Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'پست ہمتی،'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Welcome to ShiaChat!
    • Guest Lounge
    • Site Tech Support/Feedback
    • Site FAQs
  • Main Forums
    • Theology and General Religion
    • Personalities in Islam
    • Prophets and Ahlul-Bayt
    • Jurisprudence/Laws
    • Politics/Current Events
    • Social/Family/Personal Issues
    • Science/Tech/Economics
    • Education and Careers
    • Medicine, Health, and Fitness
    • Off-Topic
    • Poetry and Art
    • Polls
  • Interfaith Dialogue
    • Shia/Sunni Dialogue
    • Christianity/Judaism Dialogue
    • Atheism/Philosophy/Others
    • Research into Other Sects
  • Other Forums
    • Other Languages
    • Local Community Forums
    • Seasonal Forums (Archive)
  • The Hadith Club's Topics
  • University Students Club's Academic Questions
  • Food Club's Topics
  • University Students Club's Advice and Counseling
  • Food Club's Restaurants
  • Reverts to Islam's Topics
  • Sports Club's Football (Soccer)
  • Sports Club's Basketball
  • Sports Club's Cricket/Baseball
  • Sports Club's American Football
  • Travel Club's Ziyarat, Hajj, Umrah
  • University Students Club's Housekeeping
  • Travel Club's General Travel Discussion
  • Mental Health/Psychology Club's Topics
  • Myths & Misconceptions Debunked's Topics
  • Myths & Misconceptions Debunked's Accusations and Myths/Rumors Forum
  • Sports Club's Boxing/Wrestling/MMA
  • Sports Club's Other Sports
  • Travel Club's Vacations/Business Trips
  • Arts, Crafts, DIY Club's Topics

Calendars

  • Community Calendar

Blogs

There are no results to display.

There are no results to display.


Found 1 result

  1. بسم تعالی ان مشکلات کو بیان کرنے کا مقصد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہم نا امید اور مایوس ہو جائیں بلکہ خود کو اور معاشرے کو ان مشکلات سے نجات دلوانی ہے کہ عموماً جن سے ہمارا دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔ آج اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے اورایک اور اہم مشکل کی طرف اشارہ ہوگا وہ ہے بزدلی اور پست ہمتی۔ پست ہمتی یعنی بہت چھوٹے عزم اور ارادے کرنا، یعنی بہت کم ہمّت انسان۔ مثلاً ایک ہی مدرسہ میں دو طالب علم پڑھتے ہوں ایک کا ارادہ یہ ہوکہ میں پاکستان کی رہبری کروں گا اور پاکستانیوں کی فکری مشکلات کو حل کروں گا اور دوسرے کا ارادہ یہ ہو کہ میں ملازمت پر دو رکعت کا پیش امام بن کر فقط اپنے بیوی بچوں کی مشکل حل کروں گا۔ اس کے مقابلے میں شجاعت ہے اور سب سے بڑی شجاعت فیصلوں اور اہداف کے انتخاب میں شجاعت ہے، ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ میدان جنگ میں دشمن مارنا شجاعت ہے، جبکہ یہ بہت ہی نچلے درجے کی شجاعت ہے۔۔ ہم عمومی طور پر فیصلے بزدلانہ کرتے ہیں جب اپنے مستقبل کی فکر میں کسی شعبے کا انتخاب کرتے ہیں تو ان علوم کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جن میں معیشت یعنی اسکوپ اچھا ہے، کہ کہیں روٹیوں سے محروم نہ رہ جائیں۔ جبکہ تعلیم کا حقیقی مقصد پیسہ نہیں ہے، تعلیم اس لئے ہےکہ انسان اپنے معبود کو تلاش کرے اور کمال کی طرف سفر کرے اور پورے معاشرے کو کمال کی طرف لے جانے کے اسباب مہیا کرے۔۔ کراہیت کے باوجود حرج نہیں کہ امام علی علیہ سلام کا فرمان یہاں نکل کیا جائے فرماتے ہیں ’’انسان کی قدر و قیمت اس کے ارادے اور ہمت کے مطابق ہے، پس جس کی ہمت (اور ہم و غم)یہ ہو کہ میں پیٹ میں کیا ڈالوں گا اس کی قیمت وہی ہوگی کہ جو وہ پیٹ سے نکالے گا۔۔۔‘‘ آج پاکستان متوسط لوگوں کے دوش پر چل رہا ہے، ہر شعبے میں متوسط سطح کا آدمی کام کر رہا ہے، متعلقہ شعبے کا ماہر موجود نہیں۔۔ آپ دیکھیں بہت ہی کم ایسے نام ہیں جنہوں نے پاکستان میں رہتے ہوئے کوئی مثبت کام کیا ہو اور دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہو۔ بہت سارے علوم ایسے ہیں کہ آج معاشرے کو انکی شدید طلب ہے، کیا ہمیں ایسے علماء کی ضرورت نہیں جو انبیاء اور آئمہ (ع) کی سیاسی زندگی سے پاکستانیوں کے لئے راہ نجات تلاش کرے ؟ مالیات اور بینکاری کے شعبے میں ہمیں ڈھونڈنے سے کوئی ماہر عالم نہیں ملتا جو اسلامی اور تشیع کے نقطہ نگاہ سے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو، انقلاب اسلامی ایران کو آج ۳۵ سال کے قریب کا عرصہ ہو چکا لیکن پاکستان میں آج تک اس انقلاب کا درست تجزیہ اور تحلیل نہیں کیا گیا، اور ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ غرص کہ اقتصادیت، اجتماعیات، سوشیولوجی، تعلیم، سیاسیات، اور دیگر تمام شعبے خالی ہیں۔ بس ایک ہی الُو کافی تھا برباد گلستاں کرنے کو ہر شاخ پہ الُو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا جبکہ آپ ایک نظر اپنے دشمن کی طرف ڈالیں کہ انہوں نے انقلاب پر بیسیوں مقالہ لکھے ہیں، حتی ہرپیش آنے والے واقعے کی جزئیات بھی کتابچہ کی صورت میں موجود ہے۔۔ ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ مغربی ممالک کی یونیورسٹی سے کچھ طلاب انکے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں اسائنمنٹ دیا گیا ہے کہ پاکستان میں شیعوں کے درمیان خرفاتی اور اختلافی موضوعات پر ہم تھیسس لکھیں تو ہم آپ سے راہنمائی چاہتے ہیں۔۔ اسرائیلی یونیورسٹیز میں مہدویت کے موضوع پر باقاعدہ ڈاکٹرائن اور پی ایچ ڈی ہوتاہے۔۔۔۔۔ کہ یہ کیا نظریہ ہے ؟ یعنی ہم پر مطالعہ کیا جارہا ہے اور مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ ہمارا دشمن ہماری نفسیات، ثقافت اور دکھتی رگ کو ہم سے بہتر جانتا ہے اسی لئے ہماری گردنوں پر حکومت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ دیکھیں انگریزوں کو ہر ناممکن کام کرتے ہیں، مثلاً کئی ہزار فٹ کی بلندی سے بغیر پیراشوٹ کے چھلانگ لگاتے ہیں۔ اسی طرح یہ انگریز غربی ممالک مثلاً جرمنی، برطانیہ، فرانس اور نہ جانے کہاں کہاں سے گلگت بلتستان آتے ہیں اور بلند و خوفناک پہاڑی چوٹیوں کو کہ جہاں پرندہ پر نہیں مارتا یہ اسےعبور کرتے ہیں اور آئے دن ریکاڈ قائم کرتے ہیں مگرافسوس کے ساتھ جو اس علاقے کے مکین ہیں وہ صرف بھیڑ بکریاں چرانے میں مشغول ہیں انھیں پہاڑ دیکھتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہ سارے فقط انگریزوں کا سامان اٹھاتے ہیں اور وہاں انکی خدمت کرتے ہیں۔۔ پس کیا کریں ؟ ہم ماجررہ جوئی پیدا کریں، جسور و غیور بنیں، اس مقام و مرتبہ کی تمناء کریں کہ جس کے بارے میں کوئی وھم و گمان بھی نہیں کرتا۔۔ اپنی توانائیاں بہت چھوٹے ہدف کی خاطر ذائع نہ کریں اور باور کر لیں کہ ہر نہ ممکن کام یہ بازو انجام دے سکتےہیں۔ پھر نقشہ ہی کچھ اور ہوگا۔۔ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اسے اپنی منزل آسمانوں میں نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں *********** اقبال
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×