Jump to content

sharib

Advanced Members
  • Content count

    1,038
  • Joined

  • Last visited

About sharib

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

1,963 profile views
  1. سلام از : سید اقبال رضوی شارب روحِ قرآن ہے کربلا حق کی پہچان ہے کربلا دینِ حق کی بقا کا نظام اسکا عنوان ہے کربلا خونِ شبّیر ہے خاک میں کتنی دھنوان ہے کربلا اقلیت حق پہ باطل کثیر کتنی آسان ہے کربلا جس میں حسنین کے پھول ہیں ایسا گلدان ہے کربلا حُریت حر وفا بندگی سب کا میزان ہے کربلا بخششِ عا صیاں کے لئے ایک وردان ہے کربلا
  2. سلام سید اقبال رضوی شارب ہماری سوچوں میں رہتا ہے لفظ تشنہ لبی ہماری ذات کا حصّہ ہے لفظ تشنہ لبی جو پھیل جائے تو تفسیرِ کربلا ہے یہی سمٹ کے ظلم کا نوحہ ہے لفظ تشنہ لبی ستم کا تیر تبسّم پہ جس نے روک لیا اسی کی یاد دلاتا ہے لفظ تشنہ لبی شبیہ مرسلِ اعظم کے چوڑے سینے پر یہ کس نے برچھی سے لکّھا ہے لفظ تشنہ لبی یہ سچ ہے خشکی و صحرا بھی فہم ہے اسکا ہمیں تو خون کا دریا ہے لفظ تشنہ لبی عطش عطش کی صدائیں ڈھلے ڈھلے اجسام بتائیں کیسے کہ کیا کیا ہے لفظ تشنہ لبی اسی سبب سے تو اتنا اداس ہے شارب کہ دل میں ٹیس اٹھاتا ہے لفظ تشنہ لبی
  3. Salmunalikum brother, thanks for your good words and liking. Another thank for saying your suggestion in simple and plain words. Regarding your suggestion I have to submit that the suggestion is not as per the stated facts by ulema. I am not sure about which janashhen e nabi you are talking ? As is well known that Hz. Isa (AS) will descend from the fourth sky be izn Allah and offer salat as muqtadee of Imam e Zamana ,Imam Mehddi(as), the sher under discussion is talking of the same fact. bura man n e wali koee baat aap ne ki hi nahin regards and shukria
  4. * رخ مہدی سے جو عالم میں اجالا ہوگا * Manqabat (سید اقبال رضوی "شارب ") رخ مہدی سے جو عالم میں اجالا ہوگا پھر کہاں دہر میں باطل کا اندھیرا ہوگا جس گھڑی خالق اکبر کا اشارہ ہوگا صحن کعبہ سے عیاں وارث کعبہ ہوگا (misr a e tarah : sahn e kaba se ayaan.........) اے محبّا ن علی تم کو مبارک ہو یہ دن تم پہ اللہ کی رحمت میں اضافہ ہوگا لوگ واقف ہی نہیں کیا ہے زمانے کا امام وہ جو چاہے گا تو پھر وقت بھی ٹھہرا ہوگا خلق پہچانے گی اس وقت امامت کیا ہے اک نبی جب ترے مقتدیوں میں بیٹھا ہوگا لوگ رہ جائینگے انگشت بدنداں جس دم سامنے نظروں کے پانی پہ مصلّا ہوگا کچھ مزید مجھ پہ عنایت کی نظر ہو مولا اک سلام اور عریضہ میرا پہنچا ہوگا ایک دو شعر بھی ہو جائیں جو مدحت کے قبول فخر شارب جو کروگے تو نہ بیجا ہوگا
  5. Bahot Shukria bhai. Apke reaction se bazm zindah rahti hai Abhi tak 67 readings ho chukin magar react sirf apne kiya. Deeger membran bhi zaroor react karien agar napasand ho to bhi yh guzaarish hai. wassalam
  6. سید اقبال رضوی شارب منقبت ( Misra e tarah alam le kr chale jb Hyder e karraR khyber mein ) ہت سے سورما جب ہو گئے لاچار خیبر میں علم لے کر چلے تب حیدرِ کرّار خیبر میں کھلونے کی طرح اک ہاتھ میں پکڑا تھا حیدر نے بہت سے کھولتے تھے مل کہ جو اک *دوار خیبر میں تھے جنکی نسل میں مومن انہیں وہ چھوڑ دیتی تھی علی کے ہاتھ سے چلتی تھی جب تلوار خیبر میں علم دوں گا اسے الله جسے محبوب رکھتا ہے قصیدہ پڑھ رہے تھے یوں مرے سرکار خیبر میں أحد بھی بدر بھی خندق بھی پیشِ مصطفیٰ ٹھہری بنے یوں ہی نہیں حیدر سپہ سالار خیبر میں علی ہر جنگ میں میدان کیسے مار لیتے ہیں اسی الجھن میں تھے کچھ کاغذی جرّار خیبر میں علی کی چشمِ آشوباں نے اک موقع دیا جنکو جری بن کر گئے پر ہو گئے فرّار خیبر میں کیے مرحب کے دو ٹکرے فقط اک وار میں جس دم تو گویا توڑ دی اک آہنی دیوار خیبر میں جواں ہونے لگیں پسپا امیدیں ڈوبتی نبضیں علم لے کر چلے جب حیدرِ کرّار خیبر میں علی کے بغض میں خیبر کو مت آساں کہو بھائی اگر تھا سہل تو بھاگے تھے کیوں فرّار خیبر میں نہ اب ایڑی پہ یوں اچکو نہ پنجوں کا سہارا لو دکھائی کیوں نہ اب تک قوّتِ یلغار خیبر میں  کسی کا یا علی کہنا کوئی بدعت نہیں شارب وگرنہ پڑھتے کیوں نادِ علی سرکار خیبر میں * hindi ka lafz dwar yani darwazah
  7. KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY

    آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی nasir kazmi
  8. Jane kitno k muqaddar mein by sharib
  9. KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY

    khoob selection hai. Aajkal FACEBOOK type ki shayri se baht uljhan hoti hai.......... lehaza ashaar wale thread per bahot dino baad aaya. aaka selection padh k sukoon hua. wassalam
  10. Salam, after a long gap I could find time to share a tarhi salam . salam by Syed Iqbal Rizvi Sharib. (MIsra e tarah: Ma siwa Zahra k binte Mustafa.....) مانتا ہوں اسکو رب جس سے ملا کوئی نہیں ہر جگہ موجود ہے اسکی جگہ کوئی نہیں ماسوا اللہ کے میرا خدا کوئی نہیں جز محمّد انبیاء میں مصطفیٰ کوئی نہیں مال و دولت منزلت جاہ و حشم اپنی جگہ حبِ حیدر سے بڑی اسکی عطا کوئی نہیں بغضِ حیدر نے بہت الجھا دیا سنّت کی ڈور اب یہ ایسی گانٹھ ہے جسمیں سرا کوئی نہیں کہہ دو اے مرسل کہ کافی ہیں مجھے بس دو گواہ *ایک رب دوجے علی اور تیسرا کوئی نہیں لائی گی دنیا کہاں سے مثل بی بی فاطمہ جب کہ انکی خادمہ فضّہ نما کوئی نہیں خاکِ طیبه خاکِ مکّہ یا کہ ہو خاکِ وطن خاکِ اعلی سب ہیں پر خاکِ شفا کوئی نہیں ہل گئی تھی فوجِ اعدا بس لبوں کے وار سے ورنہ دستِ طفل میں تھا اسلحہ کوئی نہیں اور بھی تھے کاروانِ حق میں کچھ مثلِ اسد ہاں مگر ان سب میں تھا شیرِ خدا کوئی نہیں حر کی قسمت کا پلٹنا ہے مکمّل اک دلیل مغفرت کی ان کے در پر انتہا کوئی نہیں جو گئے تھے نفس و ابناؤ نساء کے زیل میں اہل بیتِ مصطفیٰ انکے سوا کوئی نہیں ایک ہی داماد آیا زیر انفسنا تو پھر ماسوا زہرا کے بنتِ مصطفیٰ کوئی نہیں بس علی کے در پہ شارب مل گئی جائی سکوں جب لگا دنیا میں میرا ہم نوا کوئی نہیں * refer sura- e raad (the thunder) last ayat 43.: Allah says that two witnesses are sufficient for prophet hood Allah himself and THE ONE WHO HAS THE KNOWLEDGE OF THE BOOK . Most mufassareen agree that it is ABOUT Maula Ali.
  11. Dear Irfan 1214 thanx for liking the poetry. Regarding last sher: This is in the background of Meraj when Prophet saw was at a distance of two bows (quasain) and there was a hejab between the Prophet and the creator and Prophet was bestowed many things by the almighty ....... Many narrators close to prophet had described the event of Meraj from their point of views but what Hz. Ali said to Rasool e pak..... Ya Rasool Allah TAFSEEL e Meraj aap bataenge ya main bataon....reveals and speaks volume about Prophet and Hz. Ali.... Hope this suffices. wassalam
  12. نعت و منقبت نعت و منقبت سید اقبال رضوی شارب (sharibmet@yahoo.com) انعام مل گیا ہمیں رحمت کے باب کا نازل ہوا جو نور رسالت مآب کا مقروض دینِ با ری ہے جسکے شباب کا نائب تو بس وہی ہے رسالت مآب کا کافر بھی کہہ رہے ہیں کلامِ بشر نہیں یہ بھی تو معجزہ ہے خدا کی کتاب کا ظلمت قریب آ نہیں سکتی حضور کے شاید اسی لئے نہ تھا سایہ جناب کا بندوں کے ساتھ انکا خدا بھی شریک ہے صَلِّ علٰی کا ورد ہے کس آب و تاب کا چوده صدی کی منفی سیاست کے باوجود پھیلا ہوا ہے نور رسالت مآب کا ہر چیز مانگتا ہوں خدا کے حضور سے سائل ہوں گر چہ میں تو درِ بو تراب کا خاکِ شفا نے مرحلے آساں بنا دیے قصّہ یہ مختصر ہے حساب و کتاب کا دشمن کو اے خدا تو مثالی عذاب دے گستاخیِ رسول کے ہر ارتکاب کا یہ بھی علی کا ایک تعارف ہے دوستو کوثر پہ و ہی دیں گے پیالہ شراب کا شارب بجز علی کوئی سمجھا نہ ٹھیک سے قوسین بھر کی دوری و قصّہ حجاب کا
×