aqeelfair4u

Advanced Members
  • Content count

    141
  • Joined

  • Last visited

1 Follower

About aqeelfair4u

  • Rank
    Member
  • Birthday 08/19/1993

Contact Methods

  • Facebook
    syedaqeel.hassanbukhari@facebook.com

Previous Fields

  • Religion
    Islam
  • Gender
    Male

Profile Information

  • Location
    Pakistan, Attock City

Recent Profile Visitors

413 profile views
  1. this is not just a logical necessity but an ontological one as well.
  2. فقہاء کرام سے ایسی کوئی بات نہیں سنی..لہزا جائز ہے
  3. Is the universe contingent or necessary ..if it is contingent therefore it is in need of cause..Am i right?
  4. Why why why utter chaos do not disturb us?
  5. i hope you are fine. After all these bombardments and vast energy floods and universal collisions, nothing even slightly disturb our daily life..why is this happening? But this is not the way we should talk about..btw you are muslim or related to another religion or don't believe in religion?
  6. Why universe is so calm for earth? quisant
  7. Syed aqeel hassan bukhari ( naqvi syed ) descendant of syed surkh jalal bukhari from bukhara. Surkh jalal bukhari migrated from bukhara to hindustan . Born in Attock city village kamra kalan pakistan...proud to be a pakistani..Allah help us all..salamun alaikum
  8. Absolutely you are right...great work
  9. In a mother’s womb were two babies. One asked the other: “Do you believe in life after delivery?” The other replied, “Why, of course. There has to be something after delivery. Maybe we are here to prepare ourselves for what we will be later.” “Nonsense” said the first. “There is no life after delivery. What kind of life would that be?” The second said, “I don’t know, but there will be more light than here. Maybe we will walk with our legs and eat from our mouths. Maybe we will have other senses that we can’t understand now.” The first replied, “That is absurd. Walking is impossible. And eating with our mouths? Ridiculous! The umbilical cord supplies nutrition and everything we need. But the umbilical cord is so short. Life after delivery is to be logically excluded.” The second insisted, “Well I think there is something and maybe it’s different than it is here. Maybe we won’t need this physical cord anymore.” The first replied, “Nonsense. And moreover if there is life, then why has no one has ever come back from there? Delivery is the end of life, and in the after-delivery there is nothing but darkness and silence and oblivion. It takes us nowhere.” “Well, I don’t know,” said the second, “but certainly we will meet Mother and she will take care of us.” The first replied “Mother? You actually believe in Mother? That’s laughable. If Mother exists then where is She now?” The second said, “She is all around us. We are surrounded by her. We are of Her. It is in Her that we live. Without Her this world would not and could not exist.” Said the first: “Well I don’t see Her, so it is only logical that She doesn’t exist.” To which the second replied, “Sometimes, when you’re in silence and you focus and you really listen, you can perceive Her presence, and you can hear Her loving voice, calling down from above.”
  10. کتاب فقہ الرضا غالی حضرات نماز میں شہادت ثالثہ کے متعلق ایک حوالہ نقل کر کے کے مومنین کو دھوکہ دیتے ہیں کہ فقہ رضا (ع) کتاب جو امام علی رضا(ع) کی ہے اس میں درج ہے کہ نماز میں تشہد کے مقام پر شہادت ثالثہ پڑھنا چاہیئے . آیئے اس متنازع کتاب کو پوری دنیائے اسلام کے عظیم الشان مراجع عظام کی عدالت میں لے چلتے ہیں ،ہم ان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ کتاب امام رضا (ع) کی تصنیف ہے ? یا نہیں ? وہ اس کتاب کے بارے میں کیا فیصلہ صادر فرماتے ہیں 1 ،،، اس کتاب کے ٹائٹل پہ لکھا ہے ،، یہ کتاب امام علی رضاؑ سے منسوب ہے لیکن پھر بھی یہ کہا جاتا ہے یہ امام کی اپنی تصنیف ہے اگر مان لیا جائے یہ امام کی کتاب کی ہے تو اس کا ذکر کیوں نہیں ملتا ،،، امام کی کتاب 1000 سال تک کہاں گم تھی ،،، کتب میں صحیفہ سجادیہ ،، صحیفہ زہراؑ ،، صحیفہ امام کاظم ؑ اور صحیفہ امام رضا کا ذکر ملتا ہے ،،، بلکہ صحیفہ امام موسی کاظم تو چھپ چکا ہے تقریباؒ 2 ،، شیخ صدوق جن کی پیدائش بھی امام زمنؑ کی دعا کی وجہ سے ہوئی ،،، انہوں نے '' عیون الخبار رضا '' جس میں امام رضا کے مناظرے ہیں ،،، انہوں نے اس کتاب کا ذکر کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا ،،، کمال ہے 3،،، اس میں بہت سی عجیب روایات ملتی ہیں ،،، امام علی نے پاوں کو دھویا ،،، مسح اور وضو دونوں جائز ہیں ،،، آخری 2 سورتیں قران کا حصہ نہیں ہیں ،، جب کہ شعیہ علما اس پہ متفق ہیں کہ یہ قران کا حصہ ہیں ،،، ابن مسعود اس کے راوی ہیں ،،، امام جلال الدین السوطی کے ان کی روائت نقل کی ہے ،،، مزے کی بات بتاتا چلوں ،،، تفسیر درمنثور جو اردو میں آ چکی ہے اس میں عبداللہ بن مسعود کے روائت کے مطابق س مائدہ کی آیت نمبر 66 جس میں تکمیل اسلام کی بات ہے وہاں پہ مولا امیرؑ کا نام موجود تھا 4،، اس کا انکار شیخ حر عاملی ،، علی خونساری ،،، آقا وحید بھیھانی آقائے جعفر سبحانی ،، نے کیا 5،،، آیت اللہ ہاشم اصفحانی نے پوری کتاب انکار میں لکھی ہے 6،،، آقائے رضا استادی نے بھی باقاعدہ کتاب لکھی ( تحقیقی پیرامون کتاب فقہ الرضا) 7،،، انحرافی گروہ کہتا ہے ،،، یہ کتاب امام نے احمد بن سکین کو املا کروائی جب کہ رجال کی کسی معتبر کتاب میں اس نام کا راوی نہیں ملتا علامہ تقی مجلسی نے اس کتاب سے روایات لیں ہیں ،، ان کے ثقہ بقول امیر حسین نے یہ کتاب دیکھی ،،، جس میں امام رضا کے دور کی تاریخ لکھی ہوئی تھی بات لمبی ہو جائے گی ،، صرف اتنا کہوں گا ،، علامہ باقر مجلسی محدث تھے محقیق نہیں ،، شیعیت کا سرمایہ تھے ،،، محدث کا کوئی اصول نہیں ہوتا جو ملے جہاں سے ملے لکھو ،، محقیق تحقیق کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چلتا ،،، روایات نقل کرنا اس بات کی قطیعاؒ دلیل نہیں یہ کتاب معتبر ہے شیعہ امامیہ کے بہت سے جلیل القدر علماء اعلام ، فقہاء کرام اور اساطین علم و تحقیق جو فن حدیث ، اس کے معارف اور اسماء الرجال پر وسیع نظر رکھتے ہیں ، نے "فقہ رضا" نامی کتاب کی نسبت امام رضا (ع) سے انکار و ابطال فرمایا ہے آیت اللہ العظمی ٰٰ سید ابوالقاسم الخوئی (رہ) کا کتاب فقہ الرضا (ع) کے بارے میں فیصلہ کن بیان ان کے درس کی تقریرات پر مشتمل کتاب " مصباح الفقاھتہ" پراس سلسلے میں سیر حاصل بحث اور مکمل نقد و تبصرہ کرنے کے بعد بطور نتیجتہ کلام فرماتے ہیں عربی متن ثم انه مع الغض عن جميع ما ذكرناه فان في الكتاب قرائن قطعية تدل على عدم كونه لمثل مولانا الرضا " ع " بل هو رسالة عملية ذكرت فيها الفتاوى والروايات بعنوان الافتاء كما يظهر لمن يلاحظه كيف واكثر رواياته اما بعنوان روي وراوي ونحوهما، واما نقل عن الرواة خصوصا في آخر الكتاب فانه ينقل فيه كثيرا عن ابن ابي عمير وزرارة والحلبي وصفوان ومحمد بن مسلم ومنصور وغيرهم. على ان فيه عبارات يقبح صدورها عن الامام " ع " نظير قوله جعلني الله من السوء فداك وقوله في باب القدر صف لي منزلتين فان هذا القول ظاهر في جهل القائل وهو مستحيل في حق الامام " ع " إلى غير ذلك وقد نقل جملة منها في المستدرك مع انه ذكر فيه من الاحكام المتناقضة وما يخالف مذهب الشيعة بكثير وحملها على التقية بديهي الفساد لما ورد في هذا الكتاب ايضا مما يخالفها بل تكذيبهم والازراء عليهم كما في المتعة والالتزام بالتفصيل بأن بعض الكتاب املاء منه " ع " وبعضه الآخر لاحمد بن محمد بن عيسى الاشعري وان موارد التقية في الكتاب إنما هي فيما سمع منه عليه السلام تكلف في تكلف وقول بلا علم هذا كله ما يرجع إلى نفس الكتاب، وقد اجاد صاحب الفصول في بعض ما افاده هنا فليراجع إذن فقد حق القول انه لو انيطت الاحكام الشرعية بمثل هذه المدارك فبين ايدينا البخاري ومسند احمد وصحيح مسلم وعلى هذا فعلى الفقه السلام مصباح الفقاهة من تقرير بحث الاستاذ الاكبر آية الله العظمى الحاج السيد أبو القاسم الموسوي الخوئي//ج 1 // ص 16//طبع نجف اشرف ترجمہ گزشتہ تمام بحث سے قطع نظر اس کتاب کے اندر ایسے قطعی قرائن اور شواھد موجود ہیں جن سے یہ ظاھر ہوتا ہے کہ یہ فقہ رضا ، حضرت امام رضا (ع) جیسی معصوم ہستی کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک رسالہ عملیہ جس میں فتاویٰٰ اور روایات کو بطور فتوی ٰ ذکر کیا گیا ہے چنانچہ کتاب کو ملاحظہ کرنے والے حضرات سے پوشیدہ نہیں ہے اور امام (ع) کا کلام کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اکثر روایات یا رُُوی کے یا روی وغیرہ کے ذریعے بیان ہوئی ہیں یا صرف راویوں سے روایت نقل کی گئی ہے خصوصا`` کتاب کے آخر میں بہت ساری روایات کو ابن عمیر ، زرارہ ، حلبی ،صفوان ، محمد بن مسلم اور منصور وغیرہ سے نقل کیا گیا ہے اس کے علاوہ اس کتاب کے اندر ایسی ایسی عبارتیں ہیں کہ جن کا امام معصوم (ع) سے صادر ہونا قباحت سے خالی نہیں ہے مثلا`` ایک مقام پر ہے "جعلني الله من السوء فداك" یا باب قدر میں فرمایا : " صف لي منزلتين" یہ کلمات قائل کی جہالت کو ظاھر کرتے ہیں جو امام (ع) کے لئے ممکن نہیں . ایسی بعض "مستدرک" میں نقل کی گئی ہیں اس کے علاوہ کتاب فقہ الرضا میں باہمی متناقض احکام بیان کئے گئے ہیں اور ایسے احکام بھی جو مذہب تشیع کے خلاف ہیں ان عبارات کو تقیہ پر محمول کرنا بھی بدیہی طور پر باطل ہے کیونکہ اسی کتاب میں بہت سے خلاف تقیہ احکام موجود ہیں بلکہ بعض عبارتوں سے تو ائمہ (ع) کی تکذیب اور توہین لازم آتی ہے جیسے باب متعہ میں ہے اور یہ موقف اختیار کرنا کہ کتاب کا کچھ حصہ امام رضا (ع) کی املاء ہے اور کچھ حصہ احمد بن محمد بن عیسیٰٰ اشعری کی املاء ہے اور یہ کہ مقام تقیہ وہ مقام جن میں امام (ع) کی املاء سے ، یہ کہنا تکلف در تکلف ہے اور علم و یقین کے بغیر ہرزہ سرائی ہے ، یہ کتاب فقہ الرضا کا حال ہے ،صاحب فصول نے اس سلسلے میں بڑی عمدہ بحث کی ہے . پس حق تو یہ ہے کہ اگر احکام شرعیہ کا دارو مدار اس قسم کے مدارک ہوں تو ہمارے سامنے بخاری ، مسند احمد اور صحیح مسلم بھی ہیں ، بنابریں ایسی فقہ کا خدا حافظ مصباح الفقاهة من تقرير بحث الاستاذ الاكبر آية الله العظمى الحاج السيد أبو القاسم الموسوي الخوئي//ج 1 // ص 16//طبع نجف اشرف آیت اللہ ، روح اللہ خمینی (رہ) کی نجف اشرف کے فقہی دروس پر مشتمل " کتاب البیع" جو پانچ جلدوں میں ہے ، آپ اس کی 5 جلد میں فقہ الرضا نامی کتاب کے متعلق فرماتے ہیں وأما الفقه الرضوي (5) فلا ينبغي الاشكال في أنه ليس من تصنيفات الرضا عليه السلام، كما لا يخفى على من راجعه وتدبر في تعبيراته، بل هو على ما يظهر منه تصنيف عالم ذي القريحة المستقيمة، وهو مشتمل على روايات مرسلة وفتاوى من صاحبه، وما حكي عنه في المقام بلفظ (روي) يكون مضمونه قريبا من سائر الرويات، سيما مرسلة جميل (6) وما حكي عنه بلا لفظة " روي " يكون على الظاهر من فتوى صاحبه كتاب البيع//السيد الخميني// ج 5// ص 10 // طبع قم ایران ترجمہ جہاں تک فقہ الرضا کا تعلق ہے تو بلا اشکال یہ کتاب امام رضا (ع) کی تصنیف نہیں ہے جیسا کہ کتاب کے ملاحظہ کرنے اور اس کی تعبیرات میں غور و فکر کرنے والے سے مخفی نہیں ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کسی مستقیم الطبع آدمی کی تصنیف سے اس میں کچھ مرسل روایات ہیں کچھ صاحب کتاب کے اپنے فتاویٰٰ ہیں جو بات رُُوی کے الفاظ سے نقل کی گئی ہے اس کا مضمون دیگر روایات سے قریب تر اور ملتا جلتا ہے اور جو لفظ روی سے باتین نقل ہوئی ہیں وہ بظاھر صاحب کتاب کا اپنا فتویٰٰ ہے كتاب البيع//السيد الخميني// ج 5// ص 10 // طبع قم ایران فقہ رضا (ع) ، علامہ محدث حُُر عاملی (رہ) کی نظر میں علامہ حر عاملی (رہ) صاحب وسائل الشیعہ فرماتے ہیں وعندنا أيضا كتب لا نعرف مؤلفيها منها..... الفقه الرضوي لا يعرف جامعه وراويته وأمثال هذه الكتب لا يعتمد على نقلها لكنه مؤيد لغيره أمل الآمل//الحر العاملي //ج 2//ص 364//طبع قم ایران ترجمہ ہمارے ہاں ایسی کتب بھی پائی جاتی ہیں جن کے مئولف ابھی تک ہمیں معلوم نہ ہوسکے ان ہی میں ایسی ایک کتاب فقہ رضا (ع) ہے جس کے جامع اور روایت کرنے والے کا پتہ نہ چل سکا أمل الآمل//الحر العاملي //ج 2//ص 364//طبع قم ایران حاصل مطالعہ اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کتاب امام رضا (ع) کی نہیں ہے بلکہ کسی مجہول المولف کی کتاب ہے اور جب اصل ماخذ ہی غلط ہے تو روایت خود بخود کمزور و ضعیف اور ناقابل ہو جاتی ہے . اس کتاب کے مندرجات صریحا`` خلاف تشیع ہیں
  11. music is haraam indeed
  12. the only thing they want to recite shahadat salsa in namaz and ulema e haq does not allow this indeed Ali a.s is wali but its is not a part of tashhud..May Allah guide them