Jump to content

sharib

Advanced Members
  • Content count

    1,042
  • Joined

  • Last visited

About sharib

  • Rank
    Member

Previous Fields

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

2,064 profile views
  1. Ghazal by Syed Iqbal Rizvi Sharib: بے جا سی حسرتوں نے تماشہ کیا مجھے خود میری وحشتوں نے ہی رسوا کیا مجھے جب دسترس میں تھا تو نہ کی لطف کی نگاہ پھر ساری عمر لوگوں سے پوچھا کیا مجھے اس دور میں دروغ نے پایا ہے کیا فروغ گو حق پہ تھا میں جھوٹوں نے جھوٹا کیا مجھے اکثر جو حکمراں ہیں وہ موذی سرشت ہیں مالک یہ کیسے دور میں پیدا کیا مجھے حالات نے وجود مرا مسخ کر دیا وہ میرے ساتھ ہو کے بھی ڈھونڈا کیا مجھے اب کچھ بھی میری ذات میں ذاتی نہیں رہا کچھ یوں نظام نو نے برہنہ کیا مجھے شارب عجب سکون ہے جب سے سنا ہے یہ عارض پہ دھر کے ہاتھ وہ سوچا کیا مجھے
  2. qalb se zahn talak khud hi asar karta hai

    Shukria Shah Khan aur Salsabeel sahebaan. wassalam
  3. سلام (سید اقبال رضوی شارب ) قلب سے ذہن تلک خود ہی اثر کرتا ہے ذکرِ شبّیر کسی دل میں جو گھر کرتا ہے اک یزیدی بھی بدل سکتا ہے اپنی تقدیر مثلِ حر گر سوئے شبّیر سفر کرتا ہے مدحِ حیدر تو بہت لوگ کیا کرتے ہیں سینچ کر پودے کو میثم ہی شجر کرتا ہے جان لیں آپ کے وہ شخص نہیں مولائی قول جو رکھے دگر فعل دگر کرتا ہے کس طرح جائیگا وہ پیش رسولِ عربی کربلا والوں سے جو صرفِ نظر کرتا ہے جو کہ منبر سے غلط دین کی تشریح کرے اپنے ہر لقمہ کو وہ خون سے تر کرتا ہے تب کہیں جا کہ کوئی بنتا ہے مرجع شارب ضبطِ نفس اوج پہ اور خون جگر کرتا ہے
  4. naat o manqabat

    naat o manqabat (Syed Iqbal Rizvi Sharib) tarah: tum apne dil mein madeene ki aarzoo rakhna. نہ جامِ جم نہ سفال اور نہ ہی سبو رکھنا علی سے ساقیِ کوثر کی آرزو رکھنا ہر ایک بوند سے نکلے صدائے صلِّ علی ہماری نسلوں میں خالق وہی لہو رکھنا سوارِ دوشِ محمّد کی عظمتیں کیا ہیں کبھی کبھی کوئی ایسی بھی گفتگو رکھنا عمل دلیل ہو دعوائے عشقِ احمد کا تم اپنے آپ میں ایسی بھی کوئی خو رکھنا خوشی ہو غم ہو سفر ہو حضر ہو دن ہو کہ رات ادائے اجر رسالت کی جستجو رکھنا اسی میں دیں کی جلا ہے اسی میں دیں کی بقا پیامِ آلِ محمّد کو کو بہ کو رکھنا تمام پہرے ہیں عشاقِ مصطفیٰ پہ تو کیا تم اپنے دل میں مدینے کی آرزو رکھنا خضوع خشوع بھی عبادت میں میری شامل ہو مرے خدا مرے سجدوں کی آبرو رکھنا جو پیاس ساتوں سمندر پہ ہو رہی ہو محیط اب ایسی پیاس کو کیا لا کے آب جو رکھنا
  5. سلام از : سید اقبال رضوی شارب روحِ قرآن ہے کربلا حق کی پہچان ہے کربلا دینِ حق کی بقا کا نظام اسکا عنوان ہے کربلا خونِ شبّیر ہے خاک میں کتنی دھنوان ہے کربلا اقلیت حق پہ باطل کثیر کتنی آسان ہے کربلا جس میں حسنین کے پھول ہیں ایسا گلدان ہے کربلا حُریت حر وفا بندگی سب کا میزان ہے کربلا بخششِ عا صیاں کے لئے ایک وردان ہے کربلا
  6. سلام سید اقبال رضوی شارب ہماری سوچوں میں رہتا ہے لفظ تشنہ لبی ہماری ذات کا حصّہ ہے لفظ تشنہ لبی جو پھیل جائے تو تفسیرِ کربلا ہے یہی سمٹ کے ظلم کا نوحہ ہے لفظ تشنہ لبی ستم کا تیر تبسّم پہ جس نے روک لیا اسی کی یاد دلاتا ہے لفظ تشنہ لبی شبیہ مرسلِ اعظم کے چوڑے سینے پر یہ کس نے برچھی سے لکّھا ہے لفظ تشنہ لبی یہ سچ ہے خشکی و صحرا بھی فہم ہے اسکا ہمیں تو خون کا دریا ہے لفظ تشنہ لبی عطش عطش کی صدائیں ڈھلے ڈھلے اجسام بتائیں کیسے کہ کیا کیا ہے لفظ تشنہ لبی اسی سبب سے تو اتنا اداس ہے شارب کہ دل میں ٹیس اٹھاتا ہے لفظ تشنہ لبی
  7. Salmunalikum brother, thanks for your good words and liking. Another thank for saying your suggestion in simple and plain words. Regarding your suggestion I have to submit that the suggestion is not as per the stated facts by ulema. I am not sure about which janashhen e nabi you are talking ? As is well known that Hz. Isa (AS) will descend from the fourth sky be izn Allah and offer salat as muqtadee of Imam e Zamana ,Imam Mehddi(as), the sher under discussion is talking of the same fact. bura man n e wali koee baat aap ne ki hi nahin regards and shukria
  8. * رخ مہدی سے جو عالم میں اجالا ہوگا * Manqabat (سید اقبال رضوی "شارب ") رخ مہدی سے جو عالم میں اجالا ہوگا پھر کہاں دہر میں باطل کا اندھیرا ہوگا جس گھڑی خالق اکبر کا اشارہ ہوگا صحن کعبہ سے عیاں وارث کعبہ ہوگا (misr a e tarah : sahn e kaba se ayaan.........) اے محبّا ن علی تم کو مبارک ہو یہ دن تم پہ اللہ کی رحمت میں اضافہ ہوگا لوگ واقف ہی نہیں کیا ہے زمانے کا امام وہ جو چاہے گا تو پھر وقت بھی ٹھہرا ہوگا خلق پہچانے گی اس وقت امامت کیا ہے اک نبی جب ترے مقتدیوں میں بیٹھا ہوگا لوگ رہ جائینگے انگشت بدنداں جس دم سامنے نظروں کے پانی پہ مصلّا ہوگا کچھ مزید مجھ پہ عنایت کی نظر ہو مولا اک سلام اور عریضہ میرا پہنچا ہوگا ایک دو شعر بھی ہو جائیں جو مدحت کے قبول فخر شارب جو کروگے تو نہ بیجا ہوگا
  9. Bahot Shukria bhai. Apke reaction se bazm zindah rahti hai Abhi tak 67 readings ho chukin magar react sirf apne kiya. Deeger membran bhi zaroor react karien agar napasand ho to bhi yh guzaarish hai. wassalam
  10. سید اقبال رضوی شارب منقبت ( Misra e tarah alam le kr chale jb Hyder e karraR khyber mein ) ہت سے سورما جب ہو گئے لاچار خیبر میں علم لے کر چلے تب حیدرِ کرّار خیبر میں کھلونے کی طرح اک ہاتھ میں پکڑا تھا حیدر نے بہت سے کھولتے تھے مل کہ جو اک *دوار خیبر میں تھے جنکی نسل میں مومن انہیں وہ چھوڑ دیتی تھی علی کے ہاتھ سے چلتی تھی جب تلوار خیبر میں علم دوں گا اسے الله جسے محبوب رکھتا ہے قصیدہ پڑھ رہے تھے یوں مرے سرکار خیبر میں أحد بھی بدر بھی خندق بھی پیشِ مصطفیٰ ٹھہری بنے یوں ہی نہیں حیدر سپہ سالار خیبر میں علی ہر جنگ میں میدان کیسے مار لیتے ہیں اسی الجھن میں تھے کچھ کاغذی جرّار خیبر میں علی کی چشمِ آشوباں نے اک موقع دیا جنکو جری بن کر گئے پر ہو گئے فرّار خیبر میں کیے مرحب کے دو ٹکرے فقط اک وار میں جس دم تو گویا توڑ دی اک آہنی دیوار خیبر میں جواں ہونے لگیں پسپا امیدیں ڈوبتی نبضیں علم لے کر چلے جب حیدرِ کرّار خیبر میں علی کے بغض میں خیبر کو مت آساں کہو بھائی اگر تھا سہل تو بھاگے تھے کیوں فرّار خیبر میں نہ اب ایڑی پہ یوں اچکو نہ پنجوں کا سہارا لو دکھائی کیوں نہ اب تک قوّتِ یلغار خیبر میں  کسی کا یا علی کہنا کوئی بدعت نہیں شارب وگرنہ پڑھتے کیوں نادِ علی سرکار خیبر میں * hindi ka lafz dwar yani darwazah
  11. KUCH SH'EYR JO ACHCHAY LAGAY

    آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی nasir kazmi
  12. Jane kitno k muqaddar mein by sharib
×