Jump to content

ibnabbas110

Basic Members
  • Content count

    2
  • Joined

  • Last visited

About ibnabbas110

  • Birthday 11/18/1999

Contact Methods

  • Facebook
    https://www.facebook.com/ibn abbas naqvi
  • Website URL
    http://ibnabbas110.blogspot.com/

Profile Information

  • Religion
    islam, shia , asna ashri

Previous Fields

  • Gender
    Male
  1. مشرب ناب چہ باید مرد را طبع بلندی مشرب نابی دل گرمی نگاہ پاک بینی جان بیتابی انسان کو کمال تک پہنچنے کے لئے ایک خالص اور ناب مشرب اور دین کی ضرورت ہے لیکن خالص اور ناب دین ومسلک ہر ایک کو میسر نہیں ہے اس کے لئے عظیم اور بلند ہمت کی ضرورت ہے کیونکہ ہر مزاج کی الگ غذا ہے۔ مولانا روم کے بقول: بر سماع راست ہر کس چیر نیست لقمہ ہر مرغکی انجیر نیست خاصہ مرغی مردۂ پوسیدہ ای ہر خیال اعمیی بے دیدہ ی سچی بات سننے پر ہر ایک قادر نہیں ہے،ہر (گھٹیا)پرندے کی خوراک انجیر نہیں ہے،خالص طور پر مردہ اور سڑا ہوا پرندہ خصوصاًجو اندھا ہو اور اندھے پن کے خیالات سے بھرا ہوا ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص حقیقت کوسننے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ہر شئے کی غذا اس کی استعداد کے تناسب اور اس کی قابلیت کے مطابق ہوتی ہے۔ کچھ جانور غلاظت کھاتے ہیں اور کچھ بہت ہی پاکیزہ غذا کھاتے ہیں۔گھریلو مرغ بعض اوقات غلاظت کھانا شروع کردیتے ہیںکیونکہ پرواز کے قابل نہیں ہیں،کچرے کے ڈھیر پر چرتے چگتے رہتے ہیں،ان کی رسائی بڑے اور لمبے درختوں پر موجود پھلوں تک نہیں ہے جبکہ بعض پرندے پاکیزہ اور اعلیٰ غذا کھاتے ہیں۔ انجیر جسے عربی میں تین کہتے ہیں ہر پست اور گھٹیا پرندے کی خوراک نہیں ہے،یہ پاکیزہ مزاج اور نفاست پسند پرندوں کی خوراک ہے،مخصوصاً مریل پرندہ جو حرکت نہ کرسکتا ہواورمردوں کی طرح ہو،گلا سڑا ہوا،نابینا اور کور پن میں مبتلا ہو۔ انسانوں کی مثال بھی ایسے ہی ہے،کچھ انسان پست ہمت ہوتے ہیں ان میں لیاقت وقابلیت نہیں ہوتی،خالص اور ناب دین ان کی گھٹیا طبیعت کے ساتھ سازگار نہیں ہوتا،مخصوصاًوہ لوگ جودل کے اندھے اوربے بصیرت ہوں،جن کے اذہان وقلوب فاسد خیالات اور بیہودہ تصورات سے بھرے ہوئے ہیں،جو اندھے پن کے تخیلات میں مبتلا ہوں وہ ہرگز اسلام ناب اور مشرب ناب کے قابل نہیں ہوتے،ان کا دین خرافات اور بیہودہ واہیات سے عبارت ہوتا ہے،علامہ اقبالؒ نے مجاہدوں کا دین مسلک شبیری قرار دیا ہے اور غلاموں کا مذہب خانقاہی بیان کیا ہے اور ساتھ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ غلام ہرگز دین مجاہدانہ نہیں اپنا سکتے کیونکہ ان کے رگ وپے میں غلامی سرایت کئے ہوئے ہے۔اسلام ناب غلاموں کی سمجھ سے بالاتر ہے، بے حس اور بے درد انسانوں کی فہم سے ماورا ہے،درباریوں،متحجروں اور مقدس مآبوںکی رسائی سے باہر ہے ’’لایمسّہ الاالمطہّرون‘‘ اسے پاک فطرتیں اور پاک نفوس ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مشرب ناب ہر گلے میں نہیں اترتا،اس کو پینے سے بعض افراد کا حال بگڑ جاتا ہے۔ جس طرح حکایت میں ہے کہ دباغ(چمڑا رنگنے والا)عطر فروشوں کے بازار میں جانکلا،جوں ہی خوشبو اس کے مشام تک پہنچی اس کا سر چکرانے لگا، وہیں پر بے ہوش ہوکر گرپڑا،لوگ اس کے اردگرد جمع ہوئے اور اسے ہوش میں لانے کے لئے مختلف تدبیریں کرنے لگے،کسی نے ہاتھ ملنا شروع کیا، کسی نے پانی چھڑکنا شروع کیا،کسی نے اس کا لباس کم کرنا شروع کیا،جس کے ذہن میں جو آرہا تھا اسے ہوش میں لانے کے لئے انجام دے رہا تھا لیکن کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوئی،آخرکار اس کے رشتہ داروں کو باخبر کیا گیا،خبر ملتے ہی اس کا بھائی بھاگا ہوا آیااور دیکھا کہ بھائی بے ہوش پڑا ہے اور ہوش میں لانے کی ساری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں،وہ مجمع سے باہر گیا اور کہیں سے کتے کا فضلہ آستین میں پنہاں کرکے لایا،بھیر کو چیرتا ہوا بھائی کے پاس پہنچا اور کتے کا فضلہ اس کی ناک سے لگایاتو وہ فوراًہوش میں آگیااور اٹھ کربیٹھ گیا،لوگ حیران تھے کہ ہم نے سب تدبیریں کی ہیں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوئی اس نے کونسی اکسیر اسے سونگھائی کہ فوراًاٹھ بیٹھا،پوچھنے پر اس نے جواب دیا کہ اس کا پیشہ چمڑا رنگنا ہے،تمام عمر اسی کام میں مشغول رہا ہے،پلیدی بدبو اور تعفن اس کی خو بن چکی ہے لہٰذاعطر کی خوشبو کو تحمل نہیںکرسکا۔ اس حکایت کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ آلودہ، بیہودہ،ناپاک خیالات اورعادات کے خوگر ہوچکے ہیں انہیں پاک اور طیب چیزیں ناگوار گزرتی ہیں انبیاء کی دعوت اسی وجہ سے بعض نفوس پر گراں گزرتی تھی۔ الخبیثات للخبیثین رابخوان رو ویشت این سخن را باز دان قرآن میں ’’الخبیثات للخبیثین‘‘ کو پڑھواور پھر اس میں غور وفکر کرو کہ اس کے پس پردہ کیا راز چھپا ہوا ہے: مرخبیثان را نسازد طیبّات درخور ولایق نباشد ای ثقات خبیثوں کی طبیعت کے ساتھ طیبات ناساز ہیں،ناپاک مزاج پاکیزہ امور کے لایق اور قابل نہیں ہیں۔ چون زعطر وحی کژ گشتند وگم بد فغانشان کہ تطیرنابکم چونکہ وحی کی خوشبو سے یہ پلیدلوگ گمراہ وکج ہوگئے ہیں لہٰذا انبیاء کو کہتے تھے کہ آپ ہمارے لئے بدشگون ہیں۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:مشرب ناب ہر طبیعت کے ساتھ ساز گار نہیں ہے بلکہ یہ مخصوص جانوں کے لئے ہے،مشرب ناب کے لائق وہ نفوس ہیں جن کی ہمت بلند ہو،جو ذلت،غلامی اور پستی کو قبول نہ کرتے ہوں۔طبع بلند کے ساتھ ساتھ دلِ گرم کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مشرب ناب دل وسرد کے اندر نہیں اترتا۔ دلِ گرم: فارسی زبان میں دلِ گرم محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔دلِ گرم یا دل گرمی سے مراد امید،جوش وولولہ ہونا اور شوق وآرزو پیدا ہونا ہے،دل گرمی سے مراد امیدواری،اعتماد،اطمینان،آسودگی اور تسلی ہے۔اس کے مقابلے میں دل سرد یا دل سردی ہے جس کے معنی مایوسی،ناامیدی اور افسردگی ہیں۔ علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:انسان کو مرد کامل بننے کے لئے مشرب ناب چاہئے اورمشرب ناب یا خالص دین و دلِ گرم کی ضرورت ہے یعنی امید، جوش اور ولولہ کے بغیر انسان مرد کامل نہیں بن سکتا۔دل سردی یا مایوسی وناامیدی مشرب ناب کے ساتھ ساز گار نہیں ہے۔ناامیدی اور مایوسی تمام ناکامیوں کی بنیاد ہے۔ فرد ہو یا اُمت ناامیدی دونوں کے لئے ہلاکت ہے۔ خداوند تبارک وتعالیٰ نے انسان کو ناقص پیدا کرکے تکامل کے جادے پر ڈال دیا ہے اور دو قوتوں کو دو الگ الگ ذمہ داریاں دی ہیں، ایک شیطانی قوت ہے جس کا کام انسان کو ناامید اور مایوس کرنا ہے۔نوع بشر اور اس کی تمام نسلوں میں قنوطیت پیدا کرنا شیطانی کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک طرف سے شیطانی اور ابلیسی طاقتوں کو مایوسی پھیلانے کی چھوٹ دی ہے دوسری طرف سے بنی آدم کو قنوطیت سے روکا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ ہرگز مایوسی کا شکار نہ ہوں کیونکہ یہ شیطان کا پھیلایا ہوا دام ہے۔ قرآن کریم میں سورہ روم کی آیت۳۶میں ارشاد ہے: ’’وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً فَرِحُوا بِہَا وَإِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیہِمْ إِذَا ہُمْ یَقْنَطُونَ‘‘ ’’جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس پر خوشحال ہوجاتے ہیں لیکن جب ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت وافتاد آپڑتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔‘‘ بعض لوگوں کامزاج یہ ہے کہ اچھے حالات میں خوشحال اور برے حالات میں مایوسی کاشکار ہوجاتے ہیں۔ سورہ فصلت آیت ۴۹میں ارشاد ہے: ’’لاَیَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَائِ الْخَیْرِ وَإِنْ مَسَّہُ الشَّرُّ فَیَئُوسٌ قَنُوطٌ‘‘ ’’انسان خیروآسودگی مانگنے سے کبھی نہیں تھکتا لیکن جوں ہی اس پر کوئی مشکل آپڑتی ہے تو سخت مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے۔‘‘ سورہ زمر آیت ۵۳میں ارشاد ہے: ’’قُلْ یَاعِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اﷲِ‘‘ ’’کہہ دیجئے!اے میرے بندو جنہوں نے اپنے ساتھ زیادتی کی ہے کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔‘‘ اور سورہ حجر آیت ۵۶میں فرمایا: ’’قَالَ وَمَنْ یَقْنَطُ مِنْ رَحْمَۃِ رَبِّہِ إِلاَّ الضَّالُّونَ‘‘ ’’اپنے پروردگار کی رحمت سے فقط گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔‘‘ سورہ یوسف آیت ۸۷میںحضرت یعقوب ؑکی زبانی بیان فرمایا کہ فیض اور لطف خدا سے کفارمایوس ہوتے ہیں۔ ’’لاَیَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اﷲِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ‘‘ شیطانی تلقینات اور اپنے انسانی مزاج کی وجہ سے مایوس انسان کو نجات دینے کے لئے خداوند تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے جن کا کام انسان کو مایوسی سے نکال کرامید دلانا ہے: ’’لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ‘‘ مایوسی اور ناامیدی سب سے بڑی تاریکی ہے اور امید سب سے بڑی نورانیت ہے۔انبیاء کی صفات میں سے بشیر ونذیر ہونا ہے۔ بشیر سے مراد فقط حوروں کی خبر دینا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑی بشارت مایوس انسانیت کو امید دلانا ہے۔نذیر سے مراد ڈرانا نہیں بلکہ انسان کو درپیش خطروں سے آگاہ کرنا ہے جن میں سے اہم خطرہ مایوسی اور ناامیدی ہے۔ مایوسی کا خطرہ اس وقت زیادہ بڑھ جاتا ہے جب اُمتیں اور قومیں اس کا شکار ہوجائیں۔ مایوسی اور ناامیدی سے امتوں میں حرکت ختم ہوجاتی ہے، خود اعتمادی مٹ جاتی ہے،آزادی سے خوف آنے لگتا ہے،ذلت ورسوائی مقدر بن جاتی ہے،فقر وگدائی عادت بن جاتی ہے،غلامی پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں میں ناامیدی اور مایوسی کو محسوس کیا اور ان کے اندر امید اور آزرو پیدا کرنے کی کوشش کی ۔اقبال ؒایک نظم میں لکھتے ہیں: آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک محکوم کا دل مردہ وافسردہ ونومید آزاد کا دل زندہ پرسوز وطرب ناک آزاد کی دولت دل روشن نفس گرم محکوم کا سرمایہ فقط دیدہ نمناک محکوم ہے بیگانہ ٔاخلاص ومروت ہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش وہ بندہ افلاک ہے یہ خواجہ افلاک آزاد انسان یا مرد کامل کی رگیں پتھر کی رگوں کی طرح سخت ہوتی ہیںجنہیںآسانی سے کاٹا نہیں جاسکتا یعنی آزاد آدمی کا عزم وحوصلہ اور ارادہ بہت پختہ ہوتا ہے جسے آسانی سے توڑا نہیں جاسکتاجبکہ غلام آدمی کی رگیں انگور کی بیل کی طرح نرم ونازک ہوتی ہیںجو آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔مراد یہ ہے کہ غلام قوموں کے عزم وارادے مضبوط نہیں ہوتے،معمولی مشکلات ان کے عزائم کو توڑ دیتی ہیں۔غلام اقوام سختیوں کے سامنے حوصلہ ہار جاتی ہیں۔غلام اور آزاد کی دنیا مختلف ہے کیونکہ غلام کا دل ہمیشہ مرا ہوا ،بجھا ہوا،ناامید اور مایوس ہوتا ہے۔مایوسی اس کے اندر کچھ کرنے کا حوصلہ وعزم پیدا ہونے ہی نہیں دیتی۔ناامیدی کی وجہ سے اس کے دل میں کوئی ہدف اور مقصد نہیں ہوتا جبکہ آزاد کا دل زندہ ،امیدوار،پرسوز اور خوشحال ہوتا ہے۔آزاد آدمی اس وجہ سے خوشحال نہیں ہوتا کہ فی الوقت اسے سب کچھ میسر ہے بلکہ اس کی خوشحالی کا سبب مستقبل کے بارے میں اس کا امیدوار ہونا ہے۔اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کوششیں ایک دن رنگ لائیں گی اور موجودہ کسمپرسی سے باہر آجائے گا۔ آزاد قومیں کبھی بھی افسردہ نہیں ہوتیں،ان کو اپنی کامیابی پر یقین کامل ہوتا ہے لہٰذا تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیتی ہیں۔ آزاد آدمی کا سرمایہ اس کا روشن اور نورانی دل اور نفس گرم ہے مؤثر صدا اور فریاد رسا ہے۔وہ اپنے دل کی روشنی کے سرمایے سے امید کی شمع اپنے اندر ہمیشہ روشن رکھتا ہے۔آزاد قومیں ہرگز اپنے اندر امید کی شمع بجھنے نہیں دیتیں۔آزاد انسان کے دل میں سوز ودرد ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا نفس ہمیشہ گرم ہے۔ گرم نفس ،حیات کی علامت ہے۔اسکے اندر زندگی کی امید کا چراغ بجھتا نہیں ہے۔وہ اپنی مؤثر اور رسافریادوں سے سب کو بیدار رکھتا ہے اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کی امید دلاتا ہے جبکہ محکوم اور غلام کا سرمایہ فقط اس کے عاجزانہ آنسو ہوتے ہیں۔ غلام چونکہ مایوسی کا شکار ہوتا ہے لہٰذا سعی وکوشش ترک کردیتا ہے،جس کے نتیجے میںدرماندہ اور محروم ہوجاتاہے اور ساری عمر ذلت کے ساتھ اس محرومیت کے مرثیے پڑھتا ہے اور بے کسوں کی طرح اس پر آنسو بہاتا رہتا ہے۔ناامیدی کی وجہ سے دکھوں اور رنجوں میں گھر جاتا ہے،بجائے مقابلہ کے ان غموں پر فقط زانو پیٹتارہتا ہے حالانکہ نہ یہ آنسواس کے غموں کا مداوا ہوتے ہیںاور نہ ہی زانو پیٹنے سے اس کی کوئی مشکل حل ہوتی ہے۔محکوم اور غلام طبقہ اپنی بے چارگی ،درماندگی اور زبوں حالی کو صحیح کرنے کے لئے دلیلیں گھڑنے میں بڑا ماہر ہوتا ہے،ستم پذیری کو حلم وبردباری ثابت کرتا ہے،ذلت پذیری کی وجہ سے ان کے دلوں میں مروت ومردانگی ختم ہوجاتی ہے۔ محکوم اور غلام ہرگز آزاد انسان کے برابر ہم پلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ محکوم ہر چیز کے سامنے محکوم ہے۔وہ سرمایہ دار کا غلام ہے،وہ سیاستدانوں کا غلام ہے،جاگیرداروں اور وڈیروں کا غلام ہے،وہ خواہشات کا غلام ہے،وہ زمین وزمان کا بھی غلام ہوتاہے،غلامی کی خُو نے اسے ہر شئے کا غلام بنادیا ہے یہاں تک کہ وہ افلاک کا بھی غلام ہے جبکہ آزاد انسان سب کا خواجہ وسردار ہے،وہ کسی کے سامنے دبتا نہیں ہے۔ ملاضیغم لولابی کی زبانی فرماتے ہیں: گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو تھرتھراتا ہے جہان چار سو و رنگ و بو پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انسان کا ضمیر کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش حاکمیت کا بتِ سنگیں دل و آئینہ رو غلامی کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ناامید اور محکوم قومیں ایک دن بیدار ہوجاتی ہیں،ان میں امید کی کرن پھوٹتی ہے،جواِن کے لہو کو گرما دیتی ہے،ان کے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے،ان کے ولولوں اور عزم وہمت کو دیکھ کرجہان رنگ وبو اور چار جہات والا عالم کانپنے لگتا ہے،زندہ،پرامید اور بیدار قوم کے جذبوں سے شرق وغرب تھرتھرانے لگتے ہیں اور شمال وجنوب پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ جب انسان کے دل میںامید اور آزادی کی لہر دوڑ جاتی ہے تو محکوم اور غلام قوموں کے ضمیر سے شک وتردید اور تخمین وظن،خوف وہراس نکل جاتا ہے، اس کے بجائے دل یقین کی دولت سے مالامال ہوجاتا ہے،اس وقت محکوم قومیں اندرونی کشمکش سے نکل کر نجات کے راستے پر گامزن ہوجاتی ہیں،ان کے اندر آرزو اور امید کا چراغ جل جاتا ہے،جس کی وجہ سے راستوں کی ظلمتیںاور تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں،چراغ امید روشن کئے ہوئے راستوں پر چل کر ایک دن اپنی منزل پالیتی ہیں۔ وہ پرانے چاک،زخم اور دامن دریدگیاں،جنہیں عقل سی نہیں سکتی عشق انہیں بغیر سوئی دھاگے کے رفو کردیتا ہے یعنی ناامیدی کی وجہ سے قوموں کے اندر جو ناہمواریاں پیدا ہوجاتی ہیں،مایوسی کی وجہ سے امت کے پیکر پر جو گہرے زخم آجاتے ہیں،محکومیت کی وجہ سے قوم کا دامن چاک چاک ہوجاتا ہے اور غلامی کے سبب قوم کا گریبان چاک ہوجاتا ہے اسے غلام ،محکوم اور ناامید عقل ہرگز رفو نہیں کرسکتی،غلامی کے ڈھنگ سکھانے والی عقل ہر چاک دامن نہیں سی سکتی ،ناامیدی کو دلیلیں فراہم کرنے والی سوچ ان زخموں کو مندمل نہیں کرسکتی بلکہ ان ساری مشکلات کا حل انسان کے دل میں امید وآرزو کے چراغ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شوق وجذبہ ہے جو آگے بڑھ کر عشق بن جاتا ہے۔عقل احساس کمتری میں مبتلا ہوتی ہے،اسے وسائل کی کمی کا زیادہ احساس ہوتا ہے، عقل بہانے ڈھونڈتی ہے کہ ان زخموں کو مندمل کرنے اور ان چاک گریبانوں کو سینے کے لئے اس کے پاس وسائل نہیں ہیںجبکہ عشق یہی کام بغیر وسائل کے انجام دیتا ہے،وہ زخموں کو سوئی اور دھاگے کے بغیر سی دیتا ہے کیونکہ امید جب عشق پیداکردے تو انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے پھر عشق انسان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا،انسان کو مضطرب کردیتا ہے نیندیں اُڑادیتا ہے،دل میں آگ لگا دیتا ہے اور انسان کو تڑپا دیتا ہے،محکوم قوم کے اندر جب امید کا چراغ عشق کی آگ لگا دیتا ہے تو غلام قوم ظالم آقاؤں اور جابر حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے،اپنے خالی ہاتھوں سے پیکر استبداد پر مسلسل اور پیہم ضربیںلگا لگاکر اس کے سنگلاخ بت کو پاش پاش کردیتی ہے اور اس مکار اور ظالمانہ نظام سے نجات پالیتی ہے جس کا ظاہر تو آئینے کی طرح ہے لیکن اس کا باطن پتھر کی طرح سخت ہے، اسکی زبان میں خیرخواہی،ہمدردی،حقوق اور انسانیت کی بات ہوتی ہے لیکن اس کا دل بے رحم،ستم کار اور سفاک ہوتا ہے۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ کے نام سے نظم میں علامہ اقبالؒفرماتے ہیں: ابلیس نے اپنے مشیروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: کب ڈرا سکتے ہیںمجھ کو اشتراکی کوچہ گرد یہ پریشاں روزگار آشفتہ مغز آشفتہ ہو ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو ابلیس اپنے مشیروں سے کہتا ہے کہ یہ اشتراکی (سوشولسٹ)آوارہ اور کوچہ گرد شیطانی نظام کے لئے کوئی خطر نہیں ہیں،ہم ان سے ہرگز خائف نہیں ہیں کیونکہ یہ تو سرگردان طبقہ ہے،ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں ہے،اسی وجہ سے یہ پریشان حال،تہی مغز اور سبک لوگ ہیں،ان کے نظریات وافکار بھی پریشان اور پراکندہ ہیں،ملوکیت شیطانی نظام ہے جس پر شیطان نے جمہوری لبادہ چڑھادیا ہے،اسے اشتراکیت سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔اگر شیطانی نظام کوکوئی خطرہ ہے تو اس قوم سے ہے کہ جو اگرچہ ظاہری طور پراپنوں اور غیروں کی جلائی ہوئی آگ میں جل کرراکھ بن چکی ہے لیکن اس کی راکھ کے نیچے امید کی چنگاری ابھی تک موجود ہے۔ خوف یہ ہے کہ خاکستر کے نیچے دبی ہوئی آرزو کی چنگاری کہیں بڑھ کر شعلہ نہ بن جائے اور شیطانی نظام کو جلا کر بھسم کردے۔ علامہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ شیطان کے ایک مشیر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پرامید قوموں اور عزت وآزادی کی آرزو رکھنے والی اُمت سے شدید خطرہ ہے لیکن آرزو پیدا ہونا آسان نہیں ہے۔ آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام شیطانی مشیر کا نظریہ ہے کہ غلام اور محکوم قوموں کے اوپرمایوسی اور ناامیدی کے اتنے گہرے بادل چھائے ہوتے ہیںکہ ان کے اندر امید پیدا ہونا ممکن ہی نہیں ہے،اگر کسی وقت امید وآرزوجنم لے تو محکوم قوموں کے اندر آرزو بہت جلد مر بھی جاتی ہے کیونکہ امید پیدا کرکے اسے زندہ اور باقی رکھنا دشوار کام ہے دوسرے یہ کہ محکوموںکے اندر ایسے افراد پیدا ہوجاتے ہیںجن کا کام قوموں کو مایوس کرنا،ڈرانا،دھمکانا اور خوف زدہ کرناہے۔یہ سیاسی اور دینی لبادے اوڑھ کر غلاموں کو ناامید کرتے ہیںاور اگر برفرض امید پیدا ہوبھی جائے اور نہ بھی مرے تو خام اور ناپختہ رہ جاتی ہے کیونکہ محکوموں کے اندر امیدوں کو پختہ کرنے والے افراد کی کمی ہوتی ہے اور خام آرزو اگر موجود بھی ہو تو شیطانی نظام کے لئے خطرناک نہیں ہے۔ شاعر مشرق لکھتے ہیں کہ بعض اوقات آرزو پیدا تو ہوجاتی ہے لیکن وہ آرزو نہیں ہوتی جس کی ضرورت ہے یعنی محکوم کے اندر آزادی کی بجائے کسی اور شئے کی آرزو پیداہوجاتی ہے جو اگرنقصان دہ نہ بھی ہوتو فائدہ مند نہیں ہوتی اس لئے آرزو پیدا کرنے کے لئے جہت کا متعین ہونا ضروری ہے۔ تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری میری دعا ہے کہ تیری آرزو بدل جائے انسان کو آرزو پوری ہونے کی دعاکرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کس چیز کی آرزو کررہا ہے،اگر درست مقصد کی آرزو نہ ہو،وہ چیز جو انسان کو دنیا وآخرت میں سعادت مند بناسکتی ہے اور اسے عزت وکرامت عطاکرسکتی ہے اگر اس کی آرزو نہ ہو تو ضروری ہے کہ انسان اپنی آرزو تبدیل کردے۔ علامہ ؒ کواُمت مسلمہ کی آرزو سے اتفاق نہیں ہے۔آپ کے نزدیک یہ بچگانہ اور طفلانہ آرزوئیںپوری ہونے کے بجائے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اسکی آرزوئیں بدل جائیں۔ ساقی نامہ میں علامہ نے اپنی آرزوؤںاور امنگوں کا ذکر کیا ہے اور پھرخداوند تعالیٰ سے التجاکی ہے کہ انہیں میری قوم اور اس کے جوانوں میں بھی پیدا کردے۔اقبالؒ کی آرزوئیں یہ ہیں: شراب کہن پھر پلا ساقیا وہی جام گردش میں لاساقیا مجھے عشق کے پرلگا کر اڑا مری خاک جگنو بناکراڑا خود کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کر تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے دل مرتضیٰ سوز صدیق دے جگر سے وہی تیر پھر پارکر تمنا کو سینوں میں بیدار کر جوانوں کو سوزجگر بخش دے مرا عشق میری نظر بخش دے میری ناؤ گرداب سے پارکر یہ ثابت ہے تو اس کو سیار کر بتا مجھ کو اسرار مرگ وحیات کہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں مرے دل پوشیدہ بے تابیاں مرے نالہ نیم شب کا نیاز مری خلوت وانجمن کا گداز امنگیں مری آرزوئیں مری امیدیں مری جستجوئیں مری مری فطرت آئینہ روزگار غزالان افکار کا مرغزار مرا دل میری رزم گاہ حیات گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر اسی سے فقیری میں ہوںمیں امیر مرے قافلے میں لٹادے اسے لٹا دے ٹھکانے لگادے اسے مسلمانوں کی زبوںحالی کا ذکر کرنے کے بعد اقبالؒ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میںاپنی آرزوئیں بیان کرتے ہیں اور سرفہرست جس آرزو کا تذکرہ فرماتے ہیں وہ مشربِ ناب ہے یعنی خالص اور اصلی دین۔ ساقی سے مرادخداوند سبحان کی ذات ہے،شراب کہن یا پرانی شراب یعنی وہی اسلام جورسول اللہ ﷺکے زمانے میں تھا جسے امام خمینیؒنے محمدی ناب اسلام کہا ہے۔علامہ ؒاس وجہ شراب کہن یا اسلام نابِ محمدی کی آرزو اور دعا کرتے ہیں کیونکہ انہوںنے مشاہدہ کیا کہ اس وقت جو اسلام مسلمانوں کے پاس ہے وہ خالص اور اصلی نہیں ہے،اس میں کافی ملاوٹ موجود ہے،اس میں خانقاہیت جیسے کئی مزاج پیداہوگئے ہیں،اس کے اندر محکومی،غلامی اور روباہی شکلیں پیدا ہوگئی ہیں۔ علامہؒاپنی دوسری آرزو دعا کی صورت میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ خدایا مجھے مفاد پرست اور سود جو عقل کے بجائے عشق عطا فرما،مجھے عشق کے پر لگ جائیں تاکہ میں عاشقانہ پرواز کرسکوں۔ خدایا!مجھے اس اندھیری اور ظلمانی رات میں جو اُمت مسلمہ کے اوپر چھائی ہوئی ہے جگنو بنادے،میری خاک اس ظلمت کدے میں نور بکھیرنے والے جگنو کی مانند ہوجائے یعنی اس کی بجائے کہ میں بھی ظلمت کے شکوے اور اندھیرے کے مرثیے پڑھنا شروع کردوں اور تاریکی کے اوپر عاجزی کے آنسو بہاتا رہوںمیں اگرچہ حقیر اور چھوٹا ہی سہی،ضعیف اور ناتوان ہی سہی لیکن نور کا چھوٹا سا دیا بن جاؤں،اگر میں اپنی قوم کے لئے سورج نہیں تو کم از کم شمع یا جگنو ہی بن کر نور پھیلاتا رہوں۔ اے میرے ساقی!عقل کوغلامی سے آزاد کردے،عقل تیرا دیا ہوا عظیم ہدیہ ہے کہ محکوم اور غلام قوموں کی عقل بھی غلام ہوجاتی ہے۔خرد جب غلام ہوجائے تو انسان کو غلامی کے راستے بتانا شروع کردیتی ہے اور غلامی وذلت کے جواز کی دلیلیں گھڑنا شروع کردیتی ہے۔ اے اللہ!تو میری قوم کے جوانوں کو بیداری عطا فرما،ان کے اندر چراغِ امید روشن فرما،انہیں نئی راہوں پر اور نئی روشوں کواپنانے کی جرأت عطا فرما، انہیں اسلاف کی تقلید سے نجات عطاکرکے خلاقیت کی توفیق عطا فرماتاکہ وہ اپنے زمانے کی ذمہ داریاں خود سنبھالیں،بوڑھوں کی ناتوانی جوانوں سے نکال کر بوڑھوں کے اندر جوانوں کے حوصلے اور ولولے ایجاد فرما۔ اے میرے ساقی!مجھے دردِ ملت اور دردِ دین عطا فرما،ایسا درد جومجھے تڑپاتا رہے اور ایسا سوز عطا فرما جو مجھے پھڑکنے کی طاقت عطاکرے، اس کے لئے مجھے علی مرتضیٰ ؑکا دل وجرأت عطافرماتاکہ میرے دل سے خوف وہراس نکل جائے اور مجھے سچا سوز عطافرما تاکہ ہمیشہ ملت اور انسانیت کے رنج وغم کو احساس کرسکوں۔ اے مجھے شراب کہن پلانے والے!آج پھر اُمت مسلمہ کے دل وجگر میں اپنی محبت کا تیراتاردے جس سے مسلمانوں کے قلوب میں درد اور جگر میں سوز پیدا ہو۔ اے اللہ!ہمارے سینوں میں تمنا پیدا کر،ہمارے دلوں میں آرزو پیدا کراور ہماری مایوس اور ناامید روحوں میں امید پیدا کردے۔ اے جام کہن کے مالک!میری ملت کے جوانوں کے جگر میں سوز وگداز کے لئے قوم کے جوانوں کو میرا عشق اور میری نگاہ عطافرما،وہ عشق جو مجھے تڑپاتا ہے میری قوم کے جوانوں کو بھی تڑپائے اور میری گہری اور دوررس نگاہ انہیں عطافرما۔ اے انسان کے خالق!آج امت مسلمہ کی کشتی بھنور میں جاپھنسی ہے،اپنے لطف وکرم کے ذریعے اسے ساحل نجات تک پہنچا،آج ملت کی کشتی جھوٹے اور جعلی ناخداؤں کی غفلت ،ناعاقبت اندیشی اور نااہلی کی وجہ سے طوفانوں کے نرغے میں گھر گئی ہے اسے چاروں طرف سے بلاؤں نے گھیر لیا ہے، اس کے ٹھہراؤ اور سکون وثبات کو ختم کرکے اس میں حرکت ایجاد کرکے اسے سیار بنادے۔ اے موت وحیات کو پیدا کرنے والے!مجھے اور میری ملت کو موت وحیات کی حقیقت سے آشنافرمادے تاکہ مسلمان کے دل سے موت کا خوف نکل جائے۔ امت مسلمہ کی موجودہ حالت پر میرا گریہ وبکا قوم کی غلامی کے غم میں نکلنے والے اشکوں سے بھری میری آنکھیںاور اس دیدہ ٔترکی بے خوابیاں، راتوںکو میری بیداریاں اور میرے دل کے اندر چھپی ہوئی بے تابیاں اور اضطراب جسے کوئی بھی نہیں جانتا،لیکن پالنے والے تو میرے دل سے آشنا ہے اور میری راتوں کی کیفیت سے آشنا ہے، میرے نیم شب کے آہ ونالہ کہ جسے فقط تو جانتا ہے کیونکہ میں ہرروز آدھی رات کو اٹھ کرتیری بارگاہ میں جبینِ نیاز رکھ کر ملت کے غموں پر نالہ وفغاں کرتا ہوں اور تجھ سے امت کی نجات کی دعا کرتا ہوں۔ میں خلوت میں ہوں یا جلوت میںمجھے دائماًقوم کا غم ستاتا ہے جس کی وجہ سے میرے دل میں ہمیشہ سوز وگداز رہتا ہے۔اے مرکزامید وآرزو! میرے امنگیں بہت زیادہ ہیںمیری آرزوئیں فراوان ہیں،میری امیدیں بے انتہا ہیں اور میری جستجوئیں نہ ختم ہونے والی ہیں۔ اے فاطرِفطرت انسان!میری فطرت اور میرا وجود حالات اور حوادث کا آئینہ ہے،جو کچھ امت کے ساتھ پیش آتا ہے وہ سب میرے دل میں ہے۔ میری روح تند وتیزافکار کا مرغزار ہے،ہر طرح کی فکر میرے ذہن کواپنی پناہ گاہ بنائے ہوئے ہے،میرا دل میری زندگی کی کشمکش کا مرکز بن گیا ہے، قوم کی بقاء اور حیات کی جنگ گویا میرے دل میں برپا ہے کیونکہ میرے دل میں خیالات اورگمانوں کے لشکر کے لشکر آتے جاتے رہتے ہیںلیکن یہ دل یقین کے ثبات کی جگہ بھی ہے۔ اے رب کریم!یہ آرزوئیں، امیدیں، امنگیں، تمنائیں، جستجوئیں، سوز و گداز،آہ وفغاں،نالہ وفریاد،درد وتڑپ،عشق وسوز،یقین وثبات اور آرزوئے مشرب ناب، یہی اس فقیر کی کل متاع ہے اسی متاع کی وجہ سے میں فقیری میںامیر ہوں۔ اے ساقی ٔمشرب ناب!میری یہ متاع میری ملت اور میری قوم کے جوانوں میں لٹا دے،اسے امت مسلمہ کے اندر بانٹ دے تاکہ سب کے اندر وہ امید تمنا پیدا ہو جو میرے اندر ہے۔ اے خدائے بے نیاز!میری امت میں یہ متاع بانٹ کو اسے اپنے مقصد تک پہنچا کہ ملت اسلامیہ کی نجات اسی کے اندر ہے۔ علامہ نے اپنے فارسی کلام میں اپنی ساری امیدوں اور آرزوؤں کو سمیٹ کرایک حقیقت میں سمودیا ہے اور مشرب ناب کے حقیقی علمبرداد کا نام لے کر تمام ماجرا کو بے حجاب کرکے بیان کردیا ہے،فرماتے ہیں: تیغ وسنان وخنجر وشمشیرم آرزوست بامن میاکہ مسلک شبیرم آرزوست میری آرزو تیغ وسنان وخنجروشمشیر ہے میرے ساتھ سوچ سمجھ کر آنا کیونکہ میرا راستہ،مسلک شبیر ہے جس میں انسان اپنے آپ کو تیغ وسناںوخنجرو شمشیر کے سپرد کردیتا ہے تاکہ ملت بچ جائے،اسلام بچ جائے،غلامی سے نجات مل جائے اور مسلمانوں کو عزت وآزادی نصیب ہوجائے۔ استاد محترم سید جواد نقوی
  2. سورہ کوثر

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱) اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾ اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں(ف۲) فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ﴿۲﴾ توتم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو (۳) اور قربانی کرو(ف۴) اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ ٪﴿۳﴾ بے شک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے(ف۵)
×