابھی نہیں تو ہماری آئندہ   نسلیں ضرور اس کام کو انجام دیں گی   اوراس سلسلے کا پہلا قدم آگاہی ہے۔


 


شہید کرمانی نے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے شہید مطہری کی روش سے استفادہ کیا اور اکثر اپنی گفتگو میں ذکر کرتے تھے کہ  شہید مطہری  کی کامیابی اور انقلاب اسلامی کے وجود میں آنے کا سبب علمی اور فکری نشستیں ہیں جو انہوں نے اوائل انقلاب میں برگزارکیں تھیں اسی روش کو شہید کرمانی نے بھی اپنا یا اور  ماہانہ علمی نشستوں کا سلسلہ شروع کیا۔ہدف یہ تھا کہ ان کے  ذریعے سے  لوگوں کی علمی اور فکری  سطح  کو بلند کیا جا سکے ، لوگوں کا شعور بلند ہو  اور   دین کے بارے میں صحیح آگاہی حاصل ہو ۔


اس کے بعد میں مختصرا ان مشکلات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا جن کا سامنا شہید کو کرناپڑا۔ان میں سب سے بڑی مشکل ۔شھید کرمانی کی شخصت کشی کی تھی۔


 


حضرت ابوذر  کی ایک مظلومیت یہ تھی کہ آپ حق کے حامی اور ظالم کے شدید مخالف تھے اسی وجہ سے آپ کو مدینہ سے نکال دیا گیا شہر بدر کیا گیا  اور شہید کرمانی کو  بھی حضرت ابوذر کی پیروی کے نتیجے میں ملک بدر  اور شہر بدرتو نہیں کیا لیکن انہیں ملک کے اندرہی، ان کے دوستوں  کے درمیان ،  اپنے ہی خاندان  اور معاشرے میں ایک اجنبی انسان بنا دیا گیا  شہید کرمانی  کی ایک مظلومیت یہ تھی کہ  یہ  انسان  اپنوں میں تنہا ہو گئے تھے۔


ü    ناداں دوستوں  اور ناداں شیعوں کے زہر آلود پراپگنڈے کی وجہ سے ان کی صبح اور شام موت واقع  ہوتی تھی وہ ان پراپنے غلیظ افکار کے  کیچڑ اچھالتے  تھے۔


ü    کل تک جو ان کے گہرے دوست تھے ان کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے تھے آج وہی دوست انہیں سلام تک نہیں کرتے تھے۔


ü    شہید کرمانی کو عزاداری کا دشمن کہا گیا انہیں وہابی کہا گیا۔


ü    ان کی شہادت  پر سولجر بازار سے لے کر انچولی تک  جشن کیا گیا ۔


ü    ان کی شہادت پر انچولی میں  میٹھائیاں تقسیم ہوئیں ۔


ü    ان کی شہادت کے بعد لوگوں نے مقدس مقامات پر جاکر شکر ادا کیا کہ ان کی دعائیں اور نذر پوری ہوئی ، کہ ایک کافر کا خاتمہ ہوا۔ ان بے شعورں کے جملات یہ تھے نعوذباللہ (مرگیا مرود، نہ فاتحہ نہ دورد)


ü    شہید کرمانی کی قبر پر کافر کافر  کے نعرے لکھے گئے ۔


 شہید کرمانی کی مظلومیت یہ تھی ان کو شیعہ بھی نہیں سمجھتے تھے آخر ان کا قصور کیا تھا  کہ لوگ صبح و شام ان کے لئے  بد دعاکرتے تھے جبکہ شہید کرمانی ہروقت ان کی نجات کی فکر میں مشغول رہتے تھےاوران کے لئے نگران  تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو ان کی  نادانی کی وجہ سے  دشمن اسلام اور دشمن تشیع فائدہ اٹھائے یعنی  تشیع کو نابود کرنے کے لئے ان ناداں شیعوں  کا سہارا لے ۔


 انبیا اور ائمہ کی سیرت پرچلتے ہوئے شہید کرمانی نے بھی لوگوں کی نجات کے خاطر اپنی زندگی وقف کردی نتیجے میں وہی کچھ ملا جو انبیا اور ائمہ کو ملا تھا قرآن میں ہے کہ بنی اسرائیل نا ماننے پر آئے تو نبی کو نبی نہیں مانا بلکہ اپنا خدمت گذار مان لیا اور جب یہ ماننے پر آئے تو خدا کے بجائے گوسالہ کو خدا بنا لیا،سورہ یسین میں ہے کہ حق بیان کرنے کی وجہ سے ایک دن میں ۷۰، ۷۰ انبیا کا قتل کیا گیا۔


اسی طرح ائمہ(ع)  ہیں جن لوگوں نے امام  حسین علیہ السلام کو دعوت دی، خط لکھے، وہی لوگ امام حسین علیہ السلام  کے خون کے پیاسے ہوگئے امام کو شہید کردیا امام انہیں گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لانا چاہتے تھے انہی لوگوں نے اپنے سے زیادہ ہمددرد امام کو شہید کردیا  اور اسی راستہ کو شہید کرمانی نے انبیا اور ائمہ (ع)سے لیا  جس وجہ سے لوگوں کی نفرین کا باعث بنے اور آخر کار شہید ہوگئے۔


 


اس مرد مجاھد کے لئے اور وہ تمام شھداء جو دینِ اسلام کی راہ میں زحمت برداشت کرتے ہوئے شھید  کر دئے گئے ان سب کے لئے ایک سورہ فاتحہ کی التماس ہے۔


Edited by talib e ilm

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this  

×